”تحریک انصاف کی پولیٹیکل کمیٹی میں آج ختم کر رہا ہوں- پارٹی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کے پاس مکمل اختیارات ہیں، وہ ایک نئی مختصر کمیٹی بنائیں جو سیاسی حکمت عملی وضع کرے اور اس پر عملدرآمد کروائے-
شاہد خٹک کو قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کا پارلیمانی لیڈر نامزد کرتا ہوں۔
پاکستان بار کے انتخابات میں تحریک انصاف متحد ہو کر ان امیدواروں کی بھر پور حمایت کرے جنھیں سلمان اکرم راجہ اور حامد خان نامزد کریں۔ خیبر پختونخوا کے وکلأ، بارز اور ILF کے معاملات کا سہیل آفریدی خود جائزہ لیں اور بہتری کے لیے ضروری فیصلے خود کریں۔
زراعت ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اس کا موجودہ حال پریشان کن ہے۔ کسانوں کے حقوق پر جس طرح ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے، اس پر انتہائی افسوس ہے“
اڈیالہ جیل میں نا حق قید سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی ایک ماہ قید تنہائی کے بعد اپنی بہن سے ہونے والی ملاقات میں گفتگو (2 دسمبر، 2025)
Part 2 of 2
”عاصم منیر ایک ذہنی مریض ہے جس کی اخلاقی پستی کی وجہ سے پاکستان میں آئین اور قانون مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں اور کسی بھی پاکستانی کے بنیادی انسانی حقوق اب محفوظ نہیں۔
مجھے اور میری اہلیہ کو عاصم منیر کے حکم پر جھوٹے مقدمات میں جیل میں رکھا گیا ہے اور شدید ترین ذہنی ٹارچر کیا جا رہا ہے۔ مجھے مکمل طور پر ایک سیل میں بند کر کے قید تنہائی میں ڈالا ہوا ہے۔ چار ہفتے تک میری کسی ایک انسان سے بھی ملاقات نہیں ہوئی۔ اور بیرونی دنیا سے بالکل بےخبر رکھا گیا، جیل مینؤل کے مطابق دی جانے والی ہماری بنیادی ضروریات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔
ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود پہلے میری سیاسی ساتھیوں سے ملاقات پرپابندی لگائی گئی اور اب وکلأ اور اہل خانہ سے ملاقات بھی بند کر دی گئی ہے۔ انسانی حقوق کا کوئی بھی چارٹر اٹھا کر دیکھیں ذہنی تشدد بھی "ٹارچر" ہی کہلاتا ہے اور جسمانی تشدد سے بھی ذیادہ سنگین عمل سمجھا جاتا ہے۔
میری ہمشیرہ نورین نیازی کو سڑک پر گھسیٹا گیا، صرف اس لیے کہ وہ مجھ سے ملاقات کا جائز حق مانگ رہی تھیں، یہ صرف عاصم منیر جیسا شخص ہی کر سکتا ہے۔ اس نے ڈاکٹر یاسمین راشد جیسی بزرگ کینسر سرائیوور کو سیاسی انتقام کی غرض سے جیل میں ڈالا ہوا ہے۔ میری اہلیہ بشریٰ بیگم کو صرف مجھ پر دباؤ ڈالنے کے لیے قید کیا ہوا ہے۔ ان کے بچوں سے بھی انکی ملاقات نہیں کرنے دی جا رہی۔ ان کو تمام سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے، ان سب مثالوں سے اس شخص کی ذہنی سطح کا اندازہ ہوتا ہے۔
قید تنہائی کاٹنا انتہائی تکلیف دہ عمل ہے لیکن میں یہ صرف اپنی قوم کی خاطر برداشت کر رہا ہوں۔ جب تک قوم خود غلامی کی زنجیریں نہیں توڑتی، پاکستان پر مسلط مافیاز ایسے ہی اس کا استحصال کرتے رہیں گے۔ ایکسٹینشن مافیا، لینڈ مافیا، چینی مافیا، مینڈیٹ چور مافیا ہر ایک اس قوم کو تب تک غلام بنا کر رکھے گا جب تک کہ یہ قوم خود اٹھ کھڑی نہیں ہوتی۔ آپ آج ان کے غلام ہیں، آپ کی نسلیں ان کی نسلوں کی غلام ہوں گی اگر اس چکر کو توڑنا ہے تو قوم کو خود غلامی کی زنجیریں توڑ کر “حقیقی آزادی” کے لیے کھڑا ہونا ہے۔
