پاکستانی سرکاری ہائی اسکول کا جائزہ اور مصنوعی ذہانت کا دور!
ایسا دکھائی دیتا ہے کہ پاکستان میں آؤٹ آف سکول چلڈرن ان بچوں سے بہتر ہیں جو کہ سرکاری سکولوں میں ہیں۔ اور یہ سرکاری سکولوں کی مکمل ناکامی کی داستان ہے۔
پاکستان کے بیشتر سرکاری ہائی اسکولوں کا جائزہ لیا جائے تو پہلی نظر میں ان کی عمارتیں، وسیع کلاس رومز، کھیل کے میدان اور تدریسی عملہ کسی حد تک موجود نظر آتا ہے۔ اربوں روپے کا سالانہ خرچہ بھی موجود ہے۔ پنجاب کی حد تک تک انفراسٹرکچر موجود ہے جبکہ بلوچستان کی حد تک حالات مایوس کن ہیں۔ لیکن جب انتظام، تدریس اور طلبہ کی حقیقی نشوونما کا جائزہ لیا جائے تو ایک مختلف تصویر سامنے آتی ہے۔ واش روم غیر معیاری ہیں، صاف پانی اور صحت بخش خوراک کا مناسب انتظام نہیں، جبکہ اسکول کا مجموعی ماحول بچوں کی جسمانی اور ذہنی نشوونما کے تقاضے پورے کرتا نظر نہی آتا ۔
اصل مسئلہ عمارت یا وسائل کا نہیں بلکہ اسکول کے تصور کا ہے۔ ایک ہیڈ ٹیچر عموماً ایک اچھا استاد تو ہو سکتا ہے، مگر ضروری نہیں کہ وہ ایک مؤثر تعلیمی منتظم بھی ہو۔ تعلیمی ادارے صرف تدریس سے نہیں بلکہ مضبوط تعلیمی انتظام، وژن اور مسلسل بہتری سے چلتے ہیں، اور یہی پہلو ہمارے سرکاری اسکولوں میں سب سے زیادہ کمزور ہے۔
اس سے بھی زیادہ بنیادی مسئلہ نصاب کا ہے۔ بچوں پر بے شمار مضامین کا بوجھ ڈال دیا جاتا ہے، مگر یہ سوال کوئی نہیں پوچھتا کہ وہ جو کچھ پڑھ رہے ہیں، اس میں ان کی عملی زندگی کے لیے کیا موجود ہے؟ کیا یہ نصاب اکیسویں صدی کی ضروریات سے ہم آہنگ ہے؟ کیا یہ تنقیدی سوچ، مسئلہ حل کرنے، تخلیقی صلاحیت، ابلاغ، مالی خواندگی اور عملی ہنر پیدا کرتا ہے؟ اگر نہیں، تو پھر یہ محض معلومات کی منتقلی ہے، تعلیم نہیں۔
میٹرک تک پہنچنے والا طالب علم کم از کم اتنا اہل ضرور ہونا چاہیے کہ وہ زندگی کے بنیادی فیصلے کر سکے، کسی ہنر کے ذریعے روزگار حاصل کر سکے، اور معاشرے میں ایک باوقار شہری کے طور پر اپنا کردار ادا کر سکے۔ افسوس کہ ہمارے بیشتر سرکاری اسکول ایسے نوجوان تیار کر رہے ہیں جن کے پاس نہ عملی ہنر ہے، نہ تنقیدی سوچ، اور نہ ہی زندگی کی بنیادی مہارتیں۔ نتیجتاً وہ مزید ڈگریوں کے تعاقب میں لگ جاتے ہیں، مگر روزگار کی منڈی میں پھر بھی غیر مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔
سرکاری اسکولوں کی ہزاروں ایکڑ قیمتی اراضی بھی پوری طرح استعمال نہیں ہو رہی۔ دوپہر کے بعد یہ ادارے بند ہو جاتے ہیں، حالانکہ انہیں کمیونٹی سینٹرز، اسکل ڈویلپمنٹ مراکز، لائبریریوں، کھیلوں، ادبی سرگرمیوں اور بالغوں کی تعلیم کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف عوامی سرمایہ بہتر انداز میں استعمال ہوگا بلکہ اسکول اپنی حقیقی سماجی حیثیت بھی حاصل کریں گے۔
