In the same spirit, I clarify my position: I represent Pakhtuns in general and the Awami National Party in particular. I do not speak for PTI, PKMAP, or PTM, nor represent the TTP or TTA.
My duty is not to defend their positions or agendas, but to uphold our principles and serve our people through democratic, constitutional, and non-violent struggle, guided by Baacha Khan’s legacy.
This extends beyond our voters. Peace, dignity, and provincial rights belong equally to supporters and opponents alike.
I will not abandon a just cause because an opponent supports it, nor stay silent on injustice because an ally commits it. Our people’s interests—not approval from power or opposition—will guide my politics.
🚨عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر، سینیٹر ایمل ولی خان کا پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب:
(قومی اسمبلی کے آفیشل فیس بک پیج سے اصل تقریر کو ایڈیٹ اور اپنی مرضی کے حصے منتخب کرکے آج صبج نشر کیا گیا ہے۔ جن جگہوں پر تقریر کو سنسر کیا گیا ہے، اس کی نشاندہی ہم نے ویڈیو میں کی ہے)
🟥 ہمارا صوبہ اور ہماری قوم ایک نہایت تاریک دور سے گزر رہے ہیں۔
🟥چار پانچ چیزوں کو جوڑ کر ہم یہاں ایک ہی چیز بنا رہے ہیں اور اس پر ایک ہی جگہ بحث ہو رہی ہے۔
🟥پی ٹی آئی ایک الگ بحث ہے، وہ بیچاری قوم جس کا نہ دہشت گردی سے اور نہ پی ٹی آئی سے کوئی لینا دینا ہے، وہ الگ بحث ہے، جبکہ گورنر راج اور ایمرجنسی الگ بحث ہیں۔
🟥تاریخ تین سال کی نہیں ہے۔ پی ٹی آئی کی تاریخ 2013 سے شروع نہ کریں، بلکہ اس سے بھی پیچھے جائیں۔
🟥ہمیں ماضی یاد ہے۔ اس ایوان کے سامنے کھڑے ہو کر میں اس ریاست سے کچھ سوالات کرنا چاہتا ہوں۔
🟥اس ایوان میں ہمارے مؤقف کی طرف اشارے ہوئے۔ ہر کوئی مثال کے لیے ہمیں پیش کر دیتا ہے۔
🟥2008 اور 2013 کے درمیان ہم نے اس ریاست کے ساتھ کھڑے ہو کر دہشت گردی کے خلاف ایک ایسا مؤقف اپنایا کہ ہم نے ہزاروں کی تعداد میں، لیڈروں سے لے کر کارکنوں تک، قربانیاں دیں۔
🟥میں اپنے پی ٹی آئی کے دوستوں کو 2013 یاد دلانا چاہتا ہوں۔ ہمیں یاد ہے کہ ہم انتخابات لڑ رہے تھے، لیکن نہ جلسہ کر سکتے تھے، نہ جلوس نکال سکتے تھے اور نہ میٹنگ کر سکتے تھے۔
🟥 جو کارکن ہماری یہ لال ٹوپی پہنتا تھا، اسے باقاعدہ طالبان کی طرف سے دھمکی ملتی تھی کہ اگر تم لال ٹوپی پہنو گے تو مارے جاؤ گے۔
🟥جس گھر پر لال جھنڈا لگا ہوتا تھا، وہاں باقاعدہ دھمکی دی جاتی تھی کہ اس گھر میں دھماکہ ہوگا۔
🟥کیا ہمیں نہیں پتا کہ 2013 میں خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت کیسے آئی؟
🟥ہم قطعاً آپ پر یہ الزام نہیں لگا رہے، بیرسٹر صاحب، کہ آپ دہشت گردوں کے حامی ہیں، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ آپ کے لیڈر دہشت گردوں کے بہت بڑے وکیل رہ چکے ہیں۔
🟥کیا 2013 سے 2018 تک پی ٹی آئی کی حکومت کھلے عام ان طالبان کی وکالت کر رہی تھی یا نہیں؟
