آزاد کشمیر میں بھی وہی مسئلہ ہے جو لال مسجد میں ہوا تھا جنرل پرویز مشرف نے اٹیک کیا تھا بچوں کی لاشیں غایب ہو گئی تھیں ٹرکوں میں لے جا کر
اسلام آباد کالج کے نیچے کھدائی کرکے کیمیکل ٹریٹ کرنے کے بعد لاشیں وہاں پر دبا دی اس کے بعد 71 خودکش حملے ہوۓ تھے پاکستان کی فوج کے اندر
26 نومبر2024 کو بھی 105 لاشیں غایب کی گئیں اب الزام لگایا جا رہا ہے کشمیر کے ہسپتال میں 56 زخمی تھے لاشیں نہیں ملیں
عادل راجہ
🚨🚨🚨 محترمہ چیف منسٹر صاحبہ! @MaryamNSharif گزشتہ تین دن سے آپ اور لاہور پولیس، بالخصوص ڈی آئی جی آپریشنز، پوری قوم سے مسلسل جھوٹ بول رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان خواتین کو آپ کی پولیس نے بازیاب نہیں کرایا، لیکن اس کے باوجود آپ کے من پسند میڈیا کو یہ تاثر دیا گیا کہ ان کی بازیابی اہلِ خانہ کی ون فائیو (15) کال پر لاہور پولیس کی انتھک محنت کے نتیجے میں ممکن ہوئی۔
یاد رکھیں، جھوٹ زیادہ دیر تک نہیں چھپ سکتا۔
میں گزشتہ تین دن سے مسلسل یہ بتا رہا ہوں کہ ڈی آئی جی آپریشنز لاہور اور ڈی آئی جی انویسٹیگیشن لاہور اپنے آئینی اور قانونی فرائض ادا کرنے کے بجائے یا تو آپ کے ذاتی ملازمین کی طرح کام کر رہے ہیں، یا پھر خوشامد حاصل کرنے کی خاطر اس معاملے کو دبا کر اصل مجرموں کو فائدہ پہنچانا چاہتے ہیں۔ اگر ایسا نہیں، تو پھر یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کہیں آپ خود بھی اس پورے معاملے میں ملوث تو نہیں؟
میرا مطالبہ ہے کہ ڈی آئی جی آپریشنز اور ڈی آئی جی انویسٹیگیشن کو فوری طور پر ان کے عہدوں سے ہٹایا جائے، کیونکہ ان کی موجودگی میں اس سنگین جرم کی شفاف، غیرجانبدار اور مؤثر تحقیقات ممکن نہیں۔
اگر آپ واقعی اس شرمناک اور گھناؤنے جرم کی پشت پناہی نہیں کر رہیں، تو انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ اپنے اس مشیر کو، جو ملزمان کا ماموں ہے، فوری طور پر عہدے سے برطرف کریں۔
اس مقدمے کی آزادانہ تحقیقات کے لیے ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی جائے، جس میں صرف پولیس ہی نہیں بلکہ انٹیلیجنس بیورو (آئی بی)، فیڈرل انویسٹیگیشن ایجنسی (ایف آئی اے)، انٹر سروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) اور ملٹری انٹیلیجنس (ایم آئی) کے نمائندے بھی شامل ہوں، تاکہ تحقیقات ہر قسم کے دباؤ اور اثر و رسوخ سے آزاد ہو سکیں۔
اگرچہ موجودہ حالات میں آپ سے زیادہ توقعات وابستہ نہیں، لیکن شاید ایک آزاد اور بااختیار تحقیقاتی کمیٹی ہی ان متاثرہ خواتین کو انصاف دلانے کا ذریعہ بن سکے۔
عدالت میں خاتون کے دیے بیان کی تفصیلات لرزہ خیز ہیں، یہ انسان تو دور جانور کہلانے کے بھی لائق نہیں، خاتون کے پرائیویٹ پارٹس میں رائفل داخل کرتے رہے، کوئی بھی کسی زندہ انسان سے ایسے کر سکتا ہے، بیان کے مطابق، رضا ڈار پیسے مانگتا رہا۔ عبرتناک انجام ہونا چاہیے
متاثرہ خاتون آسٹریڈ گیبرئیل کا 164 کا بیان۔۔!!
