میں قلات کے باشعور عوام کو سرخ سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ کے بڑے تعداد میں استقبال کیا اور بلوچ ہونا کا ثبوت دیا انہوں نے ریاست کو بتایا ہم اپنے پیاروں کے مسخ شدہ لاشیں ابھی اور برداشت نہیں کرسکتے
#gwadarrajimuchi#StopGenocide#BalochaNationalGathering
Urgent attention!
Currently, the Pakistani Army and FC have launched another brutal and violent attack on the peaceful Baloch National Gathering sit-in in Gwadar.
Surrounding the sit-in from all sides, they have indiscriminately fired upon peaceful protesters and subjected them to severe violence, resulting in multiple injuries and the arrest of hundreds.
At this moment, the Pakistani state is committing extreme oppression and tyranny against peaceful protesters in Gwadar. The entire city has been held hostage at gunpoint by the Pakistani military. We are not being allowed to evacuate the injured, nor are ambulances being given passage.
Now, the scenes in Gwadar are nothing short of apocalyptic!
I urge you all to immediately write to human rights organizations, journalists, and anyone concerned with human rights, as thousands of lives are currently at extreme risk in Gwadar.
#BalochNationalGathering
#بلوچ_راجی_مُچی
ایک بے بس اور لاچار بلوچ اپنے بیمار بچے کو مستونگ سے کوئٹہ لیجانا چاہتا ہے لیکن ایف سی نے سڑک بلاک کر رکھی ہے اور مریض کو ہاسپیٹل لیجانے کی اجازت نہیں دی جا رہی جس ملک میں ریاست ایمبولینس میں پڑے مریض پر بھی رحم نہ کرے اس ریاست کے حکمرانوں کو بد دعاؤں کے سوا کیا مل سکتا ہے 🥲
میں بلوچ راجی مچی کا پرپور حمایت کرتا ہوں اور اپنے تمام بلوچوں سے پرزور اپیل کرتا ہوں وہ راجی مچی میں اپنے شرکت یقینی بنائے یہ مچی ہمارے نسل اور شناخت کو بچانے کے لئے ہیں ہمارا فرض بنتا ہے کہ اس راجی مچی کو کامیاب بناۓ
#WeSupportBalochRaajiMuchi@MahrangBaloch_@SammiBaluch
جبری گمشدگی کے شکار ظہیر بلوچ کے اہلخانہ کی جانب سے آج لوئٹہ میں ریلی نکالی جارہی تھی۔ کوئٹہ پولیس کی جانب سے ریلی میں موجود خواتین اور بچوں سمیت تمام شرکاء پر تشدد کرکے شیلنگ لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا بے دریغ استعمال کیا گیا اور متعدد گرفتاریاں ہوئی ہیں اور شدید فائرنگ جاری ہے۔
یہ لواحقین گزشتہ دس دنوں سے کوئٹہ کی سڑکوں پر احتجاج پہ بیٹھے تھے لیکن حکومت نے مطالبات پر کان نہیں دھرا، مزاکرات اور بات چیت کو نظر انداز کرکے ہمیشہ کی طرح ریاستی طاقت کا استمال کرکے پرامن احتجاجوں پر اسی طرح کریک ڈاؤن کرکے آوازوں کو دبانے کی کوشش کی ہے۔
تمام مکاتب فکر کے لوگوں سے درخواست ہیکہ اس کوئٹہ پولیس کی جانب سے اس غیرقانونی عمل کے خلاف بھرپور آواز اٹھائیں۔
Eid is indeed an occasion of happiness but its a fact that we, the families of enforced victims are the saddest on this occasion. It brings joy for the rest of people, for us it triggers the worst pain v r suffering for years.
#ReleaseAsifandRasheed
Thank you, PEN Norway, and Jørgen Watne, the General Secretary of Norsk PEN, who is also the Chair of the Norwegian Nobel Committee, for your overwhelming support and strongly worded statement.
