At a UNHRC session, Kasim said Imran’s case was not an “isolated incident”. In fact, he claimed, it was the “most visible example of a much wider pattern of repression in Pakistan since 2022”.
https://t.co/ckxugKAhzF
Today, I had the honour of speaking to the 47 countries that comprise the @UN#HumanRightsCouncil urging the immediate release of my father @imrankhanpti and all #Pakistan’s #politicalprisoners. Along with this, I want to be very clear. Like my father, I fully support maintaining GSP+ as the people of #Pakistan should never be punished for the actions of its leaders. But the Pakistani regime must also fully comply with the 27 treaties it committed to follow to obtain this benefit, including the International Covenant on Civil and Political Rights and Convention Against Torture. @UN@ptiofficial #HumanRights #ImranKhanUnlawfullyDetained
Imran Khan’s son, Kasim Khan, attends a conference to revoke Pakistan’s GSP+ status with the European Union, calling into account “human rights violations”: specifically with regard to his father’s imprisonment.
"میرے والد، عمران خان، تقریباً ایک ہزار دنوں سے قید میں ہیں۔ وہ ایک ایسے نظام کا بنیادی نشانہ ہیں جو اختلافِ رائے کو سیاسی اختلاف نہیں بلکہ ایک سنگین جرم سمجھتا ہے جسے کچل دینا چاہیے۔
میں نے اپنے والد کو تین سال سے زیادہ عرصے سے نہیں دیکھا۔ انہیں تنہائی کی قید میں رکھا گیا ہے، ایک ایسی چکی میں جو سزائے موت کے قیدیوں کے لیے بنائی گئی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ غیر انسانی حالات تشدد کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔ یہ محض غفلت نہیں ہے، بلکہ ایک سوچا سمجھا ظلم ہے جس کا مقصد ایک انسان کی عزتِ نفس کو چھین لینا ہے۔“@Kasim_Khan_1999
#ImranKhanUnlawfullyDetained
میرے باپ کی صحت بہت خراب ہے۔ مجھے اور میرے بھائی کو ہمارے والد سے دور رکھا گیا ہے۔ قاسم خان اپنے والد عمران احمد خان نیازی کی صحت اور ان پر کیے جانے والے ظلم پر بات کرتے ہوئے۔
حقیقی آزادی کے حوالے سے ہمارے نوجوانوں میں موجود تڑپ ہی تو ہے جس کیلئے میں نے ہمیشہ رب العزت سے دعا کی کہ ایک روز میری قوم کو اس سے آشنا کردے! وہ قومیں جن کے نوجوان آزادی کو اپنی زندگیوں سےبالا شمار کرتےہیں، واقعتاً کارنامے سرانجام دیتی ہیں۔
I’ve heard that the remaining members of Epstein’s network have devised a conspiracy to create an incident similar to 9/11 and blame Iran for it. Iran fundamentally opposes such terrorist schemes and has no war with the American people.
آج اور کل عمران خان کے انتہائی اہم کیسز لگے ہیں عدالت میں۔ ہسپتال منتقلی، توشہ خانہ اور القادر یونیورسٹی کیسز کی سماعت ہوگی۔
سوشل میڈیا پر ہم میں سے کافی لوگ ایک بار پھر بہت امید لگائیں گے اور اگر فیصلے عمران خان کے حق میں اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق نہ آئے تو کافی دن اداس بھی رہیں گے۔
اداس ضرور ہوں مگر واپس ضرور آئیے گا۔ یہ جدوجہد اور لمبی ہوسکتی ہے۔ چار سال اس میں survive کرنا کافی مشکل تھا مگر آپ سب جو یہ کارنامہ سرزد کرگئے ہیں، بہت خاص لوگ ہیں۔ کوئی کتاب میں یا ڈاکیومنٹریز میں ذکر کرے یا نہ کرے، جو عزت ایک دوسرے کے لیے دل میں ہے، وہ کسی بھی recognition سے بڑھ کر ہے۔ سب سے زیادہ اسپیشل ہیں آپ کیونکہ آپ کو اس جدوجہد کے بدلے میں کچھ نہیں چاہیے سوائے بہتر پاکستان کے۔
جو لوگ صرف یہ پڑھ سکتے ہیں اور جواب دینے کی اجازت نہیں ہے پھر سے گرفتاری یا اغواہ کی دھمکیوں کی وجہ سے، ان سب کو صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ کو کوئی نہیں بھولا۔ کبھی افسردہ نہ ہوں ۔۔۔ آپ میں سے بہت سے لوگ پاکستان میں مقیم ہیں یا پھر آپ کی قریبی فیملی پاکستان میں ہے جسے عاصم منیر اور ٹیم استعمال کرتے ہیں دھمکانے کے لیے ۔۔۔آپ جتنا کر سکتے تھے آپ نے کیا، باقی کی جدوجہد آپ کے بہن بھائی جو اللہ کے کرم سے ابھی تک آزاد ہیں، وہ کر رہے ہیں، بس آپ دعا میں سب کو یاد رکھیں!
