سات بیٹیاں اسی مزدوری سے بیاہیں، اب بوڑھا ہو گیا ہوں، اپنے لئیے کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے، ایک مہینہ ہو گیا میرے گھر کا پنکھا جللا ہوا ہے، اسدفعہ گرمیاں گزارنی مشکل ہو گئی ہے، میرا پنکھا اب ٹھیک ہونے والا نہیں رہا
بزرگ بڑھئی کو چھت والا نیا انورٹر فین دلوا دیا گیا
عدالت کھچا کھچ بھری ہوئی تھی۔ انگریز افسران اپنی مخصوص وردیوں میں ملبوس خاموشی سے بیٹھے تھے۔ ہر طرف خوف، بے بسی اور خاموشی کا راج تھا۔
کمرۂ عدالت کے وسط میں ایک نحیف مگر پُرعزم بزرگ زنجیروں میں جکڑے کھڑے تھے۔ چہرے پر تھکن کے آثار ضرور تھے، مگر آنکھوں میں عزم کی وہ چمک تھی جسے دنیا کی کوئی طاقت مدھم نہ کر سکتی تھی۔
انگریز جج نے میز پر رکھا ہوا ایک کاغذ بلند کیا۔اور نرمی سے کہا
"یہ آپ کا آخری موقع ہے۔ اگر آپ صرف اتنا کہہ دیں کہ یہ فتویٰ آپ نے نہیں لکھا... تو آپ کو باعزت بری کر دیا جائے گا۔"
سارا مجمع ہمہ تن گوش ہو گیا۔
عدالت میں سناٹا چھا گیا۔
سب کی نظریں اس مردِ پر جم گئیں۔
کچھ لمحوں تک خاموشی رہی...
پھر اس شخص نے اپنی کمزور مگر گونجدار آواز میں فرمایا:
"ہاں! یہ فتویٰ میرا ہی لکھا ہوا ہے... اور آج بھی میں اپنے مؤقف پر قائم ہوں!"
یہ الفاظ بجلی بن کر پورے کمرۂ عدالت پر گرے۔
چند لمحوں کے لیے ہر شخص ساکت رہ گیا۔
جج کا چہرہ سرخ ہو گیا۔
"کیا آپ جانتے ہیں کہ اس اعتراف کا مطلب کیا ہے؟"
شخص نے پوری استقامت سے جواب دیا:
"میں خوب جانتا ہوں۔ لیکن ایک مسلمان اپنی جان بچانے کے لیے حق کا انکار نہیں کرتا۔"
جج غصے سے کانپ اٹھا۔
"عدالت ملزم کو تاجِ برطانیہ کے خلاف بغاوت کا مجرم قرار دیتی ہے! اس کی تمام جائیداد ضبط کی جاتی ہے، اور اسے عمر بھر کے لیے کالاپانی بھیجا جاتا ہے!"
فیصلہ سن کر عدالت میں موجود بہت سے لوگوں کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
مگر حیرت انگیز بات یہ تھی کہ جس شخص کو ابھی ابھی عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی، اس کے چہرے پر خوف نہیں بلکہ ایک پُرسکون مسکراہٹ تھی۔
زنجیریں کھنکیں...