جب تک اسکول کے پورے یونٹ کو ازسرِنو تشکیل نہیں دیا جاتا، نصاب کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں کیا جاتا، تعلیمی انتظام کو پیشہ ورانہ بنیادوں پر استوار نہیں کیا جاتا، اور طلبہ کی شخصیت و مہارتوں کی تعمیر کو مرکزی مقصد نہیں بنایا جاتا، تب تک سرکاری اسکول صرف ملازمین کی تعیناتی کا نظام رہیں گے، قومی ترقی کا ذریعہ نہیں۔
لہذا ضرورت یہ ہے کہ سکول کو بطور ادارہ فی یونٹ کامیاب کریں تاکہ تعلیمی و سماجی اہداف حاصل کئے جا سکیں۔ اس ضمن میں Teaching Administrative Service کے ذریعے ایجوکیشن ایڈمنسٹریٹرز بطور سربراہانِ ادارہ اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
گورننس پر بہترین کام ریپبلک پالیسی کی گورننس بکس میں دستیاب ہے، جو وینگارڈ بکس، ریڈنگز، سنگِ میل، کتاب سرائے، سعید بک مارٹ اسلام آباد اور ملک کے نامور کتب خانوں پر دستیاب ہیں۔
آپ کتابیں ان کی ویب سائٹس سے خرید سکتے ہیں۔
گومل یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر ظفر اقبال نے پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑا جعلی ڈگریوں کے اسکینڈل کی تحقیقات شروع کروائی
اسکا پشاور اور اسلام آباد میں کئی سرکاری افسران اور بااثرشخصیات کو اگلے چند دن میں بے نقاب ہونے کا ڈر تھا، یہی ایک وجہ ہے کہ وزیر اعلی سہیل آفریدی نے ڈاکٹر ظفر کو جبری رخصت پر بھیجا،
ڈاکٹر ظفر نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے پوسٹ ڈاکٹریٹ کی ڈگری لی ہے، ساہیوال اور سرگودھا یونیورسٹی میں وائس چانسلر کے عہدے کے ٹاپ امیدواروں میں بھی ہیں اور اسطرح کے استاذہ کی ریاست کو قدر کرنی چاہیے
وفاقی وزیر، پنجاب کے وزیر اعلیٰ، قومی اسمبلی کے سپیکر اور پھر نگران وزیرِ اعظم بننے والے ملک معراج خالد کی زندگی جدوجہد سے عبارت رہی۔ انہیں گھر سے 13 میل دور سکول میں داخلہ تو مل گیا لیکن والدین میں اخراجات کی سکت نہیں تھی۔ اس لئے وہ صبح صبح اپنے گاوں سے دودھ ریڑھے پر لاہور میں بیچتے تھے اور پھر سکول جایا کرتے تھے۔ صحافی @WaqarMu80252210 کی تحریر
https://t.co/E4nNVFV4C6
امام حسینؓ نے اپنی شہادت سے پہلے تاریخ کو پڑھ لیا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ اگر انہوں نے بیعت کر لی تو یزید کی حکومت کو ایک ایسی مذہبی سند مل جائے گی جسے صدیوں تک استعمال کیا جائے گا کہ’’رسول اللہﷺ کے نواسے نے بیعت کی‘‘۔ یہ جملہ تاریخ میں لکھا جاتا اور پھر ہر غاصب حکمران اسے اپنی ڈھال بناتا۔ امام حسینؓ کی خاموشی پوری امت کی خاموشی بن جاتی۔
https://t.co/p0C8QkrmgC
