The attacks on Iran by Israel and the United States are illegal, unprovoked and unjustifiable.
Peace and diplomacy was possible. Instead, Israel and the United States chose war.
This is the behaviour of rogue states — and they have jeopardised the safety of humankind around the world with this catastrophic act of aggression.
Our government must condemn this flagrant breach of international law, and urgently pursue a foreign policy based on justice, sovereignty and peace.
میرے وطن میرے بس میں ہو تو وزیر کو تختہ دار کر دوں
میں کھینچ کر حاکموں کو در در شہر شہر سنگسار کر دوں
میرے وطن میرے بس میں ہو گر میری ریاست کی سربراہی
پولیس کو جیلوں میں لا کے رکھوں عدالتیں مسمار کر دوں
یہاں پہ قانون بک رہا ہے یہاں پہ مظلوم جھک رہا ہے
لگائے انصاف کی نہ کوئی بولی میں بند یہ کاروبار کر دوں
میری حکومت کو موت آئے نہیں ہے ا�� سے بڑھ کر کوئی خواہش
کرپٹ لیڈروں کے دل قلب میں خنجروں کا لشکر سوار کر دوں
یہاں درندوں کی بھوک کلیوں کو لمحہ لمحہ مسل رہی ہے
میں ان سبھی وحشی ظالموں قاتلوں کے ٹکڑے ہزار کر دوں
جو آج مظلومیت پر فقط س��است رچا رہے ہیں
میں ان پلیدوں میں ان غلیظوں پہ لعنتیں بے شمار کر دوں
ثمینہ پاشا کی مدلل گفتگو
ڈی چوک میں جانا بلکل درست تھا نہ تو علی امین گنڈاپور کی وجہ سے شہادتیں ہوئیں نہ بشریٰ بی بی اور نہ ہی پنجاب کی قیادت کی وجہ سے یہ سب ہوا جس نے گولی چلائی وہ ہی ذمہ دار ہے توجہ ہٹانے کے لیے اندورنی لڑائی کو ہوا دی جا رہی ہے۔ ثمینہ پاشا
#IslamabadMassacre
ہمارے سینکڑوں کارکن گرفتار اور بہت سارے مسنگ ہیں۔ جتنے لوگوں کو گولیاں ماری گئیں تھیں ان میں کافی مسنگ ہیں۔ واپس جانے والی گاڑیوں سے اٹھا کر جیل میں ڈالے گئے نوجوانوں میں سے بھی کچھ مسنگ ہیں۔ ہم ان کو لوکیٹ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ابھی بھی جو نوجوان فرنٹ سے لیڈ کررہے تھے یہ کام وہ کررہے ہیں۔ پارٹی کے ہر ذمہ دار فرد سے اس وقت صرف ایک گزارش ہے کہ جس علاقے کا بندہ غائب ہے، جو شہدا ہیں، زخمی ہیں ان کے خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہوں۔ ہم نے اپنے علاقوں کی لسٹیں بنائی تھیں۔ اپنے ایک ایک فرد کو ٹریس کررہے ہیں۔ جو ہمارے علاوہ آئے تھے، جس ٹیم کے ساتھ آئے تھے، ٹیمیں اپنے کارکنان کو ٹریس کریں۔ رہی بات خود احتسابی کی تو میں موجود نہیں (کیوں نہیں کی لامعنی بحث کا یہ وقت نہیں ہے میرے لیڈر کو اس وقت میرا سر میرے کا��دھوں پہ رہنا زیادہ ضروری لگتا ہے اس لیے نہیں ہوں۔ جب اُسے اِس کے کٹنے کی ضرورت ہوگی کسی کے کہنے کا انتظار نہیں کرونگا۔ جیسے میرے کارکن نے نہیں کیا)۔ نا میں کسی کمیٹی کا ممبر ہوں نہ میں نے کوئی عہدہ لیا ہے لیکن اپنا فرض پورا کرنے کی ہر ممکن کوشش کررہا ہوں۔ باقی ہم خود احتسابی کریں گے اور بہت جلد کریں گے۔ پارٹی کے عہدے تمغوں کیطرح سجا کر ذمہ داری سے کنی کترانے والوں کے تمغے اتریں گے اور ان کے سینوں پر لگیں گے جنہوں نے عمران خان کے نظریے کی کمان سنبھالی۔ اور یہ سلسلہ نیچے سے نہیں سب سے پہلے مرکز سے شروع ہوگا۔ فی الحال ہمارے شہدا، زخمی اور پابند سلاسل کارکنان اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ کھڑا ہونا اور ان ظالموں کا نقاب اتارنا ہماری اولین ترجیح ہے جنہوں نے اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے والوں کے خون سے ہولی کھیلی۔ میڈیا اور انسانی حقوق کے علمبرداروں نے جو کیا سوکیا آپ اپنے فون میں موجود ہر کانٹیکٹ کو ان مظالم کی تصاویر اور ثبوت بھیجیں۔ دنیا کو جھنجھوڑیں۔ پارٹی رہنماؤں سے بھی درخواست ہے اگر آپ اس ظلم پر کھل کر بات نہیں کرسکتے تو مہربانی کرکے ٹی وی چینلز پر ہماری ترجمانی کرنے نہ بیٹھیں کوئی اور لاحقہ لگا لیں اپنے نام کے ساتھ۔ پارٹی کو شہدا کے جنازوں، زخمیوں، پابند سلاسل ورکران اور ان کے اہل خانہ کا ساتھ دینے سے لے کر قانونی کاروائی، جمعہ کو یوم سیاہ منانے اور ان کی قربانیاں رائیگاں نا جانے دینے کے حوالے سے مفصل پلان شئیر کیا جاچکا ہے۔
پریس ریلیز - پاکستاج تحریک انصاف:
پاکستان تحریک انصاف کی نہتّے، پرامن اور محبّ وطن شہریوں کے سفّاکانہ قتل اور آپریشن کے نام پر اسلام آباد میں پرامن احتجاج کے شرکاء کے خلاف وحشت و بربریت کے ننگے مظاہرے کی شدید الفاظ میں مذمت
چیف جسٹس آف پاکستان سے شہید کارکنان کے بہیمانہ قتل کے از خود نوٹس اور وزیراعظم، وزیرداخلہ اور اسلام آباد اور پنجاب کے انسپیکٹرز جنرل کے خلاف قتلِ عمد کی کارروائی کے احکامات کی اپیل
مینڈیٹ چور فسطائیوں کی ایماء پر سرکاری مشینری کی گولیوں سے درجنوں نہتے بے گناہ کارکنوں کو سیدھی گ��لیاں مار کر شہید کیا گیا جن میں سے 8 کے کوائف اب تک ہمارے پاس آ چکے ہیں - ترجمان پاکستان تحریک انصاف
شہید ہونے والوں میں انیس شہزاد ستی، ملک مبین اورنگزیب، عبدالقادر، ملک صفدر علی، احمد ولی، محمد الیاس اور عبدالرشید شامل، ترجمان پاکستان تحریک انصاف
پرامن مظاہرین پر اسلام آباد کی سڑکوں پر گولیوں کی بارش کی گئی اور سینکڑوں نہتّے پاکستانیوں کو زخمی کرکے خون میں نہلایا گیا، ترجمان پاکستان تحریک انصاف
حکومتی بربریت اور دارالحکومت کو نہتے شہریوں کا مقتل بنانے کے حکومتی منصوبے کے پیشِ نظر پرامن احتجاج کی فی الوقت منسوخی کا اعلان
حکومتی بربریت کی تفصیلات کے سیاسی اور کورکمیٹیز میں تجزیے کے بعد بانی چیئرمین عمران خان کے سامنے رکھنے اور ان کی ہدایات کی روشنی میں آئندہ کے لائحۂ عمل کے اجراء کا اعلان
