اللہ تعالیٰ نے آقا کریم (ﷺ) کے اخلاق عالیہ کو اس قدر عظمت و رفعت بخشی ہے کہ آپ (ﷺ) کا اخلاق آپ(ﷺ) کی ولادت باسعادت سے قبل بھی معجزے کی صورت میں جاری رہا اور تمام حیاتِ مبارکہ کے بعد قیامت تک معجزے کی صورت میں جاری رہے گا-اس لئے کُل کائنات کے علوم کی اعلیٰ صفات سرکار دو عالم (ﷺ)کے اخلاق کی عطا ہیں-
خطاب: میلاد مصطفےﷺو حق باھُوؒ کانفرنس،لاہور 30 جنوری 2019ء
پوری قوم کو مملکتِ خداداد پاکستان کا 79واں یومِ آزادی مبارک۔ 🇵🇰
تحریکِ پاکستان کے دوران بانیانِ پاکستان اور لاکھوں مسلمانانِ برصغیر کی بے مثال جدوجہد اور قربانیوں کے نتیجے میں یہ عظیم اسلامی مملکت معرضِ وجود میں آئی۔ آج تکمیلِ پاکستان کے خواب کو حقیقت میں ڈھالنے کے لیے ہمیں پھر اسی جذبے، ولولے، اتحاد اور عزم کی ضرورت ہے جس نے قیامِ پاکستان کو ممکن بنایا۔
اللہ تعالیٰ پاکستان کو ہمیشہ قائم و دائم، محفوظ اور خوشحال رکھے اور اس کے باسیوں کا حامی و ناصر ہو۔ آمین۔
شب گریزاں ہوگی آخر جلوۂ خورشید سے
یہ چمن معمور ہوگا نغمۂ توحید سے
🇵🇰 پاکستان زندہ باد
#OneNationOneDestiny
#IndependenceDay
#Pakistan
سرکار دو عالم (ﷺ) کے عشق کا راستہ آپ (ﷺ) کے ادب وتعظیم سے طے ہوتا ہے اور آقا کریم (ﷺ) کا ادب بندے کے وجود میں اُس وقت پیدا ہوتا ہےجب اس کو حضور نبی کریم (ﷺ) کی شان و عظمت کی معرفت نصیب ہوتی ہے- اس لئے جو مومن ہے وہ اپنی ذات کو آقا کریم (ﷺ) کے ادب میں جھکائے رکھتے ہیں جبکہ منافقین کی علامت میں سے ہے کہ وہ آقاکریم (ﷺ) کے ادب میں جھجھک محسوس کرتے ہیں-
خطاب: میلاد مصطفےﷺو حق باھُوؒ کانفرنس،لاہور 30 جنوری 2019ء
جاہلین سے کنارہ کشی اختیار کر کے اہل علم کے ساتھ تعلق استوار کرنے میں حکمت یہ ہے کہ وہ قرآن و سنت کو سمجھتے ہیں اور عملی طور پر اس پر گامزن عمل رہنے والے ہوتے ہیں- اس لئے وہ لوگوں کے درمیان فساد نہیں ہونے دیتے بلکہ امن و محبت کو قائم کرتے ہیں- جو لوگ جھگڑے اور فساد کو پھیلائیں ، ان سے کنارہ کشی کرنا چاہئے۔
مکمل مضمون: اِسلامی مُعاشرت کے دوسنہری اصول، ماہنامہ مرآۃ العارفین انٹرنیشنل، ستمبر 2020
اگر انسان اپنی زندگی اور معاشرے سے اقدار کو نکال دے، تو درحقیقت وہ سوسائٹی کی بنیاد ہی کو ختم کر دیتا ہے- کیونکہ معاشرہ محض افراد کے مجموعے کا نام نہیں، بلکہ وہ ان اصولوں اور اقدار کا نام ہے جو افراد کو ایک رشتے میں باندھتی ہیں-
خطاب:گوجرانوالہ میڈیکل کالج، 6 جون 2024ء
اگر ہم چاہتے ہیں کہ آنے والی نسلوں کیلیے ایک صحت مند اور مضبوط معاشرہ چھوڑ کر جائیں، تو ہمیں چاہیے کہ اقدار کو مضبوطی سے تھامے رہیں کیونکہ اگر ہم اقدار کو نہیں تھامتے تو ہم اپنی ہی سوسائٹی کو اپنے ہاتھوں سے تباہ کر رہے ہیں-
مکمل خطاب: گوجرانوالہ میڈیکل کالج، 6 جون 2024ء
29 مئی 1453 یومِ فتحِ قسطنطنیہ
یہ صرف ایک شہر کی فتح نہیں، صدیوں کے خواب، ایمان، تدبیر اور عزم کی تکمیل تھی۔
سلطان محمد فاتحؒ اور اُن کے جان نثار مجاہدین نے تاریخ کے افق پر وہ روشن باب رقم کیا جسے امت آج بھی عقیدت و افتخار سے یاد کرتی ہے۔
اللہ تعالیٰ سلطان محمد فاتحؒ، شہداء اور غازیانِ فتح پر اپنی بے پایاں رحمتیں نازل فرمائے۔ آمین
#فتح_قسطنطنیہ
#محمد_فاتح
#istanbul
28 مئی, وہ دن جب پاکستان نے دنیا کو بتا دیا کہ اس کا دفاع ناقابلِ تسخیر ہے۔ 🇵🇰
یومِ تکبیر قومی وقار، خودمختاری اور ایمان و عزم کی روشن علامت ہے۔
الحمدللہ، پاکستان زندہ باد!
#یوم_تکبیر#YoumETakbeer#Pakistan
برادر اسلامی ملک جمہوریہ آذربائجان کے یوم آزادی کے موقع پر آذربائجان کی قیادت اور برادر عوام کو دلی مبارکباد اور نیک تمنائیں۔
پاکستان اور آذربائیجان کے مابین برادرانہ تعلقات کی بنیادیں انتہائی گہری اور تاریخی ہیں۔ مشکل کی ہر گھڑی میں دونوں ممالک کی ایک دوسرے کی اصولی حمایت قابلِ تحسین ہے۔ گزشہ چند سال میں دونوں ممالک کے مابین تعلقات میں مزید وسعت آئی ہے اور عوامی روابط میں اضافہ، ہوا ہے جو خوش آئند ہے۔ آنے والے سالوں میں ان تعلقات کو نئی بلندیوں تک لیجایا جانا چاہئے۔
@AzerbaijanMFA@PakinAzerbaijan
🇵🇰🤝🏻🇦🇿
#Azerbaijan
ہم جس دور میں رہ رہے ہیں، سائنسی دریافتیں، کائنات کی پیچیدگیاں، وقت اور اسپیس کی حقیقتیں، ہمیں نہ صرف علم فراہم کرتی ہیں بلکہ ہمارے دل و دماغ کو خدا کے قریب بھی لے جاتی ہیں- علم انسان کو روشنی دیتا ہے، جہالت انسان کو تاریکی میں دھکیلتی ہے اور اسی لیے ایمان ایک مکمل فکری عمل ہے، ایک سوچنے اور سمجھنے کا عمل جو دل اور دماغ دونوں سے جڑا ہوتا ہے- جسے مانتے ہو اسے ماننے کے مستحکم دلائل کے ساتھ مزین رہنا سُنتِ ابراہیمی ہے -
