إن الله وملائكته يصلون على النبي
يا أيها الذين آمنوا صلوا عليه صلوا عليه وسلم تسليما ،
اللهم صلِّ وسلم وبارك على سيدنا محمد عبدك ونبيك ورسولك وحبيبك النبي الأمي وعلى آله وصحبه وسلم ﷺ🤍ﷺ
One of the most brutal scenes in human history has been leaked.
The moment the tents of displaced people were bombed in the southern Gaza Strip, in the Mawasi area of Khan Yunis, killing more than 500 civilians.
A video that the world must never forget.
مکمل حدیث درجِ ذیل ہے، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
’’أن رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم، قال: ألا أعلمک - أو قال: ألا أدلک - علی کلمۃ من تحت العرش من کنز الجنۃ؟ تقول: لا حول ولا قوۃ إلا باللہ، فيقول اللہ عز وجل: أسلم عبدي واستسلم۔‘‘ (۴)
ترجمہ: ’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسا کلمہ نہ بتادوں جو عرش کے نیچے جنت کے خزانہ میں سے ہے؟ تم لا حول ولا قوۃ إلا باللہ کہو، جسے سن کر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے فرمانبرداری کی اور سرِ تسلیم خم کیا۔‘‘
’’لا حول ولا قوۃ إلا باللہ‘‘ جنت کا درخت
’’لا حول ولا قوۃ إلا باللہ‘‘ کا کثرت سے ورد کرنے کی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی نصیحت فرمائی ہے، اور اسے جنت کا درخت کہا ہے، جیساکہ حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ شب معراج میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس سے گزر ہوا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا کہ تمہارے ساتھ یہ کون ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، یہ سن کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا:
’’مر أمتک أن يکثروا غراس الجنۃ، فإن تربتہا طيبۃ، وأرضہا واسعۃ، فقال رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم لإبراہيم: وما غراس الجنۃ؟ ، قال: لا حول ولا قوۃ إلا باللہ۔‘‘ (۵)
ترجمہ: ’’اپنی امت کو حکم کیجئے کہ وہ کثرت سے جنت کے پودے لگائیں؛ کیونکہ جنت کی مٹی عمدہ اور زمین کشادہ ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ جنت کے پودوں سے کیا مراد ہے ؟ تو انہوں نے بتایا کہ ’’لا حول ولا قوۃ إلا باللہ‘‘ کہنا۔‘‘
’’لا حول ولا قوۃ إلا باللہ‘‘ ننانوے بیماریوں سے نجات
’’لا حول ولا قوۃ إلا باللہ‘‘ کی ایک بڑی فضیلت یہ بھی ہے کہ یہ کلمہ ننانوے بیماریوں اور تکالیف سے نجات کا ذریعہ ہے، چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں:
’’من قال لا حول ولا قوۃ إلا باللہ، کان دواء من تسعۃ وتسعين داء أيسرہا الہمّ۔‘‘(۶)
یعنی ’’لا حول ولا قوۃ إلا باللہ‘‘ ننانوے (دنیوی و اُخروی) بیماریوں کی دوا ہے، جن میں سب سے ادنیٰ اور ہلکی بیماری غم ہے۔‘‘
اسی طرح ایک دوسری روایت میں بھی یہ فضلیت آئی ہے، چنانچہ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ریت کی تپش اور گرمی کی شکایت کی، اور چاہا کہ ظہر کی نماز کچھ ٹھنڈ میں پڑھی جائے تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شکایت کا لحاظ نہیں فرمایا، اور اسے دور نہیں کیا، اور فرمایا:
’’أکثروا من قول لا حول ولا قوۃ إلا باللہ، فإنہا تدفع تسعۃ وتسعين بابًا من الضر، أدناہا الہمّ۔‘‘ (۷)
ترجمہ: ’’لا حول ولا قوۃ إلا باللہ‘‘ کثرت سے پڑھا کرو؛ کیونکہ وہ ننانوے تکلیفوں کو دور کرتا ہے، جن میں سے سب سے ادنیٰ تکلیف پریشانی ہے۔‘‘
’’لا حول ولا قوۃ إلا باللہ‘‘ اور رزق کی کشادگی
’’لا حول ولا قوۃ إلا باللہ‘‘ کا ورد کرنے اور اسے پڑھنے سے اجر وثواب کے ساتھ دنیاوی تکالیف سے نجات اور نعمتوں کا حصول بھی ہوگا، چنانچہ یہ کلمہ فقر وفاقہ اور تنگدستی سے حفاظت اور رزق کی کشادگی کا باعث بھی ہے، جیساکہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں:
’’من أبطأ عنہ رزقہٗ فليکثر من قول: لا حول ولا قوۃ إلا باللہ۔‘‘(۸)
یعنی ’’جس شخص کو رزق کی تنگی ہو تو اسے چاہیے کہ وہ کثرت سے ’’لا حول ولا قوۃ إلا باللہ‘‘ کہے۔‘‘
’’لا حول ولا قوۃ إلا باللہ‘‘ بقائے نعمت کا ذریعہ
’’لا حول ولا قوۃ إلا باللہ‘‘ کے فضائل میں سے ایک بڑی فضیلت یہ ہے کہ اس کا بکثرت ورد کرنے سے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا دوام اور استمرار حاصل ہوگا، بندہ ان سے محروم نہیں ہوگا؛ کیونکہ احادیث میں اسے دنیا وآخرت کی نعمتوں کے بقا ودوام کا سبب قرار دیا گیا ہے، چنانچہ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں:
