جن غلط پالیسیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے، ملک و قوم کی جس تباہی کے خدشے کا اظہار کیا تھا وہ تمام خدشات ان چار سالوں میں سو فیصد درست ثابت ہوچکے ہیں، ۲۰۲۳ میں جنوبی اضلاع کے حوالے سے جو حقائق بیان کیے اور کتاب کی صورت مرتب کیے آج آپ گلی محلوں بلکہ سرکاری دفاتر میں لوگوں کی زبانی سن رہے ہیں۔ ابھی تو مالاکنڈ ریجن کے چند واقعات میں آپ کے کردار پر پولیس جوان بولے نہیں، جس دن وہ بولے آپ کے مونہوں پر کیا رہ جائیگا؟
مسئلہ یہ ہے کہ یہاں وارن کرنے والا، جنازے اٹھانے سے پہلے آواز اٹھانے والا، آگ بجھانے والا؛ غدار، دہشت گرد اور باغی بنا دیا جاتا ہے۔ بریکنگ نیوز کے چکر میں قوم بس دن کے ایونٹس پر ریکشن تک محدود ہوگئ ہے۔ آج ہر کسی کی ٹائم لائن پر بنوں لکی مروت کی ویڈیوز تو ہیں لیکن آج بھی دہشت گردوں کو لانے سے لے کر، معصوم لوگوں کی شہادتوں، امن کمیٹیز کے قیام اور لشکر کے نئے بیانیے کو سمجھنے کی کوشش نا کر کے سب اس درندگی کو مزید ایندھن مہیا کر رہے ہیں۔
بلوچستان کے بعد پختونخواہ میں جرنیلوں کی ہوس کی وجہ سے نفرت اس مقام ��ک آگئی ہے کہ نا ہی کسی پولیس کے تبادلے سے کام ہوگا نا ہی ایک ہفتے میں کئی بار ڈی آئی جیز، ڈی پی اوز اور دیگر کے تبادلوں سے پولیس میں آپ کی نیک نامی ہوگی۔
۲۰۲۳-۲۴ میں عوام کے بعد پولیس میں میڈ اپ دہشت گردی کے خلاف بڑھتی تشویش کے متعلق آپ کو وارن کیا، آج وہ آپ کے سامنے کھڑے ہیں۔
ریاستی چھتری تلے امن کمیٹیز بنانے کے وقت خبردار کیا، آج وہی امن کمیٹیز بھی آپ کی حقیقت جان کر آپ سے نبردآزما ہیں۔
آج یہ بھی بتا دوں جو یہ آخری چیز رہتی ہے یہ جو امن لشکر بنانے کی آپ کی کوششیں ہیں جسے اگر آپ زبردستی بنانے میں کامیاب ہوگئے تو ہر شہری کے ہاتھ میں بندوق ہوگی تو جب کل آپ کی پالیسی بدل ج��ئے گی تو ان بندوقوں کا رُخ کس جانب ہوگا کچھ سوچاہے؟
اللہ پاکستان اور پاکستانی قوم کو آپ کے مزید شر سے بچائے۔
سرحد یونیورسٹی کے اسلام آباد/روات کیمپس میں طلبہ کے احتجاج کے دوران تلخ کلامی کے بعد مبینہ ہوائی فائرنگ ہوئی، جس کے بعد پولیس اور متعلقہ ادارے موقع پر پہنچے۔ فائرنگ کرنے والے شخص کی سرکاری حیثیت کے بارے میں ابھی حتمی تصدیق سامنے نہیں آئی، اس لیے بیان میں اسے الزام کے طور پر نہیں لکھ رہا۔
سرحد یونیورسٹی میں فائرنگ کا واقعہ انتہائی تشویشناک، شفاف تحقیقات کی جائیں — ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان
ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان سرحد یونیورسٹی اسلام آباد کیمپس میں طلبہ کے احتجاج کے دوران پیش آنے والے مبینہ فائرنگ کے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتی ہے۔
تعلیمی ادارے علم، مکالمے اور اختلافِ رائے کے پُرامن اظہار کی جگہ ہوتے ہیں۔ طلبہ کے کسی بھی احتجاج، شکایت یا اختلاف کا جواب طاقت، تشدد یا اسلحے سے دینا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
کونسل مطالبہ کرتی ہے کہ اسلام آباد پولیس اور متعلقہ حکام واقعے کی فوری، شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کریں، سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد محفوظ کیے جائیں اور یہ واضح کیا جائے کہ فائرنگ کس شخص نے، کس حیثیت میں اور کن حالات میں کی۔ اگر کسی اہلکار یا سرکاری ملازم کے ملوث ہونے کی تصدیق ہوتی ہے تو قانون کے مطابق بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔
اسی طرح طلبہ سے اپیل ہے کہ وہ اپنا احتجاج پُرامن رکھیں اور کسی ایسے اقدام سے گری�� کریں جس سے مزید تصادم یا جانی نقصان کا خدشہ پیدا ہو۔
تعلیمی اداروں میں بندوق نہیں، مکالمہ ہونا چاہیے۔
طلبہ کی جان، عزت اور تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔
Human Rights Council of Pakistan (HRCPakistan)
#SarhadUniversity #Islamabad #StudentsSafety #CampusSafety #StudentsRights #HumanRights #HRCPakistan
Prime Minister @andyburnham and Foreign Secretary @Ed_Miliband : how much longer will Britain remain silent?
