حسین رضي الله عنه ظالم مسلمان حکمرانوں کے لئے ایٹم بم ہیں، یزید کا گناہ شرابی ہونا یا کوئی اور گناہ نہیں تھا، یہ بہت چھوٹے گناہ ہیں، یزید کا سب سے بڑا گناہ غیرقانونی طور پر اقتدار پر قابض ہونا تھا۔ اللہ مولانا اسحاق کی قبر کو روشن کرے اور ایسی کلیرٹی ہم سب کو عطا کرے۔ آمین
قُدرَتُ اللّٰه شَہاب صَاحِب اَپنی بیگَم کے اِنتقال کے بَعد پِہلی مَرتبَہ لَندَن آئے تھے۔
وہ بَرنی صَاحِب سے مِلنے آئے تو اَیسا لَگا کہ پِچھلے دو تین بَرسُوں میں تیزی سے بُڑھا گَئے ہیں۔
بیس پَچیس بَرس پُرانا گَرم سُوٹ پِہنے تھے، جِس سے ایک ناخُوشگَوار بُو آ رَہی تھی۔
بینک کے ہیڈ آفِس سے سَات آٹھ میل دُور مُضافَات میں اَپنے کِسی عَزیز کے ہَاں مُقیم تھے۔
ایک دِن بَرنی صَاحِب نے اُنہیں لَنچ پَر ایک بَجے مَدعُو کیا۔ وہ سَوا بَجے تَک نہ آئے، تو ہَم تینوں کو تَشوِیش ہونے لَگی۔
ڈیڑھ بَجے پَہُنچے تو اُن سے سَببِ تَاخیر دَریَافت کیا گَیا۔
کِہنے لَگے: "ٹیوب کا سَفر تو پَندرہ بیس مِنٹ کا تھا مَگر وَجہِ تَاخیر ایک نہیں، تین کَارہَائے خیر ہیں۔"
عِناں گیر ہونے والی نیکیوں کی جو تَفصیلَات اُنہوں نے بَیان کیں، وہ جَہاں تَک یَاددَاشت سَاتھ دیتی ہیں، مِن وعَن نَقل کَرنے کی کوشِش کَرتا ہُوں :
ٹرین میں میرے سَامنے دو لَڑکیاں اور اُن کے دو بُوائے فرینڈز بیٹھے تھے۔
ذَرا دیر بَعد ایک لَڑکا مُجھے مُخاطِب کَرکے کِہنے لَگا:
You should carry an air-freshner with you.
مَیں نے جَواب دیا:
I'll do that. Thank you.
دو ٹیوب اِسٹیشَن بَعد اُس کی گَرل فرینڈ میرے پَاس آئی اور بُولی:
You are a remarkable man.
You didn't react when my friend insulted you without any provocation.
May I know who you are ۔۔ ?
مَیں نے کَہا: "مَیں مُسلمَان ہُوں۔ میرا مَذہَب اِسلام یَہی سِکھاتَا ہے۔"
اُس نے کَہا:
Tell me
more about religion .
مَیں نے مُختَصَراً اِسلام کے بُنیادِی عَقائِد بَیان کیے جِن سے وہ بے حَد مُتَاثِر ہُوئی۔
کِہنے لَگی، کیا مَیں مُسلمَان ہو سَکتی ہُوں؟
مَیں نے کَہا، کیوں نہیں۔
بہت آسان ہے۔
اُس نے پُوچھا، بَھلا کیسے؟
مَیں نے شَرلک ہُومز کے لِہجے میں کَہا:
Elementary. Very simple.
بینک اِسٹیشَن آنے دو۔ وَہاں اُتَر جَاؤ تو مَیں تُمہیں دو مِنٹ میں convert کَر سَکتا ہُوں۔
چَند مِنٹ بَعد اِسٹیشَن آ گَیا۔
مَیں نے وہیں پلیٹ فَارم کی ایک بینچ پَر اُسے بِٹھایا اور اُس کے بُوائے فرینڈ کی مَوجُودگی میں، کَلمَہ پَڑھا کَر مُسلمَان کیا۔
اِسلامی نَام فاطمَہ رَکھا اور مُبارَک بَاد دِی۔
اُس نے پُوچھا، اِس نَام کا مَطلَب کیا ہے؟
مَیں نے جَواب دیا، یہ رَسُولُ اللّٰه صَلی اللّٰهُ عَلیہِ وَسلَم کی صَاحِب زَادی کا نَام ہے جو ایک عَظیم خَاتُون تھیں۔
اُس نے کَہا، مَیں اَیسا مُقَدَّس نَام کَیسے رَکھ سَکتی ہُوں؟
I have been living in sin with this boyfriend of mine.
