اب بس ۔۔
بیانات پر بیانات آ رہے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے اصل مسائل پسِ پشت چلے گئے ہوں۔ عوام دہشت گردی، مہنگائی، بے روزگاری اور امن و امان کے حل کی منتظر ہے، مگر قوم کو بیانات کی جنگ میں الجھایا جا رہا ہے۔ یہ لفظوں کی سیاست بند ہونی چاہیے.#پروپیگنڈہ_چھوڑو_امن_دو#شہداء_کو_ڈھال_نہ
"ہر جذباتی تقریر کے بعد ایک سوال ضرور پوچھیں:
اس شخص نے اپنی قوم، علاقے اور نوجوانوں کے لیے عملی طور پر کیا کیا ہے؟ یہی سوال باشعور قوموں کو مضبوط بناتا ہے #balochistan#quetta#pakistán
جب مذہب رہنمائی کے بجائے کنٹرول کا ذریعہ بن جائے، کلچر ترقی کے بجائے بوجھ بن جائے، اور سیاست خدمت کے بجائے مفاد بن جائے—تو انسان الجھن کا شکار ہو جاتا ہے۔
#politicstoday#cultur#societyofunitednoticers
“آخر یہ حکومت عوام کے ساتھ کیا کرنا چاہتی ہے؟ وہ عوام سے کیا چاہتا ہے ؟ یہاں حالات ایسے ہو گئے ہیں کہ جینا مشکل لگنے لگا ہے اور انسان سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ یہاں رہے، کہیں اور ہجرت کرے یا کیا کرے۔
#Petrol#PetrolDieselPrice#Iran#IranWar
امریکہ کی جانب سے ابراہم لنکن کو پیچھے ہٹانے سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ شاید امریکہ اور اس کے اتحادی اپنی حکمتِ عملی پر نظرِ ثانی کر رہے ہیں، کیونکہ ابتدا میں یہ خیال تھا کہ یہ جنگ چند دنوں میں ختم ہو جائے گی،
#Iran#IranWar#IranIsraelWar
مجھے فاتح کی طرح جینا پسند ہے۔ فاتح اعتماد کی روشنی سے اپنے راستے کو روشن کرتا ہے، جو ماضی کی دھند میں کم جھانکتا ہے اور مستقبل کی تابانیوں پر نظریں جمائے رکھتا ہے۔
یہ صرف بارڈر نہیں بند ہوا… یہ ہزاروں گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہو گئے ہیں۔
چمن اور طورخم کے اردگرد رہنے والے لوگوں کا روزگار،ان کی زندگی، ان کے بچوں کا مستقبل — سب اسی راستے سے جڑا تھا۔نہ یہاں فیکٹریاں لگیں، نہ روزگار کے مواقع دیے گئے، اور اوپر سے واحد ذریعۂ معاش بھی بند۔
#Borderline
لوگ گھر چھوڑنے پر مجبور ہوں اور انہیں بتایا جائے کہ یہ تو پہلے بھی ہوتا تھا — یہ دلیل نہیں، بے حسی ہے۔
ریاست کا کام تاریخ سنانا نہیں، حال سنبھالنا ہوتا ہے۔
عوام کو وضاحتیں نہیں، تحفظ چاہیے۔
الفاظ سے نہیں، اقدامات سے اعتماد بنتا ہے۔
اور اعتماد ہی ریاست کی اصل طاقت ہوتا ہے۔
#terah
جو لوگ آج افغانستان کے حالات پر بیٹھ کر فتوے اور بیانات دے رہے ہیں، انہیں پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے۔ اگر واقعی آپ کو شریعت، انصاف اور امت کی فکر ہے تو سب سے پہلے اپنے ملک میں ہونے والی ناانصافیوں، ظلم اور فرقہ واریت کے خلاف آواز بلند کریں۔
#GeoNews#Pakistan#علم_النفس
میرے پاس زخم نہیں ہیں، میرے پاس نشان ہیں، یہ نشان خوبصورت یادگاریں ہیں، جو مجھے ہر لمحہ یہ یاد دلاتی ہیں کہ میں زندگی کی کڑی آزمائشوں سے کامیابی کے ساتھ گزر آیا ہوں۔
کہاں ہیں وہ لوگ جو فلسطین کے لیے پاکستان سے امداد بھیجتے تھے؟
کہاں ہیں وہ لوگ جو فلسطین کے لیے ریلیاں نکالتے تھے؟
کیا انہوں نے کبھی اپنے ملک کے اندر ظلم کے خلاف قدم اٹھایا؟
کیا وہ کبھی وادی تیرہ کے لوگوں کے لیے آواز بلند کر سکے؟
کیا مر گئی وہ انسانیت اور کیا مر گئی وہ انصاف؟
ریاست کی ذمہ داری تحفظ ہوتی ہے، بے دخلی نہیں۔ وادی تیرہ کے لوگوں کے ساتھ جو ہو رہا ہے وہ انتظامی
ناکامی نہیں، ایک سنگین ناانصافی ہے۔
گھر خالی کروا دینا آسان ہے، مگر ٹوٹی ہوئی زندگیاں کون جوڑے گا؟ وادی تیرہ کے متاثرین کے ساتھ جو سلوک ہوا ہے، اس پر خاموشی اختیار کرنا بھی جرم ہے۔
لارڈ میکالے نے 1835ء میں ایسا تعلیمی نظام نافذ کیا جس نے ہمیں ہماری 1300 سالہ اسلامی تاریخ سے کاٹ دیا۔ آج بھی ہم اسی فکری غلامی کا نصاب پڑھ رہے ہیں۔
قومیں اپنی تاریخ سے جڑی رہیں تو مضبوط بنتی ہیں،
اور جو اپنی تاریخ بھول جائیں وہ دوسروں کی غلام بن جاتی ہیں۔