ڈاکٹر ظفر بلوچ ایک قابل اور کسی سفارش کے بغیر عدالتی احکامات پر وائس چانسلر گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان تعینات ہوئے اور انہیں نےکچھ عرصہ میں تعلیمی ادارے کو مالی اور انتظامی طور پر بحال کیا پنشنروں کو پنشن ملنا شروع ہوگئی تنخواہیں بروقت ہوگئیں مسئلہ جب آیا جب بڑے بڑے فراڈ سامنے آنا شروع ہوئے جسمیں ابتک کی تحقیقات کے مطابق پندرہ سو جعلی ڈگریوں بھی شامل ہیں پھر کس طرح ایسے شخص کو برداشت کیا جا سکتا ہے۔
اگر ملک کسی معاشی یا سیاسی مشکل کا شکار ہو تو کیا ل سفارتی یا دوسرے معاملات روک دیئے جائیں؟
در اصل محمد حنیف اور وسعت اللہ خان کی تحریریں جذباتیت مایوسی اور دوسروں پر طنز کی "طاقت"ہی سے چلتی ہیں اور یہی ان کا "سرمایہ" ہیں
البتہ زمینی حقائق ایک الگ چیز ہے
شاہ محمود قریشی کا ذاتی وقار اور وزن، مقتدرہ کے ساتھ مذاکرات کار بننے میں مدد دے سکتا تھا مگر وُہ اس ڈر سے جیل سے باہر نہیں آرہے کہ کہیں انہیں بھی جیل کاٹنےکے باوجود غدار اور مقتدرہ کا چمچہ قرار نہ دے دیا جائے ۔ جب شاہ محمود قریشی جیسا لیڈر بھی انصافی یو ٹیوبرز سے ڈر کر دل کی بات نہ کر سکتا ہو تو نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی اور پارلیمان کے اندر بیٹھے ہوئے لوگ دباؤ کو کیوں محسوس نہ کریں۔
https://t.co/qP5lmCOCas
ٹیلی کام کے بل پر بہت واویلا ہے۔ بجا ہے مگر ہماری بھاڑے کی اکانومی میں یہ انوکھا اور پہلا قانوں نہیں ہے جس میں پرائیویٹ سیٹھ سرکار کی مدد سے لوگوں کے وسائل ہڑپ کرتے ہیں۔ گڑ کنٹرول آرڈیننس 1948 میں ہی آ گیا تھا جس کے تحت کسی پرائیویٹ شوگر ملز کی عملداری میں گڑ بنانے کی ممانعت تھی۔ جب اسی کی دہائی میں اتفاق سے اتفاق والوں کی ملیں ضیاء نے سیاستدانوں کو سرکاری قرضے سے لگوا کر دیں تو اس قانوں کے تحت دھڑا دھڑ بیلنے ضبط کیے گئے۔ اس کے بعد سے گڑ انڈسٹری آج تک نہیں اٹھ سکی۔
کسانوں کا گنا زبردستی ان ملوں تک پہنچانے کے لیے سڑکوں کی ضرورت تھی، وہ بھی سرکار نے یا انڈسٹری نے نہیں بنائیں بلکہ گنے کے کاشتکاروں پر شوگر سیس ٹیکس لگایا گیا جو ابھی تک وصول کیا جا رہا ہے
ہر ایک من گنے پر ایک روپیا۔ سب سے مزے کی بات یہ ہے کہ یہ ٹیکس سرکار کا کوئی ادارہ اکٹھا نہیں کرتا بلکہ شوگر مل اکٹھا کرتی ہے یعنی آنے والے گنے سے شوگر سیس کاٹ لیتی ہے۔ گنے کی انڈر انوائسنگ عام ہے یعنی اگر ایک لاکھ ٹن گنا کرش کیا گیا ہے تو پچاس ہزار ٹن شو کیا جائے گا جبکہ سیس ہر من پر کاٹا جائے گا۔ ظاہر نہ کیے جانے والے گنے کا سیس بھی سیٹھ کے پاس جاتا ہے۔
سوچیں پرائیویٹ پارٹیز کو نوازنے کے سرکار کہاں کہاں تک جاتی ہے۔
منقول
میاں بیوی کی ساری زندگی کی 6 سٹیجز ہوتی ہیں۔
ان میں سب سے بری سٹیج تھری ہے۔ زیادہ تر طلاق اور خلع دوسرے اور تیسرے مرحلے پر ہوتی ہیں۔ اگر میاں بیوی نے تیسرا اور چوتھا مرحلہ پار کرلیا تو اس کے بعد طلاق یا خلع کا امکان بالکل صفر کے قریب ہوتا ہے۔
1️⃣۔ ہنی مون پیریڈ (Honeymoon period)
