آج 7 اکتوبر ہے!!
دو سال پہلے، چونکا دینے والی خبر نے دنیا کو دنگ کر دیا۔ راکھ سے اٹھی آگ کی چنگاری نے صیہونیوں کے غرور کو جلا ڈالا۔ صیہونیوں نے اس قدر حیران کن دھچکا سوچا بھی نہ تھا۔
فلسطینی مجاہدین کی اس جنگ کو الاقصیٰ فلڈ کا نام دیا گیا۔ حق اور باطل کے درمیان لڑائی، انسانیت اور شیطانیت کے مابین اس جنگ نے مقبوضہ بستیوں کو کچل دیا اور فلسطینی سرزمین کے اندر برسوں سے لگی باڑ کو اکھاڑ دیا۔ جس نے نہ صرف فلسطینیوں کے گرد بلکہ امت اسلامیہ کے گرد بھی گھیرا تنگ کر رکھا تھا۔
اس طوفان نے اپنے آپ کو ایک ناقابل تسخیر فوج سمجھنے والے صیہونی سپاہیوں کو کیڑوں کی طرح کچل دیا اور موساد کی دہشت کو بھوسے کی طرح اڑا دیا۔
اس نے ثابت کیا کہ کوئی بھی آہنی باڑ ایمان اور توکل رکھنے والی عوام کا مقابلہ نہیں کر سکتی
اس نے اسلامی ممالک کے غدار اور بزدل حکمرانوں کے چہروں سے پردہ اٹھا کر عام مسلمانوں پر ان کی اصلیت بھی عیاں کر دی۔
اس طوفان کے بعد ہونے والے واقعات نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ سالہا سال کے صیہونی مظالم بھی اہل فلسطین کے اعتقاد اور یقین کو کمزور نہیں کر سکے۔ بلکہ مرد، عورتیں، بوڑھے اور یہاں تک کہ چھوٹے بچے بھی مقدسات کے دفاع کے لیے اپنی جان و مال کی قربانی دینے کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ آمادہ ہیں، اس امید کے ساتھ کہ امت کے ضمیر کو بیدار کیا جائے جو ایک طویل عرصے سے خواب خرگوش کے مزے لے رہا ہے۔
اس جنگ نے حقوق نسواں کے علمبردار،
انسانی حقوق کے دعویدار،
خواتین کے حقوق،
بچوں کے حقوق اور ممنوعہ ہتھیاروں کے استعمال پر پابندی جیسے اداروں اور قوانین کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا، جس سے ایک بار پھر ثابت ہوا کہ ایسے ادارے اور قوانین صرف اسی صورت میں موثر ہیں جب مظلوم فرد غیر مسلم ہو۔
اس طوفان نے صہیونیوں کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے مزید آشکار کر دیا کہ اس کے بعد سے صیہونیوں کو، غزہ مکمل تباہ کرنے، عورتوں اور بچوں کو شہید کرنے کے علاوہ، اپنی ذلت آمیز شکست کو چھپانے کے لیے کوئی راستہ نہیں مل رہا۔
اس دوران نام نہاد آزاد صحافت کا پول بھی کھل گیا۔ انٹرنیشنل میڈیا بے نقاب ہوا کہ وہ کس حد تک یہودیوں کی غلامی میں جکڑا ہوا ہے۔
اس جنگ کے ابتدائی دنوں میں صیہونی حکومت کے وزیر اعظم نے بڑے فخر اور غرور کے ساتھ اعلان کیا تھا کہ وہ غزہ پر حملہ کر کے چند دنوں میں اپنے تمام قیدیوں کو بذریعہ طاقت رہا کروا لے گا اور اس تحریک کو ختم کر دیں گا۔ یہ دعویٰ، دو سال گزرنے کے بعد بھی محض دعویٰ ہی ہے اور تمام تر جدید جنگی صلاحیتوں اور تاریخ کے بدترین مظالم کے باوجود صیہونی حکومت ابھی تک اپنے قیدیوں کو رہا کروانے یا اپنی کھوئی ہوئی عزت کو بحال کروانے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔
غزہ جنگ میں شہداء کی تعداد ہزاروں پر پہنچ چکی ہے۔
لیکن یاد رہے کہ ان بے گناہوں کا خون کبھی رائیگاں نہیں جائے گا بلکہ اس دلدل کی طرح رہے گا جو صیہونی حکومت کو ہر روز مزید غرق کرتا رہے گا۔۔۔
#الف_نگری
#غزة
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کبیرہ گناہوں کے متعلق پوچھا گیا تو آپ ﷺنے فرمایا:
اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا،
ماں باپ کی نافرمانی کرنا،
کسی کی جان لینا
اور جھوٹی گواہی دینا۔
(صحیح بخاری،۲۶۵۳)
یقینا اللہ ان مؤمنوں سے بڑا خوش ہوا جب وہ درخت کے نیچے تم سے بیعت کررہے تھے، اور ان کے دِلوں میں جو کچھ تھا وہ بھی اللہ کو معلوم تھا، اس لئے اُس نے اُن پر سکینت اُتار دی، اور اُن کو اِنعام میں ایک قریبی فتح عطا فرمادی۔
﴿سورۃ الفتح، ۱۸﴾
اور جو مال بھی تم خرچ کرتے ہو وہ خود تمہارے فائدے کے لیے ہوتا ہے جبکہ تم اللہ کی خوشنودی طلب کرنے کے سوا کسی اور غرض سے خرچ نہیں کرتے۔ اور جو مال بھی تم خرچ کرو گے تمہیں پورا پورا دیا جائے گا اور تم پر ذرا بھی ظلم نہیں ہوگا۔
(سورۃ البقرۃ، ٢٧٢)