میرے ساتھ پیش آنے والا واقعہ بنیادی طور پر وہی تھا جو اسٹیفنی نے بیان کیا، تاہم گھر میں قیام کے دوران مختلف واقعات بھی پیش آئے، پہلی رات جب 4 مسلح افراد گھر میں داخل ہوئے تو اُنہوں نے اُنہیں باندھ کر ایک کمرے میں بند کر دیا، سیاہ لباس پہنے ہوئے ایک شخص نے ان کے جسم کو نامناسب انداز میں چھونا شروع کیا اور کئی مرتبہ چہرے پر مکے مارے، اس شخص نے اُن کے جوتے بھی پہن لئے، بعد میں جب اسٹیفنی کو کمرے سے باہر لے جایا گیا تو سیاہ لباس والے شخص نے اُن کے ساتھ جنسی نوعیت کی زبردستی کی اور اُن کے جسم کو نامناسب انداز میں چھوتا رہا، اس کے بعد رضا ڈار نامی شخص آیا اور کمپیوٹر اور رقم کے بارے میں پوچھا، خاتون نے بتایا کہ کمپیوٹر سبز رنگ کے بیگ میں ہے، پھر وہ کمپیوٹر لے آئے اور رقم اور پاس ورڈ کے بارے میں سوالات کرنے لگے، جب وجہ پوچھی تو مسلح افراد نے اُن کے سر پر زور سے مکا مارا، اس کے بعد اُنہیں دوسرے کمرے میں منتقل کیا گیا، جہاں ایک اور شخص موجود تھا جو دوسروں سے مختلف تھا، اس کے پاس بھی اسلحہ تھا اور وہ انگریزی روانی سے بول سکتا تھا، میں نے اُس سے پوچھا کہ کیا وہ انہیں قتل کرنے والے ہیں؟، اس شخص نے جواب دیا کہ اگر وہ رقم دے دیں تو انہیں زندہ چھوڑ دیا جائے گا، ورنہ انہیں قتل کر دیا جائے گا، بعد ازاں وہ شخص نیچے چلا گیا اور 3 دیگر افراد کمرے میں آئے، اُن میں سے ایک کے پاس رائفل تھی، اس نے باقی 2 افراد کو میرے پاس رہنے کا کہا، خاتون کے مطابق اس کے بعد سیاہ لباس والے شخص نے دوبارہ ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی، بعد میں ایک اور شخص بھی کمرے میں آیا، وہ آپس میں صرف اردو میں بات کر رہے تھے، انگریزی استعمال نہیں کر رہے تھے، ہنس رہے تھے اور جنسی تعلق قائم کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے، میں نے متعدد مرتبہ انکار کیا، اس کے بعد سیاہ لباس والا شخص اُنہیں دوسری منزل کے ایک دوسرے کمرے میں لے گیا، تھپڑ مارا، خاموش رہنے کو کہا اور پھر ان کے ساتھ زبردستی جنسی زیادتی کی،اس دوران اُنہیں شدید جسمانی تکلیف ہوئی، وہ چیختی رہیں، بعد میں دوبارہ کپڑے پہنائے گئے اور پہلے والے کمرے میں واپس لے جایا گیا، جہاں موجود افراد ہنس رہے تھے اور مسلسل ان سے جنسی مطالبات کر رہے تھے۔۔!!
