کرپٹ سسٹم میں نوکریاں ، تمغے، انعامات ، ترقیاں پانے کا آسان طریقہ۔۔ عمران خان کو گالیاں دو، سزائیں دو۔ برا بھلا کہو۔۔ نظام کے تلوے چاٹو۔۔ اور امیر ہو جاؤ۔۔
عمران خان کو سزاسنانے والا جج بھی ہائیکورٹ کا جسٹس بن گیا
عمران خان کے خلاف کیس لڑنے والا وکیل بھی ہائیکورٹ کا جسٹس بن گیا۔۔
عمران خان کی بہنوں سے ملاقات کو سیکیورٹی تھریٹ کہنے والا ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد بھی اسلام آباد ہائیکورٹ کا جسٹس بن گیا۔۔
ایسا جسٹس کبھی دیکھا نہ سنا🙂🙂
انہوں نے پہلے اپنی بھوک ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اور بھوک کتنی ہے اس کا فیصلہ بھی انہوں نے ابھی نہیں کیا۔
جیسے شادی میں کھانا کھلتا ہے۔ اور دنیا ٹوٹ پڑتی ہے۔ ایسے ہی بلکل مڈل کلاسئیے پڑ گئے ہیں اور محسن کی کوئی پرواہ نہیں۔
عمران خان ساڑھے تین سال وزیراعظم رہے۔ کبھی ان کی بہنیں وزیراعظم ہاؤس نہیں آئیں۔ لاہور آتے تھے مگر بہنوں کو کبھی وزیراعلیٰ ہاؤس نہیں دیکھا گیا۔ فیملی کے کسی فرد کے پاس پارٹی کا کوئی عہدہ نہیں۔ باوجود اس کے ایک منگل کا دن بھی ایسا نہیں جب وہ عمران خان کے لیے آواز اٹھانے اڈیالہ جیل کے باہر نہ گئی ہوں۔ آواز اٹھانے کے جرم میں انہیں مختلف فسطائی حربوں کا سامنا کرنا پڑا مگر وہ ڈٹ کر کھڑی ہیں۔
بیرسٹر شہزاد اکبر
تحریک انصاف میں بلو پاسپورٹ والوں کی بھی جگہ نہیں ہے۔
تحریک انصاف میں عمران خان کی قید پر خاموش تماشائیوں کی بھی جگہ نہیں ہے
تحریک انصاف میں انڈر کور ایجنٹوں کی بھی جگہ نہیں ہے
تحریک انصاف میں منافقوں کی بھی جگہ نہیں ہے
تحریک انصاف میں دبے پاؤں کی بھی جگہ نہیں ہے
دکھ ہوتا ہے کہ کبھی صرف آپ کی تقریر سن کر ہم نے آپکو لیڈر لیڈر سمجھ لیا تھا۔
خود تو آپ لوگ کچھ کر نا سکے،ہاتھ پر ہاتھ دھرے اپنی اپنی زندگی گزار رہے ہیںاور عمران خان وہاں 8/10 کے کمرے میں سخت گرمی میں اپنی زندگی قربان کر رہا ہے، اب اسکے گھر سے کوئی صرف ریلی کے لئیے باہر نکلا ہے تو آپ کو موروثیت یاد آگئی۔
حد ہے ویسے اتنا خوف۔
آپ لوگوں نے کچھ کیا ہوتا تو عورتوں کو یہ جنگ لڑنی ہی نا پڑتی،چھوڑیں موروثیت۔
بلکل جڑیں گے۔ عوام و کارکنان نے بہت وقت قیادت کا منہ دیکھا۔سب نے فٹ بال کی طرح فیصلہ ایک دوسرے کو کِک کر دیا، کارکن یہی کہتا تھا کہ خان کا خاندان اسٹینڈ لے اور کنفیوزن دور کرے، اب عمران خان کے گھر سے کوئی میدان میں آیا ہے تو اب عمران خان کی خاطر ہر مخلص کارکن ساتھ دے گا۔
"پاکستان کے لئے اور عمران خان کے لیے ہمیں جدوجہد مضبوط کرنی پڑے گی، اس ظلم کے خلاف کھڑے ہونا ہے عمران خان آٹھ ماہ سے اس لیے قید تنہائی میں ہے کہ یہ اس سے خوفزدہ ہیں اور اس خوف کی وجہ یہ ہے کہ عمران خان عوام کی آواز ہے، اب وقت آگیا ہے نکلنے کا اور اب جب ہم نکلیں گے تو پھر واپس نہیں آئیں گے"۔ دیر بالا واڑی میں علیمہ خان کا خطاب
دیر بالا کی تحصیل واڑی میں لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا، "پہل خیبرپختونخوا نے کرنی ہے، خیبرپختونخوا ہی اس جدوجہد کی قیادت کرے گا۔ اس کے بعد پنجاب بھی ساتھ نکلے گا۔ اس لیے بھرپور تیاری کریں، وقت قریب آ چکا ہے۔"
انکو مزید کتنے سال چاہئیے پاکستان کی ترقی کے لئیے؟
تقریبا تیس سال حکومت کر کے انہوں نے اتنی ترقی کی کہ اپنی شکلیں حالتیں بدل لیں،خاندان کے خاندان امیر کر لئیے اور ملک و عوام کا خون چوس لیا۔
اب عوام اس سے زیادہ ترقی برداشت نہیں کر سکتی۔ جان چھوڑ دیں یہ جاہل اس ملک کی۔
ڈکٹیٹر سزائیں ہمیشہ انتہائی واہیات کیسز میں دلوا کر ثابت کرتے رہے ہیں کہ ہو گا وہی جو ہم چاہیں گے۔ اور عدالتوں نے ہمیشہ خود کو انکی اصیل کھوتی ثابت کیا ہے