وکٹ کے دونوں جانب کھیلنے والوں کی میری پارٹی میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ ایسے لوگ تحریک انصاف کے "میر صادق" اور "میر جعفر" ہیں۔ این ڈی یو ورک شاپ میں تحریک انصاف کے لوگوں کی شرکت شرمناک ہے۔ ایک جانب ہم لوگ ہر قسم کی سختیاں برداشت کر رہے ہیں تو دوسری جانب جب ہمارے ہی لوگ ہم پر ظلم ڈھانے والوں سے سماجی تعلقات بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں تو مجھے انتہائی تکلیف ہوتی ہے۔
میں ہمیشہ کہتا آیا ہوں کہ اپنے ہی لوگوں پر ڈرون اٹیکس اور ملٹری آپریشنز سے دہشتگردی مزید بڑھتی ہے- عاصم منیر کی پالیسیاں اس ملک کے لیے تباہ کن ہیں۔ اس ہی کی پالیسی کی بدولت آج ملک میں دہشتگردی کا ناسور بے قابو ہے جس پر مجھے انتہائی دکھ ہے۔ اس کو اپنے ملک کے مفادات کی رتی برابر بھی پرواہ نہیں ہے۔ یہ جو کچھ کر رہا ہے، محض مغربی دنیا کی خوشنودی کے لیے کر رہا ہے۔ افغانستان کے ساتھ آگ کو جان بوجھ کر بھڑکایا، اس کا مقصد ہے کہ اسے “انٹرنیشنلی مجاہد” سمجھا جائے- اس نے پہلے افغانوں کو دھمکایا، پھر مہاجرین کو ملک سے دھکے دے کر باہر نکالا، ان پر ڈرون حملے کیے جس کے اثرات پاکستان میں دہشت گردی بڑھنے کی صورت میں آئے۔ اس شخص نے اپنے ذاتی مفاد کے لیے ملک کو دہشتگردی کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔
سہیل آفریدی قابل تعریف ہے کیونکہ جبر کے اس ماحول میں وہ مفاہمت کے بجائے مزاحمت کو ترجیح دے رہا ہے۔ سہیل آفریدی کو پیغام دیتا ہوں کہ وہ فرنٹ فٹ پر آ کر کھیلتا رہے۔ اس ملک میں کوئی قانون اور آئین نہیں ہے۔ قانون صرف تحریک انصاف کے لیے حرکت میں آتا ہے ورنہ ہر کوئی اس سے مبرا ہے۔ سہیل آفریدی جو بھی کر رہا ہے اسے جاری رکھے میں اس کی مکمل حمایت کرتا ہوں۔
گورنر راج کی دھمکیاں لگانے والے کل کی بجائے آج لگا لیں اور پھر دیکھیں ان کے ساتھ ہوتا کیا ہے!!
محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس میرے لیے انتہائی قابل احترام ہیں۔ وہ جمہوریت پسند اور اصول پرست لوگ ہیں۔ مجھے حیرت ہے کہ اب تک ان کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا۔ میں تحریک انصاف کی پارلیمانی جماعت کو ہدایت کرتا ہوں کہ سپیکر اور چئیرمین سینیٹ کے سامنے اس معاملے پر احتجاج کریں تاکہ ان کا اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔ اس کے علاوہ موجودہ نظام مخالف کسی بھی قسم کی تحریک کے لیے جو بھی کال تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے دی جائے تمام تحریک انصاف اس پر عمل کرے“
اڈیالہ جیل میں نا حق قید سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی ایک ماہ قید تنہائی کے بعد اپنی بہن سے ہونے والی ملاقات میں گفتگو (2 دسمبر، 2025)
Part 1 of 2
سردی کے موسم میں تاریکی کا سہارا لے کر پرامن مظاہرین پر اپنے جمہوری حق کو استعمال کرنے کی پاداش میں ٹھنڈے پانی سے دھاوا بولنے کا جس نے بھی حکم دیا ہے اس کی ذہنی حالت یقینا نازک ہے کیونکہ کوئی نارمل انسان اس لیول پر نہیں گر سکتا
#چلو_چلو_اڈیالہ_چلو
ذہنی مریض کی بوکھلاہٹ اور بزدلی آج پھر کھل کر سامنے آگئی.
کٹ پتلی حکومت نے عمران خان کی بہنوں، طیبہ راجہ اور پی ٹی آئی کی بہادر خواتین پر کیمیکل والا واٹر کین چلا کر اپنی کمزوری ثابت کر دی ہے.
نہتی خواتین ڈٹ کر کھڑی ہیں
اور خوف صرف اُنہیں ہے جن کے پاس طاقت ہے مگر ہمت نہیں.