سپاہی انہیں لے جانے لگے۔
اس نے آسمان کی طرف دیکھا اور آہستہ سے فرمایا:
"جسم کو قید کیا جا سکتا ہے... مگر حق کی آواز کو نہیں۔"
جزائر انڈمان کی تاریک قید میں بھی آپ کا عزم نہ ٹوٹا۔ کاغذ اور قلم چھین لیے گئے تو کوئلے سے کپڑوں کے ٹکڑوں پر تاریخ رقم کی۔ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرتے ہوئے بھی آپ نے علم اور حق کا پرچم بلند رکھا۔
20 اگست 1861 کو یہ مردِ حق اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملا، مگر اس کی جرات، استقامت اور قربانی آج بھی تاریخ کے صفحات میں زندہ ہے۔
یہ مرد حق تھا "فضلِ حق" اور یوں ایک مردِ مجاہد تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ کے لیے امر ہو گیا۔
کیا آپ نے علامہ فضلِ حق خیر آبادیؒ کا نام پہلے کبھی سنا تھا؟ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے آج ہماری آزادی کی بنیاد رکھی تھی . کیا اس گمنام مرد مجاہد کو دنیا سے شئیر نہیں کروگے . الله پاک اسے درجات بلند کرے، سب لکھو . آمین
منقول
پولینڈ میں دو تین جگہوں پہ کل ایسے ہوا ہے کہ چھٹیوں کی وجہ سے گھر کے باہر بچوں نے لیموں کے پانی کا سٹال لگایا تھا اور وہ لیموں پانی بیچ رہے تھے۔
اور دنیا میں سڑیل ہمسائیے ہر جگہ ہوتے ہیں سو یہاں بھی کسی ہمسائے نے پولیس کو کال کر دی کہ یہ بچے غیر قانونی طور پر چیزیں بیچ رہے ہیں۔ جس پر پولیس نے آکر اُن بچوں سے نا صرف وہ سارا لیموں پانی اپنے ذاتی پیسوں سے خرید لیا بلکہ اُن بچوں کو شاباش بھی دی کہ آپ کاروباری سوچ رکھ کر بہت اچھا کر رہے ہیں۔
یہ خبر کل سے پولش میڈیا پر وائرل ہے اور پولیس کے اس رویے پر ہر کوئی شاباش دے رہا ہے کہ سڑیل ہمسائیوں کی بات ماننے کی بجائے بچوں کی حوصلہ افزائی کرنا بہت اچھی کاؤش ہے۔
چیخنے چلانے کی بجائے اسی طرح منطق دلیل اور تاریخی حقائق سے آئینہ دکھانا قومی اسمبلی میں یہی ایک پارلیمنٹیرین کا اصل کام ہے
ویلڈن بیرسٹر گوہر کمال 👌
ڈان لیکس والے یہ تھے پانامہ والے یہ تھے آپ کے لیڈر جو کو ابھی صدر بنایا میمو گیٹ والے یہ تھے خود وکیلوں کا لباس کر کیس کرنے والا نواز شریف تھا
آگے بھی سنیں
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا خوفِ خدا اور عاجزی کا بے مثال واقعہ
ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ چند صحابۂ کرام کے ساتھ کسی اہم کام کے لیے جا رہے تھے۔ راستے میں ایک ضعیف خاتون نظر آئیں۔ بڑھاپے کی وجہ سے ان کی کمر جھک چکی تھی اور وہ لاٹھی کے سہارے آہستہ آہستہ چل رہی تھیں۔
انہوں نے بلند آواز سے پکارا:
"اے عمر! ذرا ٹھہرو!"
یہ آواز سنتے ہی امیرالمؤمنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ فوراً رک گئے۔ بڑھیا نے قریب آ کر کہا:
"عمر! میں تمہارے وہ دن بھی جانتی ہوں جب تم مکہ کی وادیوں میں اونٹ چرایا کرتے تھے۔ گرمی کی شدت میں سارا دن محنت کرتے، پھر بھی کبھی اپنے والد خطاب کی ناراضی اور سرزنش کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔"
پھر انہوں نے کہا:
"مجھے وہ زمانہ بھی یاد ہے جب لوگ تمہیں 'عمیر' کہہ کر پکارتے تھے۔ اور آج وہ وقت آ گیا ہے کہ لوگ تمہیں 'امیرالمؤمنین' کے لقب سے یاد کرتے ہیں۔"
یہ کہنے کے بعد انہوں نے نہایت نصیحت بھرے انداز میں فرمایا:
"اے عمر! اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو۔ اپنی رعایا کے بارے میں اللہ کے سامنے جواب دہی کو یاد رکھو۔ حکمرانی کا منصب حاصل کرنا آسان ہے، لیکن لوگوں کے حقوق ادا کرنا بہت مشکل ہے۔ قیامت کے دن ہر حق دار اپنے حق کا مطالبہ کرے گا، اس لیے کسی کے حق میں کوتاہی نہ کرنا۔"
