Top level stooge praising low level stooge.
The question is not why Nawab Bugti resisted the army the question is what was (and is) the army doing in Dera Bugti and whole Balochistan in the first place?
Criticising the Baloch resistance against use of force and exploitation is like criticising someone for defending their home and their families when attacked by armed intruders.
ہر ک��ئی تم لوگوں جیسا بے غیرت نہیں ہے کہ “جاتے ہی پیری پڑجائے”،
بلوچوں نے ہمیشہ اپنے حق کیلئے مزاحمت کی ہے اور آگے بھی کرتا رہے گا
Shaheed Nawab Akbar Bugti did not die on 26 August 2006 — he became eternal. His legacy lives in every Baloch who refuses to accept injustice. On this 20th anniversary we carry his torch with pride and determination.
Remembering my grandfather, Shaheed Nawab Akbar Bugti, on his martyrdom anniversary. A man of principle whose sacrifice became the eternal symbol of Baloch dignity and freedom. Great souls never die they become ideals. Rest in power.
Host: There is a lot of graffiti and wall chalking about you. One of those, for example, read: “When I die, write ‘Akbar Bugti’ on my gravestone”. I want to ask you: are you really this popular amongst your people that they want to die for you and even after death they want your name written on their graves?
#ShaheedNawabAkbarBugti: When people want to die for someone it is because that person represents something the people find precious, that could be their land, resources, culture. I am their chief or their elected leader and as long as I am conducting myself in their interest, for their betterment they follow me.
P.S. Dada Saeen, you proved with your lifelong struggle and your ultimate sacrifice in pursuit of a better future for his people that he deserved every bit of love and respect his people have for him. Two decades later, the Baloch nation, old and new generation alike, love and honour your legacy and strive to follow your footsteps 🙏
جرنلز جو ڈینگیں مارتے ہیں کہ ہم بلوچوں کو مار کر ختم کرینگے، ان کیلئے کچھ باتیں ڈاڈائے قوم شہید نواب اکبر بگٹی نے کی
ڈاڈا سائیں کی شہادت کو آج بیس برس ہوگئے ہیں تم نے ہزاروں بلوچ شہید کردئیے ہزاروں لاپتہ اور بے ��ھر کردیئے مگر بلوچ کی مزاحمت پہلے سے زیادہ مظبوط ہوگئی ہے۔
بلوچ، کشمیری اور پشتون جب اپنے ح��وق کا مطالبہ کرتے ہیں تو انہیں یہ کہہ کر مارا جاتا ہے کہ تم “بھارت کے ایجنٹ” ہو۔
لیکن جنتر منتر کے احتجاج کو پاکستانی میڈیا نے جتنی کوریج دی، اور اس پر بیٹھے پنجابی صحافیوں اور دانشوروں نے جتنے تبصرے کیے، ان کا ایک فیصد بھی بلوچستان سے کشمیر تک ہونے والے قتل و غارت اور انسانی حقوق کی پامالی پر نہیں کیا۔
اب فیصلہ آپ خود کریں، بھارت کا ایجنٹ کون ہے؟ وہ جس پر یہ الزام لگایا جاتا ہے، یا وہ جو بھارت کے ہر واقعے کو نمایاں کرتا ہے مگر اپنے ہی ملک میں ہونے والے واقعات پر خاموش رہتا ہے؟
Four people were killed and eight others injured after a convoy carrying Mari Energies employees and engineers came under attack in Sui, Dera Bugti, on Saturday.
The Baloch Republican Army claimed responsibility for the attack. Authorities have yet to comment on the incident.
Another episode of state brutality in Balochistan:
Riaz, son of Sajan Bugti, was abducted and severely tortured by the CTD in Dera Bugti.
According to his family, an SHO of the CTD, Umar Khosa, demanded a ransom from his father. After a payment of 5 million rupees, Riaz was released in critical condition. He later succumbed to his injuries today at Agha Khan Hospital in Karachi.