عمران خان کے بہنوں پر تشدد۔۔۔دسمبر کے مہینے میں رات کے 2 بجے اڈیالہ جیل کے سامنے اپنے بھائی کی ملاقات کیلئے آئے نہتے بزرگ خواتین پر بدترین تشدد سے ثابت ہوگیا کہ یہ حکومت اور اس کے سرپرست ذہنی مریض ہیں،عمران خان کی بہنوں کا اپنے بھائی سے ملاقات کا مطالبہ ایک آئینی، قانونی انسانی حقوق پر مبنی مطالبہ ہے،عمران خان کی بہنوں ہر واٹر کینن سے حملہ کرنا،سڑک یر گرانا،پتھر پھینکنا اور تشدد کرنا بدترین فسطائیت اور حکومتی دہشتگردی ہے،بندوقوں والے نہتے خواتین سے ڈر رہے ہیں، ظلم اور جبر کیخلاف جدوجہد میں عمران خان اور ان کے خاندان کا ساتھ دیتا رہوں گا۔
میرے والد کو گرفتار ہوئے 845 دن ہو چکے ہیں۔ پچھلے چھ ہفتوں سے انہیں مکمل بے خبری کے ماحول میں ڈیتھ سیل میں تنہا رکھا گیا ہے۔ ان کی بہنوں کو ہر ملاقات سے روک دیا گیا ہے حالانکہ عدالت کے واضح احکامات موجود ہیں۔ کوئی فون کال نہیں، کوئی ملاقات نہیں اور زندگی کی کوئی خبر نہیں۔ میں اور میرا بھائی اپنے والد سے کسی قسم کا رابطہ نہیں کر سکے۔
یہ مکمل اندھیرا کسی حفاظتی پروٹوکول کا حصہ نہیں۔ یہ ایک جان بوجھ کر کی گئی کوشش ہے تاکہ ان کی حالت کو چھپایا جائے اور ہمارے خاندان کو یہ نہ معلوم ہو سکے کہ وہ محفوظ ہیں یا نہیں۔
واضح رہے کہ پاکستانی حکومت اور اس کے آقاؤں کو میرے والد کی حفاظت اور اس غیر انسانی تنہائی کے ہر نتیجے کی قانونی، اخلاقی اور بین الاقوامی سطح پر مکمل ذمہ داری اٹھانا ہوگی۔
میں عالمی برادری، بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور ہر جمہوری آواز سے اپیل کرتا ہوں کہ فوری مداخلت کریں۔ زندگی کی تصدیق کا مطالبہ کریں، عدالت کے احکامات کے مطابق رسائی یقینی بنائیں، اس غیر انسانی تنہائی کو ختم کریں اور پاکستان کے سب سے مقبول سیاسی رہنما کی رہائی کا مطالبہ کریں جنہیں صرف سیاسی وجوہات کی بنا پر قید رکھا گیا ہے۔
ضیاءالحق نے BBC پر بیٹھ کر کہا تھا کہ عدلیہ آزاد ہے، بھٹو کا فیصلہ عدلیہ کرے گی اور پھر عدلیہ نے بھٹو کو سولی پر چھڑا دیا۔
بعد میں ججز نے کہا ہم پر دباو تھا اس لئے یہی فیصلہ دیا تھا
جسٹس اطہر من اللہ🚨🚨
“ملک میں اس وقت آئین و قانون کی نہیں، عاصم لاء کی حکمرانی ہے۔ عاصم منیر تاریخ کا ظالم ترین ڈکٹیٹر اور ذہنی مریض ہے۔ اس کے دور میں جتنا ظلم ہوا اس کی مثال نہیں ملتی- اس کے دور میں عورتوں کا لحاظ کیا گیا نہ بچوں اور بزرگوں پر رحم کھایا گیا- عاصم منیر اپنی کرسی کی ہوس میں کچھ بھی کر سکتا ہے-
اس وقت ملک میں صرف ایک شخص، عاصم منیر کا حکم چل رہا ہے- جسکی وجہ سے ملک سے اخلاقیات کا جنازہ نکل گیا ہے- اس دور میں جس طرح عام عوام کا قتل عام کیا گیا، ایسا کبھی نہیں ہوا۔ 9 مئی، 26 نومبر، آزاد کشمیر اور مریدکے سانحات، طاقت کے اس اندھے استعمال کی بدترین مثال ہیں۔ جس طرح نہتے شہریوں پر گولیاں برسائی گئیں یہ کسی مہذب معاشرے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا-
خواتین پر جتنا ظلم عاصم منیر کے دور میں ہوا ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا۔ ڈاکٹر یاسمین راشد بزرگ اور کینسر سروائیوور ہیں، ان کو صرف اس لیے جیل میں ڈالا ہوا ہے کیونکہ انھوں نے تحریک انصاف چھوڑنے سے انکار کیا۔ بشریٰ بیگم کو بھی صرف اس لیے قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے تاکہ مجھ پر دباؤ ڈالا جا سکے۔ یہ کہاں کا قانون ہے کہ جنھوں نے تحریک انصاف چھوڑ دی ان کے لیے عام معافی اور جو میرے نظریات کا ساتھ دیتے رہے ان پر ہر طرح کا ظلم و جبر۔
ہم غلامی قبول کرنے پر موت کو ترجیح دیتے ہیں۔
عاصم منیر مجھ پر اور میری اہلیہ پر ہر طرح کا ظلم کر رہا ہے۔ ایسا ظلم کسی سیاسی رہنما کے اہل خانہ کے ساتھ نہیں کیا گیا۔ میں ایک بار پھر واضح کرنا چاہتا ہوں یہ چاہے کچھ بھی کر لیں نہ ہی میں جھکوں گا اور نہ ہی ان کی بیعت کروں گا۔