مَیں نے کَہا، اللّٰه معاف کَرنے والا بے حَد مِہربان ہے۔
تُم دُونوں باقاعدہ نِکاح کَر لو۔
اُس نے پُوچھا، یہ کیسے ہوتا ہے؟
مَیں نے پِھر اُسی لِہجے میں کَہا:
Very simple اِسلام بہت آسان اور پریکٹیکَل مَذہَب ہے۔ مَیں تُم دُونوں کا نِکاح پَڑھا سَکتا ہوں،
بَشرط یہ کہ تُمہارا بُوائے فرینڈ پِہلے کَلمہ گو مُسلمَان بَن جَائے۔
لَڑکا فَوراً تَیار ہو گَیا۔ مَیں نے اُسے بھ�� مُسلمَان کیا اور بَاقاعدہ دونوں کا نِکاح پَڑھا دیا۔
سیدھا وہیں سے آ رَہا ہُوں۔
ہَاں، یَاد آیا۔ دُولہا نے چَلتے چَلتے پُوچھا،
کیا ہَم اَپنی اِسلامِک میرِج کو شِمپین سے celebrate کَر سَکتے ہیں؟
بِہرحَال، تَاخیر سے آنے کی مَعذِرَت ۔
( شَہاب صَاحِب کا بَیان خَتم ہُوا )
کُچھ دِن بَعد شَہاب صَاحِب پَاکِستان واپَس چَلے گَئے۔
اُن کے جَانے کے بَعد بَرنی صَاحِب نے آغا حَسن عَابدی صَاحِب سے اَپنی اِس تَجویز کی مَنظُوری حَاصِل کَر لی ،
کہ شَہاب صَاحِب کو B.C.C.I فَاؤنڈیشَن کی جَانِب سے سَاڑھے چَار ہَزار رُوپیہ مَاہوَار وَظیفے کے عِلاوَہ
ایک کَار مَع پِٹرول اور ڈرائیور اُن کے اُردَل میں تَعینات کَر دِی جَائے۔
اِس کی اِطّلاع شَہاب صَاحِب کو بَذریعَہ خَط دِی گَئی،
جِس کا تُرنت جَواب آیا کہ کَرم گُستری کا شُکریَہ۔
صُورتِ اَحوال یہ ہے کہ سَرکارِی پِنشَن گو قَلیل ہے
مَگر میری ضَرُوریَات قَلیل تَر ہیں۔
رَہی کَار ، تو مَیں صِرف اَپنی بَہن کے گَھر آتا جَاتا ہُوں جِس کے لیے کار کی ضَرُورَت نہیں پَڑتی۔
قَطع نَظر اِن مُراعات کے جِن سے مُستَفید نہیں ہو سَکتا ۔
اَگر B.C.C.I کو کِسی کام کے سِلسِلے میں میری خِدمَات دَرکار ہُوں تو ہَمہ وَقت حَاضِر ہُوں۔
بَغیر کِسی مُشاہَرے ، وَظیفے یَا رقم کے ۔
ذَرا غَور کیجیے۔ ہَمارے ہَاں اَیسے کِتنے لوگ ہیں جو ریٹائِرمِنٹ کے بَعد اَیسے غیر مَشرُوط وَظیفے اور بِن مَانگی مُراعَات کو ایسی بے نیازی سے رَد کَر دیں ۔
( مشتاق احمد یوسفی )
مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیم
تو نے ، وہ گنج ہائے گراں مایہ کیا کئے ۔
ٹھوکر سے رکشہ پر ڈیفینس جانے کا اتفاق ہوا، رکشہ والے نے گاڑی کے شیشہ پر “یہ سب میری ماں کی دعا ہے” کا اسٹیکر آویزاں کررکھا تھا۔ دیکھ کر ہنسی آئی، پھر اس سے پوچھا کہ رکشہ چلانے کو اپنی والدہ کی دعا قرار دے رہے ہو، کیا یہ اتنی بڑی فضیلت ہے؟
