پاکستان میں عوام کے یہ حالات بن چکے کہ وی وی آئی پی کانوائے نیچے لیٹ کر اپنی جان دینا چاہتے تاکہ ملک پر قابض کرپٹ و بے رحم حکمران ان کی پریشانیاں جان سکیں
ان سے ملیے، یہ تونسہ کی بند ذہنیت رکھنے والے لوگوں کا ٹک ٹاک اسٹار ہے۔ جناب کا کنٹینٹ بس اتنا ہے کہ کوئی لڑکی اگر وہاں سے گزر رہی ہو تو اسے اپنی ویڈیوز میں کیپچر کرنا ہوتا ہے۔ جناب خود کو بلوچ کہتے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ یہ ہماری یوتھ کے لیے آئیڈیل بنا ہوا ہے۔ یوتھ ان جیسے مسخروں کو اسٹار مانتی ہے، اور جناب اپنے اس کنٹینٹ پر ذرا بھی شرمندگی محسوس نہیں کرتے کہ کسی کی ماں، بہن اور بیٹی کو اپنی ویڈیوز میں لا کر سوشل میڈیا پر پیش کر رہے ہیں۔
مجھے فریال گوہر کی باتوں پر یقین ہے۔ جمال شاہ ایک کمینہ انسان ہے۔ ایک طرف آرٹسٹ ہے دوسری طرف متشددانہ اور آمرانہ ذہنیت کا مالک ہے۔ غیر جمہوری طاقتوں کا apologist ہے۔ اس کے کمینے پن کا ثبوت عمران خان کے خلاف بےجا بکواس ہے اور کاکڑ کی عبوری حکومت میں وزارت کی خیرات کی قبولیت ہے۔ جمال شاہ تم پر لعنت!
فریال گوہر نے اچھا کیا تمہیں لات مار کر اپنی زندگی سے نکال دیا۔
لارڈز میں بابر اعظم بمقابلہ ویرات کوہلی — اعداد و شمار خود بولتے ہیں!
لارڈز کو کرکٹ کا کرکٹ کا گھر کہا جاتا ہے، اور یہاں بابر اعظم اور ویرات کوہلی کے ریکارڈ کا موازنہ کریں تو تصویر کافی دلچسپ ہے۔
بابر اعظم
ٹیسٹ: 2 میچز، 3 اننگز، 82 رنز
ون ڈے: 2 میچز، 2 اننگز، 165 رنز
مجموعی: 247 رنز
ویرات کوہلی
ٹیسٹ: 3 میچز، 6 اننگز، 127 رنز
ون ڈے: 3 میچز، 3 اننگز، 77 رنز
مجموعی: 204 رنز
اور یہاں بابر اعظم کے ناقدین کے لیے ایک دلچسپ بات ہے کہ لارڈز جیسے مشکل اور تاریخی میدان پر بھی بابر اعظم نے کم اننگز کھیل کر ویرات کوہلی سے زیادہ مجموعی رنز بنائے ہیں۔
بابر نے ون ڈے میں لارڈز پر 165 رنز بنائے، جبکہ کوہلی کے ون ڈے رنز صرف 77 ہیں۔ یقیناً دونوں بہترین بلے باز ہیں اور موازنہ ہمیشہ بحث کا موضوع رہے گا، لیکن اعداد و شمار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بابر اعظم کو صرف تنقید کی نظر سے دیکھنے والوں کے لیے لارڈز کا یہ ریکارڈ ضرور قابلِ غور ہے۔
#cricket #pakistancricket #babarazam
یہ ولگر ڈانس کرتی اور کمر پر ٹیٹو دکھاتی تقریباً ننگی عورت پاکستانی ماڈل اور اداکارہ ہے جسکی تقریباً ہر ویڈیو اور تصاویر ایسی ہی ہوتی ہیں۔
انکو فحاشی پھیلانے کی پوری اجازت ہے پھر کہتے ہیں معاشرے میں بے راہ روی کیسے پھیلی ایسی عورتیں وجہ ہیں
عاقب جاوید کرکٹ کا وہ دیمک ہے جو جس چیز کو لگ جائے، اندر سے کھوکھلا کر کے چھوڑتا ہے۔ 😂
7 کھلاڑی کھا گیا، ٹیم کی بیٹنگ کا بیڑا غرق کر دیا، پرفارمنس کی ایسی تیسی کر دی… مگر مجال ہے عاقب جاوید کو کچھ ہو! 😅
دیمک بھی سوچ رہی ہوگی: بھائی، اتنی طاقت ہم میں بھی نہیں جتنی عاقب جاوید میں ہے! 🐜🏏