For three years the father of my two sons, and Pakistan’s former Prime Minister, Imran Khan, has been brutally penalised by his political opponents, in a personal vendetta by Army Chief, Asim Munir, which according to the UN, amounts to torture and which is now taking a potentially fatal toll on his physical and mental health.
He has endured 3 years of solitary confinement. For nearly ten months now his family has been denied contact with him. He has been deprived of the most basic human contact, denied access to books, lawyers and doctors.
The international human-rights standards are unequivocal. Under the UN’s Nelson Mandela Rules, solitary confinement lasting more than 15 consecutive days is prohibited and amounts to torture.
He has endured this treatment not for 15 days, but for three years.
Pakistan’s own Supreme Court has now intervened: ordering comprehensive medical treatment, access to his personal doctor, regular family visits and twice-weekly calls with his sons.
Yet those orders are being defied.
This is no longer simply a Pakistani political matter. It is a human-rights emergency.
He has deep and lifelong ties to Britain. He studied at Oxford University, captained Oxford University cricket and spent years playing county cricket in England. His relationship with this country stretches back more than half a century. His charitable activities were internationally recognised, and include building the only free cancer hospital in Pakistan as well as a university.
His sons, my two boys, Sulaiman and Kasim, are British citizens. They have been forced to watch their father’s health decline from thousands of miles away, prevented from visiting him, denied visas, publicly threatened by government officials with arrest themselves, and even denied court-mandated regular phone calls.
I have repeatedly appealed to the UK government to intervene. Purported attempts at back channelling have evidently failed. The previous Foreign Secretary @DavidLammy informed me in writing that Britain would not intervene if my sons, British citizens, are arrested when they travel to Pakistan to visit their father.
@FCDOGovUK: Britain must now speak out publicly and unequivocally. Demand that Pakistan comply with its own Supreme Court; restore Imran Khan’s medical access, his right to see his family, end his prolonged isolation and uphold his fundamental human rights.
Pakistan is a Commonwealth country. Britain has a long and proud tradition of standing against arbitrary detention, inhumane treatment and the denial of fundamental rights. Those principles mean very little if we invoke them only selectively and neglect them when inconvenient.
This an appeal to the new Burnham government to please now do the right thing.
BREAKING NEWS: 22 Former international cricket captains have once again written a letter to Pakistan PM over the treatment for Imran Khan. They first wrote a similar letter in February and this one comes after Pak allegedly didn’t completely comply with SC directions.
They have laid down 3 demands:
1. That the medical board directed by the Supreme Court — including Mr Khan's own doctors — be permitted to complete a full and independent assessment of his health, particularly the reported loss of vision in his right eye.
2. That the weekly family visits reinstated by the Court be honoured without interruption or administrative delay.
3. That whatever the outcome of that medical assessment, the treatment recommended by it be provided without delay.
Three Indians - Kapil Dev, Sunil Gavaskar and Dilip Vengsarkar are among the 22 former captains.
#ImranKhan
میں نے مارچ 2023 کے دوسرے ہفتے زمان پارک میں زبردست آپریشن کے دوران عمران خان صاحب سے پوچھا تھا کہ آپ نے لوگوں کو حقیقی آزادی کا ن��رہ تو دے دیا ہے اسکا بوجھ اٹھا پائیں گے تو مجھے انکے الفاظ آج بھی یاد ہیں " ہمارے پاس اب اور کوئی راستہ نہیں۔ پاکستان اسکے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا"۔
پھر عمران خان نے وہ بوجھ جوانوں سے بڑھ کر اٹھایا۔
آج جوانوں کی باری ہے۔
World Record Made by Fighting Over 300 Legal Battles based on fabricated & politically motivated charges, in the most challenging circumstances & inhumane living conditions. Shockingly, the battle still continues.
What is happening to @imrankhanPTI is an abuse on every conceivable level.
Passively monitoring the situation is plainly not enough. It is time for active diplomacy.