یہ نہیں پتہ کہ کتنے دن یا کتنے سال اور لگ جائیں ، مگر یہ پتہ ہے کہ آخر میں جیت عمران خان اور عوام کی ہی ہوگی۔ finish line پر سب ملیں گے انشاءاللہ۔ اور اس وقت تک #ChallengeAccepted رکھیں!
بریکنگ نیوز 🚨
علیمہ خان کا انٹرنیشنل میڈیا کو انٹرویو 🛑
حیدر مہدی کا سوال: عمران خان کی صحت کے بارے میں!!
علیمہ خان پوری دنیا کو بتا رہی!!
جب سلمان صفدر نے مجھے بتایا تو میری آنکھو سے آنسو بہنے لگے!!💔💔
اسکو پھیلائیں 🛑 انتہائی ضروری ہے!!
جولائی ۲۰۲۱افغانستان سے امریکی انخلاء؛ چیلنجز اینڈ اپرچونٹیز، وزیر اعظم عمران خان میٹنگ بلاتے ہیں، عسکری قیادت کی رائے میں صورت حال خانہ جنگی کی طرف جاتی دکھائی دے رہی ہے جس میں اپنے اتحادی دوست افغان طالبان کو بہر طور سپورٹ فراہم کرنی ہے۔
اگست ۲۰۲۱، کابل سے امریکی انخلاء ہوتا ہے، پاکستان کے سیکورٹی ادارے حکومت سازی میں مگن دکھائی دیتے ہیں۔ دنیا کی لعن طعن کا رُخ پاکستان کی جانب ہوجاتا ہے لیکن وزیراعظم عمران خان کابل میں محصور شہریوں کو سیف ایگزیٹ مہیا کرکے پاکستان کے لیے بڑی سفارتی کامیابی حاصل کرتے ہیں۔
نومبر ۲۰۲۱، عسکری قیادت کی جانب سے وزیراعظم عمران خان اور کابینہ اراکین کو پاکستانی طالبان (المعروف دہشت گرد، المعروف خوارج، المعروف فتنہ الہندوستان) کی آبادکاری کا پلان پیش کیا گیا۔ جس کی کابینہ اراکین نے بھرپور مخالفت کی اور وزیر اعظم نے ایسے کسی بھی منصوبے پر عملدرآمد سے انکار کردیا۔
دسمبر ۲۰۲۱، وزیر اعظم عمران خان افغانستان میں جنم لینے والی غیر یقینی صورتحال پر او آئی سی کا ہنگامی اجلاس طلب کراتے ہیں اور اسلامی ممالک کو افغانستان کو درپیش انسانی المیے سے آگاہ کرتے ہوئے برادرانِ اسلام (یعنی مظلوم افغان عوام) کی مدد کے لیے متحد ہونے کی اپیل کرتے ہیں۔
آنے والے دنوں میں اسپیکر قومی اسمبلی کی سربراہی میں افغان طالبان قیادت اور پاکستانی حکام کے مابین متعدد ملاقاتیں ہوئیں، وزارت مواصلات اور دیگر محکموں کی جانب سے براستہ افغانستان تجارت اور دیگر منصوبوں کے متعلق شدومد سے پلاننگ کا آغاز ہوا، خود میں نے روس،افغانستان، چین اور دیگر وسطی ایشیاء ممالک کی کنیکٹوٹی کے حوالے سے میٹنگز چئیر کیں۔
مارچ ۲۰۲۲، اسلام آباد میں او آئی سی ممالک کا افغانستان کے مسئلے پر ایک اور اجلاس منعقد کیا گیا۔ وزیراعظم عمران خان اقوامِ عالم کو افغانستان میں ابھرتی ہوئی صورتحال سے خبردار کرتے ہوئے مل بیٹھ کر بہتری کا ایسا راستہ نکالنے کا کہتے ہیں جس سے افغانستان کے شہریوں کی فلاح اور افغانستان کے پڑوسی ممالک اور عالمی دنیا کا امن ممکن ہو۔