🟥 آن ریکارڈ پرویز خٹک اور بانی پی ٹی آئی کے بیانات موجود ہیں کہ ان کو مین اسٹریم میں لائیں، انہیں دفاتر دیں۔
🟥 بیرسٹر صاحب، ہم کبھی بھی آپ کو دہشت گردوں کی پشت پناہی کرنے کا ملزم نہیں ٹھہرائیں گے۔
🟥لیکن 2018 میں کیا کھلے عام دہشت گرد پی ٹی آئی کے لیے انتخابی مہم چلا رہے تھے یا نہیں؟
🟥2013 سے 2018 تک پانچ سال خیبر پختونخوا کی حکومت میں صوبے کے لوگوں کی خدمت نہیں ہوئی، بلکہ تختِ اسلام آباد اور تختِ لاہور کی لڑائیاں ہوتی رہیں۔
🟥کیا ہمیں یاد نہیں کہ پرویز خٹک سرکاری عملے کے ساتھ آ کر یہاں وفاقی حکومت کے خلاف اپنا کیا کردار ادا کر رہے تھے؟
🟥 جب بانی پی ٹی آئی کی حکومت آتی ہے تو کیا ری سیٹلمنٹ کا نظریہ آتا ہے یا نہیں؟
🟥 میں کسی کے خلاف یا کسی کی حمایت میں نہیں بول رہا ہوں۔
🟥 عجیب منطق ہے کہ ایک ہی الیکشن میں آدھے لوگوں کو کہا جاتا ہے کہ آپ دھاندلی سے آئے ہیں، جبکہ ہم ٹھیک ہیں۔
🟥آج اس ایوان کے فلور پر کہتا ہوں کہ خیبر پختونخوا کے گزشتہ انتخابات کا احتساب کریں۔
🟥اگر پچاس فیصد انتخاب دھاندلی زدہ ثابت نہ ہو تو میں بار بار کہتا ہوں کہ اس پورے ایوان کے سامنے سیاست چھوڑ دوں گا اور آئندہ کبھی سیاست نہیں کروں گا۔
🟥ہمت کریں، احتساب کرائیں۔ باقی پاکستان کو تو آپ ویسے ہی جعلی کہہ رہے ہیں، جو آپ کے خیال میں ٹھیک ہے، اس کا احتساب کرائیں۔
🟥پی ٹی آئی کی مخالفت ہم سے اور مولانا صاحب سے زیادہ شاید کسی نے نہیں کی ہوگی۔
🟥لیکن اس مخالفت کا قطعاً یہ مطلب نہیں کہ ہم کسی سیاہ اقدام کی، خواہ وہ آئینی ہو یا قانونی، حمایت کریں گے۔ آپ اسے گورنر راج کہیں یا ایمرجنسی، ہم اس کی حمایت نہیں کریں گے۔ اس مخالفت کا قطعاً یہ مطلب نہیں کہ ہم اس سیاہ اقدام کو سپورٹ کرنے کے لیے تیار ہیں۔
🟥پی ٹی آئی یا دہشت گردی، دونوں میں سے کوئی بھی پختون قوم کی عکاسی نہیں کرتی۔
🟥 پختون قوم تو اس سارے کھیل میں پس کر رہ گئی ہے۔ آج ہمارے بنیادی حقوق موجود نہیں ہیں۔
🟥آج آپسی چپقلش کو بنیاد بنا کر خیبر پختونخوا کے عوام کو تاریکی کی طرف دھکیل دیا گیا ہے۔
🟥اگر ایسا نہیں ہے تو مجھے اس ایوان میں دکھا دیں۔ ایسے بہت کم لوگ ہوں گے جو تاریخی طور پر دہشت گردی کے خلاف رہے ہیں۔
🟥اس قوم پر رحم کریں۔ میں تمام ایوان سے یہ گزارش کرتا ہوں کہ آپ لوگ اور یہ نظام جو بھی کرنا چاہے، وہ کرسکتا ہے، ہم کچھ نہیں کر سکتے۔
🟥آپ نے ایمرجنسی رول لگا لیا، ہم کیا کر سکتے ہیں؟ آپ نے گورنر راج لگا لیا، ہم کیا کر سکتے ہیں؟ کچھ بھی نہیں۔
🟥 کیا اس گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے پختون قوم کو کوئی فائدہ ملے گا یا نہیں، یہ سوال ہمارے دلوں میں ضرور ہے۔
🟥 کیا پاکستان دہشت گرد کو دہشت گرد کہنے کے لیے تیار ہے؟ اور یہ سارا نزلہ صرف ایک جگہ پر نہیں گرنا چاہیے۔
🟥نیشنل ایکشن پلان ایک بہت مشکل وقت میں بنایا گیا۔ آج ہم یہ سوال کرتے ہیں کہ اس نیشنل ایکشن پلان کو بنے دس بارہ سال ہو گئے، لیکن آج تک ہمیں امن نہیں ملا۔