میرا قوم کے نام پیغام ہے کہ جو قومیں "یا موت یا آزادی" جیسا دو ٹوک اور بے باک نظریہ اپناتی ہیں انھیں حقیقی آزادی کے حصول اور ترقی سے کوئی نہیں روک سکتا۔ ایسی اصول پسند قومیں ہی سرخرو ہوتی ہیں۔
میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ تحریک انصاف نہ فارم 47 حکومت سے مذاکرات کرے گی نہ اسٹیبلشمنٹ سے۔ ایسی کٹھ پتلی حکومت سے مذاکرات کا تو ویسے ہی کوئی فائدہ نہیں جس کا وزیراعظم ہی "پوچھ کر بتاؤں گا" کے تحت چل رہا ہو۔ مذاکرات اس لئے بھی بے سود ہیں کہ جب بھی ہم نے مذاکرات کئے، ہم پر سختیاں اور ظلم مزید بڑھا دیا گیا۔ اس وقت ساری طاقت ویسے بھی ایک فرد واحد یعنی عاصم منیر کے پاس ہے جو اپنی کرسی کی خاطرکسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ مذاکرات کے حوالے سے فیصلہ ہمارے تحریک تحفظ آئین پاکستان کے اتحادی محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کریں گے۔
تحریک انصاف کے تمام عہدیداروں، پارلیمنٹیرنز، آئی ایل ایف اور سینئیر وکلاء کو ہائی کورٹس جانا چاہیے اور وہاں سے تاریخ لئے بغیر نہ اُٹھیں، کیونکہ میرے اور بشری بیگم کے مقدمات کی تاریخیں ہی نہیں دی جا رہیں اور جان بوجھ کر مقدمات کو طوالت دی جا رہی ہے تاکہ ہم جیل سے باہر نہ آ سکیں۔ سب جانتے ہیں کہ ان مقدمات میں کچھ نہیں رکھا اور آخر کار انہوں نے زمین بوس ہی ہونا ہے لہٰذا ان کو سماعت کے لیے مقرر ہی نہیں کیا جا رہا۔
سلمان اکرم راجہ پر مکمل اعتماد ہے۔ پارٹی سے متعلق تمام ہدایات اور ملاقات کی لسٹ سلمان اکرم راجہ کے ذریعے ہی بھیجی جائیں گی، سلمان اکرم راجہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام ہدایات پر عملدرآمد کروائیں”
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اپنی ہمشیرہ سے ملاقات میں پیغام۔۔۔ نومبر 4، 2025
کہاں ہیں ٹرمپ کے خوشامد کرنے والے پاکستانی حکمران؟؟؟
غزہ میں آگ اور خون کی بارش نہ تھمی۔
غزہ میں 13 اکتوبر کی جنگ بندی کے بعد سے اسرائیل نے فائربندی کی 80 خلاف ورزیاں کی ہیں یعنی 13 سے زیادہ حملے اور فائرنگ روزانہ۔
ان حملوں میں 97 فلسطینی جاں بحق اور 230 شدید زخمی ہوئے۔ اسرائیل مصر غزہ سرحد پر رفح پھاٹک کو بھی بند کردیاہے جو کہ انسانی امداد کا یہ سب سے تیز اور آسان راستہ ہے۔
عالمی برادری غزہ میں امریکی سرپرستی میں دوباری شروع ہونے والے اس قتل عام کیخلاف اٹھیں ۔
@Pak_PalForum
“میں سہیل آفریدی کو خیبرپختونخوا کا وزیراعلیٰ بننے پر دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ سہیل آفریدی میرے آئی ایس ایف کے دیرینہ اور وفادار ساتھیوں میں سے ہیں۔ مجھے پوری امید ہے کہ وہ توقعات اور تحریک انصاف کے نظرئیے کے عین مطابق، بحیثیت چیف منسٹر خیبرپختونخوا میں انقلابی کام کریں گے۔ مجھے خوشی ہے کہ اس موقع پر علی امین گنڈا پور نے نہایت باوقار طریقے سے حکومت کی منتقلی یقینی بنائی
میں گزشتہ دو سال میں ہونے والے قتلِ عام کے چار بڑے واقعات جن میں 9 مئی، 26 نومبر، آزاد کشمیر اور مریدکے قتلِ عام شامل ہیں، پر جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ دہراتا ہوں۔ ان تمام واقعات میں بڑی تعداد میں نہتے شہریوں کو شہید کیا گیا۔
9 مئی فالس فلیگ کے حوالے سے میرا شروع سے یہی موقف ہے کہ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج پیش کی جائے اور آزادانہ و شفاف تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے۔ جس پر افسوس ہے کہ کوئی عملدرآمد نہیں ہوا بلکہ الٹا متاثرہ فریق کیخلاف ہی جھوٹے مقدمات بنا کر بغیر شفاف تحقیقات اور ثبوت کے ملٹری کورٹس اور کینگرو کورٹس سے 10، 10 سال قید کی سزائیں سنائی گئیں۔ حالانکہ اس دن نہتے شہریوں اور سپورٹرز کو گولیوں کا نشانہ بنایا گیا-