ڈیلی پاکستان غیر ملکی لڑکیوں کی بازیابی کی حقیقت ویڈیو کیساتھ بتاتے ہوۓ ان لڑکیوں کو پولیس نے بازیاب نہیں کروایا تھا
وہ لڑکیاں جس گاڑی میں تھیں اس گاڑی کا ایکسڈنٹ ہوا تو وہ باہر نکل کر بھاگیں، یہ دعویٰ کہ مریم نواز کے حکم پر پولیس نے کاروائی کی مکمل جھوٹ تھا
سردار عمر نظیر کی خبر کے مطابق رات 28 اور 29 جون کی درمیانی شب قریباً 12 سے 1 بجے کے درمیان راولا کوٹ دریک دھرنے پر ڈرون کے ذریعے
آر ڈی اکس نما 4 عدد بم گراۓ گئے
عادل راجہ
گیارہ ہلاکتیں رینجرز کی ہوئی ہیں جو چار دہشتگرد کہے جا رہے ہیں مارے جا چکے ہیں کوئی اطلاع نہیں مارے جا چکے یا نہیں
الزام یہ لگایا جا رہا ہے ISI کو اس
آپر یشن کی معلومات تھی کیونکہ اس وقت کالعدم تنظیموں سے ISI کا مصطفیٰ کمال ملاقاتیں کر رہا ہے جس کو کراچی کا اگلا ڈان بنانا چاہتی ہے ISI
ان کالعدم تنظیموں کے ذریعے کراچی میں حملے کرواۓ جاتے ہیں
عادل راجہ
لاہور کور کمانڈر کی فیملی کی 9مئی پر لیکڈ فون کال
کیسے عاصم منیر اپنے کور کمانڈر کو مروا کر الزام PTI پر لگا کر اپنے مفادات حاصل کرنا چاہتا تھا،کور کمانڈر کی بارہا کالز پر بھی سیکورٹی نہ دی گئی
آج کشمیر میں رینجرز کا مارا جانا عاصم منیر کی سازش ہو سکتی ہے
آج حکومت کے جاری کردہ اکنامک سروے 2026 کے مطابق آزاد کشمیر کے 63 فیصد سرکاری سکولوں میں پینے کا پانی موجود نہیں، %60 کی چار دیواری ہی نہیں، 57 فیصد میں بجلی کی سہولت میسر نہیں، %46 سکولوں میں ٹوائلٹ بھی نہیں۔ کیا ریاست کا کام صرف ڈنڈا چلانا ہی ہے یا حکومتی عہدے داروں کو ان شرمناک حقائق پر بھی کچھ توجہ دینی چاہیے؟
رات کو مذاکرات کی باتیں ہو رہی تھیں۔
لیکن آج صبح دریک عیدگاہ کے اطراف مقامی آبادی کے مطابق کافی دیر تک شدید فائرنگ کی آوازیں سنائیں دیتی رہیں۔
اب مساجد میں اعلان کیے جا رہے ہیں کہ لوگ عیدگاہ پہنچیں۔
مقامی لوگوں کے مطابق رینجرز نے یونیورسٹی(تراڑ کیمپس) تک پیش قدمی کی، عوام نے انہیں روکنے کی کوشش کی اور جواب میں شیلنگ اور فائرنگ کی گئی۔ رینجرز سدھن ایجوکیشن کانفرنس کے دفتر تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئی تھی اور سڑک میں کھدائی کی کوشش کی تاہم عوام انہیں واپس پیچھے کی طرف دھکیلنے میں کامیاب رہی اور رینجرز کی گاڑیاں واپس چنار ہوٹل چوک کی جانب گئیں۔
اس واقعے کے نتیجے میں چند افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی ہیں اور مقامی لوگوں کے مطابق وہاں ایمبولینسز کی آوازیں بھی سنائی دے رہے ہیں
کشمیر ایکشکمیٹی کا ٹویٹ
"ہسپتالوں میں زخمیوں پر تشدد اور نہتے مظاہرین پر فائرنگ جیسا گھناؤنا کھیل کبھی بھارتی فوج نے بھی مقبوضہ کشمیر میں نہیں کھیلا؛ یہ کام کر کے آپ ہندوستان کو پیچھے چھوڑ کر اسرائیل کی صف میں شامل ہو گئے ہیں!"
— عمر نذیر کشمیری
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan
🚨Rebellion Erupts Against Munir–Shehbaz Alliance in AJ&K: Shutdown, Protests & Army Firing
A major uprising is underway across Pakistani administered Kashmir known as Azad Jammu & Kashmir (AJ&K) as thousands have taken to the streets against the Pakistani government and military. Protests and a complete shutdown are ongoing in Rawalakot, Kotli, Muzaffarabad, Bhimber, Dadyal, Palandri, and Sudhnoti.
In Rawalakot, demonstrations began around 11 a.m., with protesters blocking the main road. Pakistani police, army personnel, and Rangers responded with live firing, pellet guns, and tear gas. At least seven people were injured when security forces opened fire on protesters moving from Bhimber toward Rawalakot.
In Kotli, large crowds are chanting slogans against the Pakistani military, with groups marching toward Rawalakot. In Dadyal, massive anti-army demonstrations are visible on the roads. The shutdown has paralyzed AJ&K — markets and businesses remain closed in all major cities including Muzaffarabad, Rawalakot, Kotli, Bhimber, and Dadyal.
In Palandri, protesters displayed tear gas shells fired by security forces. In Sudhnoti, demonstrators carrying timber sticks issued warning messages to the Pakistani government and military. Clashes have now begun at Neelum Bridge in Muzaffarabad, with visuals of firing emerging as tensions escalate.
What are the protesters demanding?
