Youngster performs well in a couple of games in the PSL - selectors get overexcited and want him in the national team as soon possible.
Youngster performs well in the IPL - he's made to perform in domestic cricket, first-class cricket, India A, then he's considered for national selection.
#Cricket
تلخ حقیقت 🛑
نواز شریف نے عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں ویڈیو لنک سے خطاب کرنا تھا تو عمران خان حکومت اور ریاست نے پروجیکٹر کی تاریں کاٹ دیں، اُس وقت عمران خان کو پوری ریاست نے ڈارلنگ کے طور پر اپنایا ہوا تھا
یہ جھوٹ ہے کہ عمران خان نے قوم کو اسٹیبلشمنٹ کے خلاف شعور دیا۔ اس ملک میں ایوب خان کے خلاف نعرے لگے، یحییٰ کے خلاف احتجاج ہوئے، ضیاء کے خلاف لوگ نکلی، مشرف کے خلاف وکلاء تحریک چلی۔ قوم کو سب معلوم تھا اور عمران خان کو بھی سب پتہ تھا۔ لیکن عمران خان نے اپنے اقتدار کے لیے جرنیلوں کی تعریفوں کے پُل باندھ کر گزشتہ کئی دہائیوں کے جرنیلوں کے جرائم پر نہ صرف پردہ ڈالنے کی مذموم کوشش کی بلکہ اُن جرائم میں پارٹنر بھی بنے رہے۔
جناب ہُن روندے کیوں او؟ اب تھوڑا انتظار کریں۔ جیسے اُن سب ادوار کے بعد بھی پولیٹیکل اسپیس بنی تھی، جلد یا۔ دیر اب بھی بنے گی لیکن اُس وقت اگر آپ پھر شخصیات کی آمریت والی سیاسی جماعتوں سے اُس اسپیس کو پُر کرنے کی کوشش کریں گے، دائروں کا سفر پھر شروع ہو جائے گا۔ اُس متوقع وقت کے لیے قوم کو چاہئے کہ وہ ایک جمہوری سیاسی جماعت تشکیل دے۔
جب کسی ہیروئین بیچنے والے کو پکڑیں تو وہ اکثر آگے سے کہتا ہے کہ فلاں بھی تو چرس بیچ رہا ہے۔
پی ٹی آئی والوں کا بھی یہی حال ہے۔ عمران خان پر تنقید کریں تو وہ یہ نہیں کہتے کہ تنقید غلط ہے، بلکہ جواب ہوتا ہے کہ فلاں بھی تو غلط ہے۔
عمران خان کی 26 برس کی جدوجہد کا حاصل عثمان بزدار, پرویز الہٰی ، شہزاد اکبر ، زلفی بخآری ،گنڈاپور، مراد سعید ، زرتاج گل عارف علوی،شہباز گل، فردوس عاشق اعوان ، پرویز خٹک اورمحمود خان تھے اور آخری نو برس کی محنت اور تپسیا کا نتیجہ بشریٰ پیرنی اور فرح گوگی۔۔۔ بس اتنی سی کہانی ہے۔
ضیاء الحق نے بھٹو کو پھانسی لگوایا ۔۔۔ فوجی تنصیبات پر حملہ نہ ہوا۔
مشرف کے حکم پر وزیراعظم ہاؤس میں گھس کر منتخب وزیراعظم نواز شریف کو ہتھکڑیاں لگائی گئیں ۔ فوجی تنصیبات پر حملہ نہ ہوا ۔
بینطیراور اکبر بگٹی کو شہید کر دیا گیا۔ فوجی تنصیبات پر حملہ نہ ہوا۔
+++
گدھے
یہ 29 ارب میں مکمل فعال میٹرو بنانے والے کو کرپٹ اور 129 ارب میں نامکمل بی آر ٹی دینے والے کو ایماندار سمجھتے ہیں۔
یہ سٹاک مارکیٹ کو 56 ہزار سے 28 ہزار تک گرانے والے کو مسیحا اور سترہ ماہ میں 40 ہزار سے ایک لاکھ تین ہزار پوائنٹس پر لے جانے والے کو ڈرامے باز سمجھتے ہیں
یہ اپنی باوفا اہلیہ سے آخری سانس تک ساتھ نبھانے والے کو بدکردار اور سکہ بند ناجائز اولاد، خواجہ سراوں سے تعلقات اور اپنی کارکنوں سے فون سیکس کرنے والے کو صادق اور امین سمجھتے ہیں۔
یہ سی پیک بند کر دینے والے کو محب وطن اور ڈٹ کر ایٹمی دھماکے کرنے والے کو غدار سمجھتے ہیں
یہ فوج کی مدد سے پارٹی بنانے، اقتدار میں آنے اور فوج سے ہی مذاکرات کی بھیک مانگنے والے کو جمہوریت اور عین آئینی طریقے سے مہاطمع کو گھر بھیجنے والے کو فوج کا ایجنٹ سمجھتے ہیں۔
یہ دہشتگردوں کے سہولتکار اور مددگار کو پروگریسو اور ماڈرن جبکہ کراچی سے سوات تک میں امن لانے والوں کو دقیانوسی سمجھتے ہیں
یہ موٹرویز کو میگا پراجیکٹس نہیں سمجھتے مگر لیٹرینوں پر واٹس ایپ نمبر لکھنا ان کے نزدیک موٹرویز بننے سے زیادہ بڑا منصوبہ ہے
یہ سٹوڈنٹس کو میرٹ پر لیپ ٹاپ اور سکالرشپس کو انقلابی نہیں سمجھتے مگر کٹے وچھوں کے اعلانات ایک انقلاب ہے
یہ آئی ایم ایف سمیت عالمی اداروں اور سربراہوں سے معاہدے توڑنے کو معیشت کی بہتری سمجھتے مگر مالیاتی خسارہ ختم ہونے، شرح سود واپس ہونے اور سٹاک مارکیٹ کے ریکارڈز کو بے معنی سمجھتے ہیں۔
یہ میثاق جمہوریت کو غلط مگر اپنی ہی فوج کے خلاف ہندوستان کے مقاصد کے مطابق نو مئی برپا کرنے کو جمہوریت سمجھتے ہیں
یہ بشری بی بی جیسے تعلقات کو درست اور ذاتی معاملات مگر عین شرعی نکاحوں کو غلط سمجھتے ہیں
یہ کُرم میں شہادتوں کے سچ پر نہیں روتے مگر ڈی چوک کی جھوٹی لاشوں پر ماتم کرتے ہیں
ان کے لیڈر کے بچے یہو-دیوں کے پاس یرغمال ہیں، امریکی ایوان نمائندگان کو یہ لابنگ فرموں سے خریدتے مگر یہ دوسروں کو اسرائیل اور امریکی ایجنٹ کہتے ہیں۔
یہ گدھے اپنے ماں باپ کو گدھے سمجھتے ہیں اسی لئے یہ واقعی گدھے ہیں۔