قتلِ عام کی یہی واردات 26 نومبر کو دہرائی گئی جب نہتے پرامن مظاہرین پر سیدھی گولیاں برسائی گئیں۔ اگر 9 مئی کے حقائق سامنے آجاتے تو 26 نومبر اور اس جیسے واقعات نا ہوتے۔ پھر آزاد کشمیر اور اب مریدکے میں مظاہرین کو ریاستی بربریت کا نشانہ بنایا گیا۔ ان واقعات کی آزادانہ تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن کا قیام ناگزیر ہے تاکہ مظلوموں کو انصاف مل سکے اور قتلِ عام کے ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دی جائے۔
اگر اب کی بار نہتے شہریوں کے قتلِ عام پر جوڈیشل کمیشن بنا کر شفاف تحقیقات نہ کی گئیں تو خدانخواستہ اگلا واقعہ اس سے بھی بڑا ہوگا کیونکہ ظلم و بربریت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
نماز جمعہ کے بعد خیبرپختونخوا میں ہمارے تمام کارکنان اور عوام مریدکے قتلِ عام کیخلاف نکلیں اور چاروں واقعات کے جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ کریں۔
آج ملک میں سب کچھ عاصم لاء کے تحت ہو رہا ہے- ساری عدالتیں فوجی عدالتوں میں بدل چکی ہیں، جیسے فوجی عدالتوں کو چلایا جاتا ہے ویسے ہی عام عدالتوں کو بھی چلایا جا رہا ہے۔
26ویں غیر آئینی ترمیم کے بعد عدالتوں سے انصاف کی توقع تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ ملک میں بڑھتی لاقانونیت اور ناانصافی اسی ترمیم کا نتیجہ ہے- جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس امین الدین، جج عامر فاروق، اور جج ڈوگر سب کے پاس ہمارے کیسز اور پٹیشن گئیں مگر کہیں سے انصاف نہیں ملا۔
عاصم منیر، قاضی فائز عیسٰی اور سکندر سلطان راجہ نے ہمارا مینڈیٹ چوری کر کے فارم 47 کی نااہل اور ناجائز حکومت پاکستان پر مسلط کی جن کے پاس پاکستان کو درپیش مسائل سے نکالنے کا نہ ہی کوئی وژن ہے، نہ اہلیت ہے اور نہ ہی کوئی اختیار۔ ان کی دہشتگردی کے مسئلے، امن کے قیام اور دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بھی اپنی کوئی سوچ اور پالیسی نہیں ہے-
تاریخ سے ثابت ہے کہ ملٹری ڈکٹیٹرز کا صرف بندوق کے زور پر ہر چیز کا حل نکالنے کا فارمولہ کبھی دیرپا اور کامیاب ثابت نہیں ہوا۔ افغانستان کے ساتھ مسئلے کا حل فوجی نہیں سیاسی ہے۔ لہذا یہ سیاستدانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاملہ فہمی سے ملک میں دیرپا امن کا قیام یقینی بنائیں۔ فارم 47 کی جعلی حکومت کا نہ ہی استحقاق ہے اور نہ اہلیت کہ وہ قیامِ امن میں مؤثر کردار ادا کرسکے۔ ہمارے دور میں دہشتگردی کم ترین سطح پر آ گئی تھی۔ مجھے پیرول پر رہا کیا جائے تو میں افغانستان سے تنازعات کے حل اور قیامِ امن کیلئے اپنا کردار ادا کرسکتا ہوں”
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے خصوصی پیغام (16 اکتوبر 2025)
“2021 میں اس وقت کی فوجی قیادت نے ہتھیار پھینکنے والے دہشتگردوں کو واپس بسانے کا منصوبہ پیش کیا تھا، مگر اس منصوبے کو خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں کے ہمارے منتخب نمائندوں نے مسترد کر دیا تھا- اس منصوبے پر ہمارے دور میں عمل نہیں ہوا۔
لیکن اب حقائق کے برعکس تحریک انصاف کی حکومت پر یہ سراسر جھوٹا الزام لگایا جا رہا ہے کہ ملک میں دہشتگردی اس دور میں بسائے گئے دہشتگردوں کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ قوم کو بتایا جائے کہ کون سے دہشتگرد کب، کہاں اور کیسے بسائے گئے؟”
ناحق قید سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کا جیل سے پیغام
(9 اکتوبر، 2025)
27 ستمبر کو پشاور جلسہ جمہوریت کی بحالی اور قانون کی بالادستی کے ساتھ ساتھ خیبرپختونخوا کے امن اور انسانی حقوق کی تکریم بحال کروانے کے لیے ہو گا۔
میں قید و بند کی صعوبتیں اس لیے جھیل رہا ہوں تاکہ میری قوم کو حقیقی آزادی مل سکے۔ ملک بھر سے شہری ہفتے کے دن پشاور جلسے میں شرکت کریں اور ظلم کے خلاف اعلان بغاوت کریں۔
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام
(25 ستمبر، 2025)