مکمل مضمون: ایمان، معاشرہ اور خودی کی تعمیر (مرآۃ العافین انٹرنیشنل، مئی 2026)
خطبۂ حجۃ الوداع انسانیت کیلئے رسولِ اکرم ﷺ کا عطا کردہ ایک آفاقی اور ابدی منشور ہے، جس نے انسانی مساوات، عدل، احترامِ انسانیت اور پرامن بقائے باہمی کے سنہری اصول متعین کیے۔
یہ عظیم پیغام ہر قسم کی نسلی، لسانی اور طبقاتی تفریق کی نفی کرتا ہے، اور تقویٰ و کردار کو اصل معیارِ فضیلت قرار دیتا ہے۔
آج جبکہ انسانیت اور خصوصاً مسلم اُمہ بے شمار چیلنجز سے دوچار ہے، وقت کا تقاضا ہے کہ خطبۂ حجۃ الوداع کے زریں اصولوں کو اپنی اجتماعی و انفرادی زندگیوں کا حصہ بنایا جائے۔ یہی اصول امن، اتحاد، عدل اور حقیقی فلاح کی ضمانت ہیں۔
#HajjatulWida
#Islam
#Peace
قرآن کریم میں فطرت کی اہمیت کو کئی واقعات کے ذریعے اجاگر کیا گیا ہے- حضرت موسیٰ اور حضرت یونس (علیہ السلام) کے مچھلیوں کا واقعات ، ہدہد کا واقعہ جو حضرت سلیمانؑ کیلئے ملکہ بلقیس کی خبر لاتا ہے، ابابیل کا واقعہ جو حق کے محافظ کے طور پر ظاہر ہوتا ہے، اور شہد کی مکھی، جس کے بارے میں قرآن کریم فرماتا ہے کہ اس پر وحی نازل ہوتی ہے، یہ سب ظاہر کرتے ہیں کہ ہر مخلوق اپنی حیثیت میں اللہ تعالیٰ کے تخلیق کائنات کےمنصوبے کا حصہ ہے اور ہر مخلوق میں ایک مخصوص کردار اور اہمیت موجود ہے-
جانوروں کا احترام فطرت سے محبت کا لازمی جز ہے اور مخلوقات کی قدر اور حفاطت کرنا محبتِ فطرت کا قرآنی تصور ہے-
مکمل مضمون: موسمیاتی تبدیلیاں اور ہماری زمین: قرآن کریم اور سیرت النبیﷺ سے اخلاقی زاویہ نظر (مرآۃ العارفین انٹرنیشنل، فروری، 2026)
سائیفر لیک کی اہمیت کا اندازہ لگائیں!!
عاصم منیر نے اپنی پوری بٹالین لگا دی ہے, تاکہ اُن اہلکاروں کا پتہ لگا سکے, جس نے سائیفر لیک کیا ہے, دوسری طرف ڈارپ سائٹ نے دعویٰ کیا ہے, جس فوجی اہلکار نے سائیفر ڈراپ سائٹ کے زریعے لیک کیا, اُس اہلکار نے یہ بھی کہا ہے میرا ضمیر گوارہ نہیں کرتا, یہ میرے ملک کے ساتھ زیاتی ہے, یہ میرے ملک کے ساتھ غلط ہورہا ہے!!
