آپ کسی کے گھر پر دھاوا بول سکتے ہیں
آپ کسی کے چینل سے نوکری چھین سکتے ہیں
آپ لاہور پولیس کے اعلیٰ افسر ہیں یا فرعون۔
ایک صحافی کا ڈی آئی جی فیصل کامران سے مکالمہ
Video via @Zaeemlegharii
قاسم خان کی انٹرویو 🚨
میرا والد بہت خراب کنڈیشن میں قید ہیں، یہاں تک پانی بھی گندا دیتے ہیں۔ گندے پانی کی وجہ سے 10 لوگوں کو ہیپاٹائٹس لگا جس کی وجہ سے وہ جانبحق بھی ہوئے
میں نے آج کافی پر چند لوگوں سے پوچھا آپ پاکستانی فوج کو کیسا دیکھتے ہو ان کا کہنا تھا 2022 تک ہم سمجھتے تھے یہ فوج پاکستان کے وسیع تر مفاد میں کام کرتی ہے لیکن اب ثابت ہو گیا ہے یہ امریکہ اور مغربی دنیا کا ایک ٹول ہے جسے مغربی دنیا اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہے
معید پیرزادہ
⚡️ Drop Site News has published for the first time the full Cable I-0678 — the classified Pakistani diplomatic telegram dated March 7, 2022, that Imran Khan has cited as evidence of a U.S.-backed conspiracy to remove him from power.
The cable, sent from Pakistan’s ambassador in Washington to the Foreign Secretary in Islamabad, documents a luncheon meeting between Ambassador Asad Majeed Khan and U.S. Assistant Secretary of State for South and Central Asia Donald Lu.
According to the cable, Lu told the ambassador that Washington’s grievances with Khan’s government could be set aside if Khan were removed through a no-confidence vote. “I think if the no confidence vote against the Prime Minister succeeds, all will be forgiven in Washington because the Russia visit is being looked at as a decision by the Prime Minister,” Lu said, per the cable.
“Otherwise, I think it will be tough going ahead.”
In his own assessment, the ambassador wrote that Lu “could not have conveyed such a strong demarche without the express approval of the White House” and had “spoken out of turn on Pakistan’s internal political process.”
The cable was marked Secret, No Circulation, and distributed to Pakistan’s Secretary to the Prime Minister, Foreign Secretary, Chief of Army Staff, Director General of the ISI, and the Director of the SSP Section.
Khan was removed via no-confidence vote on April 9, 2022, six weeks after the meeting. He has been imprisoned since 2023, and has been held in solitary confinement since last year.
🔗 Read the full Drop Site report tracing how the U.S.-Pakistan relationship moved from mutual suspicion to full political embrace at the link below.
عمران خان کی آنکھ سے متعلق میڈیا میں چلنے والی تمام رپورٹس ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر عاصم، عمران خان کی فیملی اور پی ٹی آئی نے مسترد کر دی ہیں، عمران خان سے انہیں ملنے نہیں دیا جا رہا، ایک طرف کہہ رہے تھے کہ آنکھ بلکل خراب ہو چکی ہے پچاسی فیصد کام چھوڑ دیا ہے جبکہ عسکری و حکومتی ٹاؤٹ ابصار عالم کہہ رہا تھا کہ آنکھ آنکھ بلکل ہی ضائع ہو گئی ہے اور اب حکومتی رپورٹس کہہ رہی ہیں کہ صرف ایک انجیکشن لگانے سے اتنی تیزی سے عمران خان کی آنکھ بہتر ہو گئی ہے، یہ کنفیوژن پیدا کرنے کے لیے سراسر جھوٹ ہے سچ کو چھپایا جا رہا ہے۔
#ComeToStreetsForKhan
#ImranKhanHealthEmergency
“If Boot Polishing was a successful foreign policy, then Pakistan should have been a superpower by now”
What a callout by Imran Khan to the Army Chiefs. Our country is losing our identity due to the boot polishing acts of Shahbaz Sharif and Asim Munir!
#VoiceOfGazaImranKhan
لڑکی نے سارا بیانیہ اڑا دیا 🔥
18 سال نوجوان, ڈرائیونگ لائسنس, آئی ڈی کارڈ 18 بن سکتا ہے, فوجی بن سکتا ہے, ملک کے لیے لڑ سکتا ہے, لیکن ووٹ نہیں دے سکتا!!👏
میرا نام زورین خان زمانی ہے۔ میں قیصر خان زمانی اور فضیلہ قاضی کا بیٹا ہوں۔ میرا وہی آرٹیکل اصل ہے جو ویب سائٹ سے ہٹایا گیا۔ آرٹیکل میں میرا پیغام یہی تھا کہ ہر چیز پو سوال اٹھائیں کیونکہ سوال اٹھانا آپ کا حق ہے۔
جمائمہ کا ایلان مسک کے ساتھ ٹاکرا🔥
عمران خان کی رہائی کیپمین میں یہ لڑائی ہوئی, اور پوری دنیا نے اس ڈیبیٹ میں حصہ لیا, عمران خان کی رہائی اب انٹرنیشنلی ڈیسکس کیا جارہا ہے!!
معید پیرزادہ نے مزید تفصیل سے بتادیا!!
Imran Khan, aged 72, has a history of significant health issues, including a serious spinal injury from a 2013 accident and gunshot wounds from a 2022 assassination attempt.
“Khan has reportedly been denied adequate medical attention,” Edwards said. “I urge the authorities to allow a visit by his personal physicians.” @DrAliceJEdwards
https://t.co/T9PoU8lXKh
عمران خان کی قید تنہائی اور غیر انسانی نظر بندی کی ختم کریں، اقوام متحدہ
جنیوا - تشدد سے متعلق اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ، ایلس جِل ایڈورڈز نے جمعہ کو حکومت پاکستانی حکومت پر زور دیا کہ وہ سابق وزیراعظم عمران خان کی غیر انسانی اور غیرمعمولی حراست کو ختم کرے، اور خبردار کیا کہ یہ تشدد اور دیگر غیر انسانی یا توہین آمیز سلوک کے ضمرے میں آتا ہے۔
ایڈورڈز نے کہا، ’’میں پاکستانی حکام سے مطالبہ کرتی ہوں کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ خان کی نظر بندی کی شرائط بین الاقوامی اصولوں اور معیارات کے مطابق ہوں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ 26 ستمبر 2023 کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل منتقلی کے بعد سے، عمران خان کو قید تنہائی میں رکھا گیا، اپنے سیل میں دن میں 23 گھنٹے قید رکھا گیا، اور بیرونی دنیا تک انتہائی محدود رسائی کے ساتھ۔ "اس کا سیل مبینہ طور پر کیمرے کی مسلسل نگرانی میں ہے۔"
خصوصی نمائندے نے زور دیا کہ انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون کے تحت طویل یا غیر معینہ قید تنہائی ممنوع ہے – اور جب یہ 15 دن سے زیادہ طویل ہو جائے تو یہ نفسیاتی تشدد کی ایک شکل بنتی ہے۔
انہوں نے کہا، "خان کی قید تنہائی کو بغیر کسی تاخیر کے ختم ہونا چاہیے۔ نہ صرف یہ ایک غیر قانونی اقدام ہے، بلکہ لمبی تنہائی ان کی جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے بہت نقصان دہ نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔"