احسن بھون گروپ نے پہلے ایک ویریفیکشن لگائی اس سے معاملہ الجھ گیا اب ایک یونیورسٹی فوٹو نکال لائے اس سے معاملہ اور بگڑ گیا سوچیں جس دن ڈگری لگا دی وہ دن مکمل تباہی کا ہو گا
سنا ہے سرٹیفائیڈچور کے وزیرِاعلیٰ کو اپنی کرپشن چھپانےکی پڑگئی ہے اور اس نے اپنی کابینہ سےکہا ہے؛ گزشتہ سال کےدوران دیےگئے تمام ٹھیکوں،منصوبوں اور لین دین کی فائلیں چوبیس گھنٹےسےپہلےجمع کروادیں تاکہ کرپشن کےثبوت غائب کیےجاسکیں۔
گھڑی چور کے وزیرِاعلیٰ کی بُری گھڑی شروع ہوگئی ہے۔
ڈی آئی خان کی تحصیل درازندہ میں حملے میں ملوث دہشت گرد 'قاری' کی کابل میں پشتونستان اسکوائر پر کھینچی گئی تصاویر نے افغان طالبان اور فتنے الخوارج کے گٹھ جوڑ کا پردہ چاک کر دیا ہے!
افغانستان کی سرزمین پر دندناتے ہوئے کابل کے دل سے پاکستان پر حملوں کی منصوبہ بندی کرنا اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ الخوارج کو وہاں محفوظ پناہ گاہیں اور مکمل سرپرستی حاصل ہے۔ پاکستان میں خونریزی کرنے والے ان بیرونی ایجنٹوں اور ان کے سرپرستوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ سرحد پار چھپے ان تمام مجرموں کو گھسیٹ کر ان کے انجام تک پہنچایا جائے گا
یہ ہیں علینہ شکری جو کہ خود کو صحافت منصب پر فائز رکھے ہوئے ہیں حالانکہ باجوہ فیض غفور کے دست شفقت سے چصحافت درجہ پر فائز ہوئیں اور عمران نیازی انکا آئیڈیل لیڈر تھا اور پھر جب سے خان کو اقتدار سے نکالا گیا تب سے “پوتری “ ہوئی ہیں اور انکی لفاظی کا معیار ضرور چیک کیجئے گا
CMصاحب جواب دیں !!!
کیادسمبر 2025 تک خیبر پختونخوا” سی ٹی ڈی کے پاس 200 مطلوبہ ایم فور رائفلوں کے مقابلے میں صرف 9 دستیاب تھیں ضرورت کا محض 4.5 فیصد۔کیادسمبر 2025 تک خیبر پختونخوا CTDکےلیے درکار 35 نائٹ ویژن آلات کے مقابلے میں صرف 11 دستیاب تھے۔
اگر یہ اعدوشمار غلط ہیں بتائیں؟؟
اللہ کی شان ہے 27 ستمبر کو انڈیا نے پاکستان میں انتشار کی منصوبہ بندی بنا رکھی تھی عوام اور پولیس نے لڑنا تھا انڈیا کے میڈیا نے دنیا بھر میں وہ مناظر دیکھانے تھے تیاری مکمل تھی مگر وہ تماشہ خود انڈیا میں شروع ہو گیا آگ وہاں جل اٹھی سٹوڈنٹ وہاں مشتعل ہو گے
ایک عمران خان بھی گیا تھا
عالمی فورم پر جس نے وہاں جاکر نوازشریف کی شکایتیں لگائی تھیں اور ایک شہبازشریف ہے
جو پاکستان کا مقدمہ جاندار، شاندار، مضبوط اور منطقی دلائل کیساتھ لڑ رہا ہے، ویژنری لیڈر ایسا ہی ہوتا ہے
پی ٹی آئی اور خیبرپختونخوا حکومت دہشت گردوں کی سب سے بڑی سہولت کار ہے ویڈیو میں دیکھ سکتے ہیں کہ فتنہ الخوارج کے دہشت گرد دھڑلے سے کہہ رہے ہیں کہ PTI ہماری پارٹی ہے اور وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی عمران خان ان کے کاموں میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالتے۔فوج کی کارروائیوں کو اپنے خلاف رکاوٹ قرار دے رہے ہیں۔
