🚨🇮🇱🇯🇵Imagine being an Israeli tourist in Japan and losing your mind because a local man quietly holds photos of Gaza's children.
Was Japan promised to them 3,000 years ago too?
رینجرز کا اہلکار ایک کشمیری کے چہرے پر بے رحمی سے تشدد کر رہا ہے، جبکہ وہ بے بس انسان صرف اتنا کہہ رہا ہے: “ہاں، مار دو… مجھے مار دو۔”
ایسے دل دہلا دینے والے مناظر اور ایسی بربریت تو ہم برسوں سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے بارے میں دیکھتے اور سنتے آئے تھے کہ وہ نہتے کشمیریوں پہ اسطرح تشدد کرتے ہیں 💔
یہ”ہارڈ سٹیٹ “ کی تھیوری پاکستان کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا رہی ہے۔ جِس خِطہ میں مختلف قومیں اور زبانیں بولنے والے لوگ ہوں وہاں ہارڈ سٹیٹ نہیں بنا کرتے۔ ہم مصر و چین نہیں اور نہ ہی شمالی کوریا۔ یہاں صرف ایک دوسرے سے تعاون کی بنیاد پر ہی ریاست چل سکتی ہے اور افراد اور قوموں کے درمیان تعاون کا ہی دوسرا نام آئین ہے۔
آزاد کشمیر ، بلوچستان ، خیبر پختونخواہ لہو لہان ہیں۔ آزادیاں چھین لی گئی ہیں۔ الیکشن بے معنی ہو گئے ہیں اور معیشت تباہ حال ہے۔ یہ”فیلڈ سٹیٹ “ کی نشانیاں نہیں تو اور کیا ہے؟ ہمیں ہارڈ سٹیٹ کی نہیں ، ایک آئینی سٹیٹ کی ضرورت ہے۔ لوگوں اور قوموں کے حقوق کی ضامن۔
ہر بات کا جواب جیل یا گولی نہیں ہوتا۔ عقل کو ہاتھ دیں، پاکستان کسی بڑے سانحہ”Implosion “ سے اَب کُچھ زیادہ دور نہیں۔
ماؤں کے کیا خوبصورت جوان شہید کر ڈالے۔ اللہ صبر عطا فرمائے۔ بڑا دکھ ہے۔ کاش فیصلہ سازوں کو عقل آ جاتی۔ اب بات دور نکل گئی ہے۔ یہاں سے واپسی نہیں ہوا کرتی۔
آزاد ہتن پل پر آزاد کشمیر میں داخل نہیں ہونے دیا ،یہ آزاد کشمیر حکومت کی فاشزم ہے،میں اظہار یکجہتی، تعزیت اور صلح کیلئے جارہا تھا،کیا لاڑکانہ کے لاڈلے اور رائیونڈ کے لاڈلی کے علاوہ کسی کو کشمیر میں داخلے کی اجازت نہیں۔
Totally condemn the killing of innocent people in Mirpur and other areas of Azad Kashmir.
Shooting directly at protesters who were peacefully expressing their political views is barbaric.
I will be speaking with government representatives in Pakistan and AJK to call for accountability, condemnation, and immediate action to move towards a peaceful resolution.
Speaking up against the killing of innocent people is a moral and human duty. To remain silent is an injustice to humanity.
عالیہ حمزہ پر اور انکو بچاتے صنم جاوید اور فلک جاوید صاحبہ پر اڈیالہ جیل میں حملہ ہوجانا انتہائی شرم ناک ہے۔ سب جانتے ہیں یہ گینگز کون چلاتا ہے۔
اسے پہلے یہ حملے یا تو امریکی فورسز کی جانب سے عافیہ صدیقی پر ہوئے یا تو یا اسرائیلی فورسز کی جانب سے لیلیٰ خالد پر ہوئے۔
This was me. I was just on my way to speakers corner. We were praying at a place just outside Hyde park (designated and permitted by the police) and in accorance with the Human Rights Act 1998 Article 9(1). Doing nothing wrong.
As you can see this far right agitator stood in front of us, breaking our prayer, insulting the Prophet. We were calm and tried to engage with her. In that discussion she didn't give a single study, deflected on British values, and couldn't condemn having intercourse with 3-year-olds.
