حکومت نے جیٹ فیول کی قیمت میں کمی کردی نئی قیمت 231 روپے 71 پیسے فی لیٹر ہوگئی۔۔۔ امیروں کی سواری کا فیول عام آدمی کے پٹرول سے 69 روپے سستا۔۔۔
یہ وطن تمہارا (ایلیٹ کلاس کا) ہے
ہم(غریب،عام لوگ) ہیں خوامخواہ اس میں۔
مولانا طارق جمیل صاحب تین سال ہونے والے ہیں۔ علماء کرام کو کہیں عمران خان کی رہائی کے لئے تحریک چلائیں اور عوام کو شمولیت کی دعوت دیں۔ اپنا فرض ادا کریں۔ جب تک بےگناہ قید میں رہے گا ملک پر آسیب کا سایہ رہے گا۔ حرکت نظر آئے گی برکت نہيں آئے گی۔ سیدھے کام الٹے پڑتے رہیں گے۔
آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی تنظیم OCAC نے وزیرِ پیٹرولیم کو خط لکھا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں اچانک گرنے سے مہنگا سٹاک سستا بیچ کر انہیں قریبا 104 ارب نقصان ہوا۔ حکومت اس نقصان کا ازالہ کرے
خط میں بس یہ نہیں لکھا کہ سستا تیل ڈبل قیمت پر بیچ کر کتنے سو ارب منافع ہوا تھا
عالمی منڈی میں خام تیل 66 ڈالر فی بیرل ہے، یعنی تقریباً 115–118 روپے فی لیٹر۔ اس پر ریفائننگ، ٹرانسپورٹ، مارجن اور دیگر اخراجات بھی شامل کر لیں تو پٹرول تقریباً 200 روپے فی لیٹر دیا جا سکتا ہے۔ اگر ایسا نہیں، تو حکومت عوام کو صاف صاف بتائے کہ قیمت زیادہ کیوں رکھی گئی ہے۔ جب عمران خان کے دور میں خام تیل 125 ڈالر فی بیرل تھا اور پٹرول تقریباً 150 روپے فی لیٹر مل رہا تھا، تب آپ کہتے تھے کہ قیمت 80 یا 86 روپے ہونی چاہیے۔ آج خام تیل 66 ڈالر فی بیرل ہے، تو وہی فارمولا قوم کو بتا دیں، اب وہ کیوں لاگو نہیں ہوتا؟
برائے اطلاعِ عام: براہِ مہربانی اس ہفتے کیلئے پیٹرول اور ڈیزل کی بین الاقوامی پلیٹس قیمتیں ملاحظہ کریں۔ حکومت نہ تو کسی شعبے کو ترجیح دے رہی ہے اور نہ ہی کسی دوسرے پر غیر ضروری بوجھ ڈال رہی ہے۔ حکومت اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کے دائرے میں رہتے ہوئے، صارفین تک کوئی بھی فائدہ پہنچانے کے لیے پُرعزم ہے۔ اسی عہد کے تحت وزیراعظم شہباز شریف نے آج تک ڈیزل کی قیمت میں 200 روپے فی لیٹر اور پیٹرول کی قیمت میں 155 روپے فی لیٹر کمی کی ہے۔ پاکستان زندہ باد!
جب حکومت نے پٹرول 209 روپے تک مہنگا کیا تو پٹرولیم کمپنیوں نے پرانے سٹاک پر بھاری منافع کمایا اور خاموش رہیں۔ اب قیمتیں کم ہونے پر انہوں نے شور مچا دیا، جس کے دباؤ میں آکر شہباز شریف نے تیل کی قیمتوں میں کمی نہیں کی، جبکہ پہلے یہ کمپنیاں زبردست فائدہ اٹھا رہی تھیں۔
ثمینہ پاشا
@pasha_samina
حق اور سچ کی راہ پر ثابت قدم رہنے والے پی ٹی آئی کارکن الطاف حسین جیل سے رہائی کے بعد دل کا دورہ پڑنے سے خالق حقیقی سے جا ملے۔ وہ قید کی سختیاں جھیلنے کے بعد دنیا سے رخصت ہونے والے بارہویں کارکن ہیں۔
الطاف حسین سے قبل بھی 11 کارکنان قید کے کٹھن حالات اور مختلف موذی امراض کا شکار ہو کر جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ ایک کے بعد ایک کارکن کا اس حالت میں دنیا سے جانا کسی صورت طبعی موت نہیں، یہ اخلاقی طور پر دیوالیہ نظام کے ہاتھوں انسانیت کا قتل ہے۔
اللہ کریم الطاف حسین کے درجات بلند فرمائے اور لواحقین کو صبر دے۔ آمین۔"
بریکنگ نیوز 🚨اسٹبلیشمنٹ کے پالتو منیب فاروق کا شاہ زیب خانزادہ کے پروگرام میں تہلکہ خیز انکشاف۔ خان کے خلاف کیسے پروپیگنڈہ کیا گیا سب کھل کر بتا دیا🔥🔥
عمران خان کی حکومت کو ابھی ایک سال بھی نہیں ہوا تھا کہ مجھے، غریدہ فاروقی، سلیم صافی، سہیل وڑائچ، منصور علی خان، ابصار عالم اور ہمارے دیگر صحافی دوستوں کو باقاعدہ بلا کر ہدایت جاری کی گئیں کہ تم لوگوں نے خان کے خلاف کھل کر پروپیگنڈہ کرنا ہے۔ چوبیس گھنٹے چینل پر یہی بیٹھ کر کہنا ہے کہ خان نالائق ہے، مہنگائی کر رہا ہے۔ اس بیانیہ پر عوض ہمیں لاکھوں کروڑوں روپے دیے گئے۔
افتخار ٹاؤٹ نے عمران خان پر الزام لگایا کہ امیر باپ کا بیٹا تھا، امیر گھر میں شادی ہوئی 2002 میں اپنا pti کا دفتر پیسے نہ ہونے کی وجہ سے کیسے بند کر سکتا ہے۔
حامد میر نے بتایا کہ عمران خان کو 2002 میں بہت قریب سے جانتا تھا اُس نے اپنا سب کچھ شوکت خانم ہسپتال کے نام کر دیا تھا۔
پوری دنیا میں حکومتیں عوام کو فائدہ دیتی ہے مگر پاکستان میں حکومت پٹرول کمپنیوں کو فائدہ دے رہی ہے ۔ایسا تب ہوتا ہے جب حکومت بے حس ہو عوام کی اسے کوئی فکر نا ہو ، منہ میں رام رام بگل میں چھڑی ، والا کام عوام کے ساتھ ہو رہا ہے ۔
جرمنی سے خاندان کے تمام افراد نے اسلام قبول کر لیا۔ دیکھو وہ کتنے خوبصورت ہیں۔ اللہ ان سب کو جزائے خیر عطا فرمائے۔اسلام میں خوش آمدید میرے مسلمان بھائیوں اور بہنوں کو صحیح دین اور راستے پر 🤍