@PEN_Norway#MarchAgainstBalochGenocide
https://t.co/Sq2VkpeVy1
بابا خیر بخش مری حالانکہ کم گو اور نہایت ہی سادہ مزاج کی شخصیت تھے لیکن جس طرح انہوں نے عملی طور پر اپنے کردار و سیاست کی رونمائی کی ہے وہ ایک نظریہ ہیں۔
بقول وسعت اللہ خان کہ جو لوگ کامیاب ہوتے ہیں وہ مارکس، لینن اور ماوزے تنگ بنتے ہیں اور جو ناکام ہوتے ہیں تو وہ نواب خیر بخش مری بنتے ہیں۔
یعنی وہ ایک نظریہ ہیں اور انکی ناکامی بلکہ صحیح معنوں میں انکے جہد کی نا مکمل شکل نے انکی بلندی کو وہ رونمائی نہیں دی جسکے وہ حقدار تھے اور جو صحیح معنوں میں انکے کردار کا حق ادا کر سکے۔
#NawabKhairBukhshMarri
بلوچ طلباء کی جبری گمشدگیوں میں شدت لائی گئی ہے۔ بھاولپور یونیورسٹی سے گولڈ میڈلسٹ حنیف بلوچ کو ان کے آبائی علاقے بارکھان سے جبری طور پر گمشدہ کیا گیا ہے جبکہ اس کے بھائی سعید بلوچ جو پنجاب یونیورسٹی کا طالب علم ہے اس کو لاہور سے بلواکر غیر قانونی طور پر حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کردیا گیا ہے۔
جبری گمشدگیاں بلوچ سماج کے لئے کینسر کا کردار ادا کررہی ہے، ہمارے پورے سماج کو نگل رہی ہے، کوئی بھی شخص، گھر اور علاقہ اس سے محفوظ نہیں ہے اور یہ بلوچ نسل کشی کی خطرناک شکل ہے۔
بلوچ نسل کشی کے خلاف گھروں میں خاموش رہنا کوئی آپشن نہیں ہے، بلک صرف عوامی مزاحمتی جدوجہد سے ہم اس کا راستہ روک سکتے ہیں، ہم جتنے خاموش ہونگے وہ اسی شدت سے ہماری نسل کشی کرتے رہینگے۔
#SaveBalochStudents
#EndEnforcedDisappearances
زاکر مجید بلوچ کی جبری گمشدگی کو آج پندرہ سال کا طویل عرصہ مکمل ہوا ہے
زاکر مجید کی بازیابی کیلئے انکی بہن فرزانہ مجید نے انصاف کے تمام دروازے کھٹکھٹانے اور زاکر کی بازیابی کیلئے ہر ممکن کوشش کی۔
زاکر مجید کی والدہ احتجاجی مظاہروں دھرنوں میں مسلسل بیٹے کی بازیابی کا مطالبہ کررہی ہے لیکن قانون نافذ کرنے والے اداروں اور بے حس حکمرانوں کی بے حسی زاکر کی ماں کو انصاف نہ دے سکیں۔
گزشتہ پندرہ سالوں سے ایک ماں اپنے بیٹے کی تصویر لیا اسلام آباد کراچی کوئٹہ میں دھرنے احتجاجی کمیپوں مظاہروں میں اس امید سے شریک ہے کہ کہیں سے اسکے بیٹے کے بارے میں کوئی خبر کوئی اطلاع دی جائے مگر پندرہ سالوں میں کئی حکومتیں آئی اور چلیں گئی مگر اس ماں کے سالوں کا انکے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔
بلوچ طالب علم لیڈر زاکر مجید کی جبری گمشدگی کو پندرہ سال مکمل ہونے پر انکی والدہ کی جانب سے کل کوئٹہ پریس کلب کے سامنے 8 جون کے شام 4بجے کوئٹہ پریس کلب کے سامنےاحتجاجی مظاہرے کا انعقاد کیا جائیگا۔
کوئٹہ میں موجود تمام لوگوں سے گزارش ہیکہ زاکر مجید کے جبری گمشدگی کے خلاف احتجاجی مظاہرے میں شرکت کرکے زاکر کی والدہ کی آواز بنیں۔
