گلگت بلتستان کے انتخابات کے نتائج کو دیکھتے ہوئے آمدہ الیکشن میں پاکستان مسلم لیگ ن کے قائدین کو یہ حقیقت کبھی نہیں بھولنی چاہیے کہ انتخابات صرف نعروں، اشتہارات یا سرکاری وسائل سے نہیں جیتے جاتے بلکہ مخلص اور نظریاتی کارکنوں کی محنت سے جیتے جاتے ہیں
گلگت بلتستان کے حالیہ 🫡
مضبوط جماعت کی ضمانت ہوتے ہیں۔۔
دیرینہ اور مخلص پارٹی کارکنان کااحترام ہی تنظیم کی مضبوطی اور سیاسی استحکام کی علامت ہے۔۔اگر تو ورکرز کو آپ ٹشوز پیپرز کی طرح استعمال کرتے رہے تو یاد رکھئیے گا نہ تو آپ کا کوئی نام لیوا ہو گا اور نہ آپ کے نعرے لگانے والا اور اس کا جواب دینے والا
ارباب اختیار ،حکومتی نمائندگان سے اہلیان دودہ کی درخواست ہے کہ سیوریج کے پانی نے اہلیان دودہ کی زندگی اجیرن کرکے رکھ دی ہے،بازار ،گھر اور حتیٰ کہ شہر خموشاں بھی شدید متاثر ہیں،سیوریج کے پانی کی وجہ گھروں سے نکلنا محال ہوچکا ہے،زیر زمین پانی آلودہ ہوچکا ہے،پاکستان کا یہ تاریخی او
ارباب اختیار ،حکومتی نمائندگان سے اہلیان دودہ کی درخواست ہے کہ سیوریج کے پانی نے اہلیان دودہ کی زندگی اجیرن کرکے رکھ دی ہے،بازار ،گھر اور حتیٰ کہ شہر خموشاں بھی شدید متاثر ہیں،سیوریج کے پانی کی وجہ گھروں سے نکلنا محال ہوچکا ہے،زیر زمین پانی آلودہ ہوچکا ہے،پاکستان کا یہ تاریخی ۔۔
ستھرا پنجاب کیا ہمارا گاؤں صبح پنجاب میں نہیں اتا اس کا سیورج کا نظام بہت خراب ہو چکا ہے جنازے گا اور قبرستان میں پانی داخل ہو گیا ہے سیورج کا خدارا ہماری ہیلپ کریں
25 ہزار سے زائد ابادی والا گاؤں کے ساتھ ہمارے ایم این اے اور ایم پی اے صاحب کیا ظلم کر رہے ہیں ہر بار جیت کر پھر واپس نہیں اتے سیورج کا نظام بہت خراب ہے
25 ہزار سے زائد ابادی والا گاؤں کے ساتھ ہمارے ایم این اے اور ایم پی اے صاحب کیا ظلم کر رہے ہیں ہر بار جیت کر پھر واپس نہیں اتے سیورج کا نظام بہت خراب ہے
گزشتہ سے پیوستہ۔
جب بھی پاکستان کا آئین توڑا گیا تو عدلیہ نے آئین شکنوں کے گلوں میں پھولوں کے ہار ڈالے اسکے ہاتھ پر بیعت کرتے ہوئے تمام اقدامات کو جائز قرار دیتے ہوئے لکھ کر دیا جو مرضی چاہو آئین میں کرلو۔ اسی عدلیہ نے جب بھی جمہوریت کشی ہوئی جمہوریت کشوں کا ساتھ دیا۔ سینیٹر عرفان صدیقی
#عمرانداری_ختم_کرو
آئے روز عدلیہ کے ججز ہمیں کہتے ہیں کہ اپنی حدوں میں رہیں فلاں ادارہ اپنی حد میں رہے فلاں اپنی حد میں رہے یہاں تک کے پارلیمنٹ بھی اپنی حد میں رہے لیکن ان ججز کو ہر حد کراس کرنے کی اجازت ہے ہم کوئی آئین بناتے ہیں تو یہ تین کبھی آٹھ ججز بیٹھ کر آئین ہی ری رائٹ کر دیتے ہیں آج ملک جن معاشی سیاسی مشکلات کا شکار ہے اس میں ان ججز کا قصور ہے جو اپنی حدود سے تجاوز کرتے ہیں