They will do everything except give people their rights. What a shame and what a tyrant retarded general running the country like his property
#سر_بکف_میدان_میں#عوامی_سمندر_سڑکوں_پر
مزاکراتی کمیٹی کو میرا بھیجا گیا ڈرافٹ یہ ہے جسے میں اپنی قوم کے سامنے رکھ رہا ہوں۔ پوری قوم کو یہ علم ہونا چاہئیے کہ ان میں سے ایک ڈیمانڈ بھی غیر آئینی و قانونی نہیں ہے۔ ہمیں دوسرے درجے کا شہری سمجھا جا رہا ہے۔ ہمارے ساتھ ریاست ہر قابض لوگ سوتیلی ماں جیسا سلوک کر رہی ہے۔ یہ ہمارے ڈیمانڈز تھے، ہیں اور رہیں گے۔
ملک میں سیاسی استحکام، آئین و قانون کی بالادستی، جمہوری عمل کے تسلسل، قومی یکجہتی، امن و امان کے قیام اور تمام سیاسی و قومی معاملات کو باہمی مشاورت اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے درج ذیل امور پر اتفاقِ رائے کیا جائے گا:
1۔وزیرِ اعظم پاکستان اور دونوں ایوانوں میں قائدینِ حزبِ اختلاف کے درمیان باقاعدہ ملاقات کا اہتمام کیا جائے گا، جس میں ملک کو درپیش تمام اہم سیاسی، قومی، آئینی، قانونی اور جمہوری معاملات، بالخصوص زیرِ التوا امور، پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔
فریقین اس امر کے پابند ہوں گے کہ باہمی مشاورت اور مذاکرات کے ذریعے مذکورہ امور کے حل کے لیے دو ماہ کے اندر مؤثر اور قابلِ عمل پیش رفت یقینی بنائی جائے۔
2۔وزیرِ اعظم پاکستان حکومتی اتحاد، پاکستان پیپلز پارٹی اور اپوزیشن جماعتوں کے نمائندگان پر مشتمل ایک مشترکہ سیاسی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دیں گے۔
یہ کمیٹی اپوزیشن کے ساتھ قومی و سیاسی معاملات، باہمی اختلافات اور دیگر اہم امور پر مسلسل مذاکرات کرے گی اور باہمی اتفاقِ رائے سے قابلِ عمل حل تلاش کرے گی۔ جمہوریت، سیاست، عدالت اور صحافت کی مکمل آزادی ہوگی۔
کمیٹی اپنے قیام کے بعد ایک ماہ کے اندر مذاکرات اور حل کے حوالے سے قابلِ ذکر پیش رفت یقینی بنائے گی اور اپنی سفارشات متعلقہ قیادت کے سامنے پیش کرے گی۔
3۔ جیل مینول، آئینِ پاکستان اور مروجہ قوانین کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی کو حاصل تمام قانونی، انسانی اور طبی حقوق بلاامتیاز فراہم کیے جائیں گے۔
ان کے علاج و معالجے کے سلسلے میں، جہاں قانوناً قابلِ اطلاق ہو، ان کے ذاتی/نامزد ڈاکٹروں کی طبی رائے، ہدایات اور مشوروں کو مدِنظر رکھتے ہوئے ضروری طبی سہولیات اور علاج معالجے کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔
4۔جیل مینول اور متعلقہ قوانین کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی کو اپنے اہلِ خانہ، نامزد وکلاء اور مجاز/نامزد رفقاء سے ملاقات کا حق فراہم کیا جائے گا۔
ملاقاتوں کا انعقاد قانون اور جیل قواعد و ضوابط کے مطابق ہوگا۔ تاہم ملاقات کی سہولت کو کسی بھی فریق کی جانب سے ایسے سیاسی یا دیگر مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا جو قانوناً ممنوع ہوں۔
5۔عمران خان، بشریٰ بی بی، خواتین، معمر اور بیمار قیدیوں سمیت تمام زیرِ حراست افراد کی جانب سے سزاؤں کے خلاف دائر درخواستوں اور دیگر قانونی درخواستوں پر آئین و قانون کے مطابق دس دن کے اندر غور کا عمل شروع/مکمل کیا جائے گا، جہاں قانوناً ایسا ممکن ہو۔
تمام مقدمات کا فیصلہ متعلقہ عدالتیں اور قانونی فورمز آئین، قانون، شفاف عدالتی طریقۂ کار اور انصاف کے اصولوں کے مطابق، بلاجواز تاخیر کے بغیر، کریں گے۔
خواتین جو سیاسی قید کاٹ رہی ہیں جن میں بزرگ یاسمین راشد اور بشری بی بی سرفہرست ہے اُن کو انسانی ہمدردی دکھاتے ہوئے جلد رہا کیا جائے۔
6۔خیبر پختونخوا میں جاری دہشت گردی کے خاتمے، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور مستقل و پائیدار امن کے قیام کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مؤثر، مسلسل اور بامعنی مشاورت کو یقینی بنایا جائے گا۔
اس مقصد کے لیے موجودہ پالیسیوں اور اقدامات کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے گا اور ضرورت کے مطابق ان میں مناسب ترامیم کی جائیں گی۔
وفاقی اور صوبائی حکومت کے مجاز نمائندگان 72 گھنٹوں کے اندر باقاعدہ اجلاس منعقد کرکے باہمی مشاورت سے امن و امان کے قیام کے لیے ایک واضح، جامع اور قابلِ عمل حکمتِ عملی مرتب کریں گے۔
اس حکمتِ عملی پر آئین و قانون کے دائرۂ کار میں رہتے ہوئے عمل درآمد وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مشترکہ ذمہ داری ہوگی۔
7۔ وفاقی حکومت کی جانب سے مذکورہ بالا یقین دہانیوں اور طے شدہ اقدامات پر مؤثر عمل درآمد کی تحریری یقین دہانی کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف موجودہ لانگ مارچ کو منسوخ کرنے کا اعلان کرے گی۔
تاہم اگر وفاقی حکومت طے شدہ یقین دہانیوں، مذاکراتی عمل یا آئینی و قانونی تقاضوں کی خلاف ورزی کرے یا مذاکراتی عمل کو بلاجواز تعطل کا شکار کرے تو پاکستان تحریکِ انصاف آئین و قانون کے مطابق اپنے پُرامن، جمہوری اور قانونی احتجاج کے حق کو محفوظ رکھے گی۔