یہ شادی کا ابتدائی دور ہوتا ہے۔ ارینج میرج میں تو یہ اور بھی سہانا ہوتا ہے۔ کیونکہ میاں بیوی شادی کے بعد ایک دوسرے سے متعارف ہوتے ہیں۔
لو میرج کی صورت میں یہ سٹیج تھوڑی مختصر ہوسکتی ہے۔
اس مرحلے میں میاں بیوی کو خواہ مخواہ ایک دوسرے پر پیار آرہا ہوتا ہے۔ ایک دوسرے کی ہر بات اچھی لگتی ہے۔
2️⃣۔ رئیلٹی چیک (Reality Check)
ہنی مون پیریڈ کے بعد اگلا مرحلہ آتا ہے ۔ رئیلٹی چیک کا۔ یعنی ایک دوسرے کی اصلیت کھلنا شروع ہوتی ہے۔ میاں بیوی کو پتہ چلتا ہے کہ اگلا اتنا بھی دودھ کا دھلا، یا اللّٰہ میاں کی گائے نہیں ہے۔ ایک دوسرے کی خامیاں نظر آنا شروع ہوجاتی ہیں۔
3️⃣۔ نفرت (Hate)
اس مرحلے میں میاں بیوی پر ایک دوسرے کی خامیاں اچھی طرح ظاہر ہوچکی ہوتی ہیں۔ اب انہیں احساس ہوتا ہے کہ شادی کرکے انہوں نے زندگی کا کتنا بڑا غلط فیصلہ کیا تھا۔ ایک دوسرے سے ہر بات میں اختلاف، لڑائی جھگڑے، ہاتھا پائی، مار کٹائی۔ مطلب سب کچھ ہوتا ہے۔ اپنی اپنی تربیت کے مطابق ۔
اس مرحلے میں اگر والدین ساتھ دیں۔ تو پھر طلاق پکی ہے۔
لیکن اگر والدین اتنے سمجھدار ہوں کہ یہ جانتے ہوں کہ میاں بیوی کی زندگی میں یہ مرحلہ آتا ہے۔ اور میاں بیوی کو طلاق نہ لینے دیں تو پھر اگلا مرحلہ آجاتا ہے ۔ اور وہ ہے۔ ۔۔۔
4️⃣۔ ایڈجسٹمنٹ (Adjustment)
اب شدید نفرت کے بعد والدین کے سمجھانے یا معاشرتی دباؤ۔ یا پھر بچوں کی خاطر دونوں میاں بیوی ایک ساتھ رہنے لگتے ہیں۔
اس مرحلے میں دونوں کے دل میں کدورت ہوتی ہے۔ اس لیے ایک دوسرے سے بات بہت کم کرتے ہیں۔ لڑائی جھگڑے رک جاتے ہیں۔ لیکن دونوں کا منہ بنا رہتا ہے۔
یہ عرصہ کتنا لمبا ہوتا ہے۔ اس کا انحصار دونوں کی تربیت پر ہوتا ہے۔
5۔ کمپرومائز (Compromise)
لمبی خاموشی کے بعد مرحلہ آتا ہے کمپرومائز کا۔ جب میاں بیوی کو ایک دوسرے کی خامیاں پتہ ہوتی ہیں۔ اور وہ ان خامیوں کے ساتھ ہی کمپرومائز کرتے ہیں۔ ایک دوسرے کا تھوڑا بہت خیال رکھنا شروع کر دیتے ہیں۔
یہ مرحلہ کافی لمبا ہوتا ہے۔ لیکن کب اگلے مرحلے میں کب پہنچ جاتا ہے۔ میاں بیوی کو پتہ بھی نہیں چلتا۔
6️⃣۔ شدید محبت (Deep Love)
اب میاں بیوی نے ایک دوسرے کے ساتھ اکثر سال گزار لیے ہیں۔ ایک دوسرے کی خوبیاں خامیاں بھی پتہ چل گئیں۔ ان کے ساتھ رہنا اور ایڈجسٹ کرنا سیکھ لیا۔ سو اب دوسرے سے پیار ہو جاتا ہے۔ پھر ہلکی سی جدائی بھی بہت اداس کردیتی ہے۔
عموماً عمر کے درمیانے اور آخری حصے میں یہ مرحلہ آتا ہے۔ اولاد تھوڑی بڑی ہوجاتی ہے۔ اپنی اپنی زندگیوں میں مگن۔ والدین کو وہ صرف گھر کے دو نوکر سمجھتے ہیں۔ جن کا کام، ان کے کام کرنا اور ان کیلیے کمانا ہے۔
اس لیے میاں بیوی ہی ایک دوسرے کا سہارا بنتے ہیں۔ اور ایک دوسرے سے شدید محبت کرنے لگتے ہیں۔
۔۔۔
آپ کی شادی ان میں سے کس مرحلے پر ہے؟
۔۔۔۔۔
لبنیٰ احسان
Michelle and I loved reading to this bright group of kids today!