’’من أنعم اللہ عليہ بنعمۃ، فأراد بقاءہا، فليکثر من قول: لا حول ولا قوۃ إلا باللہ، ثم قرأ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم:’’ وَلَوْلَآ إِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَکَ قُلْتَ مَا شَاءَ اللہُ لَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللہِ ۔‘‘(۹)
ترجمہ: ’’جس شخص کو اللہ تعالیٰ کوئی نعمت عطا فرمائے اور وہ اس کے باقی رہنے کا خواہشمند ہو تو اس کو چاہیے کہ لا حول ولا قوۃ إلا باللہ کثرت سے پڑھے، پھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی:’’وَلَوْلَآ إِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَکَ قُلْتَ مَا شَآءَ اللہُ لَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللہِ‘‘ (الکہف:۳۹)
"نبی پاک میرے خواب میں آئے اور کہا کہ یہ ٹی وی شیطانی آلہ ھے اسےتھوڑدو۔" الیاس قادری بپاجانی 1993
"ھمارے مدنی چینل کو جو بھائی دو ھزار روپے ماھانہ چندہ دیگا خدا اسے پہاڑ جتنا اجر دیگا۔" الیاس قادری بپاجانی 2026
آج دل انتہائی رنجیدہ ہے، الفاظ بوجھل ہیں اور احساسات زخمی۔ ایک ایسی خبر سامنے آئی جس نے ہر غیرت مند مسلمان کے دل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ پاکستان جیسے اسلامی ملک میں، جہاں ناموسِ رسالت ﷺ پر جانیں قربان کرنے کی تاریخ موجود ہے، وہاں اس طرح کی جسارت کا تصور بھی روح کو کانپنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاکے بنانا، اور پھر اس کے ساتھ حضرات حسنین کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی نسبت سے بھی اس طرح کی جسارت کرنا ، یہ محض ایک غلطی نہیں، بلکہ ایک سنگین جرم ہے، ایک ایسا جرم جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔
یہ معاملہ کسی ایک ادارے یا ایک چینل تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ ایک خطرناک رجحان کی ابتدا بن سکتا ہے۔ اگر آج اس پر خاموشی اختیار کی گئی، اگر آج اس کو معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیا گیا، تو یاد رکھیں کہ کل یہی چیز ایک سلسلہ بن جائے گی۔ اور جب کوئی برائی سلسلہ بن جائے تو پھر اس کو روکنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔
میں اپنے تمام اہلِ پاکستان، تمام مسلمانوں سے درد دل کے ساتھ یہ گزارش کرتا ہوں کہ اس معاملے پر بھرپور، سنجیدہ اور پرامن احتجاج کریں۔ اپنی آواز بلند کریں، تاکہ یہ پیغام واضح طور پر پہنچ جائے کہ اس ملک کے مسلمان اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس پر کسی قسم کی کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتے۔
اسی کے ساتھ میں پاکستان کے تمام مقتدر اداروں سے بھی نہایت سنجیدگی کے ساتھ اپیل کرتا ہوں کہ اس معاملے کو معمولی نہ سمجھا جائے۔ اس پر ایسا سخت اور عبرت ناک ایکشن لیا جائے کہ آئندہ کسی کو اس قسم کی جسارت کرنے کی ہمت نہ ہو۔ صرف وقتی معطلیاں، چند دن کی پابندیاں یہ سب کچھ اس مسئلے کا حل نہیں ہیں۔ یہ وقتی مرہم تو ہو سکتے ہیں، لیکن بیماری کو جڑ سے ختم نہیں کرتے۔
اگر واقعی اس فتنے کو پاکستان سے ہمیشہ کے لیے دفن کرنا ہے تو پھر فیصلہ بھی ایسا ہونا چاہیے جو تاریخ میں مثال بن جائے۔ ایسا نہ ہوا، تو یاد رکھیں کہ آج جو لوگ اختیار میں ہیں، اگر انہوں نے اس موقع پر کمزوری دکھائی، تو آئندہ ہونے والی ہر گستاخی کے وہ بھی برابر کے ذمہ دار ہوں گے۔
ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ ہم قیامت کے دن کس منہ سے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کے امیدوار بنیں گے، اگر دنیا میں ہم نے ان کی ناموس کے معاملے میں سستی اور غفلت کا مظاہرہ کیا؟
یہ وقت جذباتی ہونے کے ساتھ ساتھ دوراندیشی کا بھی ہے۔ ہمیں ایسا قدم اٹھانا ہوگا جو صرف آج کا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کا بھی تحفظ کرے۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کبھی سوچا ہے کہ اگر آج ہماری سانس رک جائے تو ہمارے ساتھ صرف ہمارا ایمان اور اعمال جائیں گے،دنیا کی ہر محبت اور ہر آرزو یہیں رہ جائےگی۔ اے اللہ! ہمارے دلوں کو کلمۂ طیبہ کے نور سے زندہ رکھ، ہمیں اپنی یاد میں رونے والا دل عطا فرما
آمین یارب العالمین
آہ! ہم بھی اس ملک کے باشندے ہیں جہاں چیف جسٹس کی توہین پر 35 سال قید کی سزا دی جاتی ہے، جبکہ رسالت مآب ﷺ کی توہین پر محض 15 دن کے لیے لائسنس معطل کر دیا جاتا ہے۔"