تیزی سے مقبول ہوتے تامل ناڈو کے وزیرِ اعلیٰ وجے تھکا پتی کی زندگی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ کردار کشی کی مہم تو کسی وقت بھی شروع ہو سکتی ہے۔ اپنی پارٹی قریبی صوبوں میں وہ Launch کرنے والے ہیں۔ صرف نریندر مودی ہی نہیں، اسرائیل کی پسندیدہ فسادی جنتا پارٹی کا ایجنڈا بھی خطرے میں ہے۔
ان کا پاکستانی معاشرے میں کون سا مثبت کردار ہے جو ان کو ایوارڈ دیے گئے انہوں نے غریب عوام کے لیے کوئی کام کیا ہے؟
انہوں نے لوگوں کے لیے کوئی مثبت پوزیٹو ایکٹیوٹی کا انعقاد کیا ہے ؟
انہوں نے عورتوں کے حقوق کے لیے کوئی کام کیا ہے انہوں نے غریب بچوں کی پڑھائی کے سلسلے میں کچھ کیا ہے ؟
ناگہانی آفت کے ٹائم پر یا کوئی بھی کریمنل ایکٹیوٹی پر بھی یہ اپنی آواز بلند نہیں کرتی کس بات کا ایوارڈ ؟
ناچ گانے ننگے پن بیہودگی پھیلانے کا ایوارڈ ملا ہو گا پھر
جتنا سخت اور دردناک موت اس نوجوان کو دی گئی سن کر دل دہل جاتا ہے۔ سب سے پہلے تو بدترین تش دد کا نشانہ بنایا گیا، پھر رگوں کے اندر ایسی دوائی لگائی گئی جس سے میر رضا کا جسم تو بالکل ساکت ہوگیا لیکن وہ محسوس سب کچھ کر سکتا تھا۔ اس کے بعد اس بے بس زندہ جسم پر تیزاب ڈالا گیا یعنی کے وہ درد تو محسوس کر سکتا تھا لیکن نا تو بول سکتا تھا اور نا ہی ہاتھ تک ہلا سکتا تھا۔ پھر پسلی ٹوٹی ہوئی تھی اور دل کے اندر تک سوراخ موجود تھے۔
آخر ظالم لوگوں کو اس خدا کا بھی خوف تک نا آیا جو اس بے دردی سے ق ت ل کیا۔ پھر اگلا ظلم تو ان لوگوں نے کیا جنھوں نے میر رضا کے گھر والوں کا ساتھ دینے اور قاتل ڈھونڈتے کی بجائے گھنٹوں بٹھا کر ان کو زبردستی یہ چیز منوانے کی کوشش کی کہ تمھارے بیٹے نے خود۔کشی کی۔ لیکن وہ بے چارہ باپ اور سسکتی ماں چیختے رہے ان کا بیٹا خود۔ کشی کر ہی نہیں سکتا اس کا ق۔تل کیا گیا ہے۔ پھر ایک جھوٹی رپورٹ بنا کر کیس کو بند کردیا گیا۔ لیکن باپ کی ان گنت محنت کے بعد جب قبر کشائی کی گئی اور نئی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آئی تو سارا سچ سامنے آگیا۔
یااللہ! یہ کیسا ملک ہے اور کیسا نظام ہے جہاں انصاف ملنے کی امید ہی ختم ہو جاتی ہے۔ بس اللہ پاک میر رضا کو جنت الفردوس میں ایک باغ دے اور گھر والوں کو اس مشکل گھڑی میں صبر جمیل عطا فرما۔ آمین
کس کس ظلم کو روئیں ، شئیر کر کے سرکاری اداروں کو جھنجوڑنے میں کردار ادا کریں۔
یہ جو بزرگ نابینا عورت نظر آرہی ہے کل اپنی بیٹی سے ملنے گئیں جب یہ بیچاری اپنے فلیٹ میں واپس لوٹیں تو وہاں پہ ایک اور فیملی موجود تھی
پہلے ان کو لگا کہ کہ یہ غلط ایڈریس پہ آگئیں ہیں کیونکہ نابینا جو تھیں نظر نہیں آتا تھا
لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ یہ بالکل درست ایڈریس پہ آئی ہوئی ہیں
لیکن ان کے فلیٹ پہ با اثر بلڈرز نے قبضہ کرلیا ہے
یہ بیچاری لیاقت آباد کراچی سپر مارکیٹ کی حدود میں موجود تھانہ میں گئیں وہاں فلیٹ پہ بااثر نعمان نامی شخص نے قبضہ کروایا ہوا تھا ۔
