یہ سہولیات جج صاحب کے ساتھ اِن کی قبر میں جانے تک چلیں گی۔ سونے پہ سہاگہ یہ کہ اگر اب ریٹائرمنٹ کے بعد کسی ٹریبونل کے رکن منتخب ہوگئے تو یہ ساری سہولیات اور مراعات ڈبل ہوجائیں گی۔
یہ لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس مسعود عابد نقوی ہیں اور یہ مؤرخہ 03 جولائی 2026 کو ریٹائر ہو گئے ہیں تو آج سے اِن کو 20 لاکھ روپے پینشن، 150 لیٹر ماہانہ مفت پیٹرول، 800 یونٹ ماہانہ مفت بجلی، پانی کی مفت فراہمی، 800 ماہانہ مفت لوکل کالز، اور ڈرائیور ملے گا،
9 محرم کو اسلام پورہ میں ڈاکٹر یاسمین راشد کی جانب سے حسینی سبیل لگائی گئی اور یہ سلسلہ گزشتہ 12 سال سے جاری ہے، اب ہوتا یہ ہے کہ اسلام پورہ محسن نقوی جاتے ہیں اور انکی نظر اس سبیل پر پڑ جاتی ہے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے اس سبیل کو ختم کروا دیا جاتا ہے،
"خریدا ہے بھئی" والا رویہ نیا نہیں ہے ، جب نواز شریف سے اثاثوں بارے سوال کیا گیا تھا تو انہوں نے پنجاب ہاوس میں اجلاس بلا کر جواب دیا تھا کہ اگر "میرے اثاثے زیادہ ہیں اور آمدن سے میچ نہیں کرتے تو تمہیں کیا ہے بھئی".
مریم نواز کا کوئی تعلق نہیں ہے پنجاب میں قانون سازی سے، مریم نواز تو صرف انگوٹھا لگانے کے لیے بیٹھی ہوئی ہے،
پنجاب کو اب باقاعدہ طور انٹیلیجنس ایجنسیوں اور پنجاب پولیس کے حوالے کرنے جا رہے ہیں، نجم سیٹھی
سپریم جوڈیشل کاؤنسل نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج محمد آصف کے خلاف ریفرنس خارج کر دیا ہے جس کے کم عمر بیٹے نے اسلام آباد میں دو لڑکیاں مار دی تھیں
غریب کے بچوں کے لیے سی سی ڈی ہے الیٹ اور طاقتوروں کے بچوں کے لئے معافی ہے
دیعت میں قتل معاف بھی ہو جائے جج کی کم عمر نابالغ بچے کو بغیر لائسنس گاڑی دینا ایک بڑا جرم ہے جس سے دو قیمتی جانیں چلی گئی تھی
یہ انٹیلیجنس کمیٹی ہوگی جو باقاعدہ سزا سے بھی پہلے بینک اکاؤنٹس منجمند ، جائیداد ضبط ، سفری پابندیاں ، سوشل میڈیا پر کسی موجودگی پر پابندی اور الیکٹرانک نگرانی کا سی سی ڈی طرز پر فوری انصاف کرے گی
اب ذرا اسکی کمپوزیشن دیکھیں ڈویژن کی سطح پر
کمشنر ، آرپی او یا سی پی او ، سپیشل برانچ نمائندہ ،سی ٹی ڈی کا نمائندہ ، وفاقی حکومت انٹیلیجنس ایجنسی کا نمائندہ ، متعلقہ ضلع کا ایڈیشنل کمشنر اور پھر کمشنر کا ہی نامزد کردہ کوئی ممبر
اب بتائیں ان میں کون حکومت کا ماتحت افسر آزادانہ فیصلہ کرے گا ؟ یہ ہر کسی کو پھٹے پر چڑھا دیں گے
عدالت نام کی پہلے ہی کوئی چیز نہیں رہ گئی اس ملک میں اب جب حکومتوں کو سامراجی دور کے اختیارات دیں گے تو پھر اسکو سول مارشل لاء یا پولیس اسٹیٹ نہیں کہا جائے گا تو کیا کہا جائے گا ؟
پنجاب میں متعارف کروایا گیا نیا قانون "پنجاب کنٹرول آف ہیبیچوئل آفینڈرز اور اینٹی سوشل بیہیویئر ایکٹ "اگر پاس کروا لیا جاتا ہے تو یہ شخصی اور جمہوری آزادیوں کو مزید محدود کرنے کا باعث بن سکتا۔ قانون میں اینٹی سوشل بیہیویئر یا سماج دشمن سرگرمیوں کی تعریف میں جو نکات شامل کیے گئے ہیں ان کی تعریف کافی وسیع ہے اور اس کی زد میں کوئی بھی آسکتا ہے! یا لایا جاسکتا ہے!
جیسے : جانوروں سے ناروا سلوک۔سوشل میڈیا پر غلط معلومات یا خبریں، افواہیں یا اشتعال انگیز مواد پھیلانا - ٹریفک میں رکاوٹیں پیدا کرنا!