یہ الفاظ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ آپ اس قدر متاثر ہوئے کہ داڑھی مبارک آنسوؤں سے تر ہو گئی۔
ساتھ موجود بعض صحابہ نے اس خاتون کو اشارہ کیا کہ اب کافی وقت ہو گیا ہے، لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فوراً انہیں روک دیا اور فرمایا کہ انہیں اپنی بات مکمل کرنے دو۔
جب وہ خاتون وہاں سے چلی گئیں تو ایک صحابی نے عرض کیا:
"امیرالمؤمنین! یہ خاتون کون تھیں جن کے لیے آپ اتنی دیر تک رکے رہے؟"
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا:
"کیا تم جانتے ہو یہ کون تھیں؟ یہ خولہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا ہیں۔ وہ عظیم خاتون جن کی فریاد سات آسمانوں کے اوپر سنی گئی اور جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں آیات نازل فرمائیں۔"
پھر آپ نے فرمایا:
"اگر یہ خاتون ساری رات بھی مجھے نصیحت کرتی رہتیں تو عمر یہاں سے نہ جاتا، سوائے نماز کے وقت کے۔ جس عورت کی بات اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کے اوپر سے سنی، عمر اس کی بات سننے سے کیسے انکار کر سکتا ہے؟"
سبق:
عظمت منصب سے نہیں بلکہ عاجزی سے پیدا ہوتی ہے۔ جو شخص جتنا بڑا ہوتا ہے، وہ اتنا ہی زیادہ اللہ سے ڈرتا ہے اور نصیحت قبول کرتا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ حق بات سننے میں کبھی تکبر نہیں کرنا چاہیے، چاہے کہنے والا کوئی کمزور اور بے سہارا شخص ہی کیوں نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک عزت اسی کی ہے جو جواب دہی کا احساس رکھتا ہو اور لوگوں کے حقوق کا خیال رکھتا ہو۔
(اسلام میں امانت داری کی حیثیت اور مقام، ص ۱۸)
Connected Pakistan revolutionary Housing Scheme Launched! 🏠🇵🇰
No more jaidaad batwara jhagra in family n drama, taxes, or paperwork
entire country will be connected through universal state ownership of all houses
You will finally feel like you’re living in DHA because everything will be named DHA
🚨شریف کی کھرب پتی ہونے کا ایک اور پول کھل گیا
شریفوں کے والد لوہار کے بعد برف کا کاروبار برف کے خریدار بزرگ شہری نے قصہ ہی تمام کر دیا پٹواریوں کا
اور پٹواری انکی تصویر 5 ہزار روپے نوٹ پر لگوانا چاہتے ہیں درے ف ٹے ۔۔
قوم فرح گوگی کو بھول جائے، کیوں کہ اس نے شاید ایک فیصد بھی کرپشن نہ کی ہو جو ن لیگ کے وزرا نے انت مچائی ہوئی ہے، ن لیگ کی حمایت کرنے والے میاں داؤد نے اصل حقائق سے پردہ اٹھا دیا
جس معاشرے میں انصآف نہیں ملتا, وہ معاشرے تباہ ہوجاتے ہے!!
مقتول بابر شاہ کا والد غریب بائیکیا رائیڈر انصاف کیلئے میدانِ محشر کا منتظر۔
عدالت سے قاتل کی رہائی کے بعد قاتل نے مجھے دیت دینے کی پیشکش کی۔ مجھے دیت نہیں قصاص (جان کے بدلے جان) چاہئے۔
نو جون 2022ء چٹو دی گلی میں میرے بیٹے سید بابر شاہ کو ظالمانہ طریقے سے قتل کرکے زندہ جلا دیا گیا۔
چار سال تک عدالتوں کے چکر لگاتا رہا۔ شام کو تاریخ پر تاریخ دے دی جاتی۔
میرے ساتھ انصاف کرنے کی بجائے آخر کار میرے بیٹے کے قاتل کو باعزت بری کر دیا گیا
افغانستان میں لڑکیوں کو آن لائن تعلیم دینے پر خاتون استاد پر سرِعام تشدد جہالت کی انتہا ہے۔ نام نہاد دین کے ٹھیکیداروں کا یہ عمل انسانیت کی توہین ہے۔ بیٹیوں کی تعلیم بنیادی حق ہے، اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں!
#GirlsEducation#StopViolence#HumanRights
ایک بےبس باپ کی درد بھری دہائ ۔۔ 💔
جس کے بیٹا بائیکیا تھا ۔ اس کو 2022 میں قتل کرکے زندہ جلا دیا گیا۔ لیکن عدالت نے مجرمان کو سزا دینے کی بجائے باعزت بری کر دیا ۔
لعنت ہے اس نظامِ انصاف پر ۔۔ ہزار لعنت !!