A 38-point charter of demands, including:
· Cheaper electricity, flour, rice, and pulses
· Reduced electricity rates from hydropower projects like Mangla Dam — built on AJ&K land, which protesters argue is not part of Pakistan
· Removal of 12 "refugee" seats in the AJ&K Legislative Assembly
The 12-seat controversy:
These seats are reserved for individuals who migrated from Indian-administered Kashmir but now live in Islamabad, Rawalpindi, and Karachi — not in AJ&K. Protesters ask: how can non-residents be voters and legislators here? Protesters claim that Pakistani military establishment and intelligence apparatus uses these seats to control the government in AJ&K
Allegedly Pakistan's military uses these 12 seats (out of 45) to elect proxies, often militant leadership, and their family members. This allows the ISI and military to break away legislators and install their choice of prime minister whenever needed.
This is not the first protest:
Last October, a similar movement left 31 people dead. PM Shehbaz Sharif sent Rana Sanaullah to negotiate. Of 38 demands, 21 were accepted — but after eight months, none have been implemented. Instead, authorities have resumed firing on demonstrators.
The "Butcher of Lahore" in AJ&K:
Brigadier Faiq Ayub, now ISI Sector Commander in AJ&K, was previously Sub-Sector Commander Punjab — where he earned the nickname "Butcher of Lahore" for a violent crackdown on former PM Imran Khan's party PTI. He was handpicked and posted to AJ&K by Field Marshal Asim Munir. Since his arrival, military repression has intensified dramatically.
As of June 9, 2 p.m., reportedly 57 civilians have been killed in military firing over the past eight months.
What began as a protest over bread and butter has now become a direct challenge to military rule in AJ&K.
Stay tuned for a Livestream on the latest updates and analysis...
گلگت بلتستان کے الیکشن میں ن لیگ کا مکمل فوکس پنڈی کی طرف ہے کہ وہ انہیں فارم 47 کی لاسٹک والی شلواریں پہنا دیں اور اس کے لیے شہباز شریف بھرپور کوشش کررہے ہیں کہ الیکشن مینیج کر دیں اسد طور
کیپٹن امان درانی نے کہا تھا ہم فوج جو بھی کرتی ہے ملکی مفاد میں کرتی ہے
تو جوکچھ گلگت بلتستان میں ہو رہا ہے سب ملکی مفادہے اگر یہ ہمارے منہ پر تھپڑ ماریں یہ بھی ملکی مفاد ہے
یہ ہمیں بتائیں فلاں چور وہ بھی ملکی مفاد پھر اسی چور کو ہمارا حکمران بنا دیں وہ بھی ملکی مفاد ہے
شہباز گل
فافن کے سربراہ عبدالباری صاحب کا انکشاف 🔥🔥
عمران خان کو 2018 میں 118 نشستیں ملی۔ جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے 30کے قریب سیٹ کا نتیجہ روکا جس کو RTs بٹھانا کہا جاتا ہئ اور اس کے بعد جب RTS بحال ہوا اور نتیجہ آیا۔ تو آخری PTI کی 30 سیٹیں کم کرکے مسلم لیگ ن کے 21 اور زرداری کے دس سیٹ بڑھا کر عمران خان کے کلیر میجارٹی کو کم کر دیا گیا۔ پیٹرن یہ تھا کہ کسی کو کلیر میمورٹی نہیں ملتی چاہئے
ڈراپ سائیڈ کی اس خبر کو تقریباً 73 لاکھ کے قریب افراد نے دیکھا ہے یہ ڈراپ سائیڈ کی سب سے زیادہ دیکھی جانے والی خبر ہے جس نے ان بیانیوں کو رد کر دیا جو بعض حلقوں اور خود ساختہ دانشوروں نے تشکیل دیے تھے
یہ خبر چیخ چیخ کے کہہ رہی ہے
"عمران خان تم سچے تھے "
#PAKWatch🇵🇰: Today, THOUSANDS of Pakistanis led by Imran Khan's sisters and CM Sohail Afridi attempted to reach Adiala jail in Rawalpindi, to protest for the IMMEDIATE RELEASE OF IMRAN KHAN.
PAK = NO RULE OF LAW = 3RD WORLD.
FREE CAPTAIN PAKISTAN.
In a historic first, Pakistani veterans have directly challenged the army high command, denouncing its unconstitutional political interference and engineering
پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ فوج کے اندر سے اپنی ہائی کمانڈ کیخلاف براہ راست آواز اٹھائی گئ
https://t.co/D57XEav1jA