ہر کجا ہنگامۂ عالم بود
رحمۃ للعالمینے ہم بود!
’’جہاں کہیں بھی زندگی کے آثار ہوں گے وہاں رحمۃ اللعالمین (ﷺ) کی شانِ رحمت بھی جلوہ گر ہوگی ‘‘-
علامہ اقبال رح
یوں لگتا ہے آیات کی آواز بلی کی نظروں سے نکل کے آ رہی ہو۔
﴿أَوَلَمْ يَرَ الْإِنسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِن نُّطْ��َةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُّبِينٌ﴾
َضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَنَسِيَ خَلْقَهُ ۖ قَالَ مَن يُحْيِي الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ﴾
“کیا انسان نے نہیں دیکھا کہ ہم نے اسے ایک حقیر نطفے سے پیدا کیا؟ پھر اچانک وہ کھلا جھگڑالو بن بیٹھا۔
“ہمارے لیے تو مثالیں بیان کرنے لگا اور اپنی پیدائش کو بھول بیٹھا۔ کہنے لگا: ‘ان بوسیدہ ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا؟’
وہ تیرا شاعر ترا مغنی!
وہ جس کی باتیں عجیب سی تھیں
وہ جس کے انداز خسروانہ تھے
اور ادائیں غریب سی تھیں
وہ جس کے جینے کی خواہشیں بھی
خود اس کے اپنے نصیب سی تھیں
نہ پوچھ اس کا کہ وہ دیوانہ بہت دنوں کا اجڑ چکا ہے!