مریم نواز صاحبہ آپ کے اور آپ کے کاموں کے دلدادہ ہیں۔ لیکن۔ کچھ پکستان کے اداروں کے کمپیوٹر سسٹمز پر غور کریں کیونکہ اراضی سنٹروں میں سسٹم نا چلنے کا مسئلہ، اور محکمہ فوڈ اتھارٹی جو کہ کسی کو لائسنس نہیں دے پا رہی کہ OTP نہیں آ رہے، اور نادرا میں سرٹیفیکیٹ نہیں مل پا رہے کیونکہ سسٹم ساتھ نہیں دے رہا۔ سب کہتے ہیں نادرا سے ایشو ہے۔ یہ اداروں کے کمپیوٹر جب نہیں چلتے خاص طور پر ایک دن نہیں ہفتوں اور مہینوں پر مبنی فالٹ تو عوام بہت ذلیل ہوتی ہے۔ پلیز اس طرف توجہ کریں کیونکہ عوام کو اس طرف بھی آپکی ضرورت ہے۔ شکریہ
@MaryamNSharif
#PMLN
اوپر سے اراضی سنٹروں میں اوپر کی کمائی نے عروج پکڑ لیا ہے جس کا روٹ لیول پر کیا عالم ہے گورنمنٹ کو اندازہ بھی نہیں۔ کمپیوٹر سسٹم اس قدر خراب ہیں تین دن ہو گئے فرد بیع نکلوانے کے لیے خوار ہو رہے ہیں ہم۔ میں اور میرے میاں ہم 8،8 گھنٹے کھڑے ہو ہو کر واپس آ گئے ہیں کمپوٹر ایرر نہیں نکلا۔
اس بات کا نا میں اپ کو صحیح جواب دے سکتی ہوں کیونکہ ضلع ساہیوال میں سب سے پہلے گرین سرٹیفکیٹ کو اپلائی کیا گیا اور وہاں پر سب سے پہلے سب سے پہلا بننے والا گرین سرٹیفکیٹ میرا تھا اور سب سے پہلی رجسٹری بھی ہم نے کروائی تو مسائل کا جتنا اندازہ مجھے ہے کہ یہ پروسیس انتہائی انتہائی تکلیف دے اور مشکل تھا اس وقت کیونکہ ا اچانک اس کو اپلائی کر دیا گیا تو نہ لوگوں کے ونڈے ہوئے ہیں نہ لوگوں کے پاس پراپر قبضے ہیں اور جن لوگوں کی ا معاہدے اور سٹامپ وغیرہ ہوئے ہوئے تھے وہ لوگ اپنے ٹائم پہ اس کو پورا کرنے کے لیے جب گرین سرٹیفکٹ بنوانے گئے تو وہ پروسیس کافی لمبا لینتھی اور بہت زیادہ پرابلمیٹک تھا اس وجہ سے مطلب کہ یہ دیکھ لیں کہ دو مہینے ہو گئے ہیں ہم ایگریمنٹ کو پورا نہیں کر سکے اور پہلے 15 دن کا تھا پھر ایک ماہ کا ہو گیا ابھی گرین سرٹیفکیٹ کا سسٹم جو بنایا گیا ہے اس کی کمپیوٹر رائز سسٹم میں اتنے زیادہ فالٹ ہیں اتنی غلطیاں ہیں کہ خود گورنمنٹ کو اور سافٹ وئر بنانے والوں کو بھی نہیں پتہ کہ زمین کے مسائل ابھی وہ جب بنانے لگے ہیں تو وہ نکلے ہیں مثلا خسرہ نمبر میں بٹا ڈالا جاتا ہے بٹا نہیں ہے جس کی وجہ سے جو زمین فیتا فیتاجیسے ہو جاتا ہے نا ایسے وہ بن گئی ہیں اس کے پھر اگر زمینداروں نے خود سڑکیں چھوڑی ہوئی تھیں وہ سڑکوں کو بھی علیحدہ کر دیا گیا جی کہ اس کا گرین سرٹیفیکیٹ نہیں ملے گا اور اس طرح کے اگر کسی نے اس میں ڈیرہ بنایا ہوا تھا اس کا خسرہ علیحدہ کر دیا گیا بولا جس کا گرین سرٹیفیکیٹ نہیں ملے گا اگر کسی نے کھالے بنائے ہوئے ہیں تو کھالا جی بنا دیا گیا کہ جی اس کا گرین سرٹیفیکیٹ نہیں ملے گا سب کچھ گوگل میپ کے ذریعے ہو رہا ہے کہ گوگل میپ میں جو نظر ارہا ہے اس کے مطابق اس چیز کو قبضہ تصور کر کے اسی کے مطابق ڈاکومنٹیشن یہ گرین سرٹیفیکیٹ کی دے رہے ہیں جو کہ انتہائی غلط ہے مثلا لوگوں کی تو وراثتی انتقال یہاں پہ جلدی نہیں پاکستان میں ہوتے اور اتنے بڑے چیز کو سسٹم کو اس کے ایرر نکالے بغیر لانچ کر دینا ہی سب سے بڑی غلطی تھی ابھی بہرحال یہ ہے کہ اگر گورنمنٹ نے اس کو آگے کر دیا ہے تو کام یہ بہت اچھا ہے لیکن اس کو ڈیلے کر دیا ہے تو یہ بہتر کیا ہے تھوڑا سا اپنے سسٹم کے ایررز نکالیں اور ��س کے بعد اس کو نافذ کریں تاکہ لوگوں کو پہلے سے پتہ ہو کہ یہ ہم نے اب بنوانے ہیں تو اب لوگ اپلائی کر رہے ہیں جیسے جیسے لوگ بنوا لیں گے وہ کوئی ایک مہینے تک کوئی چار مہینے تک لوگوں کے بن جائیں گے تو اس کے بعد ہر بندے کو پتہ ہوگا کہ جی میرا بن گیا تو میں نے اب جنہوں نے ہم نے اپنی انکھوں سے دیکھا ہے عورتوں کو خجل خوار اور ذلیل ہوتے ہوئے اور بوڑھوں کو کہ وہاں پہ گرین سرٹیفکیٹ کے لیے جی کے کیا جی وہ آ رہے ہیں اور کیا ہو رہا ہے وہ جی ہم نے بیچنی ہے اور اگے سے کیا ہوتا ہے گرین سرٹیفکیٹ بنوائیں گرین سرٹیفکیٹ بنوائیں تو لوگوں کو پتہ ہی نہیں ہے لوگ بیچارے خجل خوار ہو کے گھروں کو واپس ج�� رہے ہیں غریب جو پڑھا لکھا بندہ ہے وہ تو اپنا مسئلہ حل کر لیتا ہے جو غریب بندہ ہے وہ کیا کرے گا
ابلیس اور قوم یوتھ کا مسلہ ایک جیسا ہے وہ بھی خود کو خلافت کا حقدار سمجھتا تھا یوتھیوں کا مرشد بھی اقتدار پر صرف اپنا حق سمجھتا ہے ابلیس بھی خالق سے نافرمانی کر کے لعنتیں سمیٹ رہا یہ بھی اپنے خالق ادارے کے گلے پڑ کر مادر وطن سے دشمنی کر رہے اور لعنت ہی سمیٹ رہے
ہم ہر طرح کے یوتھیے اور ا��لیس پر لعنت بھیجتے ان سے پناہ مانگتے ہیں
اگر تو مزید جنگ سے ایران سمجھتا کہ وہ اسرائیل کو مکمل شکست دے کر ختم کر دے گا تو پھر مزاکرات نا کرے عمل کرے اور اگر مزید جنگ سے ایران کی عوام مرے گی عرب ریاستوں کو ایران تباہ کرے گا مگر امریکہ اور اسرائیل ایسے ہی ��ہیں گے تو پھر اس جنگ میں واحد خسارہ تو مسلمان کا ہو گا اس کو لڑنے کا فائدہ ؟
اگر جنرل باجوہ کے تلوے چاٹتے ہوئے عمران خان کو اٹھہتر سال کی اسٹیبلشمنٹ کی اصلیت کا نہیں پتہ تھا تو وہ دنیا کے سب سے بڑے جاہل تھے اور اگر پتہ تھا تو دنیا کے سب سے بڑے منافق تھے۔۔۔
اب فیصلہ خود کر لیں کہ عمران خان صاحب جاہل ہیں یا منافق۔
اور قسم لے لیں کہ یہ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ جب بیٹیوں کو زندگی میں شرعی حصہ دے دیا گیا تو انہو�� نے اس شرعی حصے کی کمائی بھی ماں باپ کو وصول کرنے نہ دی اور اس پر جھگڑے شروع ہو گئے اور تب ماں باپ جو تھے وہ اخراجات کے لیے پریشان ہو گئے اور ترس گئے کوئی ان کی ہیلپ کرنے کو تیار نہیں تھا لہذا میں یہ سمجھتی ہوں کہ بیٹے ہوں یا بیٹیاں ہوں اگر شرعی حصہ دینا ہے تو اپ سب کو اپنی زندگی میں دے دیں تب بھی اپ اپنے پاس اپنے بڑھاپے کی جمع پونجی کو رکھیں اور اگر اپ یہ سمجھتے ہیں کہ جمع پونجی اتنی نہیں ہے تو بخدا بیٹا ہو یا بیٹیاں ہو ان کو زندگی میں نہیں دینی چاہیے ذلیل کرنے پر ائیں تو بیٹیاں بھی کر دیتی ہیں
اگر مزاکرات کامیاب نہی ہوتے تو کیا ہو گا ؟ جنگ جاری رہے گی ایران کے پاس واحد آپشن ڈرون اور میزائل ہیں جبکہ اسرائیل اور امریکہ کے پاس ہر طرح کا جدید اسلحہ اور ایٹم بم بھی ہے وہ ایران پر بمباری کریں گے پل اور پاور پلانٹ اڑائیں گے ایران جواب میں مڈل ایسٹ ممالک کے پاور پلانٹ پر حملہ کرے گا آبنائے ہرمز بند رہے گا مگر کیا اس سے امریکہ یا اسرائیل تباہ ہو گا ؟ یہ مشکل لگتا ہے