I’ve been instructed to call on the public not to attempt to march or protest nearby Adiala jail on 27 March. I’ve heard from sources that this may be used as an excuse for the establishment to launch a “counter” assault on the jail (Which my father is being held in), which could endanger his life. Please do not give them any reasons for “accidents” to happen to my father during the protest.
انٹرنیٹ بند ہونے کی صورت میں چیٹ فورٹ ایپ آپکی مدد کرے گی اب یہ مت کہیئے گا کہ لنک بھی شیئر کروں ایپ کی اپڈیٹ اینڈرائیڈ کیلئے آچکی ہے ایپل کیلئے اگلے 48 گھنٹوں میں ہوجائے گی انشاء اللہ
There is little choice left for the people of Pakistan.
Either remain silent while their chosen leader is imprisoned. Whilst his family is detained, his party is suppressed and justice is denied - or come out peacefully and exercise their fundamental right to protest.
You can arrest families and threaten people with violence. But you cannot imprison 250 million Pakistanis or crush the will of a generation.
No regime is more powerful than its people. The world must watch as the people of Pakistan come together to demonstrate their plea for justice, even in the face of threats of violence.
Inshallah, Pakistan’s future will be decided by its people, not by criminals who rule through fear.
عاصم منیر، گدی تو آپ کو چھوڑنی پڑے گی! آپ کی طاقت نہتی 70 سالہ نہتی عورتوں پر ہی چلتی ہے! جو طاقت یہاں دکھا رہے ہو یہ بلوچستان یا جنوبی پختون خواہ میں دکھاؤ نا!
میں جی ایچ کیو نہیں ہوں جو زمینوں پر قبضہ کرے۔ تمہارے جھوٹے الزاموں کا بھی مقابلہ کروں گا۔ کل ہی اوقاف کے نوٹس کے خلاف دعوا دائر کرونگا۔
میرے پاکستانیوں، خصوصاً نوجوانوں یہ اس GHQ کی ناجائز مَلَت سے چھٹکارا حاصل کرنے کا وقت ہے۔
27 کو اسلام آباد پہنچیں!
Important Message from Former Prime Minister Imran Khan from Adiala Jail - 22 July 2025
Note: This tweet is based on the tweet from July 24, 2025.
“Never in the history of Pakistan has any political leader been subjected to the treatment that I am currently enduring. Nawaz Sharif committed corruption worth billions and was nevertheless granted every possible comfort in prison. In contrast, never before has the innocent and apolitical spouse of a political figure been imprisoned under such inhumane conditions as those imposed upon Bushra Bibi.
I am enduring the harshest prison term in the country’s history solely for the supremacy of the Constitution and in service of my nation. The level of oppression and authoritarianism is such that even the water I have for ablution is filthy and contaminated with dirt, unfit for any human being. Books sent to me by my family have been withheld for months. Access to television and newspapers has also been suspended. I have spent countless hours re-reading the same old books, but now even those are no longer available.
All my basic human rights have been violated. Even the minimum facilities accorded to ordinary prisoners under the law and the jail manual are denied to me. Despite repeated requests, I have not been allowed to speak to my children. Political meetings have also been restricted; I am only permitted to meet certain ‘choice individuals’, while all other interactions are barred.
I am waging a battle against a 78-year-old system, and my greatest success is that despite unprecedented oppression, the public stands firmly with me.
On February 8th (2024), the people expressed their trust in Pakistan Tehreek-e-Insaf by voting for you even in the absence of an electoral symbol. After such a clear mandate, it is the moral and political responsibility of every party member to become the voice of the people. It will be nothing short of disgraceful and condemnable if PTI leaders waste time on internal conflicts at this critical juncture. Anyone found engaging in factionalism within the party will be expelled. I am fighting for the future of our generations, and every sacrifice I make is for that cause. To create rifts within the party at this time would be a direct betrayal of my mission and vision.