-An urgent letter to Foreign Secretary Ed Miliband
جبری گمشدگیاں سب سے بڑا تشدد ہے جسمانی تشدد سے آپ چند دن متاثر ہونے کے بعد نارمل زندگی گذار سکتے ہیں لیکن جبری گمشدہ فرد سے جُڑا اس کا پورا خاندان ذہنی حوالے سے مفلوج ہو جاتا ھے ان کا ہر لمحہ اذیت میں گزرتا ھے
#EndEnforcedDisappearances#BeVoiceOfTheOppressed
فروری ۲۰۲۶ سے ہمیں خان صاحب کے علاج کے حوالے سے ایسی ہی صورتحال اور عاصم منیر کے ناجائز تسلط کے ماتحت حکومتی اہلکاروں کی جانب سے ایسے ہی دھوکے کا سامنا ہے۔ کبھی الزام سوشل میڈیا پر دھر دیاجاتا ہے تو کبھی خاندان پر۔ اس مرتبہ جس ڈھٹائ سے سپریم کورٹ کی واضح ہدایات کو روندا گیا ہے بہت واضح ہے کہ بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ (کہ جن کو عمران خان نہ کل منظور تھا نہ آج ان کے پلانز میں فٹ بیٹھتا ہے) کے آلہ کار عاصم منیر اور حواریوں کے عزائم صرف عمران خان پر دباؤ ڈال کر اپنی انا کی تسکین اور اپنے ناجائز تسلط کی طوالت کے نہیں بلکہ ان کو خدانخواستہ راستے سے ہٹانے کے ہیں۔
عرصہ سے خان صاحب کی اپنی ہدایات ہیں، جو بارہا دہرائی جاچکی ہیں کہ اراکین اور پارٹی قیادت کی جانب سے سپریم کورٹ کے باہر دھرنا دیا جائے تب تک جب تک ان کے کیسز کی سنوائی نہیں ہوجاتی اور انہیں ان کے معالجین تک رسائ اور علاج کی مناسب سہولیا�� نہیں مہیا کی جاتیں۔ ہمیں فوری طور پر سپریم کورٹ کے باہر دھرنا دے کر اس بات پر زور دینا چاہئے کہ کورٹ اپنے احکامات منوائے اور ساتھ ساتھ فارم ۴۷ کی اس ناجائز حکومت کے خلاف توہین عدالت کی کاروائ عمل میں لائی جائے۔
عسکری ترامیم کے زریعے عدلیہ کا چہرہ مسخ اور آئین پامال کر دیا گیا لیکن اس کے باجود ہم خان صاحب کے حکم پر انہی عدالتوں سے انصاف مانگ رہے ہیں پھر بھی اگر اتنا عرصہ گزرنے کے بعد کیسسز کی سنوائی تک نہ ہوسکی اور اب باوجودعدالتی آرڈر کے علاج جیسی بنیادی سہولت بھی نہیں دی جاسکتی اور عدالت اس معاملے میں مکمل طور پر اپنی بے بسی ظاہر کرتی ہے تو یہ آخری نقاب بھی اٹھ جائے تاکہ پھر فیصلےعوامی عدالت میں ہوں اور انہی سڑکوں پر ہوں۔
فوجیوں کی مجبوری ہے کہ انہیں اپنے چیف کا حکم بجالانا ہے، چاہے اس کیلئے غیرآئینی، غیرقانون اور غیراخلاقی اقدامات ہی کیوں نہ کرنے پڑیں۔کیا ججوں کی بھی وہی مجبوریاں ہیں جو فوجیوں کی ہیں؟ جتنا بھی ظلم ہو رہا ہے اس میں عدلیہ برابر کی شریک جرم ہے ذمہ دار ہے
I welcome the news from the Supreme Court of Pakistan that former PM @ImranKhanPTI be moved to a hospital for necessary medical treatment and allow his family to visit him. I urge the government of Pakistan to uphold this ruling.
"کیا ہو رہا ہے؟ پرسوں ہم گئے تھے افغانستان کے سفارت خانے۔ وہاں جا کر بہت دکھ ہوا کیونکہ چین اور روس کے سفیر وہاں موجود تھے، برطانوی اور دیگر ممالک کے سفارت کار بیٹھے ہوئے تھے، اور ہندوستان کا ہائی کمشنر بھی وہاں موجود تھا۔ جبکہ آپ نے اپنے دفتر خارجہ کا محض ایک ڈیسک انچارج بھیجا تھا۔ آپ یہ کیا مذاق کر رہے ہیں؟ یہ پالیسی کون بناتا ہے؟
ہم اس ملک کے شہری ہیں۔ آپ ہمیں افغانستان، ایران یا کسی بھی دوسرے ملک کے حوالے سے دلائل سے قائل کریں کہ وہ پاکستان کے خلاف کام کر رہے ہیں، تو ہم آپ کی مکمل حمایت کریں گے۔ لیکن اس طرح آپ خود کو چھوٹا کر رہے ہیں۔ آپ کا صرف ڈیسک سیکرٹری انچارج وہاں موجود تھا جبکہ دیگر ممالک کے اعلیٰ سفیر وہاں آئے ہوئے تھے۔ یہ دیکھ کر ہمیں شدید دکھ ہوا۔
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی
یعنی کے کمال ہی نہیں ہو گیا۔
سپریم کورٹ آزادی کے لئے کھڑی ہو گئی
اے آر واۓ ��ے نواز شریف کے خلاف رپورٹ چلا دی
عائشہ گلالئی نے پی پی اور ن کو بےشرم کہہ دیا۔
حیراں ہوں کہ دو آنکھوں سے کیا کیا دیکھوں!
سابق انگلش آ�� راونڈر اور لیجنڈری کرکٹر ای این بوتھم کا عمران خان کے لئیے نیک خواہشات کا اظہار
بیرون ملک سے لوگوں نے بیماری کے لئیے نیک خواہشات بھیجیں اور اپنے ملک کے کم ظرف ریویو پٹیشن ڈال رہے کہ علاج نہیں ہونا چاہیے