Most people live on default settings.
Default fears.
Default dreams.
Default paths.
But you’re not a template.
Life is code — rewrite it.
Challenge the defaults.
Design your own OS.
#BreakTheDefault#DesignYourLife
The world can move on without the United States.
100 years ago, the British Empire dominated global commerce, commanding more than 20% of the world’s wealth. Many believed its sun would never set.
200 years ago, France bestrode Europe’s stage, its armies feared, its culture envied. Napoleon declared himself immortal.
400 years ago, the Spanish crown reigned from Manila to Mexico, its treasure fleets groaning with silver and silk. The kings thought their glory would last eternal.
Each empire proclaimed itself indispensable. Each was ultimately eclipsed.
Power wanes, influence migrates, and legitimacy dies the moment it’s assumed rather than earned. Should America forfeit the world’s respect, it will discover what every fallen empire learned too late:
The world moves on. Always.
Cash in Circulation to Bank Deposit in Pakistan 🇵🇰 in comparison to neighboring countries.
✅Bangladesh 🇧🇩: 16.7%
✅India 🇮🇳: 17.8%
❌Pakistan 🇵🇰: 34%
This reflects the dominance of informal cash-based systems within the Pakistani economy.
The irony is that there has been no serious effort by the government to reduce it.
کیا آپ جانتے ہیں قارون کون تھا ۔؟
قارون حضرت موسیٰ علیہ السلام کے چچا ''یصہر'' کا بیٹا تھا۔
بہت ہی شکیل اور خوبصورت آدمی تھا۔ اسی لئے لوگ اُس کے حسن و جمال سے متاثر ہو کر اُس کو ''منور''کہا کرتے تھے۔
اس کے ساتھ ساتھ اُس میں یہ کمال بھی تھا کہ وہ بنی اسرائیل میں ''توراۃ'' کا بہت بڑا عالم، اور بہت ہی ملنسار و بااخلاق انسان تھا۔ اور لوگ اُس کا بہت ہی ادب و احترام کرتے تھے۔
لیکن بے شمار دولت اُس کے ہاتھ میں آتے ہی اُس کے حالات میں ایک دم تغیر پیدا ہو گیا
اور سامری کی طرح منافق ہو کر حضرت موسیٰ علیہ السلام
کا بہت بڑا دشمن ہو گیا اور اعلیٰ درجے کا متکبر اور مغرور ہو گیا
۔ جب زکوٰۃ کا حکم نازل ہوا تو اُس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے روبرو یہ عہد کیا کہ وہ اپنے تمام مالوں میں سے ہزارہواں
حصہ زکوٰۃ نکالے گا مگر جب اُس نے مالوں کا حساب لگایا تو
ایک بہت بڑی رقم زکوٰۃکی نکلی۔ یہ دیکھ کر اس پر ایک دم حرص و بخل کا بھوت سوار ہو گیا اور نہ صرف زکوٰۃ کا منکر ہو گیا
بلکہ عام طور پر بنی اسرائیل کو بہکانے لگا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اس بہانے تمہارے مالوں کو لے لینا چاہتے ہیں
۔ یہاں تک کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے لوگوں کو برگشتہ کرنے کے لئے اُس خبیث نے یہ گندی اور گھناؤنی چال چلی
کہ ایک عورت کو بہت زیادہ مال و دولت دے کر آمادہ کرلیا کہ وہ آپ پر بدکاری کا الزام لگائے۔ چنانچہ عین اُس وقت جب کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام وعظ فرما رہے تھے
۔ قارون نے آپ کو ٹوکا کہ فلانی عورت سے آپ نے بدکاری کی ہے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ اُس عورت کو میرے سامنے لاؤ۔ چنانچہ وہ عورت بلائی گئی
تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ اے عورت!