We hope this new Chicago Public Library branch at the Obama Presidential Center will be a place where folks come to read, check out books, and connect with one another for years to come.
Was great to talk to Raza Rumi about my 2022 book, Downfall: Lessons for our Final Century & climate catastrophe.
I referred to Carl Sagan’s 1985 testimony before the US Congress on the greenhouse effect - which is now a sad reminder of hopelessly inadequate our political & administrative systems were and are when faced by an abstract planetary scale threat.
Have shared the link to Sagan’s testimony in the reply below.
ریپبلک پالیسی تھنک ٹینک کی کتاب " دی بیوروکریٹک کو " کیوں لکھی گئی ہے ؟
پاکستان نے فوجی مارشل لا، آئینی بحران، سیاسی عدم استحکام اور معاشی زوال جیسے بے شمار نشیب و فراز دیکھے ہیں۔ ان تمام موضوعات پر دہائیوں سے بحث، تحقیق اور تجزیہ ہوتا رہا ہے۔ تاہم ایک ایسا اقتدار پر قبضہ بھی ہوا ہے جس پر کبھی سنجیدگی سے غور نہیں کیا گیا، کیونکہ جن لوگوں نے یہ عمل انجام دیا، وہی ریاستی ریکارڈ، فائلوں اور سرکاری بیانیے پر بھی اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ طارق محمود اعوان کی کتاب *دی بیوروکریٹک کو* اسی پوشیدہ حقیقت کو سامنے لانے کی ایک اہم علمی کوشش ہے، جس میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ بیوروکریسی نے کس طرح ریاستی ڈھانچے پر اپنی گرفت مضبوط کی۔
کتاب کا بنیادی استدلال 1954ء سے شروع ہوتا ہے۔ اسی سال اعلیٰ کلونیل سول سرونٹس نے ایک انتظامی حکم کے ذریعے *سول سروس آف پاکستان کمپوزیشن اینڈ کیڈر رولز* مرتب کیے، جن کے تحت وفاقی، صوبائی اور مقامی حکومتوں کے اہم ترین عہدے اپنے لیے مخصوص کر لیے گئے۔ اس فیصلے پر نہ پارلیمان میں بحث ہوئی، نہ عدالت نے اس کا جائزہ لیا اور نہ ہی عوام کو اس کی خبر ہوئی۔ مصنف کے نزدیک یہی وہ خاموش مگر مؤثر اقدام تھا جسے وہ ’’بیوروکریٹک کو‘‘ قرار دیتے ہیں۔ یہ اقتدار پر قبضہ ٹینکوں یا اعلانات کے ذریعے نہیں بلکہ قواعد، فائلوں اور انتظامی اختیارات کے ذریعے کیا گیا، اور آج تک برقرار ہے۔ ایک جنرسلٹ مرکزیت یافتہ بیوروکریسی نے وفاقی، صوبائی اور مقامی حکومتوں کو قبضے میں کیا ہوا ہے۔
اس پس منظر کو سمجھنے کے لیے کتاب برصغیر کے نوآبادیاتی دور تک جاتی ہے۔ برطانوی حکومت نے انڈین سول سروس عوامی خدمت کے لیے نہیں بلکہ عوام پر حکمرانی کے لیے قائم کی تھی۔ قیامِ پاکستان کے بعد یہی نظام تقریباً جوں کا توں برقرار رکھا گیا۔ امتحانی ڈھانچہ، انتظامی درجہ بندی، جنرسلٹ افسران کی اجارہ داری اور ضلعی افسر کے وسیع اختیارات سب کچھ اسی طرح منتقل ہو گیا۔ صرف سرکاری عمارتوں پر لہرانے والا پرچم تبدیل ہوا، جبکہ نظام کی بنیادی روح وہی رہی جو نوآبادیاتی حکمرانوں نے تشکیل دی تھی۔