پاکستان تحریک انصاف کوئی عسکری یا مسلّح جماعت ہے نہ ہی اپنے عوام کو ریاستی قاتلوں کے ہاتھوں ذبح کروانے کی خود کو متحمّل سمجھتی ہے، ترجمان پاکستان تحریک انصاف
پرامن احتجاج کیلئے تمام تر صعوبتیں، رکاوٹیں، تشدد، وحشیانہ بربریت برداشت کرکے ہمارے کارکن ڈی چوک پہنچے مگر اپنے شہریوں کی لاشوں کے انبار لگانے کی اجازت نہیں دے سکتے، ترجمان پاکستان تحریک انصاف
24 کروڑ پاکستانیوں کو بھیڑ بکریاں سمجھنے والے درندوں کیلئے شہریوں کا قتل تفریح کا وسیلہ ہوسکتا ہے مگر تحریک انصاف پاکستان کے عوام، اس کے وسائل اور اس کے قومی مفاد کی نگہبان ہے، ترجمان پاکستان تحریک انصاف
پاکستان تحریک انصاف پرامن سیاسی جدوجہد کی طویل تاریخ رکھتی ہے، 24 نومبر سے آج تک لاشیں گرانے کے حکومتی منصوبے کی راہ روکتی رہی ہے، ترجمان پاکستان تحریک انصاف
اس سے پہلے 26 مئی 2022, 3 نومبر 2022, 26 نومبر 2022, 8 مارچ 2023، 15 مارچ 2023 اور 18 مارچ 2023 اور 24 مارچ 2023 سمیت ہر موقع پر پرامن احتجاج کو خون میں نہلانے کی ہر حکومتی کوشش کو تحریک انصاف نے پاکستان کے مفاد میں ناکام بنایا، ترجمان پاکستان تحریک انصاف
بانی چیئرمین عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف کی پوری سیاسی جدوجہد آئین و قانون کے دائرے میں اور پرامن تاریخ سے عبارت ہے، ترجمان پاکستان تحریک انصاف
حقیقی آزادی ہماری منزل ہے، جب تک ہماری رگوں میں خون کا آخری قطرہ باقی ہے اس کیلئ�� جدوجہد کرتے رہیں گے، ترجمان پاکستان تحریک انصاف
پرامن احتجاج کیلئے ملک بھر خصوصاً خیبرپختونخوا، بلوچستان، سندھ اور شمالی پنجاب کے اضلاع سے آگ اور خون کا دریا عبور کر کے مکمل پرامن انداز میں ڈی چوک پہنچنے والے کارکنان اور شہریوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں، ترجمان پاکستان تحریک انصاف
ملک بھر سے آنے والے قافلوں کی میزبانی پر راولپنڈی اور اسلام آباد کے عوام کے بھی بے حد مشکور ہیں، ترجمان پاکستان تحریک انصاف
دنیا بھر میں بانی چیئرمین عمران خان کی کال پر تاریخی احتجاج کرنے والے اورسیز پاکستانیوں کے بھی شکرگزار ہیں، ترجمان پاکستان تحریک انصاف
دہشت گردوں کو پالنے والے بدبخت پر امن شہریوں پر درندوں کیطرح پل پڑے ہیں۔ نہتے شہریوں پر سیدھی گولیاں چلائی جارہی ہیں۔ سب متحد رہیں، ایک دوسرے کا ہاتھ نہ چھوڑیں اور فی الحال پیچھے ہٹیں۔ اپنا اور اپنے ساتھیوں کا تحفظ یقینی بنائیں۔ جس نے بھی کبھی آئین قانون اور انسانیت پر یقین کیا ہے وہ اپنے بھائیوں کی مدد کے لیے پہنچے ان کو پناہ دے۔
Welcome to the #YesUniverse! 🌌
YesCoin is proud to announce the initiation of our “ X Plan”, partnering with @ton_blockchain ecosystem projects.
