راستے بدلتے گئے، قافلہ آگے بڑھتا گیا۔گنڈی چوک لکی مروت اور کرک سے کوہاٹ پہنچنے کے بعد پُرامن لانگ مارچ اب پشاور کی جانب رواں دواں ہے۔
#سر_بکف_میدان_میں
یہ عمران خان کی صحت سے کھیل رہے ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ انہیں شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور ذاتی ڈاکٹر و ہمشیرہ کی نگرانی میں علاج ہو۔ سپریم کورٹ نے آرڈرز جاری کیے، مگر پاکستان پر قابض لوگ اور ان کے لائے جعلی حکمران خود کو آئین و قانون سے بالاتر سمجھ کر انہیں نہیں مانتے۔ جو ججز عوام کے ٹیکس سے مراعات لیتے اور فیصلے منوانے کے ذمہ دار ہیں، وہ بے بس ہیں۔ جو اپنے فیصلے نہ منوا سکیں، انہیں عدالتیں چھوڑ دینی چاہییں، کیونکہ وہ عوام کے خون پسینے کی کمائی سے تنخواہیں لیتے ہیں۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی
اندرونی فیصلوں سے متعلق میڈیا پر کبھی بات نہیں کی، بیانیہ گھڑا جا رہا ہے،پورا شہر کنٹینروں سے بھر دیا گیا،ب��رسٹر گوہر نے لانگ مارچ موخر کرنے کی خبر کی تردید کر دی۔
پاکستان تحریک انصاف کے سیاسی کمیٹی کے اجلاس میں تمام امور پر غور کے بعد متفقہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ان شاء اللہ لانگ مارچ 4 اکتوبر، بروز اتوار، پشاور سے روانہ ہوگا۔
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی
100 سے ذیادہ پولیس والے علیمہ خان کے گھر داخل ہوئے وہاں عورتیں تھیں، بچیاں تھیں۔ انہوں نے گھر کے دروازے توڑے، انہوں نے سفاکیت کی تمام حدیں عبور کی ہیں، سلمان اکرم راجہ