وقار صاحب، آپ غلط کہہ رہے ہیں! یہ قانون نافذ کرنے والے ادارے نہیں ہو سکتے! ��ہ تو کسی مجرم مافیا کے سپاہی ہی ہونگے؟ بھلا قانون کے محافظ کیسے اتنی دیدہ دلیری سے قانون کی دھجیاں اڑا سکتے ہیں؟
کتنی فکر ہے انہیں افغانستان کی۔
ایک سرکاری ملازم کیسے برادر اسلامی ملک کے بارے میں ایسا بیان دے سکتا ہے؟ طالبان سرکار جتنی بھی بری ہو بیان دینے کا حق عوامی منتخب نمائندوں اور فارن آفس کا ہے۔ جنرل صاحب کو سکیورٹی معاملات تک ہی محدود رہنا چاہیے۔ افغانستان ایران یا سعودی عرب میں کیا ہو رہا ہے وہ سیاستدانوں کا کام ہے۔
کہتے ہیں، منہ کو خون لگ جائے تو پھر شکار کی عادت نہیں جاتی۔ اپنے ہی عوام کو 'ہارڈ اسٹیٹ' کے نام پر گولیاں مارنا، انہیں انتشاری اور دہشت گرد ثابت کرنا، کمزور بیانیے گھڑ کر اپنا دفاع کرنا، اشرافیہ کو س��تھ ملا کر ہر ظلم کو معمول بنانا، انتخابات کے نام پر دھونس جمانا، جبر کے ذریعے عوام پر حکومتیں مسلط کرنا، اور پھر اس سب پر اپنے مہروں سے جشن منوانا... صاحب، منہ کو خون کی عادت لگ چکی ہے۔ بہتر ہے شیشہ تبدیل کرنے کے بجائے چہرے پر غور کریں۔ غلطی پر صرف شیطان اڑتا ہے؛ خود کو چند ساعتوں کے لیے ہی سہی، انسان سمجھ کر دیکھیں۔ مریم نواز خان
@maryamnawazkhan
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan
ڈی سی لاہور کیپٹن ریٹائرڈ علی اعجاز جلسے کی اجازت کے سلسلے میں سب سے بڑی عوامی جماعت کے نمائندوں سے مل رہے ہیں۔ صرف ڈی سی کی باڈی لینگویج اور کرسی پر جھولے بہت کچھ بتا رہے ہیں۔
تنخواہ دار سرکاری ملازمین کا رویہ کیا ایسا ہونا چاہیے؟
مجھے بلا انٹر ویو پر میں تیرا کیڑا ٹھنڈا کوں تیرے پیٹ کے مرورڑ میں ٹھیک کروں گا تیری کتنی اوقات ہے مجھے سب پتا ہے وہ یاد ہے مریم والا انٹرویو جس میں کہتی تھی اسکو کاٹ دو بعد میں تو بھڑکیں مار رہا تھا کسی کا باپ بھی نہیں کٹوا سکتا پھر تو نے کاٹا بھی تھا
کچھ تو پشتون کلچر کی لاج رکھ لیں آپکی والدہ کی عمر کی خواتین ہیں۔ نام لیتے ہوئے کچھ ادب اور تہزیب رکھ لیں۔ انکے بھائی کی وجہ سے آپکو پہچان ملی۔ اتنی احسان فراموشی۔ اتنی روایات کی پستی۔ خدا کی پناہ۔
پانچ اگست کی موبلائزیشن تحریک: ہماری خواتین گلی گلی اور کوچے کوچے جا کر عمران خان کی رہائی کا پیغام بھرپور طریقے سے پہنچا رہی ہیں۔ عمران خان کی خاطر اپنے مستقبل کی خاطر پورا پاکستان ایک بار پھر سے متحد ہے۔
#خان_قید_نہیں_یرغمال_ہے
ابے لونڈے لپاڑے اگر انٹرویو کا اتنا ہی شوق ہے تو بلا اپنے باپ کو، اگر ایسی ہی تیری حب الوط��ی ٹھاٹھیں مار رہی ہے تو بلا اپنے ابا کو اور سوال کر کہ تین سال میں ملک کا ستیاناس کیوں مارا؟
شریفوں کی بیٹی کے سامنے بکری بنا اسٹیبلشی لونڈا اکرام اللہ خان نیازی کی بیٹی کو چیلنج کر رہا ہے ! مطلب کیا پوچھو گے اُس سے 17 سیٹوں کے ساتھ دو تہائی اکثریت کیسے لی ؟ اپنے بیٹے کو دس سال کی سزا کیوں دی ؟ ملک پر 90 ہزار کا قرضہ کیوں چڑھایا ؟ دُر او تیرے تے منصوریا
میں نے منصور علی خان کو گالی نہیں دی تھی بلکہ یہ کہا تھا کہ اس نے جب بھی موقع ملا عمران خان کے خلاف ہمیشہ زہر ہی اگلا ہے لیکن جواب میں مجھے اس نے گالی دی ہے @_Mansoor_Ali آپکو شرم آنی چاہیے اور اپنی زبان درازی پر معافی مانگنی چاہیے
ISPR کو اس بیان کا نوٹس لینا چاہیے۔ مداخلت کی بیماری نیچے تک منتقل ہو رہی ہے۔
بھائی نے شائد کبھی بھارتی یا عالمی میڈیا کا تجربہ نہیں کیا اور سنی سنائی پر بھاشن جھاڑ دیا۔
سرکاری ملازم کو صرف حکم پر عملدرآمد کرنا چاہیے ملک کے مالکوں کونصیحت کرنا اور خود کو حکومت سمجھنا نامناسب ہے۔
Shameful and deeply disappointing. I had hoped that after Humaira Qamar stepped down, the partisan mindset within APPNA would begin to fade. I also believe Dr. Babar Rao is a better person.
Defacing Imran Khan’s 1992 World Cup photograph at a national forum is a disgraceful act. Every other photograph has been left untouched, yet only Imran Khan’s image was singled out. This is not just disrespect toward one individual—it is an insult to Pakistan and its national identity.
Will the doctors of APPNA really accept such pettiness? This is shameful. APPNA’s members must speak out against this disgraceful act. It is an insult to your collective conscience, your knowledge, your intellect, your integrity, and the dignity and values of the nation.
The 1992 World Cup is not a political symbol. It is a proud chapter in Pakistan’s history. Treating a national hero in this manner is something only small-minded people would do.