13: عدنان احمد پیشے کے لحاظ سے استاد ہے، عدنان ضلع مردان تخت بھائی کا رہائشی ہے، 9 مئی کو عمران خان کی گرفتاری کے بعد وہ پُرامن احتجاج کے لیے نکلے، جہاں بعد ازاں انہیں گرفتار کر لیا گیا۔
عدنان احمد کئی ماہ تک فوجی حراست میں رہے، جس کے بعد ملٹری کورٹ نے انہیں 10 سال قید کی سزا سنائی، وہ اس وقت پشاور سینٹرل جیل میں اپنی سزا کاٹ رہے ہیں۔
عدنان احمد عمران خان کے نظرئیے ساتھ ڈٹ کر کھڑا ہے، پوری قوم عدنان احمد کی قربانی، استقامت اور دلیری کو سلام پیش کرتی ہے۔
#May9th_FalseFlag
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیرِصدارت ایگزیکٹو کی اکثریت اور عدلیہ کی اقلیت والے "جوڈیشل" نامی کمیشن کا اس سے بڑا کارنامہ کیا ہو گا کہ لاہور ہائیکورٹ سے 15ویں نمبر کے جونیئر جج جسٹس سرفراز ڈوگر کو اٹھا کر اسلام آباد ہائیکورٹ لایا اور چیف جسٹس بنا دیا گیا اور اب ایک سال بعد اسلام آباد ہائیکورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس محسن اختر کیانی جنہوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ کا چیف جسٹس بننا تھا اُنہیں پہلے چیف جسٹس نہ بنا کر حق مارا گیا اور اب اُن کو لاہور ہائیکورٹ ٹرانسفر کر کے 12ویں 13ویں نمبر کا جونیئر جج بنا دیا گیا. پاکستان کی آزاد عدلیہ زندہ باد
پاکستانیوں دیکھ لیں!!
آپکو زخموں پر نمک پاشی کرنے کے لیے, دلے کو میدان میں اتار دیا گیا ہے!!
انڈہ آفریدی کہہ رہا ہے, پیٹرول کی قیمتیں بڑھائی گئی ہے, حکومت کو سپورٹ کرو!!🤬🤬
جب مفادات قومی ذمہ داری پر حاوی ہو جائیں تو قیادت کی آواز مدھم پڑ جاتی ہے۔ عالمی معاملات پر ابہام یا خاموشی اختیار کرنا ریاستی خودمختاری کے تقاضوں کے برعکس ہے۔ اصل قیادت وہ ہے جو طاقتور حلقوں کے سامنے بھی اصولی اور واضح مؤقف اپنائے، اور قومی ضمیر کو وقتی مصلحت پر قربان نہ کرے۔
امت مسلمہ بالخصوص پاکستان کو عمران خان کی ضرورت ہے۔ ان کا مؤقف اس کے برعکس واضح رہا ہے۔ انہوں نے دو ٹوک اعلان کیا کہ پاکستان کسی اور کی جنگ نہیں لڑے گا، اور ریاست کی پہلی ذمہ داری اپنے عوام کا تحفظ ہے۔ انہوں نے خود کو ایک ذمہ دار سرپرست کے طور پر پیش کیا، جس کا عہد تھا کہ وہ اپنے لوگوں کو غیر ضروری جنگوں میں قربان نہیں ہونے دیں گے۔
#ReleaseImranKhan
#نااہل_حکمران_عوام_پریشان
"عمران خان کا یہ مطالبہ ہمیں قبول نہیں تھا کہ 9 مئی اور 26 نومبر کی انکوائری کی جاۓ اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس (تب عمر عطاء بنديال تھے) جوڈیشل کمیشن کی سربراہی کریں
اس مطالبےکا تو مطلب تھا کہ وہ ہماری جگہ آ جاتے اور ہم سب (جیل) چلے جائیں"
رانا ثناءاللّه