@asmashirazi اگر آزادانہ طور پر جانا ممکن نہیں تھا تو بہتر نہیں تھا کہ اسلام آباد میں ہی بریفنگ لیتے؟
اتنا خرچا اور ٹائم ضائع کرنے کی ضرورت تو نہیں تھی ۔
لیکن یہاں مفت کا شراب قاضی کہاں چھوڑتا ہے ۔
@zaighamkhan اور آپ جیسے سینکڑوں دانشخور ہمیشہ ان برے اعمال میں سہولت کاری فراہم کرتے ہو اور مشر بروقت صحیح کو صحیح اور غلط کو غلط کہتا ہے ۔
بس ان تمام صورتوں میں مشر کا ایک ہی قصور ہے کہ انکو بہت دور دکھتا ہے اور وہی کہتا ہے جبکہ لوگ ان سے سکرپٹ پڑھوانے کو خواہش رکھتے ہیں ۔
@zaighamkhan افغان سور انقلاب کے بعد ڈالری حوس کے لیے مجاہدین کو سپورٹ ۔
کابل کو کھنڈر بننے کے بعد مجاہدین سے الجھاؤ اور ط۔البان کی مدد۔
٩/١١کے بعد ڈالرو کے عوض افغان سفیر سمیت ٥٠٠ ڈالر کے عوض اپنے بچے بیچنا ۔
نیٹو سے ڈالر پکڑ کے ط-لبان کو مدد کرنا ۔
مشر ان تمام کو غلط سمجھتا تھا اور ہیں ۔
@AbsarAlamHaider کہیں پہ پڑھا تا کہ انگریز برصغیر میں تعینات آفیسرز کو اپنے ملک میں پوسٹنگ نہیں دیتے تھے ، کیونکہ وہ ایک کالونی سے ہوکر آتے تھے اور وہی رویہ اپنوں کیساتھ اپناتے تھے ۔
اور یہاں بھی ایک اقا بلوچستان کالونی سے اسلام آباد ہوکر گیا ہے ۔ اور انکے بچوں نے گل کھلائے ہیں ۔
@atifthepoet افغان مسلہ آجتک پاکستان کے غیر افغان کو سمجھ اسلیے نہیں آیا کہ وہ غلط لینس سے دیکتھے ہیں ۔
اور آپ جیسے پڑھے لکھے لوگ پاکستان کو افغانستان سے موازنہ کرنے لگ جاتے ہیں ۔
آپ کی اگر جمہوریت اور انکے علمبرداروں کو سپورٹ کرنے کی نیت نہیں تو کم ازکم یار لوگوں کے پیڈ ٹرول کیطرح نہ بنے۔
@atifthepoet افغان مسلے کو سمجھنے کیلئے افغان بنکے سوچو گے تو سمجھ آےگا کہ کیا صحیح اور کیا غلط ۔
البتہ اپکی تکلیف کہ اچکزئی پاکستان میں جمہوریت کے سرخیل کیسے ہو سکتے ہیں ۔جناب!
اچکزئی صاحب 1947 سے لیکے آج تک اپ کو جمہوریت کے ساییڈ پہ ملےگا۔ ایوبی ، ضیاء ، او مشرف کے مارشل لاء سے لیکے آجتک۔
شہر ناپرسان (کوئٹہ) اور پشتون بلوچ صوبے کے باسیوں کو شدید ذہنی ازیت، معاشی ، معاشرتی زندگی میں شدید تنگی، بنیادی ضروریات زندگی جیسے پانی ، بجلی، گیس، انٹرنیٹ اور سیکورٹی کی عدم دستیابی اور روزآنہ کی بنیاد پر شاہراہوں کی بندش کے کوفت اور مسلسل آپریشنوں کے دوران 14 اگست مبارک ۔
میڈیا میں گردش کرتا یہ نوٹیفکیشن بتاتا ہے کہ اس غریب صوبہ میں (جو ملک کے حکمرانوں کو امیر ترین بنانے میں سب سے زیادہ غنی ہیں), میں لوگوں کو کتنی آزادیاں اور سہولیات میسر ہیں ۔
@MalikAchkJourno@Matiullahjan919@Ahmad_Noorani
@KhSaad_Rafique خواجہ صاحب آجکل اپ فارغ ہے۔ بلوچستان او اور اگر گھومنے پھرنے سے ڈر لگتا ہے'تو کوہٹہ شہر کے 3,4 رکشہ اور ریڑھی والو سے پوچھیں وہ اپکو بغیر فیس کے اس پشتون بلوچ صوبے کے وسائل اور مساھل تفصیل سے بتا دینگے۔۔ اور ہاں اگر پھر بھی سمجھ نہ آئے تو چاے خانے پہ بیٹھ جاؤ ۔ گارنٹی ۔۔
@TalatHussain12 When you sold out all the rights of the deprived province including the votes to the curreptz and puppets then obviously the same results will be observed