I have been offered deals time and again, told either to leave the country or remain silent, and in return my cases would be withdrawn. Yet from the very first day, my position has been that I will only emerge from these cases through the courts, never as the result of any deal. This is why 300 fabricated cases have been filed against me. Any other person could not have withstood such persecution, but I know that I am innocent and that I stand on the side of truth.
Even the false Toshakhana case has now completely collapsed. Witnesses presented by the prosecution, Brigadier Ahmad and Colonel Rehan, themselves admitted that the Toshakhana gifts were not taken to my residence but deposited in the Toshakhana, and all documentation is complete.
Therefore, acquittal in this case should be granted in a single day, and in particular, bail for Bushra Begum should be approved, as she is a woman and is facing nothing but baseless allegations of aiding and abetment.
I am fully aware that the so-called courts under the 26th Amendment deliver dictated verdicts, not according to the law but according to Asim Law. The sequence has already been planned: first, conviction will be announced in the second Toshakhana case, and only then will bail in the Al-Qadir Trust case be approved. This is the script, and the judiciary is currently functioning not on the basis of law, but according to this script.
Former Prime Minister Imran Khan, speaking with family and lawyers at Adiala Jail – 24 September 2025
2/2
“میں نے انتخابات سے قبل جب ہر جانب خوف کا ماحول تھا، پیشین گوئی کی تھی کہ تحریک انصاف کلین سویپ کرے گی اور ایسا ہی ہوا۔ آج میں پھر ایک پیشین گوئی کر رہا ہوں کہ ملک میں جو ناانصافی، ظلم و فسطائیت ، لاقانونیت اور معاشی تباہی کا ماحول ہے پاکستان میں بہت تیزی سے حالات اسی جانب گامزن ہیں جو نیپال، بنگلہ دیش اور سری لنکا میں ہوئے ہیں۔
میں اپنے تمام پارلیمنٹیرینز اور پارٹی ممبران کو ہدایت دیتا ہوں کہ اب حقیقی اپوزیشن کرنے کا وقت ہے۔ اور جو ایسا نہیں کرے گا وہ اپنی سیاسی قبر کھودے گا کیونکہ عوام کی یہی آواز ہے۔ ہم نے مینڈیٹ چوری سمیت ہر ظلم پر قانونی راستے اختیار کر کے دیکھے مگر ہمیں انصاف نہیں ملا اس لیے اب ڈٹ کر اپوزیشن کرنے کا وقت آ پہنچا ہے۔ ان کے ساتھ آپ جتنا تعاون کریں گے یہ اتنا ہی آپ کو کچلیں گے۔ جو بھی ڈٹ کر اس نظام کے خلاف کھڑا نہیں ہو گا وہ خود اپنی سیاسی قبر کھودے گا۔
پوری قوم کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ اپنی توجہ پشاور کے جلسے پر مرکوز رکھیں جو 27 ستمبر کو منعقد کیا جائے گا۔ پورے ملک سے عوام اس جلسے میں شرکت کر کے ظلم کے خلاف اپنی آواز اٹھائے”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ سے گفتگو (17 ستمبر، 2025)
2/2
“The leaked Commonwealth report about the elections of February 8th (2024) has once again revealed the brazen electoral fraud used to shamelessly steal our mandate. According to the Commonwealth, this report had already been officially submitted to the Government of Pakistan, yet individuals like Sikandar Sultan Raja, who are utterly devoid of conscience, played a central role not only in facilitating electoral theft but also in concealing it. The law in Pakistan prescribes severe punishment for election fraud: Article 6 of the Constitution applies. However, every law in our country is currently rendered meaningless, except the ‘Asim Law’.