انہوں نے تمام کاغذات پولیس کو دیکھائے لیکن پولیس وہی بک چکی تھی انہوں نے کاروائی سے انکار کردیا
اس بیچاری بیوہ کا آخری بڑھاپے کا سہارا فلیٹ ہی ہے اور اب تک ان کا سامان اندر محصور ہے
اس بیچاری بیوہ کے لیئے آواز اٹھائیں ویڈیوبھی سوشل میڈیا پر چل رہی ہے۔
ہے کیا کوئی اس بیچاری کی مدد کرے گا ؟؟؟؟
😥😪😥
پٹرولیم کی لیوی اور بجلی کے بلوں میں ہر پاکستانی ہر ماہ جو تین گنا ادائیگی کرتا ہے،حکومت پاکستان نہیں، درحقیقت وہ شریف اور زرداری خاندانوں کے علاوہ ان کے چہیتوں اور سرپرستوں کو پیش کرتا ہے۔25 فیصد سے بھی کم قیمت پر شمالی علاقوں اور خیبر پختونخوا کے علاوہ تھرپارکر کے کوئلے سے بجلی کی تمام ضرورت پوری کی جا سکتی تھی۔ ضرورت سے زیادہ دوگنا بجلی؟ اگر یہ ڈکیتی نہیں تو اور کیا ہے؟
اگر پرفیوم میں الکوحل مکس ہے تو اسے استعمال کر سکتے ہیں نماز بھی پڑھ سکتے ہیں کیا خوبصورت دلیل دی ہے مفتی اسحاق صاحب
مفتی صاحب کہتے ہیں شراب الکوحل کا پینا حرام یہ بذات خود ناپاک چیز نہی ہے اگر کوی کہتا ہے یہ ناپاک ہے تو اس سے دلیل مانگیں ۔۔
کیونکہ اس کی کوی دلیل نہی ہے جیسے کوی نشہ اور چیز اپکی جیب میں ہو تو اس سے اپکے کپڑے ناپاک نہی ہوتے ۔۔
انہوں نے کہا حضرت ابن مسعود جانور زبح کر رہے تھے ان کے کپڑوں کو خون لگ گیا انہوں نے اس حالت میں نماز ادا کی خون پینا حرام ہے ۔
اس طرح ڈاکٹر ہو یا مریض انکے کپڑوں پر خون لگ جاے تو وہ ناپاک نہی ہوتے اپ نماز ادا کر سکتے ہیں ۔۔ صرف اسلام میں حیض کا خون ناپاک ہے ۔۔ اسے خوب رگڑ رگڑ کر دھونا چاہیے تاکہ کہڑے پاک ہو سکیں ۔
باقی نجس اور پلید میں فرق رکھیں ۔
اس لیے اگر خوشبو میں الکوحل ہو تو اپ کپڑوں کو لگا سکتے ہیں کوی گناہ نہی ہے ۔۔
پاکستانی تاریخ کو از سر نو لکھنا ہو گا
صلائے عام ہے یاران نکتہ داں کے لئے
میاں محمد نواز شریف صاحب نے ایک حیران کن انکشاف کیا ہے۔۔یہ کہ انہوں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ یہی نہیں یہ بھی ارشاد کیا کہ کہ قوم سے کبھی ایسے وعدے نہیں کیے جو پورے نہ کئے جاسکتے ہوں۔ یہ بھی فرمایا کہ وہ آخرت میں جواب دہی کا احساس رکھتے ہیں۔
میاں صاحب کے ان دعووں کی روشنی میں پچھلے چار عشروں کی تاریخ از سر نو لکھنی پڑے گی۔ پاکستان ہی نہیں ،دنیا بھرکے اخبارات اور چینلز کو اپنا ریکارڈ درست کرنا پڑے گا۔ یہ تو عجب ماجرا ہوا۔
برطانوی چینل سے خان کے بیٹوں کا انٹرویو الگ معاملہ ہے۔ ایک اور میچ پر مباحثے میں ایک کم فہم سینیٹر صاحب اس بات پہ برہم پائے گئے کہ کرکٹ میچوں کی کمنٹری میں عمران خاں کا ذکر کیوں ہوتا ہے۔کرکٹ کی ڈیڑھ سو سالہ تاریخ کے عظیم ترین کپتانوں میں سے ایک کا ذکر نہیں ہو گا تو کیا محسن نقوی کا ہو گا؟ اگر کوئی فلم ساز یہ مطالبہ کرے کہ ہیر رانجھا پہ فلم بنائی جائے مگر رانجھے کے بغیر؟ پاکستان کی تاریخ لکھی جائے اور قائد اعظم کے بغیر؟ جنوبی افریقہ کی جدوجہد آزادی کی روداد نیلسن منیلا کے بغیر ؟ عمران خاں اگر ناکام ہو سکتے ہیں تو اقتدار میں آنے کے بعد، اگر وہ کارکردگی نہ دکھا سکیں۔ چھٹ بھیوں کی تنقید سے نہیں۔ کسی معاشرے اور ملک میں خیالات جب راسخ ہو جاتے ہیں۔ اکثریت کے رجحانات جب متعین ہو جاتے ہیں تو حکومتی جبر اسے بدل نہیں سکتا۔ قلوب و اذہان کی اپنی دنیا ہے۔ دلوں کی بادشاہت کا قانون اور ہے شور شرابہ یہاں کسی کام نہیں آتا۔