#ReleaseZakirMajeedBaloch
#BalochMissingPersonsDay
چمن میں گزشتہ کئی مہینوں سے احتجاجی دھرنے میں بیٹھے مظاہرین پر ریاستی طاقت کا استعمال قابل مذمت ہے نہتے لوگوں پر بے دریغ طاقت کا استعمال اب اس ملک میں معمول کی بات بن گئی ہے ابتک کی اطلاعات کے مطابق درجنوں بھر مظاہرین زخمی ہوچکے ہیں جن میں کچھ کی حالت غیر بتائی جارہی ہے :
بلوچستان میں عید کے دنوں میں بھی جبری گمشدگیوں سے لے کر ریاستی تشدد کی ہر شکل دیکھنے کو ملتی ہے ۔
چمن میں نہتے پشتون مظاہرین کے خلاف جس طرح طاقت کا استعمال کیا گیا کوئی بھی ملک اپنے شہریوں کے خلاف ایسی طاقت کا استعمال شاہد کرتی ہو ۔
بجائے لوگوں کے مسائل کو ایڈریس کیا جاتا لوگوں کو سنا جاتا انھیں جواب میں زخمی اور لاشیں دینا ریاستی پالیسی کو عیاں کرتی ہے ۔
#ChamanSitIn
یونیورسٹی طالبعلم انیس بلوچ کی جبری گمشدگی کے خلاف لواحقین کی جانب سے خضدار مین شاہراہ کو احتجاجاً بند گیا گیا ہے۔
جبری گمشدہ افراد کے لواحقین کی جانب سے تربت اور کوئٹہ میں احتجاجوں اور دھرنوں کے بعد خضدار میں بھی احتجاج جاری ہے۔
جبری گمشدگیوں کے خلاف آواز اٹھانے والے تمام فیملیز کے ساتھ کھڑے ہیں اور تمام مکاتب فکر کے لوگوں سے درخواست ہیکہ لواحقین کے ساتھ کھڑے ہوکر انکی آواز بنیں۔
#ReleaseAneesBaloch
#ReleaseFarooqBaloch
https://t.co/pw6J8ZX9dV
Baloch youth, courageously speaking up for their rights, are the primary targets of enforced disappearances. Another Baloch student, Anees Baloch, a BZU Multan graduate, has reportedly been abducted from Khuzdar. This is the tragic fate of many Baloch students under the lawless state.
#ReleaseAneesBaloch
#SaveBalochStudents
بلوچستان کے شہر خضدار سے تعلق رکھنے والے انیس بلوچ، جو کہ بی زیڈ یو ملتان سے فارغ التحصیل تھے، پاکستانی افواج کے ہاتھوں خضدار سے جبری طور پر لاپتہ کر دیے گئے ہیں۔ انیس بلوچ جبری گمشدگی کی شکار بننے والے ان ہزاروں بلوچوں میں سے ایک ہے جن کا قصور محض بلوچ ہونا یا پھر پڑھا لکھا بلوچ ہونا ہے. ہم سب جانتے ہیں کہ جبری گمشدگیوں کو ریاست بطور ہتھیار استعمال کررہی ہے تاکہ بلوچ عوام کو خوفزدہ رکھا جائے. لیکن یہ بات ریاست اور ریاستی ادارے ذہن نشین کرلیں کہ تمام عالمی اور انسانی حقوق کے قوانین کے مطابق جبری گمشدگی ایک غیرانسانی فعل اور صریحاً جرم ہے. ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ انیس بلوچ سمیت تمام جبری گمشدہ افراد کو عدالتوں میں پیش کرکے انہیں مجرم ثابت کرکے سزائیں دیں اگر مجرم نہیں ہیں تو ان کو رہا کرکے متاثرہ خاندانوں کو اس اذیت سے نجات دلائیں.
#ReleaseAneesBaloch