اگر ریاست سمجھتی ہے کہ خیبرپختونخواہ صوبے میں امن قائم ہو ترقی اور خوشحالی کی راہ ہموار ہو تو سب سے پہلے وہاں گورنر راج لگانا ہوگا اور دوسرا سخت فیصلہ پی ٹی آئی پر پابندی کی صورت میں کرنا ہوگا۔
میں اس ٹویٹ کو جواب کے لائق نہیں سمجھتا۔ اسے صرف اس لیے سامنے لا رہا ہوں کہ لوگ خود دیکھ سکیں: آکسفورڈ سے تعلیم حاصل کرنے اور اسی یونیورسٹی کا چانسلر بننے کی خواہش رکھنے والے عمران خان کے ایک حامی کی زبان کیا ہے۔ ایک عام کارکن چھوڑیں امریکہ میں تحریکِ انصاف کے میری لینڈ چیپٹر کے صدر کے الفاظ ملاحظہ کریں جو سیاسی اختلاف سے کہیں آگے، بدزبانی کی اس روایت کی عکاسی کرتے ہیں جسے عمران خان نے اپنے حامیوں میں اسی طرح پروان چڑھایا ہے جیسے جرمنی میں ہٹلر نے چڑھایا تھا۔ اس نے نفرت آمیز پراپیگنڈہ سے بڑے بڑے پڑھے لکھوں کی اس دور میں عقل مار دی تھی اور آج پوری جرمن قوم سیاست کے اس دور اور انداز پہ شرمسار ہے۔
اختلافِ رائے کا جواب دلیل، پالیسی اور کارکردگی سے دیا جاتا ہے۔ جب ان کی جگہ مخالفین کی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کے لیے گالیاں اور بے بنیاد الزامات لے لیں تو نقصان صرف سیاسی گفتگو کا نہیں ہوتا؛ سیاسی کلچر اور نوجوان نسل کی تربیت بھی تباہ ہوتی ہے۔ پاکستان کو ایسی سیاست چاہیے جو اس کے مسائل کا حل پیش کرے، اس کی زبان کو زہر آلودہ نہ کرے۔
پاکستان میں فوج پر حملے کروا کر انڈیا بہت خوش تھا آج اس کے اپنے ملک میں مشتعل سٹوڈنٹ نے ائرفورس بیس پر حملہ کر دیا وہاں آگ لگا دی ہے
قوم یوتھ آج صدمے میں ہے اور یہ سب شئیر نہی کر رہے ہیں ان کے لئے بھی اسرائیل فادر لینڈ اور انڈیا مدر لینڈ بن چکی ہے
🚨جان بھی حاضر ھے فلسطین کیلئے ۔۔
پسند اپنی جگہ، اختلاف اپنی جگہ، لیکن شہباز شریف نے فلسطین کا مقدمہ عوامی عدالت میں جس انداز میں پیش کیا وزیراعظم پاکستان نے تمام امت مسلمہ کے دل جیت لئیے ۔۔۔ 🫡🔥
بھارت کی ایک یونیورسٹی میں دو بی جے پی کے کارکنوں اور انڈین آرمی کے افسروں نے گرلز ہوسٹل میں گھس کر لڑکیوں کا ریپ کیا ۔۔ جس کے بعد پورے پنجاب میں ہنگامے جاری ہیں ۔۔۔ لولی پروفیشنل یونیورسٹی میں انڈین آرمی کے ٹینکر کو آگ لگائی گئی
اسد قیصر صاحب! ہر ناکامی کا ملبہ وفاق پر ڈالنے سے خیبر پختونخوا کے عوام کے سوال ختم نہیں ہوں گے۔ برسوں سے صوبے میں اقتدار پی ٹی آئی کے پاس ہے، مگر آج بھی امن و امان، تعلیم، صحت، روزگار اور ترقیاتی منصوبوں پر خود پی ٹی آئی کے ارکان سوال اٹھا رہے ہیں۔