محمد علی جناح اس خطرے سے بخوبی آگاہ تھے۔ ان کی سیاسی جدوجہد وفاقیت، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور صوبائی خودمختاری کے اصولوں کے گرد گھومتی رہی۔ 1929ء کے چودہ نکات میں بھی وفاقی نظام کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ جب 1947ء میں آزادی کے قانون کو حتمی شکل دی جا رہی تھی تو جناح صاحب نے ذاتی طور پر سرکاری عہدوں کی نوآبادیاتی تقسیم سے متعلق شقوں کو حذف کروایا۔ لیکن ان کے انتقال کے چند برس بعد ہی بیوروکریسی نے خاموشی سے اسی طرز کے انتظامات دوبارہ نافذ کر دیے۔ مصنف کے مطابق یہ محض انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ بانیٔ پاکستان کے تصورِ ریاست سے انحراف تھا۔
کتاب کا ایک نہایت اہم باب اُس دستاویز پر روشنی ڈالتا ہے جسے عام پاکستانی آج تک نہیں دیکھ سکا۔ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ 1949ء میں ایک معاہدے کے ذریعے سول سروس آف پاکستان کی بنیاد رکھی گئی۔ مصنف نے معلومات تک رسائی کے قوانین کے تحت اس دستاویز کی نقل طلب کی تو پہلے کہا گیا کہ یہ سرکاری ضابطوں میں موجود ہے، بعد ازاں مؤقف اختیار کیا گیا کہ یہ خفیہ دستاویز ہے۔ مصنف کے مطابق دونوں دعوے ایک ساتھ درست نہیں ہو سکتے۔ اگر ریاستی انتظامی ڈھانچے کی قانونی بنیاد ہی عوام سے پوشیدہ ہو تو یہ شفاف حکمرانی کے اصولوں کے منافی ہے۔
کتاب یہ بھی واضح کرتی ہے کہ بیوروکریسی کا اثر ریاست کے تقریباً ہر ادارے میں کس طرح موجود ہے۔ پارلیمان اکثر ایسے قوانین منظور کرتی ہے جن کی تیاری انتظامی حلقوں میں ہوتی ہے۔ منتخب وزراء عوامی مینڈیٹ کے ساتھ اقتدار میں آتے ہیں، مگر عملی فیصلوں میں انہیں پیچیدہ انتظامی طریقہ کار کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ صوبائی حکومتیں منتخب ہوتی ہیں، لیکن ان کے اہم انتظامی عہدوں پر اکثر وفاقی افسران تعینات رہتے ہیں۔ عدالتی فیصلے بھی بعض اوقات ایسے انتظامی اقدامات سے متاثر ہوتے ہیں جو بعد میں قانونی یا انتظامی ترامیم کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔
فوجی حکومتوں کے بارے میں کتاب کا تجزیہ بھی قابلِ توجہ ہے۔ مصنف کے مطابق جب فوج اقتدار سنبھالتی ہے تو اسے حکمرانی کے عملی معاملات چلانے کے لیے بیوروکریسی پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ اس طرح بیوروکریسی خود کو ناگزیر ثابت کرتی ہے اور اپنی ادارہ جاتی طاقت کو مزید مضبوط بنا لیتی ہے۔ نتیجتاً سیاسی نگرانی اور عوامی احتساب کمزور پڑ جاتا ہے جبکہ انتظامی ڈھانچہ مزید مستحکم ہو جاتا ہے۔
صوبائی سطح پر بھی کتاب اہم سوالات اٹھاتی ہے۔ صوبائی انتظامی خدمات کے افسران اپنی پوری پیشہ ورانہ زندگی صوبائی حکومتوں کے ساتھ گزارتے ہیں، لیکن اعلیٰ انتظامی عہدوں تک ان کی رسائی محدود ہے۔
کتاب کو ریڈنگز بک سٹورز سے اور انکی ویب سائٹ سے خریدا جا سکتا ہے۔
https://t.co/f0U1vkabWp