میاں محمد بخشؒ فرماندے:
نیچاں دی اشنائی کولوں، فیض کسے نئیں پایا
ککر تے انگور چڑھایا، ہر گچھا زخمایا
جا او نیچا!
سبق ایہ اے کہ نہ کدے کسے نیچ نوں اپنا وڈا منّو، تے نہ ایہدی خوشامد یا ہتھ چم کے اوہنوں عزت بخشو۔ نیچ بندہ عزت دا حق دار نئیں ہوندا، بلکہ عزت دی توہین بن جاندا اے۔
مسلمانوں کے ہاں سیدنا رسول اللہ ﷺ کو عطا کردہ علمِ غیب کی بحث اکثر صرف ایک اعتقادی مناظرہ بن کر رہ جاتی ہے، جہاں مختلف طبقات ایک دوسرے کے خلاف برسرِ پیکار دکھائی دیتے ہیں۔ حالانکہ اس مسئلے کی اصل اہمیت محض عقیدت یا فضیلت کے اظہار تک محدود نہیں، بلکہ یہ امتِ مسلمہ کی فکری، تہذیبی اور سیاسی بصیرت سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔ درحقیقت سیدنا رسول اللہ ﷺ کے عطا کردہ علمِ ماکان و مایکون کا انکار صرف ایک نظری اختلاف نہیں، بلکہ امت کی تاریخی شعور، مستقبل بینی اور اجتماعی بصیرت کے انکار کے مترادف ہے۔
المیہ یہ ہے کہ جو لوگ اس علم کے قائل بھی ہیں، وہ اکثر اسے صرف ایک معجزہ یا خصوصی فضیلت کے طور پر دیکھتے ہیں، جبکہ اس کی تہذیبی اور تزویراتی ناگزیریت کو سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں۔ اگر امتِ مسلمہ سیدنا رسول اللہ ﷺ کے عطا کردہ علمِ مایکون سے مستقبل کی سمتوں کو پہچاننے کی صلاحیت حاصل کرے، علمِ ماکان سے تاریخ کے اصول و اسباق اخذ کرے، اور حال کو محض اضطراب نہیں بلکہ ایک مہلت اور موقع کے طور پر قبول کرے، تو وہ اپنی سیاسی، فکری اور تہذیبی حکمتِ عملی کو ایک نئی بنیاد فراہم کر سکتی ہے۔ یہی وہ زاویۂ نظر ہے جو امت کو زوال کی کیفیت سے نکال کر دوبارہ عروج کی راہوں پر گامزن کر سکتا ہے۔
بعض اہلِ فکر کا یہ مؤقف ہے کہ موجودہ عالمی جیوپولیٹیکل تبدیلیوں، تہذیبی تصادمات، اور بین الاقوامی طاقتوں کی تزویراتی حرکیات کو اگر مسلمان صحیح معنوں میں سمجھ سکتے ہیں تو اس کی بنیادی کنجی سیدنا رسول اللہ ﷺ کے عطا کردہ علمِ معادیات اور پیش گوئیوں کو ایک سیاسی و تہذیاتی منہج کے ساتھ پڑھنے میں مضمر ہے۔ اسی تناظر میں ایک بھائی کی 10 محرم الحرام 2022ء میں تحریر کی گئی ایک فکر انگیز تحریر آج بہت سے واقعات کی روشنی میں حقیقت کا رنگ اختیار کرتی محسوس ہوتی ہے۔
اس گفتگو کو عوام کے سامنے رکھنے کا مقصد محض ایک اعتقادی بحث کو دہرانا نہیں، بلکہ اس حقیقت کی طرف توجہ دلانا ہے کہ قرآن و سنت کی روشنی میں سیدنا رسول اللہ ﷺ کو علمِ ماکان و مایکون عطا ہوا۔ لہٰذا وقت کا تقاضا یہ ہے کہ امتِ مسلمہ اس علم کے انکار یا محض جذباتی دفاع سے آگے بڑھے، اور یہ سوچنے لگے کہ اس نبوی بصیرت سے رہنمائی حاصل کر کے اپنے اجتماعی مستقبل، سیاسی حکمتِ عملی، اور تہذیبی بقا کو کس طرح سنوارا جا سکتا ہے۔
یہ انداز کسی اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سرکاری ملازمین کا نہیں ہے ایسا لگتا ہے ڈاکو دکان میں گھس گئے ہیں ، اصل قصور حکومت کا نہیں ان سرکاری ملازمین کے والدین کا ہے جنہوں نے اپنی اولاد کو عام آدمی سے بات کرنے کی تمیز نہیں سکھائی
ماآن کے عالمی دن کی آڑ میں کراچی میں عورت مارچ کا ہولناک منصوبہ سامنے آگیا۔
گرفتاری کے ڈرامے کی حقیقت سامنے آگئی۔
عورت مارچ کا غلیظ ایجنڈا نسلوں کو تباہ کردے گاـ
عورت حقوق کے جعلی منجن سے اپنی نسلوں کو بچائیں ورنہ اس سے برا حال ہوگا۔
سلمان علی کی اس تازہ وڈیو میں عورت مارچ کا غلیظ ایجنڈا ہم سامنے لا رہے ہیں۔
غیر شادی شدہ لوگ احتیاط سے دیکھیں
#shaoorfeed #AuratMarch #SocialDebate #shemakermani #currentaffairs #shaoornews