🟥نیشنل ایکشن پلان میں بہت واضح لکھا ہے کہ جو سہولت کار ہے، اسے سزا ملے گی۔
🟥سہولت کار بیچارہ وہ تو نہیں جسے یہ پتا بھی نہ ہو کہ جو بندہ میرے گھر آیا ہے، وہ دہشت گرد ہے بھی یا نہیں۔ بلکہ وہ مہمان نوازی کی خاطر اسے کھانا کھلا کر رخصت کر دیتا ہے، اور بعد میں اس کے گھر میں دھماکے ہو رہے ہوتے ہیں۔
🟥خدا کا ہر گھر، جسے مسجد کہا جاتا ہے، مقدس ہے۔ جب ہماری مسجد تباہ ہوتی ہے تو کیا کوئی ہمارے غم میں شریک ہوتا ہے؟ جب ہماری مسجد شہید ہوتی ہے تو کیا کوئی ملک یہ کہنے آتا ہے کہ یہ بھی مسلمانوں کی مسجد ہے؟
🟥پاکستان کو اب اس ملک کی بہتری کے لیے ہی پالیسی بنانی ہوگی۔ جب تک سمت تبدیل نہیں ہوگی، حالات یہی رہیں گے۔
🟥اب جو ہو گیا، وہ ہو گیا، لیکن کیا اس مجلسِ شوریٰ کا یہ اختیار بنتا ہے، یہ حق بنتا ہے کہ وہ ان تمام پختونوں کے لیے کچھ کرے جو امن کے لیے ترس رہے ہیں؟
🟥 وہ والدین جو چاہتے ہیں کہ ان کے بچے سکون سے اسکول جائیں اور خیریت سے واپس آئیں؛ وہ تاجر، صنعت کار اور روزگار کمانے والے لوگ جو چاہتے ہیں کہ صبح پُرامن طریقے سے اپنے کام پر جائیں، اپنا روزگار کریں اور پُرامن طریقے سے گھر واپس آئیں
🟥 وہ مائیں جو گھر میں بیٹھ کر دروازے پر دستک سن کر یہ سوچنے پر مجبور نہ ہوں کہ شاید کوئی شہید ہو گیا ہے اور انہیں اس کی خبر ملنے والی ہے۔
🟥یہ تمام قوم، ان تمام ڈراموں کے باوجود، اس ایوان کی طرف دیکھتی ہے۔ پختونوں کے امن کا ضامن یہ ایوان ہے۔
🟥اب تو یہ ذمہ داری بھی لے لی گئی ہے کہ پچھلی حکومت کو اس لیے ہٹا دیا گیا کیونکہ وہ دہشت گردوں کی سہولت کار تھی۔ ہم امید رکھتے ہیں کہ یہ جو نیا نظام آیا ہے، شاید یہ پختونوں کو امن دے گا۔
#ANP | #AimalWaliKhan
چارسدہ: گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی ولی باغ آمد،
مرکزی صدر اے این پی سینیٹر ایمل ولی خان سے ملاقات کی
ملاقات میں صوبے کو درپیش مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا
ملاقات میں امن و امان کی صورتحال اور دیگر اہم امور پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی
ملاقات میں سیکرٹری جنرل ڈاکٹر محمد سلیم خان بھی شریک تھے
صوبائی صدر میاں افتخار حسین اور جنرل سیکرٹری حسین شاہ یوسفزئی بھی ملاقات میں موجود تھے
ملاقات میں مرکزی سیکرٹری خارجہ امور سردار حسین بابک اور صوبائی ترجمان ارسلان خان ناظم بھی شریک تھے
#ANP
ایمرجنسی یا گورنر راج لگانے کی مخالفت کرتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ حالات کو اس نہج پر پہنچانے کے ذمہ دار تحریک انصاف کی حکومت اور ان کو لانے والے ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت گزشتہ ڈھائی سال میں ہر لحاظ سے بدترین طور سے ناکام رہی ہے۔ اس حکومت نے عوام کے مسائل حل کرنے میں معمولی دلچسپی بھی نہیں لی بلکہ صوبے کو ایک مسلسل ہیجانی کیفیت میں مبتلا رکھ کر کرپشن کا ایک بازار گرم رکھے ہوا ہے۔ یہ دہشتگردی سے نمٹنے میں کبھی سنجیدہ نہیں رہی بلکہ اس نے اپنے قول و فعل سے ہمیشہ یہ ثابت کیا کہ اس کی ہمدردیاں عوام، صوبے اور ملک کے ساتھ نہیں بلکہ دہشتگردوں کے ساتھ ہیں۔ پولیس اور عوام کے شہداء کے ساتھ کھڑے ہونے کی بجائے اس نے دہشتگردوں کی بالواسطہ یا بلا واسطہ سہولتکاری کی۔ اس کا انعام اسے عوام اور قانون کے ساتھ کھڑی ہونے والی جماعت کو دہشتگردی اور ففتھ جنریشن کے پراپیگنڈے کا شکار بنا کر اسے اکیلے جگہ دے کر دیا گیا۔
