کَھٹک رہا ہُوں نظر میں بَھرے زمانے کی
سَزا مِلی مُجھے یہ آئینہ دِکھانے کی
حصارِ ذات کوئی راستہ تو دے مُجھ کو
بڑے دِنوں سے تمنّا ہے خُود کو پانے کی
قفس میں یُوں تِری یادوں کا سلسلہ جیسے
فصیل شہر سے مِلتی ہو قید خانے کی
سلیم کوثر
پیڑاں نوں میں سینے لاواں, تے میں ہسدی جاواں
دُھپاں دے نال لڑ لڑ کے میں، لبھیاں اپنیاں چھاواں
دکھ وی اپنے، سکھ وی اپنے، میں تے بس اے جاناں
سب نوں سمجھ کے کِی کرنا وے؟ دل نوں اے سمجھاواں
پَلٹ پَلٹ کے دیکھتے ہیں صفحہء زیست کو ہم
اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ ہمیں مات کہاں ہوئی
دل کی فصلیں ہیں تباہ، مَن کے اَشجار ہیں زَرد
تو پھر آپ ہی بتلائیے ناں کہ برسات کہاں ہوئی؟