ہزارے کی اس اماں کو آج سے پچاس سال قبل کراچی لیاری سے اغ*واء کیا گیا تھا
انکو گھر میں پیار سے ڈوڈو کہہ کر پکارتے تھے،والد کا نام کالو خان مشہور تھا۔
اماں بتاتی ہے کہ انکی عمر دس سال تھی کراچی کے علاقے لیاری میں ایک گندے نالے پر انکا گھر تھا۔ چاکیواڑہ کا نام انکو یاد ہے۔
انکے گھر میں حمیدہ نامی ایک خاتون آئی اپنے ساتھ چاول لائی تھی۔ گھر میں کوئی نہیں تھا۔ میری بھابھی برتن دھونے میں مصروف تھی۔ خاتون چاول لائی میں نے کھائے، پھر مجھے اس نے کہا چلو بیٹا کھڈا مارکیٹ تمہارے ابو کی دوکان پر چلتے ہیں! میں ساتھ ساتھ گئی تو دو گلیوں بعد مجھے ایک گاڑی میں بٹھایا اور میں چاول کھانے کے بعد سے نیم بےہوش تھی۔
مجھے کراچی سے گھنٹوں دور لیکر گئے۔میں دن رات روتی تھی کہ گھر جاونگی وہ مجھے مارتے ڈراتے اور راتوں کو سلانے کے لئے دو دو نیند کی گولیاں کھلاتے۔ دس سال تک مجھے انہوں نے اپنے پاس رکھا مجھ سے دریا/سمندر کنارے مزدوری کروائے۔ میں کراچی میں تھی لیکن ہمارا اصل علاقہ ہزارہ ہے۔
میں مچھلی اور جھینگے کی بدبو میں بالکل برداشت نہیں کرسکتی تھی لیکن مجھ سے زبردستی انکی صفائی کام کرواتے تھے۔
دس سال بعد مجھے کسی اور جگہ بیچ دیا گیا۔پھر میری شادی ہوئی اور آج تک اپنوں کو یاد کرکے روتی رہتی ہوں۔
ڈوڈو نے اپنے والد کا نام نام کالو خان سے مشہور بتایا،والدہ گلاب جان،تین بھائی امین،شفیع اور جاوید تھے۔
ایک بہن تھی جسکو پیار سے جانے بولتے تھے۔
والد کالو خان کھڈا مارکیٹ میں مٹھائی کی ایک دوکان میں کام کرتے تھے۔مٹھائیوں کا کام جانتے تھے۔ مٹھائی کی دوکان ذاتی تھی یا کسی اور کی یاد نہیں۔
شاید انکا گھر چاکیواڑہ میں تھا۔
اماں کہتی ہے کہ ہم جب کراچی آرہے تھے تو مجھے یاد ہے ہزارے میں ہمارا گاؤں تھا۔(ہری پور کا نام بھی اماں نے لیا)۔ہم اپنے گھر سے پیدل چل کر بیڑ/ نامی ایک علاقے میں آتے تھے۔یہاں ہوٹل میں کھانا کھاکر بس میں کراچی کے لئے بیٹھ جاتے۔ بیڑ علاقے میں اماں کو لکڑی کا ایک پل یاد ہے۔ وہ پل ہم نے گوگل سے نکال کر دکھایا تو اماں کی آواز بند ہوگئی اور چہرے پر موبائل کی روشنی سے آنسوؤں کی لڑی چمکتی نظر آئی۔
کراچی چاکیواڑہ یا اطراف میں نالے پر اگر رہائش تھی تو وہ تمام گھر شاید سرکار نے خالی کروادئیے ہیں۔بیڑ میں انکا خاندان ملنا ممکن ہے۔
ماموں کا نام علی الزمان تھا اور ان کے بیٹوں کے نام فرمان،زعفران ہیں۔
چچا کا نام خانو تھا۔ خانو کے بیٹے کا نام عظیم اور مسکین ہے۔
بھانجے کا نام نواز، مشتاق اور ریاض۔۔
لیاری میں نالے کے پاس انکی پھوپھی بھی رہتی تھی۔جنکا نام زرینہ تھا۔ زرینہ کے دو بیٹے تھے ممتاز اور سلیم۔ ممتاز چونے کے کھلونے بناکر کھڈا مارکیٹ میں بیچتا تھا۔
اماں کو جب بیڑ میں لکڑی کا پل موبائل میں دکھایا تو بیٹے سے کہنے لگی یہ تصویر اپنے موبائل میں رکھو میں صبح شام دیکھتی رہونگی میرے دل تو سکون ملتا رہےگا۔
آپ تمام دوستوں سے اپیل ہے کہ خدارا ماں جی کو اپنوں سے ملانے میں ہمارا ساتھ دیں۔انکے گاؤں یا کراچی سے ضرور انکا خاندان مل سکتا ہے۔آپ کا ایک شئیر آپکو بےشمار دعاؤں کا حقدار بناسکتا ہے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں۔
+923162529829
21 june 2026
#waliullahmaroof