Let's "Put Crypto In Every Pocket,Pave The Way For A Decentralized Future Together !"💎
#YesCoinXPlan#Yescoin#YesUniverse
تمام تر فسطائیت، ریاستی جبر ،لاٹھی چارج، آنسو گیس شیلنگ ،کنٹینرزکے دیواروں،سندھ، پنجاب ،اسلام آباد پولیس، خیبر پختونخوا ایف سی،پنجاب رینجرز کے ہزاروں اہلکاروں کی صفوں کو چیرتے ہوئے،مزاحمت کی تاریخ رقم کرکے عوامی مینڈیٹ کی بازیابی کیلئے پی ٹی آئی @PTIofficial کے کارکنان کا اسلام آباد پہنچنے پر خوش آمدید، پخیر راغلے۔
اب بھی حکومت کے پاس وقت ہے وسیع ترمذاکرات، گرینڈ ڈائیلاگ، اسٹیبلشمنٹ اپنے حدود/دائرے میں جائے،کٹھ پتلیاں اقتدار چھوڑ دے،عوامی مینڈیٹ کو احترام اور توقیر دو۔
یہ اب ایک بدلا ہوا پاکستان ہے،اخبارات، ٹی وی چینلز کی سنسرشپ،فائر وال کی تنصیب اور سوشل میڈیا کریک ڈاؤن اب پرانے ازکار رفتہ ناکام ہتھکنڈے ہیں۔
میں پاکستان کی نئی نسل سے کہتا ہوں اس ملک پاکستان کے مالک تم ہو،حقیقی جمہوریت، بشری حقوق، سویلین سپریمسی، آزاد اور بااختیار پارلیمنٹ پر کبھی سمجھوتہ نہ کرو،انہی کے ذریعے پاکستان کو آگے بڑھاو،ایک سیکورٹی سٹیٹ نہیں فلاحی ریاست بناو۔
موروثی اور کرپٹ سیاست،استحصال�� اشرافیہ کی گرفت اور استعمار کی غلامی کیخلاف مزاحمت جاری رکھو۔
جوانو!
آپ نے جس جبر کا مقابلہ گذشتہ دو دنوں میں کیا ہے اس کی تعریف الفاظ میں ممکن نہیں ہے۔ بارہا آپ سے کہا ہے آج قوم کے سامنے دہرا رہا ہوں، آج سے اعصاب کی جنگ کا آغاز ہورہا ہے۔ جیسے جیسے آپ ڈی چوک کی قریب پہنچتے جائیں گے ہر لمحہ صورتحال بدلتی جائیگی۔ جبر تو آپ سہہ ہی رہے ہیں لیکن اب کبھی فوج کو آگے کیا جائیگا، کبھ�� آپ کے درمیان شرپسندوں کو پلانٹ کیا جائیگا۔ کبھی پراپگینڈا کیا جائیگا۔ نا ہی کسی کے کہنے پر مشتعل ہونا ہے۔ نا ہی صبر کا دامن چھوڑنا ہے۔ نا ہی واپسی کا راستہ لینا ہے۔ آپ نے اسی طرح منظم، پرامن اور ثابت قدم رہنا ہے۔
یہ جو میڈیا واٹس ایپ پر موصول احکامات کی بنیاد پر جھوٹے بیانیے بنا رہا ہے۔ انہیں بتائیں کہ آپ دہشتگرد نہیں آئین اور قانون کی بحالی اور اس ظلم اور درندگی کا خاتمہ چاہتے ہیں۔
سرکاری ملازمین جن کو ڈیوٹی کے نام پر آپ پر بندوقیں تاننے کا حکم دیا گیا ہے انہیں ان کا حلف اور اپنا حق یاد دلائیں۔ یہ آپ کے ہم وطن ہیں، آپ ان کے دشمن نہیں، یہ ان کے بھی بچوں کے مستقبل کا سوال ہے۔ان کے علم میں لائیں۔
راولپنڈی اور اسلام آباد کے شہریوں!