رکشہ والا مسکرا کربتانے لگا کہ صاحب میرا تعلق مظفر گڑھ سے ہے، والدکا حادثے میں انتقال ہوگیا تو سگے تایا نے مکان جائیداد پر قبضہ کرکے والدہ اور ہم چھے بہن بھائیوں کو گھر سےنکال دیا۔ماں ہمیں اپنے بھائی کے پاس لے ��ر لاہور آگئی، چنددن بعد بیگم کے کہنے پر ماموں نے بھی معذرت کرلی تو ساتھ والے محلے میں بیٹھک کرائے پر لے کر والدہ نے لوگوں کے گھروں میں کام کرنا اور رات گئے تک سلائی مشین پر محلے والوں کےوالوں کے کپڑے سینا شروع کردئے، تعلیم کا تو سوچ بھی نہیں سکتے تھے، اسی لئے چھوٹی عمر سے سبزی منڈی جانا شروع کردیا، سبزی اور پھلوں کی لوڈنگ انلوڈنگ کرواتے اور ٹوکری پر پھل فروٹ بیچتے نوجوان ہوئے، پھر کنڈیکٹری شروع کردی، اس فیلڈ میں استادوں اور ڈرائیوروں کی مار کھاتے کھاتےجوان ہوئے اور پھر کسی کا رکشہ چلانا شروع کیا، پیسے اکٹھے کئے،کمیٹی ڈالی، پھر قسطوں پر اپنا رکشہ لیا، اس کی قسطیں ختم ہوئیں تو دو رکشے قسطوں پر لئے اور بھائیوں کو بھی سبزی منڈی سے ہٹاکر ساتھ لگالیا۔
تینوں بھائی مل کر کماتے رہے، والدہ سے سلائی مشین چھڑوائی، چھوٹے بھائی کو پڑھاتے رہے، کہ جو ہم نہیں بن پائے ، اسے بنادیں، بھائی نے ایم بی اے کیا، اسے بینک میں نوکری مل گئی، اس نے جس ماہ بینک سے گاڑی لیز کروائی، اسی ماہ اپنی کولیگ سے شادی کی اور ہمیں چھوڑ کر چلا گیا، اب کبھی کبھار آتا ہے۔
ہم تین بھائی رکشہ چلاتے ہیں، دوبہنوں کی شادیاں کردی ہیں۔ میرے تین رکشے مزید ہیں، جو کرائے پر دے رکھے ہیں، بھٹہ چوک میں گزشتہ برس اپنا چھوٹا سا گھر بنایا ہے، والدہ نے اپنی پسند سے میری شادی کردی ہے۔
ہم سب اکٹھے رہتے ہیں،اب ہم تینوں بھائیوں نے ایک پلاٹ تاڑ رکھا ہے، اسے خرید کر اس پر ایک ��ور گھر بناکر اگلے دوسالوں تک دوسرے بھائی کی شادی کرنے کا سوچ رکھا ہے۔
چونکہ والدہ ساتھ رہتی ہیں اور ان کی دعائیں ساتھ ہیں تو امید ہے کہ اگلے دوسال میں چھوٹے بھائی کا گھر اور اس کی شادی دونوں ہوجائینگی۔
یہ سب ماں کی دعا نہ سمجھوں تو کیا ہے؟
باقی کا سفر خاموشی میں کٹا اور میں سوچتا رہا کہ مجھے اپنی والدہ کی دعا کے باعث جتنا زیادہ اللہ پاک نے بنا محنت کے دے دیا، اس سے کہیں کم کسی کو ان تھک محنت کے بعد حاصل ہوا۔
اپنے ناشکرے پن پر ہزار بار توبہ استغفار کیا۔
سب سے بھی گزارش ہے کہ کسی کی حیثیت کا مذاق مت اڑائیں، کیا پتا ، اس نے اس مقام تک پہنچنے کے لئے بھی اپنی ہڈیاں گلادی ��وں...!!!
@iqrarulhassan پہل�� تو یہ بات کلیئر کرلیں کہ عمران خان اور اس کی فیملی نے آپ کے اور آپ کی فیملی کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہا۔بس آپ ہی یکطرفہ لڑائی لڑتے رہے ہیں رہی عوام کی بات تو اس نے آپ کو ریجیکٹ کردیا ہے جواد احمد کی طرح۔ ابھی جو حکومت میں ہیں ان سے مل کر پاکستان کا سوچیں وہ ابھی جیل میں ہے
شوق کو عازمِ سفر رکھیے
بے خبر بن کے سب خبر رکھیے
چاہے نظریں ہوں آسمانوں پر
پاؤں لیکن زمین پر رکھیے
بات ہے کیا، یہ کون پرکھے گا
آپ لہ��ے کو پُر اثر رکھیے
جانے کس وقت کوچ کرنا ہو
اپنا سامان مختصر رکھیے
نگہت افتخار