اُس اللہ کی قسم! جس نے بنی اسرائیل کے لئے دریا کو پھاڑ دیا۔ اور عافیت و سلامتی کے ساتھ دریا کے پار کرا کر فرعون سے نجات دی
۔ سچ سچ کہہ دے کہ واقعہ کیا ہے؟
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے جلال سے عورت سہم کر کانپنے لگی اور اس نے مجمع ِ عام میں صاف صاف کہہ دیا
کہ اے اللہ عزوجل کے نبی
! مجھ کو قارون نے کثیر دولت دے کر آپ پر بہتان لگانے کے لئے آمادہ کیا ہے۔
اُس وقت حضرت موسیٰ علیہ السلام آبدیدہ ہو کر سجدہ شکر میں گرپڑے اور بحالتِ سجدہ آپ نے یہ دعا مانگی
کہ یا اللہ! قارون پر اپنا قہر و غضب نازل فرما دے۔ پھر آپ نے مجمع سے فرمایا کہ جو قارون کا ساتھی ہو
وہ قارون کے ساتھ ٹھہرا رہے اور جو میرا ساتھی ہو وہ قارون سے جدا ہو جائے۔ چنانچہ دو خبیثوں کے سوا تمام بنی اسرائیل قارون سے الگ ہوگئے۔
پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے زمین کو حکم دیا کہ
اے زمین!تو اس کو پکڑ لے تو قارون ایک دم گھٹنوں تک زمین میں دھنس گیا
پھر آپ نے دوبارہ زمین سے یہی فرمایا تو وہ کمر تک زمین میں دھنس گیا
۔ یہ دیکھ کر قارون رونے اور بلبلانے لگا اور قرابت و رشتہ داری کا واسطہ دینے لگا مگر آپ نے کوئی التفات نہ فرمایا۔
یہاں تک کہ وہ بالکل زمین میں دھنس گیا۔ دو منحوس آدمی جو قارون کے ساتھی ہوئے تھے، لوگوں سے کہنے لگے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے قارون کو اس لئے دھنسا دیا ہے تاکہ قارون کے مکان اور اُس کے خزانوں پر خود قبضہ کرلیں
۔ تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی کہ قارون کا مکان اور خزانہ بھی زمین میں دھنس جائے
۔چنانچہ قارون کا مکان جو سونے کا تھا اور اس کا سارا خزانہ، سبھی زمین میں دھنس گیا۔
قارون کا خزانہ:۔اس کو قرآن کی زبان سے سنئے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ہم نے قارون کو اتنے خزانے دیئے تھے کہ اُن خزانوں کی کنجیاں ایک مضبوط اور طاقت ور جماعت بمشکل اٹھا سکتی تھی
۔ قرآن مجید میں ہے:۔
اِنَّ قَارُوۡنَ کَانَ مِنۡ قَوْمِ مُوۡسٰی فَبَغٰی عَلَیۡہِمْ ۪ وَ اٰتَیۡنٰہُ مِنَ الْکُنُوۡزِ مَاۤ اِنَّ مَفَاتِحَہٗ لَتَنُوۡٓاُ بِالْعُصْبَۃِ اُولِی الْقُوَّۃِ ٭
ترجمہ :۔بیشک قارون موسیٰ کی قوم سے تھا پھر اس نے ان پر زیادتی کی اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دیئے جن کی کنجیاں ایک زور آور جماعت پر بھاری تھیں
۔(پ20،القصص:76)
حضرت موسٰی علیہ السلام کی نصیحت:۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے قارون کو جو نصیحت فرمائی وہ یہ ہے کہ جس کو قرآن مجید نے بیان فرمایا ہے
۔ اسی خیر خواہی والی نصیحت کو سن کر قارون حضرت موسیٰ علیہ السلام کا دشمن ہو گیا
۔ غور کیجئے کہ کتنی مخلصانہ اور کس قدر پیاری نصیحت ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ساتھ ساری قوم قارون کو سناتی رہی کہ:
اِذْ قَالَ لَہٗ قَوْمُہٗ لَا تَفْرَحْ اِنَّ اللہَ لَا یُحِبُّ الْفَرِحِیۡنَ ﴿76﴾وَ ابْتَغِ فِیۡمَاۤ اٰتٰىکَ اللہُ الدَّارَ الْاٰخِرَۃَ وَ لَا تَنۡسَ نَصِیۡبَکَ مِنَ الدُّنْیَا وَ اَحْسِنۡ کَمَاۤ اَحْسَنَ اللہُ اِلَیۡکَ وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِ ؕ
I love this story because it reminds me that one person can make a difference.
In 1979, Jadav Payeng began planting a tree every day for 37 years — results are stunning