ضلعی انٹیلی جنس کمیٹی کسی شخص کے خلاف یہ اقدامات کر سکتی ہے:،نام PNIL لسٹ میں ڈالنے کی سفارش -پاسپورٹ ضبط کرنے کی سفارش،شناختی کارڈ یا پاسپورٹ بلاک کرنے کی سفارش، سوشل میڈیا اکاؤنٹ ختم کرنے کی سفارش، موبائل، لیپ ٹاپ یا دیگر آلات ضبط کرنا۔اسلحہ لائسنس منسوخ کرنے کی سفارش۔جائیداد یا سامان ضبط کرنا (عدالتی منظوری کے ساتھ)۔بینک اکاؤنٹس فریز کرنے کی سفارش
جدید ٹیکنالوجی سے نگرانی؛ الیکٹرانک ٹریکر (ٹخنے یا بریسلٹ) لگانا!
Habitual Offender (عادی مجرم)
وہ شخص عادی مجرم قرار دیا جا سکتا ہے:
جس کے خلاف مقدمہ چل چکا ہو، یا جو بار بار جرائم میں پکڑا گیا ہو، یا جو مسلسل سماج دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہو
ایسے شخص کے لیے:الیکٹرانک مانیٹرنگ ڈیوائس لگائی جا سکتی ہے،پولیس کو رپورٹ کرنا ہوگی،اس کا ڈیٹا رجسٹری میں رکھا جائے گا۔اگر وہ ٹریکر توڑے یا شرائط کی خلاف ورزی کرے:3 سال تک قید, جرمانہ ہوسکتا ہے۔اگر کوئی شخص انٹیلی جنس کمیٹی کے حکم کی خلاف ورزی کرے تو 1سے 4 سال تک قید اور لاکھوں روپے جرمانہ ہوسکتا ہے۔بار بار خلاف ورزی پر سزا بڑھ سکتی ہے۔
اپیل کے حق کی بات کریں تو اگر کسی شخص کے خلاف کارروائی ہو تو وہ پہلے ڈویژنل کمیٹی میں اپیل،پھر صوبائی کمیٹی اور پھر اپیلیٹ کمیٹی میں اپیل کرسکتا ہے۔ مکمل بل کا لنک:
https://t.co/ZZkZBrTQoR
اگر ہم فارم 47 پر ہیں تو وہ(پیپلزپارٹی) بھی فارم 47 پر ہیں۔ وہ بھی اسی نظام کے ذریعے بینیفیشری ہیں۔۔سندھ میں بھی وہ حکومت لے کے بیٹھے ہیں، گلگت بلتستان میں بھی۔۔سینیٹ۔۔۔۔صرف ن لیگ تو بینیفیشری نہیں ہے: علی گوہر بلوچ(رہنما مسلم لیگ ن)
@AUKhanOfficial1
کامران شاہد: اگر حکمران ظالم ہو جائیں تو کیا اُن کے خلاف جہاد نہیں ہونا چاہیے؟
جرنیلی ٹاؤٹ مفتی عبدالرحیم: نہیں، اُن کے خلاف صرف بولیں۔
کامران شاہد: کیا حضرت امام حسینؓ نے اُس وقت کے حکمران یزید کے خلاف صرف بولا تھا؟
الزام تھا عمران خان نشہ کرتا ہے۔۔جیل میں دو دن نہیں گزار سکتا۔۔چوبیس گھنٹے عمران خان تمہاری کیمروں کی نگرانی میں ہوتا ہے۔ عمران خان کے کردار کی کوئی ایک خامی نکال کر قوم کو دکھا دیں🔥
مجھے تحریک عدم اعتماد کا سب سے پہلے نواز شریف نے لندن میں بتایا۔ میں نے کہا، “آپ تو کہتے تھے کہ عدم اعتماد فوج کی مدد کے بغیر ممکن ہی نہیں۔” تو میاں صاحب نے کہا، “ہمیں سمجھوتہ کرنا پڑے گا۔”
وہ کچھ سمجھوتے کرتے کرتے آج سارا کچھ فوج کے ہاتھ میں دے دیا!زبیر عمر۔
ظالم اس عدالت سے تو استثنیٰ لے لیا، لیکن اللہ کی عدالت سے کیسے استثنیٰ لو گے؟
اللہ کی شان دیکھو استثنیٰ لیا بھی تو کس بات پر،
چوری کریں، ڈاکا ماریں، قتل کریں مجھے کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا، یہ استثنیٰ لے لیا، عادل خان بازئی
اچانک MNA بننے والے معجزے خواجہ آصف اور اُن کے خاندان کے ساتھ ہی ہوتے ہیں۔ شیزا فاطمہ کے ماموں خواجہ آصف پچاس ہزار ووٹوں سے ہار رہے تھے، پھر اچانک معجزہ ہوا اور وہ ایم این اے بن گئے۔ اسی طرح شیزا فاطمہ پنجاب اسمبلی کے لیے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے آئیں تو اچانک اُنہیں بتایا گیا کہ آپ نے تو قومی اسمبلی کا الیکشن لڑنا ہے، اور پھر بس وہ بھی اچانک سے ایم این اے بن گئیں۔