سنا ہے نواز شر��ف اور مریم کی طرف سے نیا بیانیہ دیا جا رہا ہے کہ وفاق کی حکومت نہیں لیتے پنجاب میں مہارانی کو وزیراعلی بناتے ہیں
پنجاب میں تو مینڈیٹ زیادہ لوٹاگیا ہے۔وفاق میں حکومت پہلے پنجاب کے مینڈیٹ کا سچ پر فیصلہ کریگی۔پھر پنجاب حکومت بنے گی۔جعلی مینڈیٹ سے گورنر راج بہتر ہوگا
بالآخر قید و بند کی طویل صعوبت برداشت کرنے کے بعد طیبہ راجا کو آج رہائی مل گئی۔
طیبہ راجا جیسی بہادر خواتین تحریک انصاف کے ماتھے کا جھومر ہیں۔ جس طرح نڈر ہو کر طیبہ اور دیگر بچیوں نے جیل کاٹی مگر عمران خان اور اپنے نظریے کا ساتھ نہیں چھوڑا اسکی جتنی تحسین کی جائے کم ہے
ابھی اڈیالہ @ImranKhanPTI صاحب سے ملاقات ہوئی ہے۔ ملاقات میں سردار لطیف کھوسہ صاحب اور محمد عامر ڈوگر صاحب بھی موجود تھے۔ ماشاءاللٰہ صحت اچھی تھی اور ہشاش بشاش لگ رہے تھے۔ تقریبًا آدھا گھنٹہ ملاقات رہی۔ اپنے لیڈر سے اتنے عرصہ بعد ملا بہت اچھا لگا۔ مردان کی تاریخی جیت کا سن کر بہت خوش ہوئے۔
اڈیالہ میں میرے جیل کے دنوں کے احوال کا بھی ان کو پتہ تھا اور خوش تھے کہ آپ نے جوانمردی سے جیل کاٹی۔ پوچھا اسیری کے کتنے دن تھے ان کو بتایا 78 دن تھے۔ ڈوگر صاحب سے بھی ان کے جیل کے دنوں کا پوچھا۔ ان کی ملتان کی جیت پہ بھی بہت خوش تھے۔ سردار لطیف کھوسہ نے خان صاحب کو کہا کہ ان کی لاہور کی جیتی ہوئی سیٹ خان صاحب کی امانت ہے جس پہ خان صاحب نے کہا کہ نہیں وہ میانوالی والی سیٹ پہ آئیں گے انشاءاللٰہ
میں اپنے لیڈر کی قدر شناسی کا دل سے شکر گزار ہوں۔
قوم کے لیڈر سے قوم کے مسائل پہ تفصیلی گفتگو ہوئی۔
انہوں نے بہت سی ضروری ھدایات دی ہیں جن سے متعلق بعد میں آپ کو آگاہ کریں گے۔
سب سے بڑی بات جو خان صاحب نے کی ہے وہ یہ ہے کہ @PTIofficial اقتدار میں آکر فتح مکہ ماڈل پہ جائے گی۔
ہم کوئی سیاسی انتقام نہیں لیں گے بلکہ ملک و قوم کی ترقی کی خاطر ملک و قوم کو آگے لیکر جائیں گے۔
خان صاحب نے نیلسن منڈیلا کے ٹرتھ اینڈ ری کنسلیشن Truth & Recilliation Commission کا بھی حوالہ دیا کہ ملک کو آگے لے جانے کیلئے سچ ، معافی اور درگزر کی طرف جانا ہوگا۔ تحریک انصاف اقتدار میں آکر انتقام نہیں سیاسی استحکام و ترقی کی طرف پاکستان کو لے کر جائے گی۔
انشاءاللٰہ
قوم کے لیڈر کی سوچ اور بڑے دل کو سلام ہے۔
پاکستان زندہ باد
عمران خان پائیندہ باد
چیف الیکشن کمشنر صاحب! جناب چیف جسٹس پاکستان!
یہ 8 فروری کی رات کے وہ مناظر ہیں جب ڈاکو خواجہ آصف ریٹرننگ افسر اقبال کے ساتھ مل کر الیکشن لوٹتے ہوئے سیالکوٹ کی عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈال رہا تھا۔ میری ہر ممکن کوشش کے باوجود ایس ایچ او شہباز مجھے اندر جانے سے روک رہا تھا تا کہ میری غیر موجودگی میں میری جیت اور خواجہ آصف کی 50 ہزار ووٹوں سے ہوئی شکست کو بدلا جا سکے۔اس کھلم کھلا ڈاکے پر آپ کیسے خاموش رہ سکتے ہیں؟ اس بدمعاشی اور چوری کا نوٹس لیں۔ جس شخص کو سیالکوٹ کی عوام مسترد کر چکی اس شخص کو اب ان کی نمائندگی کا کوئی حق نہیں۔ نتیجہ بدلنے والے سرکاری افسر کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کا حکم دیں۔
صورت حال یہ ہے کہ پولنگ کے دن پولنگ ختم ہونے اور گنتی تک تقریباً سب کچھ ٹھیک چلا
اکا دکا واقعات ضرور رپورٹ ہوئے
فارم 47 میں جعلسازی ہوئی
اس یہ منظم دھاندلی کا واضح ثبوت ہے کہ تقریباً تمام حلقوں میں ایک ہی پیٹرن ہے فارم 47 ، فارم 45 سے مطابقت نہیں رکھتے اور قاضی فائز عیسیٰ کے لگائے گئے آر اوز نے سب کچھ عین منصوبہ بندی کے تحت کیا
جوڈیشری سے لگائے گئے آر اوز اس قدر ننگی بے شرمی نہ کرتے کم از کم
رپورٹر کے مطابق ان نوے سالہ خاتون نے بتایا کہ وہ تمام رات سو نہیں پائیں کہ کل مجھے عمران خان کے لئے ووٹ کرنا ہے
ماؤں بہنوں بیٹیوں نوجوانوں اور بزرگوں کے ووٹ چوری کر کے مسلط شدہ کٹھ پُتلی حکومت کتنی باعث خیر و برکت ہو گی
اللّٰہ تعالیٰ غارت کرے ان ظالموں کو
8 فروری کی رات جیت کے شور میں اٹھنے والی یہ آوازیں خاموش کروا سکتے ہو؟
کان کھول کر سن لو خواجہ آصف نہ یہ سب پیچھے ہٹیں گے نہ میں۔اس بار عوام کا دیا ہوا مینڈیٹ واپس حاصل کر کے دکھاؤں گی۔ انشااللہ
یہ کلپ ایک ٹریلر تھا، لیکن اب آر او آفس کچہری چوک میں روزانہ کی بنیاد پر پر امن دھرنہ دینے کا اعلان کرتی ہوں۔ عوام اس سے بھی زیادہ تعداد میں آئے گی۔ اپنا حق لینے تک نہ خود چین سے بیٹھیں گے اور نہ انشاالل�� ووٹ چوروں کو بیٹھنے دیں گے