گورنر راج یا ایمرجنسی لگے یا نہ لگے، یہ ایک زمانے میں دو باہمی محبت کرنے والوں کی آپس کی لڑائی ہے۔ ہم تحریک انصاف اور اس کو لانے والوں، دونوں کے احتساب کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اس صوبے کو مزید تجربہ گاہ بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
پشاور: عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر میاں افتخار حسین نشتر ہال میں منعقدہ ’’زور خیبر پختونخوا ایوارڈ‘‘ کی تقریب سے خطاب کر رہے ہیں۔
#ANP | #ANPPakhtunKhwa | #MianIftikharHussain
کئی دہائیاں قبل خان عبدالولی خان نے کیا کہا، آپ ضرور سنیں! وہ منجھے ہوئے اور زیرک لوگ تھے، مستقبل کی پیشین گوئیاں کرتے تھے، دعوے سے باتیں کرتے تھے۔
#WaliKhan
اسلام آباد: عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان کی زيرصدارت تھنک ٹینک اجلاس جاری ہے
🟥اجلاس میں مرکزی کابینہ کے اراکین سمیت تمام صوبائی یونٹس کے نمائندگان شریک ہیں
🟥اجلاس میں موجودہ ملکی سیاسی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوگا
🟥اجلاس میں نئے صوبوں و انتظامی یونٹس کے حوالے سے اہم مشاورت ہوگی
🟥اجلاس میں موجودہ حالات میں پارٹی کے سیاسی مؤقف و بیانیے اور دیگر اہم امور پر تفصیلی مشاورت کی جائے گی
🟥تھنک ٹینک اجلاس میں موجودہ سیاسی حالات کا جائزہ لیتے ہوئے آئندہ کے لائحۂ عمل پر بھی غور کیا جائے گا
🟥اجلاس میں مرکزی سینئر نائب صدر داؤد خان اچکزئی ، سیکرٹری جنرل ڈاکٹر محمد سلیم خان اور ترجمان احسان اللہ خان شریک ہیں
🟥 سابق وزیر اعلی امیر حیدر خان ہوتی اور سینئر رہنما حاجی غلام احمد بلور بھی تھنک ٹینک اجلاس میں شریک ہیں
🟥صدر اے این پی پختونخوا میاں افتخار حسین اور جنرل سیکرٹری حسین شاہ یوسفزئی بھی تھنک ٹینک اجلاس میں موجود ہیں
🟥اجلاس میں صدر اے این پی بلوچستان اصغر خان اچکزئی، جنرل سیکرٹری مابت کاکااور جنرل سیکرٹری اے این پی سندھ یونس بونیری بھی شریک ہیں
🟥صدر اے این پی پنجاب منظور احمد خان اور جنرل سیکرٹری امیر بہادر خان ہوتی بھی اجلاس میں شریک ہیں
🟥صدر اے این پی فیڈرل کیپیٹل اسلام آباد عبدالرحیم وزیر ایڈوکیٹ، جنرل سیکرٹری جواد خان اورتمام صوبائی یونٹس سے دیگر اراکین بھی موجود ہیں
#ANP | #AwamiNationalParty
Pakistan is our country and it holds our motherland. No one can dare say that they love their motherland more than us. We want a free and peaceful and prosperous and democratic Pakistan, we want free and peaceful and powerful public. That’s it.
Pakistan zindabad
Pakhtunkhwa paindabad