Individuals like Liaquat Chattha are commendable who prioritized the voice of their conscience over jobs and titles. After this theft, a massacre was perpetrated, and the 26th Constitutional Amendment was imposed. The judges who spoke up against the amendment also deserve to be appreciated.
The time for accepting a government that originated from a rigged election as legitimate is over. That is why resignations from the Senate and parliamentary committees have been tendered.
My message to my party's parliamentarians is to neither fear the ‘Asim Law’ imposed upon the country, nor the prospect of imprisonment. A single individual seeks to crush you merely to satisfy his own lust for power. The more you fear them, the more they will suppress you. You are standing on the side of truth, and truth gives man courage. Victory belongs only to the truth.”
Former Prime Minister Imran Khan’s Conversation with Family Members in Adiala Jail (September 15, 2025)
1/3
“My so-called trial in Adiala Jail is not being conducted by a judge but by an ISI Colonel, who takes instructions directly from the Army Chief, Asim Munir. This is a military trial, not a civilian one.
Everything in Pakistan today is being done under Asim Law, with the Constitution and legal framework in shreds. Over three hundred fabricated cases have been registered against me, all of which I am facing. I will emerge with justice from the courts without making any deal. Every form of oppression has been inflicted upon our party. My wife and I would be freed today if cases were decided on merit. All our human rights have been violated. We are deprived even of the basic facilities granted to ordinary prisoners. My books are withheld, and in eight months I was allowed to speak to my children only once. The judges in my cases hold no authority; they cannot conduct the trials independently. Their decisions are dictated by a Colonel, who merely executes the orders of Asim Munir.
I instruct my entire party to remain united. This oppressive system cannot endure for long. It is essential that all of you retweet posts from my account, in a clear message of unity and alignment.
A grand public rally must be announced in Khyber Pakhtunkhwa, where participants from across the country can stand together against the darkness that engulfs us.”
Former Prime Minister Imran Khan’s Conversation with Family Members in Adiala Jail (September 15, 2025)
3/3
“اڈیالہ میں میرا نام نہاد ٹرائل کوئی جج نہیں ایک ISI کا کرنل چلوا رہا ہے، جو آرمی چیف عاصم منیر سے ہدایات لیتا ہے۔ یہ سول نہیں ملٹری ٹرائل ہے۔
پاکستان میں اس وقت جو بھی ہو رہا ہے عاصم لاء کے تحت ہو رہا ہے اور مسلسل آئین و قانون کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔ مجھ پر تین سو سے زائد بے بنیاد مقدمات درج کیے گئے جن کا میں سامنا کر رہا ہوں اور کوئی ڈیل کیے بغیر عدالتوں سے انصاف لے کر ہی باہر آؤں گا۔ ہماری جماعت پر ہر طرح کا ظلم ڈھایا گیا۔ اگر میرٹ پر فیصلہ کیا جائے تو میں اور میری اہلیہ آج ہی رہا ہو جائیں۔ میرے اور میری اہلیہ بشرٰی بیگم کے تمام انسانی حقوق پامال ہیں۔ ہمیں عام قیدی والی سہولیات سے بھی محروم رکھا گیا ہے، میری کتابیں تک روک لی جاتی ہیں آٹھ ماہ میں صرف ایک بار میری بچوں سے بات کروائی گئی۔ ججوں کی میرے مقدمات میں کوئی حیثیت نہیں نہ میرے مقدمات کا ٹرائل جج آزادانہ طور پر کر سکتے ہیں بلکہ ایک کرنل جو کہتا ہے وہی فیصلہ کرتے ہیں۔ وہ کرنل عاصم منیر کے احکامات پر چلتا ہے۔
میں اپنی تمام پارٹی کو کہتا ہوں کہ آپ سب متحد رہیں ظلم کا نظام زیادہ دیر قائم نہیں رہے گا۔ آپ سب کے لیے لازم ہے کہ میری ٹویٹ کو ری ٹویٹ کریں تاکہ میرے پیغام پر اتحاد قائم رہے۔
خیبرپختونخوا میں ایک گرینڈ جلسے کا اعلان کیا جائے جس میں پورے ملک سے لوگ شریک ہوں اور اس سیاہ رات کے خلاف کھڑے ہوں-“
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ سے گفتگو (۱۵ ستمبر، ۲۰۲۵)
3/3