پیٹرول گیس کی قیمت آسمان پر جائے گی ہو سکتا پاکستان میں پانچ چھ سو روپے لیٹر کرنا پڑے لاک ڈاؤن لگانا پڑے ہر چیز انتہائی مہنگی ہو جائے گی
مزاکرات ناکامی کی خواہش رکھنے والے بس یہ چاہتے ہیں
دیکھیں یہاں پر حالات و واقعات کا تضاد ہے اس میں کچھ شک نہیں کہ ماں باپ کی خدمت مرد کی ذمہ داری ہے اس کی بیوی کی نہیں یا اولاد میں بیٹا یا بیٹی کی ذمہ داری ہے نہ داماد کی ہے نہ بہو کی ہے لیکن ہمیں یہ بھی دیکھنا پڑتا ہے کہ ہمارے شوہر کے ماں باپ کیسے ہیں اگر تو وہ ہمارے ساتھ کوئی برا سلوک کر رہے ہیں تو مسائل پیدا ہو جاتے ہیں اس میں کوئی شک نہیں لیکن اگر وہ ہمارے ساتھ اچھے ہیں تو ان کی خدمت کرنے میں کوئی غلط نہیں ہوتا ہم نے بھی اپنے بزرگوں کی خدمت کی ہے اپنے شوہر کی ماں کی اپنے شوہر سے محبت ہو تو میرے خیال میں جس سے محبت کی جائے اس سے اس کی ہر چیز سے محبت ہو جاتی ہے انسان کو تو اگر اپ اپنے شوہر سے محبت کرتے ہیں تو اس کی ماں کی خدمت کرنے میں کیا برا ہے جبکہ اپ کو پتہ ہے کہ اس سے اس کو ذہنی سکون ہی ملے گا جب آپ کے شوہر کو ذہنی سکون دینے کی بات ہو تو آپ کو یہ کرنا چاہیے اور ایسا کرنے سے آپ کو دعائیں ہی ملیں گی اس میں کچھ برا نہیں ہے اگر آپ کے ساتھ اچھے ہوں آپ کی خدمت سے خوش ہوتے ہوں تو ان کی خدمت کر کے جنت کما لینا کچھ برا نہیں ہے لیکن اس بات کی وجہ سے کسی کو بھی اپنے ��اں باپ بہوں پر تھوپنے کا حق نہیں ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ اولاد کی ذمہ داری صرف ماں باپ کی ہے نہ بہو کی ہے نہ داماد کی ہے لیکن اگر ان کو سنبھال لیا جائے تو اس بات میں کوئی مضائقہ نہیں بلکہ اپ اپنے لیے جنتی کماتے ہیں بات صرف یہ ہے کہ ہر جو انسان اپنے لیے یہ چاہتا ہے کہ اس کو کوئی بھی مشکل پیش نہ ائے اور زندگی مخمل کے بستر کی طرح ہو جائے اس انسان نے پھر کسی کو بھی برداشت نہیں کرنا
ان قوموں کو دیکھیں جو اب اپنے عوام کی منتیں کر رہی ہیں کہ بچے پیدا کریں اور وہ بچے پیدا کرنے کو تیار نہیں وہ ایک بچے پر اکتفا کر چکے ہیں اور اب ان کو مسائل کا سامنا ہے ہمارے مذہب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ میں قیامت والے دن اپنی امت کی زیادہ ہونے پر فخر کروں گا اور اس عورت کے لیے جنت کی بشارت ہے جو زیادہ بچے پیدا کرنے والی ہو تو لہذا اگر کوئی عورت خود کم بچے پیدا کرنا چاہتی ہے تو وہ مرد کو یا معاشرے کو الزام نہیں دے سکتی کہ وہ زیادہ بچے پیدا کر رہے ہیں ہر بچہ اپنی قسمت لے کر پیدا ہوتا ہے ماں باپ کے لیے کہیں پر یہ حکم نہیں ہے کہ اولاد کے لیے مال و دو��ت چھوڑ کر مرے جب اولاد کو اس کی پرورش کرنا اس کو کھلانا پلانا اور اس کو بڑا کرنا یہاں تک ماں باپ کا فرض ہے اس کے بعد بچوں کو اپنا اپنا نصیب تلاش کرنے کے لیے خود تگ و دو کرنی چاہیے اگر ہم کثیر تعداد میں نہیں ہوں گے تو ہم دنیا میں کیسے پھیلیں گے اور اپنے مذہب کو کیسے پلائیں گے۔