پاکستان کا پہلا سٹریٹ سکول جو ایک کنٹینر میں بنایا گیا ہے جو سٹریٹ چلڈرن کو سکول کے لیے تیار کر رہا ہے اور بدلتی ہوئی تعلیمی و عصری ضروریات کو پورا کرنے اور نئی نسل کو ایک پائیدار تعلیمی بنیاد فراہم کرنے کے لئے نئی انقلابی اصلاحات متعارف کروارہا ہے.
کاش بچے نہ مریں
کاش جنگ کے اختتام تک وہ عارضی طور پر آسمانوں کی جانب چلے جائیں
پھر جب وہ بحفاظت گھر لوٹیں اور ان کے والدین ان سے پوچھیں آپ کہاں تھے؟
تو وہ کہیں
ہم بادلوں کے ساتھ کھیل رہے تھے💔
__________
ایک فلس طینی لکھاری کے الفاظ
غسان كنفانی
اِس بار جنرل الیکشن میں عوام کے حق پر ڈاکہ ڈال کر آنے والے پارلیمانی گیدڑان کو دیکھنے کے بعد میرے نزدیک محنت مزدوری کرنے والا یہ شخص ستر سالوں سے جمہوریت کے نام پر مسلط حرام خوروں سے لاکھ درجے مقدس اور قابلِ احترام ہے.
ہاتھ سے بنی یہ تصاویر کسی پروفیشنل آرٹسٹ کی بنائی ہوئی نہیں بلکہ سٹریٹ سکول گجرات میں پڑھنے والے ایسے بچوں کی بنائی ہوئی ہیں جو سارا دن گجرات کی سڑکوں پر کچرا اُٹھاتے ہیں۔
اِس نمائش کو Slum Art Exhibition کا نام دیا گیا ہے.
آئی جی پنجاب جناب ڈاکٹر عثمان انور صاحب نے EOTO فاؤنڈیشن کی ٹیم اور سٹریٹ سکول کے بچوں کو آئی جی آفس لاہور میں مدعو کیا اور سٹریٹ سکول کے بچوں کے ساتھ ساتھ EOTO فاؤنڈیشن کی ٹیم کی حوصلہ افزائی کی۔
𝐌𝐢𝐥𝐞𝐬𝐭𝐨𝐧𝐞 𝐀𝐜𝐡𝐢𝐞𝐯𝐞𝐝!
An unforgettable 2 months of great experience of our EOTO Street School students under their Summer Internship Program at LMKR where they got first hand knowledge of IT, both software and hardware.
Our selfless efforts to give these street children a valuable life where qualitv education isn't iust in privileged-class reach. These kids are getting free and quality education at our EOTO Street School.
A Documentary on Each One Teach One
زندگی میں ایک بار اِس خوشی اور اطمنان کا مزہ ضرور لیجیے گا جو کسے کا ہاتھ تھام کر اُسے اندھیرے سے روشنی تک پہنچانے سے ملتی ہے اللہ ہمیں ہمت،طاقت اور استقامت دے کہ ہم پاکستان میں بسنے والے ایسے کڑوڑوں بچوں کا سہارا بن سکیں جو تعلیم جیسی نعمت سے محروم ہیں۔
تصویر میں نظر آنے والا بچہ زین ہے جو گجرات کی سڑکوں سے کوڑا کرکٹ اکٹھا کر کے گھر والوں کا پیٹ پالتا تھا زین 2017 میں سٹریٹ سکول آیا تھا آج چھ سال کی لگن،کوشش اور مستقل محنت نے زین کو ایک بہترین آرٹسٹ میں ڈھال دیا ہے بہت جلد پاکستان کی پہلی سٹریٹ آرٹ نمائش کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔
میں نے اپنی زندگی میں بہت خوبصورت چیزیں دیکھی ہیں لیکن اس سکول سے خوبصورت کچھ نہیں دیکھا یہ گجرات کا ایک سکول ہے جہاں کچرا اٹھانے والے بچوں کو پڑھایا جاتا ہے دن بھر یہ بچے کچرا اٹھاتے ہیں اور شام میں اس سکول میں آجاتے ہیں جہاں انھیں مفت تعلیم مفت کھانا مفت سٹیشنری دی جاتی ہے جو بچے اچھا پڑھنے لگتے ہیں انھیں پاکستان کے بہترین سکول کالجز اور یونیورسٹیوں میں ایڈمیشن دلایا جاتا ہے اور فارغ التحصیل بچوں کو نوکریاں بھی EOTO والے خود دلاتے ہیں یقیناً اس سے خوبصورت اور کچھ نہیں @mannan772
یہ تصویر 7 ستمبر 2017 کو لی گئی تھی جب سٹریٹ سکول کی بنیاد رکھی گئی ہمارے پاس کُل اثاثہ ایک وائیٹ بورڈ، چھ کرسیاں اور اِس سکول کی تشہیر کے لیے لگایا گیا یہ فلیکس تھا۔
ہاں اس کے علاوہ اگر کچھ تھا تو کچھ کر گزرنے کی لگن اور چند دوست احباب جو آج بھی اس کارِخیر میں ساتھ ساتھ ہیں۔