Sarfraz, the “CM,” personally knows the victim’s family and is aware of whether this young man was involved in any crime or not.
Will there be justice for this young soul? Will those responsible ever be held accountable?
A life has been lost, and his family deserves answers, accountability, and justice.
بلوچستان کے حوالے سے پاکستان ریاست کی پالیسی اب صرف سوشل میڈیا تک محدود رہ گئی ہے جہاں ایک جھوٹا، گمراہ کن اور کنٹرولڈ بیانیہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے فیک اکاؤنٹس کے ذریعے جو اسلام آباد، راولپنڈی اور لاہور کے ڈرائنگ رومز میں بیٹھ کر چلائے جا رہے ہیں جبکہ اصل میں صوبے میں ریاست کی رٹ بالکل ختم ہو چکی ہے اور سیکیورٹی صرف نام کی رہ گئی ہے۔ پچھلے دنوں گوادر کے جیونی علاقے میں شام کے ساڑھے چھ بجے بلوچ مسلح افراد کی طرف سے ایک مہلک حملہ کیا گیا جس میں تیس سے زائد سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہوۓ لیکن اس سیکیورٹی فیلیر کے صرف دو گھنٹے بعد بلوچستان کے وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی ٹویٹر پر اسپیس میں بیٹھے ہوئے اس حملے سے بے پرواہ،جائے کچھ ہوا ہی نا ہو، فیک اکاؤنٹس کو گائیڈ کر رہے تھے کہ بلوچستان میں ریاست کی رٹ برقرار ہے جبکہ انہوں نے اس بارے میں کوئی پریس ریلیز تک جاری نہیں کی یہ سرفراز بگٹی کی منافقت اور زمی��ی حقائق سے مکمل طور پر منقطع ہونے کا واضح ثبوت ہے کہ صوبے کے وزیر اعلیٰ ہونے کے باوجود ان کے لیے تیس سے زائد سیکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کا کوئی مطلب نہیں سوشل میڈیا پر وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ بغیر پروٹوکول اور بغیر بلٹ پروف گاڑی کے اکیلے بلوچستان کی شاہراہوں پر سفر کرتے ہیں لیکن مقامی رپورٹس کے مطابق ان کی اس وزٹ پر پینتیس سے چالیس گاڑیوں کا قافلہ ان کے ساتھ سفر کررہا تھا اور مزید یہ کہ وہ زیادہ تر ہوائی سفر کو ترجیح دیتے ہیں۔ سرفراز بگٹی اپنا بیانیہ بنانے کے لیے اربوں روپے خرچ کر رہے ہیں جبکہ بلوچستان میں ریاست کی رٹ صرف نام کی رہ گئی ہے پروپیگنڈا مشین چل رہی ہے۔ پچھلے چھے مہینوں میں صرف بلوچ لبریشن آرمی نے 369 حملے سر انجام دینے کی زمہ داری قبول کی ہے، جس میں 884 سیکیورٹی اہلکار ہلاک کرنے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ سنیپ چیکنگ سمیت 300 سے زائد گاڑیاں بھی نذر آتش کی گئیں۔ یاد رہے یہ رپورٹس صرف بلوچ لبریشن آرمی کی ہیں جبکہ دیگر سرگرم مسلح گروپس الگ ہیں، جن کی طرف سے بڑی تعداد میں حملے کیے گئ��۔ ریاست بجاۓ ان مسلح افراد سے مقابلہ کرنے کے، اپنی ساری طاقت اور انرجی پرامن سیاسی کارکنوں کو قید و بند، لاپتہ افراد کو جعلی مقابلوں میں قتل کرنا، پنجاب سے ٹک ٹاکرز کو بلوچستان میں سیر کرانے اور سوشل میڈیا پر خاص بیانیہ تشکیل کرنے پر لگا رہی ہے۔ بلوچستان میں روز اول سے سرفراز بگٹی اور انوار کاکڑ سمیت ہر حکومتی آلہ کار کی کوشش یہی رہی ہے کہ بلوچستان میں اس جنگی صورتحال سے جتنا فائدہ حاصل کرنا ہے کر لیا جاۓ، ان تمام ریاستی ٹاؤٹس کا خاندان اربوں روپے کا مالک بن کر بیرون ملک مقیم ہیں، اور یہ خود بلوچستان میں ہائی پروفائل سیکیورٹی حصار میں حب الوطنی اور پاکستان کے قربان ہونے کا چورن بیچ رہے ہیں۔