“میرے خلاف بنائے گئے جھوٹے کیسز کے ٹرائل بھی کسی قانون یا رول کے مطابق نہیں چلائے جاتے۔ گزشتہ دو سماعتوں سے، جب سے نام نہاد وٹس ایپ ٹرائیل کا آغاز کیا گیا ہے نہ تو مجھے کاروائی کی کوئی آواز پہنچتی ہے نہ ہی میرے وکلاء تک میری کوئی بات پہنچ پاتی ہے اور نہ ہی مجھے جج اور وکلأ نظر آتے ہیں۔ کئی گواہوں کے بیانات میری غیرموجودگی میں کر لیے گئے ہیں، ایسے ماحول میں شفاف ٹرائل کیسے ممکن ہے؟ یہ میرا قانونی حق ہے کہ میری موجودگی میں ٹرائل چلایا جائے۔
نو مئی کے کیسز میں ان کے پاس دو ہی جھوٹے سرکاری گواہ ہیں جنہیں ہر کیس میں پیش کر دیا جاتا ہے۔ سرگودھا کی دہشتگردی عدالت کے جج محمد عباس نے ان دونوں کے جھوٹا ثابت ہونے پر ان کی مضحکہ خیز گواہی بالکل ہی رد کر دی تھی، لیکن پھر بھی ہر جگہ انھیں جھوٹی گواہی کے لیے پیش کر دیا جاتا ہے۔
چھبیسویں آئینی ترمیم کے خلاف دی گئی درخواست کا “آئینی بینچ” کے سامنے ہی لگنا مضحکہ خیز ہے۔ جو بینچ خود اس ترمیم کے نتیجے میں وجود میں آیا ہے وہ اس کے خلاف کیا ہی فیصلہ دے گا؟
چھبیسویں آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ مکمل طور پر غلام بن چکی ہے اور اس کی حیثیت ایک سرکاری ادارے سے بڑھ کر نہیں رہی۔ چھبیسویں آئینی ترمیم آئین و قانون کی بالادستی اور جمہوریت پر حملہ ہے۔
بوگس انتخابات کے نتیجے میں وجود پانے والی فراڈ حکومت کے دور میں ہر جانب تباہی ہے۔ ملک میں سرمایہ کاری صفر ہے اور بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔ عوام معیشت سے مایوس ہو کر تیزی سے بیرون ملک منتقل ہو رہی ہے مگر قابض حکمرانوں کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔
میں بار ہا کہہ رہا ہوں کہ خیبر پختونخوا میں آپریشن کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ہمارے دور میں افغانستان سے تعلقات بھی بہتر تھے اور قبائلی علاقوں میں امن بھی تھا۔ آپریشن سے جو collatoral damage کے نام پر معصوم جانوں کا ضیاع ہوتا ہے اس سے دہشتگردی کو ہوا ملتی ہے۔ مسائل کا حل مذاکرات اور بات چیت کرنے میں ہے۔ ملٹری آپریشنز کبھی عوام کا مفاد نہیں ہوتا۔
مجھے اور میری اہلیہ بشرٰی بیگم کو مکمل قید تنہائی میں رکھا گیا ہے اور جیل مینیول کے مطابق ہماری ملاقات بھی نہیں کروائی جاتی۔ میری صحت ماشأللہ ٹھیک ہے مگر 72 سال کی عمر میں میرے جو روٹین ٹیسٹ ہوتے رہنے چاہئیں وہ نہیں کروائے جاتے اور میرے ذاتی ڈاکٹر کو بھی چیک اپ کی اجازت نہیں دی جاتی۔ آخری مرتبہ میرے میڈیکل ٹیسٹ ایک سال قبل کروائے گئے تھے جو کہ جیل مینول کی خلاف ورزی ہے”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلأ سے گفتگو (25 ستمبر، 2025)
The scenes I was confronted with as I entered the gates of Judicial Complex. Let there be no doubt that this force along with the 'Unknowns' - namaloom afraad - were there not to
put me in jail but to eliminate me by staging a mock fight & pretending my death was an accident.
یہ شیر افضل مروت بھی کوئی عجیب بے حیا قسم کا شخص ہے۔ کرپٹ تو ہے ہی۔ بے شرم بھی ہے۔
خان کی بہنوں کو بد تمیزی سے مخاطب کیا۔ تو میں نے ٹوئیٹ کر یاد دلایا کہ یہ خان کی بہنیں ہیں۔ کچھ حیا کرو۔
خان کی بہنوں کا احترام کیا کرنا تھا۔ اس نے میری 45 سال پہلے مری ہوئی ماں کو گالیاں دینا شروع کر دیں۔
مائیں تو سانجھی ہوتی ہیں۔ مروت کی ماں ہماری ماں ہے۔ ہم شیر افضل مروت کی طرح بے شرم تو ہو نہیں سکتے کہ لڑائی نہ لڑی جائے تو ماؤں کو گالیاں دو۔
اس بے شرم کو کوئی سمجھائے کہ اپنے گرنے کا کوئی تو معیار رکھے۔