جون ۲۰۲۲، عمران خان کی حکومت کے خاتمہ کے بعد پی ڈی ایم کی کٹ پُتلی حکومت کے سامنے عسکری حکام کی جانب سے وہی پلان پیش کیا جاتا ہے جس کی نومبر ۲۰۲۱ میں وزیراعظم عمران خان نے اجازت دینے سے انکار کردیا تھا۔ کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ، فوری منظوری دے دی جاتی ہے۔
جون ۲۰۲۲، عسکری حکومت کی جانب سے افغانستان وفد بھیج کر طالبان (المعروف دہشت گرد، المعروف خوارج، المعروف فتنہ الہندوستان) کی آبادکاری کے منصوبے پر عملدرآمد کا آغاز ہوتا ہے۔
جولائی ۲۰۲۲، میں اس منصوبے کے خلاف عوام کو متحرک کرتا ہوں۔ مجھ پر غداری کے مقدمے ہوتے ہیں، فساد پھیلانے کے فتوی لگتے ہیں اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ پھر درون خانہ رابطے کرکے پہلے حجتیں، تاویلیں اور پھر واپس بھیجنے کی گارنٹیز دی جاتی ہیں اور واپس بھیج بھی دیا جاتا ہے۔
اگست ۲۰۲۲، عبوری حکومت کے دوران عسکری سرکردگی میں ان طالبان (المعروف دہشت گرد، المعروف خوارج، المعروف فتنہ الہندوستان) کی پاکستان میں باقاعدہ آبادکاری کا آغاز ہوتا ہے اور عسکری سرکردگی میں اسلحے سمیت خیبر پختونخواہ کے جنوبی اضلاع میں آباد کیا جاتا ہے۔
پھر ان ہی کاروائیوں کا آغاز ہوتا ہے جن کو بنیاد بنا کر ۲۰۰۴ سے ۲۰۱۷ تک خیبر پختونخواہ اور باقی پاکستان کو تختۂ مشق بنایا گیا۔
پھر ٹرمپ کی امریکی اسلحہ کے بیان اور بگرام ائیر بیس دینے سے طالبان کے انکار میں ہمارے جرنیلوں کو وہ سنہری موقع مل جاتا ہے جس کے وہ انتظار میں تھے۔ پاکستان میں پناہ گزین افغان شہریوں کا غیر انسانی انخلاء شروع ہوتا ہے، بارڈر پر تجارت بند کردی جاتی ہے، افغانستان پاکستان کے امن کا اولیں دشمن قرار پاتا ہے، تندو تیز بیانات اور فضائی حملوں سے اس دشمنی کو مزید مستحکم کیا جاتا ہے۔
نتیجہ اس سے کچھ مختلف تو نہیں ہونا تھا جو ۱۹۷۰ سے ۲۰۱۰ تک ہوا مگر کیا سبب تھا کہ ۲۰۲۲ میں بھی اسی رُول بُک کو فالو کرنا مناسب سمجھا گیا؟ یہ سوال میں تو چار سال سے پوچھ رہا ہوں اب اگر منہ سے جھاگ اڑاتے، جنگ کے طبل بجاتے اور سوال اٹھانے والو کو وطن دشمنی کے فتوی بانٹنے والوں کی گیس لائیٹنگ میں آئے بنا آپ بھی پوچھ لیں کہ کیونکر اپنے جوانوں، اپنے اور پڑوسی ملک کے معصوم شہریوں کی زندگیوں، اپنے ملک کے امن اور استحکام سے اس بے دردی سے کھیلا گیا تو شاید آپ کا مستقبل گذشتہ سے کچھ مختلف ہوجائے۔
جو ہو رہا ہے، جو بساط بچھائی گئی ہے صرف بیرون آقاؤں سے کی جانے والی کمٹمنٹس کے مطابق فرد واحد کی طاقت کو دوام دینے کے لیے ہو رہا ہے چاہے وہ غزہ ہو یا افغانستان۔ یہ نہ کل پاکستان کی لڑائی تھی، نہ یہ آج پاکستان کی لڑائی ہے۔