زمین صرف انسانوں کی نہیں، پرندوں، جنگلات، دریاؤں اور بے زبان مخلوق کی بھی امانت ہے۔
اگر جنگلات کٹتے رہے، پانی ضائع ہوتا رہا اور فطرت سے یہی بے رحمی جاری رہی، تو سرسبز زمین بنجر صحرا میں بدلنے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا۔
آج “حیاتیاتی تنوع کے عالمی دن” پر عہد کریں:
ایک درخت، ایک قطرہ پانی، اور ایک ماحول دوست عادت… شاید یہی آنے والی نسلوں کی زندگی آسان بنا دے۔
#Biodiversity #WorldBiodiversityDay
اگر ہم اپنی ثقافت، اپنے معاشرے کو دوبارہ زندہ (Revive) کرنا چاہتے ہیں تو اس کا واحد راستہ یہی ہے کہ ہمیں اقدار کو مضبوطی سے تھامنا ہوگا- سب سے پہلی اور بنیادی قدر اللہ تعالیٰ کی صفت ’’الحق‘‘ (سچ) ہے- یہاں سوال پیدا ہوتا ہے: کیا ہم سچ کے ساتھ کھڑے ہو سکتے ہیں؟ کیا ہم سچ بولنے کی ہمت رکھتے ہیں، حتٰی کہ اگر اس کیلئے ہمیں قربانی دینی پڑے؟ یہ سچائی کی بنیاد پر کھڑے ہونے کی آزمائش ہے، جیسا کہ تاریخ میں رسول اللہ (ﷺ) اور حضرت امام حسین(رضی اللہ عنہ)نے ہمیں دکھایا-
مکمل مضمون: ایمان ، معاشرہ اور خودی کی تعمیر (مرآۃ العافین انٹرنیشنل، مئی 2026)
ماں صرف اولاد کی پرورش نہیں کرتی بلکہ قوموں کے کردار اور مستقبل کی بنیاد رکھتی ہے۔
عظیم مائیں ہی عظیم قوموں کو جنم دیتی ہیں۔
بتولیِ باش و پنہاں شو ازیں عصر
کہ در آغوش شبیرِی بگیری
اقبال
#MotherD
اولیائے کرام کی تعلیمات کے مطابق اگرچہ انسان اونگھ اور نیند سے پاک نہیں ہو سکتا، مگر یہ بالکل ممکن ہے کہ اس کی اونگھ اور اس کی نیند غفلت سے پاک ہو جائے- یعنی اصل مسئلہ نیند نہیں، غفلت ہے- اصل نقص اونگھ نہیں، بے خبری ہے-جس طرح کہ سُلطان العارفین حضرت سلطان باھوؒ نے فرمایا :
ہِک جَاگن ہِک جَاگ ناں جانن ہِک جَاگدیاں ہی سُتّے ھو
ہِک سُتیاں جَا واصِل ہوئے ہک جاگدیاں ہی مُٹھّے ھو
مکمل خطاب: میلاد مصطفےﷺو حق باھُوؒ کانفرنس،چکوال 9 جنوری 2024ء
ہماری پہلی کمٹمنٹ ’’لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ ہے اور اس کے بعد اس کلمہ کی بنیاد پہ قائم ہونے والی یہ عظیم اسلامی، روحانی اورنظریاتی مملکت ہے- ہم فرزندِ اسلام اور فرزندِ پاکستان ہیں- ہم لسانی، سماجی، صوبائی اور نسلی عصبیتوں کی نفی کرتے ہیں-اس لئے ہم پہ یہ فریضہ عائد ہوتا ہے کہ ہم اپنے نونہالوں کی تربیت اس اصول پہ کریں،اُن کو یہ بتائیں کہ ہماری شناخت اور اللہ کا ہم پہ انعام کیا ہے-اس لئے جہاں ہمیں اخلاقی و روحانی تربیت کی ضرورت ہے وہاں ہمیں قومی تربیت کی بھی ضرورت ہے- کیونکہ جس عقیدہ سے ہم محبت کرتے ہیں وہ ہمیں پاکستان سے محبت سکھاتا ہے-
مکمل خطاب: میلاد مصطفےﷺو حق باھُوؒ باھو کانفرنس،خوشاب 20 جنوری 2020ء
انسان کیلئے محض کتابیں پڑھ لینا، علم جمع کر لینا یا بڑی بڑی ڈگریاں حاصل کر لینا ہی کافی نہیں- اگر ایک شخص کو کلاس روم میں داخل ہونے کے آداب معلوم نہ ہوں، طلبہ سے گفتگو کا سلیقہ نہ آتا ہو، تو وہ کبھی اچھا استاد نہیں بن سکتا- حصولِ علم کے ساتھ ساتھ اس علم کے اظہار اور اطلاق کی تربیت بھی ضروری ہے-
مکمل خطاب: میلاد مصطفےﷺو حق باھُوؒ کانفرنس، ضلع چکوال، 9 جنوری 2024ء