بلوچ طالب علم سعید عمر بلوچ،عبدالحمید زہری اور عمران بلوچ کی باحفاظت بازیابی کے لیے انکےاہلخانہ کی طرف سے کراچی پریس کلب کےسامنےاحتجاج 9 واں ورز جاری !
اہلخانہ نے سندھ حکومت سے اپیل کی کہ وہ سعید عمر ، عبدالحمید اور عمران بلوچ کی بازیابی میں اپنا کردار ادا کرے۔
میں ڈاکٹر جمیل کی بیٹی ہوں میرے بابا کو لاپتہ ہوئے 112 دن ہوگئے ہیں بابا مجرم ہے تو اسے عدالت میں پیش کیاجائے اگر بےقصور ہے تو رہا کیاجائے میں بلوچستان حکومت سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ میرے بابا ڈاکٹر جمیل کی بازیابی کو یقینی بنائے
#ReleaseDrJameelBaloch
ریاست نے میرے بھائیوں کو لاپتہ کر کے مجھ سے پڑھائی کا حق چھین لیا ۔ میرا واحد سہارا میرا بھائی تھا جو مجھے پڑھا رہا تھا میرا والد بوڑھا ہے اس عمر میں کوئی کام وغیرہ نہیں کر سکتا ریاست اب میرے بھائیوں کو بازیاب کرے تاکہ میں پڑھائی کر سکوں۔
#ReleaseAsifandRasheed
سعید عمرکی بوڑھی والدہ گزشتہ 5دنوں سے اپنےبیٹے کی باحفاظت بازیابی کیلیےدیگر لاپتہ افرادکےاہلخانہ کےساتھ کراچی پریس کلب کےسامنےاحتجاج پر بیٹھے ہوئےہیں وہ بار باراپیل کررہی ہےکہ اسکےبیٹے پر الزام ہے توعدالت میں پیش کیاجائے لیکن بوڑھی ماں کی فریاد سنا نہیں جارہاہے
#ReleaseSaeedUmar
تصویر میں منجمد ہماری زندگیاں! لوگ عید قربان کی تیاریوں میں اپنے کپڑے سلا رہے ہیں ہم اپنے وطن میں بے وطن جیسی زندگی گزار رہے ہیں اور وہ بھی بغیر جرم بغیر الزام اور اوپر سے ریاض پیرزادہ کے بیان نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے ہمیں زندگی کرنے کا حق نہیں ہے ؟
#ReleaseAbdulHameedZehri
سندھ حکومت سے فریاد کرتی ہوں میں ایک غریب ماں ہوں میرا بیٹا طلب علم ہے۔ سعید عمر نے اگر غیر قانونی عمل کی ہے تو اسے عدالت میں پیش کریں۔ سعید دو مہینے سے لاپتہ ہے میں اذیت کی زندگی گزار رہی ہوں خدارا مجھ پہ رحم کریں
@MuradAliShahPPP@BBhuttoZardari
کراچی پریس کلب کے سامنے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے احتجاج جاری !
@HRCP87 کے کوچیرمین محترم اسد بٹ صاحب کی قیادت میں ایک وفد نے گزشتہ دنوں احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا لاپتہ افراد کے اہلخانہ سے اظہار یکجہتی کی اور لاپتہ افراد کی بازیابی کےجد وجہد میں ساتھ دینے
کی بھی یقین دلایا
پریس کلب احتجاجی مظاہرہ ،دھرنا رہا کرو بازیاب کرو کے نعرے سوتے ہیں تو جبری گمشدہ بھائیوں کے چہرے نظر آتے ہیں اگر ریاست ماں جیسی ہوتی ہے تو ہماری بوڑھی ماؤں نے انکا کیا بگاڑا ہے جن کو رولایا جارہا ہے ماں ہوتی ہوگی ریاست ہمارے لیے تو ایک سوتیلی ماں جیسا رویہ بھی روا نہیں رکھا۔
Thirteen years have passed in the torturous wait and agony of the abduction of my father Dr. Deen Mohd Baloch, one another year is added to this unexplainable Miseries.
join us tomorrow at the Karachi press club to listen to our unheard voices.
#SaveDrDeenMohdBaloch