دل کا دریا بحر سے گہرا کون دلوں کی جانے ہو
مولویوں نے حافظ شیراز کا جنازہ پڑھانے سے انکار کر دیا تھا۔ بھلے شاہ کا جنازہ پڑھانے سے بھی انکار کیا گیا۔ آج وہ اس سے زیادہ زندہ ہیں جتنے اپنی زندگیوں میں تھے۔
بھلے شاہ اسی مرنا ناہیں گور پیا کوئی ہور
عمرا ن کا نام لینے پر سخت اور حتمی قسم۔کی پابندی لگی، نتیجہ کیا نکلا؟ ہزاروں کی تعداد میں ویلاگرز پیدا ہوگئے۔ 75 سال میں پروان چڑھنے والے اخبارات اور ربع صدی کی ریاضت سے چمکنے والے چینل بے معنی ہو ئے۔
آنکھ میچو گے تو کانوں سے در آئے گا حسن
حسن کو دیوار و در سے واسطہ کوئی نہیں
شب چراغ مولانا اسحاق مدنی مرحوم
غیض و غضب میں مبتلا مولانا اسحاق مدنی کے مخالفین اب بھی دیواروں سے ٹکرا رہے ہیں ۔ جب کہ وہ اپنے گاؤں میں مٹی اوڑھے سو رہے ہیں۔ ہمیشہ وہ سر ٹکراتے رہے ہیں گے ۔ جانے والا چلا گیا اور لوٹ کر نہیں آئے گا ۔ اس کے دلائل کی چمک سے مگر آفاق روشن رہیں گے ۔
نقطہ نظر کا اختلاف ایک دوسری بات ہے۔ مولانا مدنی سے بھی اختلاف کیا جا سکتا ہے۔ ان کا ظاہر س باطن مگر ایک تھا۔ وہ دادو تحسین کے آرزومند تھے اور نہ رسوخ و عظمت کے۔ ایک عظیم محقق ۔ سچ کی طرح سادہ اور کار دنیا سے بے نیاز۔ کسئی دعویٰ نہ مطالبہ۔ اتحاد بین المسلمین کے داعی اور تقلید سے گریزاں ۔ غور و فکر اور پتہ ماری سے عظیم اکثریت گریز کرتی ہے کہ لہو خشک کرنا پڑتا ہے۔ خلق کی ملامت کا خوف بھی رہتا ہے۔ جنت سے نکالا گیا آدمی طبعاً آسودگی پسند ہوتا ہے۔ علم نہیں، خوئے غلامی کے مارے معاشرے میں لوگ احساس تحفظد، دھن دولت، مناصب اور ممکن ہو تو شہرت چاہتے ہیں۔ مرحوم ایک مرد آزاد تھے۔ پروردگار کون س مکاں کے دربار میں صرف خلوص کا سکہ مقبول ہے۔ علامت اس کی انکسار اور سادگی ہے۔ وہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی تھے۔ ہمہ تن انہماک ،، انسان دوست، نرم دم گفتگو، گرم دم جسجو۔ عاشق رسول اور توحید شناس۔ ان کا نقش باقی رہے گا۔ روشنی بکھیرتا ہوا۔
کار آفریں کار کشا کار ساز
ہاتھ ہے اللہ کا بندہ مومن کا ہاتھ
اللہ تعالیٰ کی دائمی رحمتیں اس دیہاتی آدمی پر جس کے شب وروز سے اکتساب فیض کیا جائے تو زندگی بامعنی ہو جائے ۔ اس لئے کہ اقبال کی طرح جن کےوہ قائل تھے ، مرحوم شیعہ تھے، سنی، دیوبندی اور نہ ہی اہل حدیث بلکہ صرف مسلمان، سچے اور کھرے مسلمان ۔
آرزو ہے کہ ان کی زندگی اور طرز احساس پہ ایک طویل مقالہ لکھوں۔ مرحوم کےشاگردان گرامی اور فیض یافتگان سے دعا کی درخواست ہے۔