ایک وقت تھا کہ محی الدین نواب کو بہت کم لوگ جانتے تھے لیکن فرہاد علی تیمور کے ہزاروں یا شاید لاکھوں پرستار تھے۔ ٹیلی پیتھی یا خیال خوانی ایک ایسا دلچسپ موضوع ہے جو دیومالائی کہانیوں جیسا پراسرار ہے لیکن غیر حقیقی بھی نہیں۔ سسپنس ڈائجسٹ میں دیوتا کے آغاز پر کسی نے نہیں سوچا ہوگا کہ طویل ترین کہانی کا عالمی ریکارڈ بن جائے گا۔ اگر محی الدین نواب کو اور زندگی ملتی اور ڈائجسٹوں کے قاری دستیاب رہتے تو فرہاد علی تیمور آج بھی دیوتا ہوتا۔
میں نے دیوتا میٹرک میں پڑھنی شروع کی تھی۔ اس وقت دیوتا کو سسپنس میں چھپتے ہوئے دس گیارہ سال ہوچکے تھے۔ کم لوگ جانتے ہوں گے کہ دیوتا پہلی سلسلے وار کہانی تھی جو کتابی صورت میں چھپنا شروع ہوئی۔ میں نے پہلا حصہ خرید کر پڑھا تو ہوش اڑ گئے۔ ہوش ربا کہانی واقعی اسے کہتے ہیں۔ ابتدائی قسطیں ہی قاری کو جکڑ لیتی ہیں۔ میں فرہاد علی تیمور کی زرینہ کے ساتھ پہلی رات کبھی فراموش نہیں کرسکا۔ پھر مرجانہ، رسونتی، سونیا، کیا کیا نام تھے اور کیا کیا کہانیاں۔ دیوتا مغربی دنیا میں چھپتی تو جیمز بونڈ کی طرح فرہاد علی تیمور کی لڑکیوں پر بھی کتابیں لکھی جاتیں۔
دیوتا کو کتابی صورت میں چھاپنے والے ادارے کتابیات پبلی کیشنز نے ٹیلی پیتھی اور ہپناٹزم پر بھی کئی کتابیں چھاپی تھیں۔ وہ میں نے منگوائیں۔ بلکہ آج بھی میرے پاس موجود ہیں۔ ان میں شمع بینی کی مشقیں دی ہوئی تھیں۔ میں نے ٹیلی پیتھی سیکھنے کے لیے وہ مشقیں کرنے کی کوشش کیں لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔
میں فرہاد علی تیمور نہیں بن سکا لیکن محی الدین نواب بننے کی کوشش ضرور کی۔ بہت سی کہانیاں لکھیں جن میں سے چند ڈائجسٹوں میں بھی چھپیں۔ پھر ایک افسانہ ٹیلی پیتھی کا ماہر بن کر لکھا جو ڈاکٹر آصف فرخی کے ادبی جریدے دنیازاد میں چھپا۔
دیوتا کی مکمل کہانی 56 حصوں میں شائع ہوئی۔ میں نے گوگل ڈرائیو کے ایک فولڈر میں وہ تمام حصے ڈال دیے ہیں۔ آج کل اتنا پڑھنے کا وقت کس کے پاس ہے۔ جی چاہے تو صرف ابتدائی قسطیں پڑھ لیں کہ کہانی شروع کیسے ہوئی۔
https://t.co/CZj9SnVn0Z