2026-27 کے بجٹ پر بھی صوبائی اسمبلی میں نامکمل ترقیاتی منصوبوں، معمولی فنڈز اور وسائل کی تقسیم پر حکومتی ارکان نے اعتراضات کیے۔ گزشتہ مالی سال کے ترقیاتی بجٹ میں بھی مختص رقم کے مقابلے میں عملی اخراجات انتہائی کم رہنے کی نشاندہی ہوئی۔
عوام یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ اگر وفاق ہی ہر مسئلے کا ذمہ دار ہے تو ایک دہائی سے زائد صوبائی حکومت میں پی ٹی آئی نے اپنی کارکردگی کا حساب کب دینا ہے؟
خیبر پختونخوا کے عوام کو سیاسی تقریریں نہیں، امن، اسکول، اسپتال، روزگار اور مکمل ہونے والے ترقیاتی منصوبے چاہییں۔ وفاق پر الزامات لگانے سے پہلے پی ٹی آئی قیادت کو اپنے صوبائی اقتدار کی کارکردگی کا آئینہ بھی عوام کے سامنے رکھنا چاہیے۔
یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ وفاق کی جانب سے صوبے کو فراہم کیے جانے والے سکیورٹی سامان کے بارے میں ایسے دعوے کیسے کر سکتے ہیں۔ میرے ذرائع کے مطابق مئی 2025 سے اب تک وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا پولیس اور صوبائی حکومت کو مجموعی طور پر 73 گاڑیاں فراہم کی جا چکی ہیں۔ ان میں 59 بلٹ پروف گاڑیاں جبکہ 14 جدید ترین بی-7 (B7) سطح کی بکتر بند گاڑیاں شامل ہیں۔
ان گاڑیوں میں 6 ’ڈریگن‘ (Dragoons) بھی شامل ہیں، جو اپنی غیر معمولی حفاظتی صلاحیت کے باعث خیبر پختونخوا پولیس کو فراہم کی گئی ہیں اور ملک کے دیگر اداروں کو اس نوعیت کی گاڑیاں نہیں دی گئیں۔ مزید 4 ڈریگنز بھی اس وقت وصولی کے لیے تیار ہیں، جبکہ مزید 7 اے پی سیز اکتوبر کے پہلے ہفتے اور 6 دیگر نومبر کے وسط تک تیار ہونے کی شیڈول ہیں۔
وزیر اعلیٰ کی جانب سے اسلام آباد پولیس کو دی گئی جدید اے پی سیز کا حوالہ دے کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ شاید وفاق نے خیبر پختونخوا کو نظر انداز کیا ہے، حالانکہ معاملہ اس کے برعکس ہے۔ اسلام آباد پولیس کو عام ’محافظ‘ اے پی سیز فراہم کی گئی ہیں، جبکہ خیبر پختونخوا پولیس خود ان گاڑیوں کو یہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے مسترد کر چکی تھی کہ اسے بی-7 سطح کی سکیورٹی فراہم کرنے والی گاڑیوں کی ضرورت ہے۔
جہاں تک اس الزام کا تعلق ہے کہ وفاق نے رقم وصول کرنے کے باوجود ضروری سامان کی فراہمی میں دانستہ تاخیر کی، تو دستیاب دستاویزات اس دعوے کی تائید نہیں کرتیں۔ رواں مالی سال میں 81 آر سی آئی ای ڈی (RCIED) جیمرز کے لیے چار الگ معاہدے جبکہ 23 اینٹی ڈرون گنز کے لیے دو معاہدے کیے گئے ہیں۔