ہم پاکستانی آپ کے مقروض ہیں جیسے آپ نے ۲۵ مئی سے آج تک آئین اور قانون کی اس پرامن جدوجہد میں ہمیشہ ہمارا ساتھ دیا۔ آج بھی اللہ کی مدد کے بعد آپ کا ایثار ہمارا سب سے بڑا سہارا ہے۔ جو لوگ دو دن لڑ کر یہاں تک پہنچے ہیں ان کی ڈھال بھی بنیں اور ان کا سہارا بھی۔
پنجاب سے جو قافلے ابھی تک نہیں نکلے اب ان کی باری ہے۔
منزل ڈی چوک ہے۔ ڈی چوک پہنچنے اور وہاں قیام کی پلان پر کل سے عملدرآمد شروع کرادیا جائیگا۔
پہلا مطالبہ عمران خان اور کارکنان کی رہائی اور پھر جو فیصلہ عمران خان کا۔ جب تک سٹیج سے ایاک نعبد و وایاک نستعین کی صدا نہیں گونجے گی واپسی نہیں ہوگی۔
اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔
عمران خان صاحب سے ملاقات کر کے اڈیالہ جیل سے نکلا ہوں۔ انہوں نے اپنا مقدمہ اللہ تعالٰی کی عدالت میں پیش کر دیا ہے۔ انہیں یقین ہے کہ اللہ تعالٰی پاکستان کی عوام کو توفیق دے گا کہ وہ ملک میں ظلم و جبر اور عوامی وسائل پر ڈاکے کے نظام کے خلاف نکلیں۔ یہ معاملہ سیاست سے برتر ہے۔#24Nov
یہ گالف کلب تمہیں جہیز ملا تھا؟
یہ اور اس جیسے سینکٹروں عیاشی کے اڈے تم نے غریبوں کی ہڈیاں نوچ نوچ کر بنائے ہیں۔یہ وہ عیاشیاں ہیں جو اس ملک میں ��رف تمہیں میسر ہیں اور تمہاری ان عیاشیوں کی اس قوم نے بہت بھاری قیمت ادا کی ہے۔
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پاکستانی قوم کے نام پیغام:
میرے پاکستانیو!! میں نے جتنا ہو سکا ملک و قوم کی خاطر ہر قربانی دی، اور انشاء اللہ خون کے آخری قطرے تک آپ کی حقیقی آزادی کے لیے لڑتا رہوں گا۔ لیکن یہ ج��گ صرف عمران خان کی نہیں، پوری قوم کی ہے۔ اگر ہم آج اس ظلم و ستم کے خلاف کھڑے نہ ہوئے تو ہماری آئیندہ نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی- جمہور کی طاقت سے ظلم کے نظام کے خاتمے کا وقت آ پہنچا ہے، انشاء اللہ۔ آج میں احتجاج کی فائنل کال دے رہا ہوں۔ 24 نومبر کو آپ سب نے اسلام آباد پہنچنا ہے۔
چھبیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے 10 سال کیلئے غیر اعلانیہ مارشل لاء لگا دیا گیا ہے۔ ملک میں بوگس پارلیمنٹ، بوگس وزیراعظم، بوگس صدر اور بوگس جمہوریت ہے۔ اس وقت جنرل مشرف سے زیادہ خوفناک ڈکٹیٹر شپ قائم ہے۔ قانون کی بالادستی جمہوریت ازادی اور ملک کے مستقبل کو ختم کر دیا گیا ہے۔
اپنے سہولت کاروں کی مدد سے مینڈیٹ چوری کر کے ملک پر قابض مافیا کے زیر انتظام جاری فسطائیت کے نظام، آئین و قانون اور عدلیہ پر مسلسل حملوں، ہمارے بے گناہ لوگوں کو زندان میں میں ڈالنے والی جعلی حکومت کو بتانا ہو گا کہ قوم کو یہ سب نامنظور ہے۔