“مراد سعید میرے وفادار ترین ساتھیوں میں سے ہے اورحقیقی آزادی کی تحریک کا اہم ترین حصہ تھا، ہے اور رہے گا۔ اس کے بارے میں قیاس آرائیاں بند ہونی چاہییں۔ وہ میری ہدایات پر ہی انڈرگراؤنڈ ہے۔ مجھے باوثوق ذرائع سے اطلاعات ملی تھیں کہ اس کی جان کو شدید خطرات ہیں- مجھے یہ بھی اطلاعات ہیں کہ اس کو اغوا کر کے تشدد کا نشانہ بنا کر میرے خلاف بطور گواہ استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ اس نے انڈرگراؤنڈ ہونے سے پہلے بھی اور بعد میں بھی ہر موقع پر میری ہدایات کے مطابق حقیقی آزادی کی تحریک میں فعال کردار ادا کیا ہے”
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے وکلأ کے ذریعے پیغام۔۔۔ (9 ستمبر، 2025)
3/3
“I am a believer in ‘La Ilaha Illallah’ (There is no god but Allah). This declaration liberates a believer from every form of fear and slavery. My life is in the hands of Allah, not in the hands of Asim Munir. Our faith alone is the guarantor of our ‘Haqeeqi Azadi (True Freedom)’, for it grants the strength to break free from the chains of fear.
I continue to be held in solitary confinement in an effort to break me. My personal doctors have not been permitted to examine me for one year. Access to newspapers and television is blocked for weeks at a time. Even family members and lawyers are barred from meeting me. I have not been allowed to meet my political colleagues for a year and a half. My message to Asim Munir is this: no matter how much pressure you put on me, or which of my family members you throw into prison, I will neither bow down nor accept this oppression. I will continue my struggle for true freedom, come what may.
In an attempt to appease the lobby that opposes the current government in Afghanistan, Asim Munir, in his short-sightedness, is destroying the peace that was established in the region during our tenure. Where there should have been a strong relationship, things are being made worse. It grieves me deeply that after decades of hospitality, our Afghan brothers are now being forcibly pushed out of the country. At a time when Afghanistan has been struck by an earthquake, we ought to be helping them, not expelling them.
I direct Ali Amin Gandapur to go to Afghanistan, sit with them, and hold discussions regarding mutual issues and peace and security so that the situation can be prevented from deteriorating further. The sham federal government must answer: if Maryam Nawaz can travel to Japan and Thailand, why should the Chief Minister of Khyber Pakhtunkhwa not be able to travel to Afghanistan for peace in his province?
The ongoing military operations, drone strikes, and forced displacements of our own people in Khyber Pakhtunkhwa are, in reality, an attempt to undermine Pakistan Tehreek-e-Insaf’s government that was formed with a public mandate. Ali Amin Gandapur must firmly resist this operation. The people of the province are already devastated by floods. If drone strikes and military operations are not stopped, it will be a grave injustice. Already, many of our police personnel have embraced martyrdom. As long as this operation continues, the hardships of the people will increase, and terrorism will intensify further.
At this moment, the entire country is submerged in floods. People have suffered immense losses because of these floods in Punjab and Khyber Pakhtunkhwa. The whole nation must unite to confront this situation. I would surely be conducting fundraising and telethons if I were not in prison. From here, I call upon my nation to contribute generously and wholeheartedly to relief efforts for the assistance of flood victims.
Pakistan Tehreek-e-Insaf must also fully participate in the protest against the attack on the political gathering in Balochistan.”
Former Prime Minister Imran Khan’s message from Adiala Jail - 8 September 2025