The so-called government formed through Form 47 has crippled the judiciary through the 26th Constitutional Amendment. The way biased judges are now delivering blatantly unjust verdicts under these courts is visible to the entire nation. We must launch a robust campaign to liberate the judiciary, for no nation can survive, let alone progress, without judicial independence.”
And it get’s worse.
My cousin Shahrez’s 2 children of 4 and 6 years old are now missing.
There is no limit to their cruelty. Complete disregard for humanity.
واضح ہو گیا ہے کہ ہمارے جرنیل یا اسٹیبلشمنٹ، انڈیا سے بڑھ کر ہمارے دشمن ہیں۔ کوہاٹ کے دھماکے کے بعد محسن نقوی آ کر کہہ رہے ہیں کہ جماعتِ اسلامی یا تحریکِ انصاف اپنے دھرنے ختم کرو۔
تم نے پہلے بھی اپنا مفاد حاصل کرنے کے لیے بے قصور لوگوں کو قتل کیا ہے۔ تم جو اتنی مہنگائی کر رہے ہو، عوام کو لوٹ رہے ہو، تو عوام اسلام آباد کیوں نہ آئے؟ پیٹرول پر لیوی کس چیز کی ہے؟ کیا آئی پی پیز تمہارے نہیں ہیں؟ غریب عوام کہاں جائیں؟ کوئی بات ہو جائے تو آئی ایم ایف کو سامنے کر دیتے ہو۔
تمہیں آئی ایم ایف گیارہ، گیارہ ارب کے جہاز لینے دیتا ہے، لیکن عوام کو ریلیف نہیں دینے دیتا۔ ان کے پاس اس جہاز کی کوئی جسٹیفکیشن نہیں ہے۔
مریم نواز نے برطانیہ جانے کا اڑھائی کروڑ روپے کرایہ دیا ہے۔ اگر یہ جہاز نہ ہوتا تو بھی آپ اڑھائی کروڑ میں سفر کرتیں۔ کل وہ ملتان میں اپنے UK کے سفر کی رسیدیں پیش کر رہی تھیں۔
کل مریم نواز ملتان میں کہہ رہی تھیں کہ کارڈیالوجی میرے والد نے بنایا۔ جس مینارِ ہسپتال میں وہ کھڑی تھیں، اس کا آغاز کس نے کیا؟
کارڈیالوجی کا منصوبہ میں نے بنایا، جب میں ہیلتھ منسٹر تھا۔ اس کے فنڈز بھی میں نے مختص کیے۔ مینار کینسر ہسپتال پہلے سے موجود تھا، لیکن میں نے اسے بھی اپ گریڈ کیا اور جدید مشینری فراہم کی۔
میرے علاوہ ملتان کے کسی اور ممبر نے نشتر کالج، ایئرپورٹ اور باقی بڑے بڑے منصوبوں کا مطالبہ ہی نہیں کیا۔ صرف میں تھا جو اس خطے کے لیے آواز اٹھاتا رہا۔
نواز شریف ایئرپورٹ کا کریڈٹ یوسف رضا کو دیں گے، کارڈیالوجی کا کریڈٹ پرویز الٰہی کو دیں گے، اس کا فنڈ فنانس ڈویژن سے بھی میں نے منظور کروایا، لیکن جاوید ہاشمی کا نام وہ کبھی نہیں لیں گے۔ حالانکہ کبھی یوسف رضا اور پرویز الٰہی نے کبھی کلیم بھی نہیں کیا۔
اس وقت میاں نواز شریف خود کہتے تھے کہ جاوید ہاشمی بازو مروڑ کر کام لے لیتا ہے۔
میرے بھائی کا فارم اب گرایا گیا ہے۔ کیا میں نے مریم نواز کا نام لیا؟ میں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ نے گرایا۔ ان کی اتنی ہمت بھی نہیں۔
میرا کنٹرول شیڈ عمران خان کی حکومت میں گرایا گیا۔ مجھے پتا تھا کہ گرانے والی اسٹیبلشمنٹ ہے۔
میں اگر ان کی کرپشن کا حصہ دار بنتا تو اپنے علاقے میں کوئی ترقیاتی کام نہ کروا سکتا۔ اگر میں نواز شریف کی شوگر مل کی پیشکش مان لیتا، پلاٹ لے لیتا، تو آج بات کرنے کے قابل نہ ہوتا۔ مجھے اپنے موقف کی قیمت چکانا پڑتی ہے۔
سہیل آفریدی مضبوطی سے کھڑا ہے، اسے salute کرتا ہوں۔
آج پاکستان کا جرنیل بزدل اور ڈرپوک ہے، ورنہ اسی مٹی نے دنیا کے بہادر ترین جرنیل پیدا کیے ہیں۔ تم نے ان کا نام مٹی میں ملا دیا۔
مجھے یہ کیوں نہیں پکڑتے؟ پہلے ایک عمران خان ان سے نہیں سنبھل رہا۔
میرا پیغام چودہ کروڑ لوگوں تک پہنچا ہے، مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر، جیسے ٹوئٹر، فیس بک، یوٹیوب، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک وغیرہ۔