بلوچ ریپبلکن پارٹی کے مرکزی ترجمان شیر محمد بگٹی نے میڈیا کو جاری کیے گئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ضلع ڈیرہ بگٹی کی تحصیل سوئی کے نواحی علاقوں، جن میں لاغ دو، لنجہ، گنجہ، نیلغ، شیشی، موندانی مٹ اور دیگر دیہات شامل ہ��ں، میں پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کے اہلکاروں کی جانب سے مقامی آبادی کی اراضی پر بڑے پیمانے پر قبضوں کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مقامی باشندوں کو اپنی آبائی زمینیں خالی کرنے پر مجبور کرنے کے لیے دھمکیاں دی جا رہی ہیں، جس سے علاقے میں شدید بے چینی اور اضطراب پایا جاتا ہے۔
ترجمان نے مزید کہا ہے کہ مقامی آبادی کو ان کی زمینوں سے بے دخل کرنے کے لیے ماری انرجیز لمیٹڈ کی جانب سے متعلقہ اداروں کے اہلکاروں کو بھاری رقوم فراہم کی گئی ہے تاکہ مقامی لوگوں کو ان کی آبائی اراضی سے ہٹا کر کمپنی کے سروے اور تیل و گیس کی تلاش کے منصوبوں کی راہ ہموار کی جا سکے۔ یہ اقدامات بلوچ سرزمین کے قدرتی وس��ئل کے استحصال اور کئی دہائیوں سے جاری معاشی لوٹ مار کے تسلسل کا حصہ ہیں۔
شیر محمد بگٹی نے کہا کہ ضلع ڈیرہ بگٹی میں 1952ء سے پی پی ایل اور بعد ازاں او جی ڈی سی ایل قدرتی وسائل کو لوٹ رہی ہیں، مگر اس تمام عرصے کے باوجود مقامی آبادی آج بھی پینے کے صاف پانی، معیاری صحت، بجلی، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں بلوچ عوام مزید کسی ایسے منصوبے کو قبول نہیں کریں گے جس کا مقصد وسائل کا استحصال ہو جبکہ مقامی آبادی کو اس کے بنیادی حقوق اور ترقی سے مسلسل محروم رکھا جائے۔
بلوچ ریپبلکن پارٹی ہر اس منصوبے کی بھرپور سیاسی مزاحمت کرے گی جسے وہ بلوچ وسائل اور سرزمین کے استحصال کا ذریعہ سمجھتی ہے۔
نامعلوم مسلح افراد نے ڈیرہ بگٹی کے سوئی شہر کے قریب جکھرانی کڈھ میں او جی ڈی سی ایل کے ایک کیمپ پر حملہ کیا۔ ایک ملازم اور دو سیکیورٹی گارڈز کے مبینہ طور پر ہلاک ہونے کی اطلاع ہے، اور موقع پر موجود مشینری کو شدید نقصان پہنچا ہے۔اب تک مقامی حکام کی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا
BREAKING: Unknown armed men attacked an OGDCL camp in Jakhani Kadh, near Sui town in Dera Bugti district. An employee & two security guards were reportedly killed, and machinery at the site was severely damaged. There has been no official statement from local authorities so far.
BREAKING: Reports of several explosions and heavy gunfire in Sui, Dera Bugti, Balochistan. The situation remains unclear, and there is no official confirmation on the cause or any casualties at this time. #Balochistan