81 جیمرز میں سے 25 یا تو فراہم کیے جا چکے ہیں یا متعلقہ اداروں کو پیش کیے جا چکے ہیں۔ سی پی او خیبر پختونخوا پولیس کے پہلے معاہدے کے تحت 5 ڈبلیو بی-300 (WB-300) جیمرز جولائی 2026 میں مقررہ وقت پر فراہم کر دیے گئے تھے۔ دوسرے معاہدے کے 20 جیمرز بھی 2 ستمبر 2026 کو تیار ہو کر فراہمی کے لیے پیش کر دیے گئے، لیکن ان کی تنصیب کے مرحلے میں خود صوبائی پولیس کی جانب سے تاخیر سامنے آئی۔ این آر ٹی سی کو جیمرز کی تنصیب کے لیے 20 گاڑیاں فراہم کی جانی تھیں، مگر اب تک صرف 10 گاڑیاں بھیجی گئی ہیں اور باقی 10 گاڑیوں کا انتظار ہے۔
دیگر سامان کی تیاری بھی طے شدہ شیڈول کے مطابق جاری ہے۔ سی ٹی ڈی کے تیسرے معاہدے کے تحت 20 ڈبلیو بی-300 اور 16 ایم پی-300 جیمرز نومبر 2026 کے وسط تک فراہم کیے جانے ہیں، جبکہ چوتھے معاہدے کے 20 جیمرز مارچ 2027 کی مقررہ آخری تاریخ سے پہلے، جنوری 2027 میں تیار ہونے کی توقع ہے۔
اسی طرح سی پی او کے لیے 7 اینٹی ڈرون گنز، سپوفرز سمیت، دسمبر 2026 تک فراہم کی جانی ہیں، جبکہ سی ٹی ڈی کے لیے 16 اینٹی ڈرون گنز، ہینڈ ہیلڈ ڈیٹیکٹرز سمیت، اکتوبر 2026 تک فراہم ہونے کا شیڈول ہے۔
ان تفصیلات سے کم از کم یہ ضرور واضح ہوتا ہے کہ وفاق کی جانب سے گاڑیوں اور سکیورٹی آلات کی فراہمی کے حوالے سے ایک باقاعدہ عمل جاری ہے۔ جہاں کسی سامان کی تیاری یا فراہمی ابھی باقی ہے، وہاں بھی مقررہ ڈیڈ لائنز موجود ہیں۔ دوسری جانب جن جیمرز کی فراہمی ہو چکی ہے، ان کی تنصیب کے لیے مطلوبہ گاڑیاں مکمل طور پر فراہم نہ کرنا صوبائی سطح کی انتظامی رکاوٹ کو ظاہر کرتا ہے۔
لہٰذا وفاق پر ہر تاخیر کا الزام عائد کرنے سے پہلے صوبائی حکومت کو اپنے انتظامی معاملات، گاڑیوں کی فراہمی اور تنصیب کے مراحل میں ہونے والی تاخیر کا بھی جواب دینا چاہیے۔ سیاسی بیانیے سے ہٹ کر اگر پورے معاملے کو دستاویزات اور زمینی حقائق کی بنیاد پر دیکھا جائے تو تصویر کافی مختلف نظر آتی ہے۔
@SohailAfridiISF
بھارت میں شدید کشیدگی اور احتجاج! 🇮🇳
پنجاب کی یونیورسٹیوں میں بھارتی طلباء کا زبردست احتجاج۔ مبینہ طور پر گرلز ہاسٹل کی طالبات کے ساتھ زیادتی کی کوشش کی خبروں کے بعد مظاہرین نے بھارتی فوج اور پولیس کی گاڑیوں کو آگ لگا دی۔
افغانستان میں طالبان کے غاصبانہ تسلط کے نیچے ہزارہ برادری کی سرِعام تذلیل اور ہراسانی نے اس ظالم اور متعصب رجیم کا اصل فرعونی چہرہ دنیا کے سامنے ننگا کر دیا ہے۔ ایک نہتے نوجوان کو صرف اس کی قومیت اور مسلک کی بنیاد پر بازار میں رسوا کرنا طالبان کے نسلی تعصب اور فاشزم کا کھلم کھلا ثبوت ہے۔
افغان طالبان کا یہ جابرانہ رویہ بتاتا ہے کہ ان کے ہاں انسانی کرامت اور بنیادی حقوق کی کوئی وقعت نہیں۔ پاکستان میں الخوارج کی سرپرستی کرنے والے یہ ظالم اپنے ہی ملک میں اقلیتوں کا جینا حرام کیے ہوئے ہیں۔ عالمی برادری کو اس نسلی اور مسلکی تذلیل پر اب محض خاموش تماشائی بننے کے بجائے ان فاشسٹوں کی فوری جواب دہی کرنی ہوگی