24 نومبر کے احتجاج کی قیادت ��حریک انصاف لیڈرشپ کرے گی۔ میں نے پارٹی رہنماؤں کو جامع احتجاجی پلان دے دیا ہے۔ میں نے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے، احتجاج کو لیڈ کرنے اور ختم کرنے کا اختیار اس کمیٹی کے پاس ہوگا۔ مذاکرات جب کرنے ہونگے جس سے بھی کرنے ہوں گے، ہینڈلرز جس کسی کو آگے کریں گے ہماری کمیٹی ان سے مذاکرات کرے گی-
میں اپنی پارٹی قیادت کو یہ ہدایت کرتا ہوں کہ احتجاج کی جامع منصوبہ بندی کریں اور اپنے حلقے کے لوگوں کو اس کے حوالے سے مکمل آگہی دے کر ایک بھرپور لیکن پرامن احتجاج کے لیے تیار کریں۔
جہاں یہ احتجاج پارٹی لیڈرز، ممبران اسمبلی، ٹکٹ ہولڈرز، ناظمین، اور صوبائی و مقامی تنظیموں کا امتحان ہے، وہیں یہ ہر طبقۂ فکر سے تعلق رکھنے والے عام آدمی کا بھی امتحان ہے۔ میں ہر طبقے بشمول اپنے کاروباری طبقے، سول سوسائٹی، قانونی برادری، کسانوں، ریڑھی بانوں، تنخواہ دار طبقے سے کہتا ہوں کہ اسلام آباد پہنچیں۔ میرے نوجوان اور طلباء، جن کا مستقبل بالخصوص داؤ پر ہے، ان کو یہ ہدایت دینا چاہتا ہوں کہ آپ نے اس تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ہے۔ اپنے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو بھی میرا یہ پیغام ہے کہ قوم کے مستقبل کی خاطر دنیا بھر میں احتجاج کا حصہ بنیں اور پارٹی کی فنڈنگ میں بھی بھرپور حصہ لیں-
مجھے اپنی قوم پر مکمل بھروسہ ہے اور میں یہ پیشنگوئی کر رہا ہوں کہ 24 نومبر کو پورا پاکستان اسلام آباد پہنچے گا اور عوام کا سمندر ہر رکاوٹ اور کنٹینر کو بہا لے جائے گا۔ اس دن یک زبان ہو کر پوری قوم کے یہی مطالبات ہوں گے:
- چھبیسویں آئینی ترمیم کالعدم قرار دے کر آئین کو اپنی پرانی حالت میں بحال کیا جائے
- چوری شدہ مینڈیٹ کی واپسی
- بغیر ٹرائل گرفتار سیاسی قیدیوں ک�� رہائی
میرے پاکستانیو، اب کی بار ہم نے اپنے مطالبات کی منظوری تک واپس نہیں لوٹنا”
ہم نے بنگالیوں، مہاجروں، پختونوں اور بلوچوں کی باتوں پر یقین کیا ہوتا تو آج یہ فتنہ اتنا طاقتور نہ ہوتا۔
ہم سب اس فتنے کی آبیاری کے مجرم ہیں اور آج جو کچھ ہمارے ساتھ ہورہا ہے، وہ ہمارے اسی گناہ کی سزا ہے۔
سزا کاٹ لیں گے، دوبارہ یہ غلطی نہیں کریں گے۔
دوبارہ کبھی اس فتنے کو گلیمرائز نہیں کریں گے۔
ن لیگ اور پی پی نے تابعداری کا لفظ تو چھوٹا ہے ، غلامی کا طوق پہنے وہ کارنامہ سر انجام دیا ہے جس کے بعد وہ یقیناً جمہوریت اور سویلین بالادستی کا راگ الاپنا چھوڑ دیں گے۔ادارے قوم کی ملکیت ہیں۔ تینوں سربراہان کو توسیع دینا دیگر افسران کی حق تلفی ہے۔ اور وہ بھی جعلی پارلیمان کے ذریعے۔