رات سوہنی کی حمایت میں کوئی شعر کہا
صبح اٹھے تو ہمارے بھی گھڑے ٹوٹ گئے
خشک ٹہنی بھی لچک کھو کے سلامت نہ رہی
بات پر اپنی جہاں ہم بھی اڑے، ٹوٹ گئے
چشمِ دلدار سے کیا باندھیے پیمان عقیل
ہم سے تو پہلے ہی پیمانے بڑے ٹوٹ گئے
عقیل عباس چغتائی
حسن اور عشق کے افسانے گھڑے, ٹوٹ گئے
کتنے کنگن نہ رہے، کتنے کڑے ٹوٹ گئے
ہم تھے کب کانچ کہ گرنے کا تکلف کرتے
دل نما تھے کسی سینے میں پڑے ٹوٹ گئے
اس تعلق کو ضرورت سے بھرا پر نہ بھرا
اس انگوٹھی میں نگینے بھی جڑے، ٹوٹ گئے
کبھی کبھی انسان آزاد ہو کر بھی خود کو قید محسوس کرتا ہے،
جب اُس کے ساتھ وہ شخص ہو جو اُس کے دل کی بات نہ سمجھے۔
جہاں ہر وضاحت بے اثر ہو جائے،
وہیں خاموشی انسان کی سب سے بڑی سزا بن جاتی ہے۔