Blatant HR violations were committed during #AzadiMarch. Protestors, including large number of women and children, were teargassed, baton charged, and their vehicles destroyed. None could have happened w/o blessings of SC and Bajwa Junta.
#PakistanUnderFascism#حقیقی_آزادی_مارچ
Pakistan's Fake Defence Minister keeps attacking Imran Khan's sons over their identity, the same man who dismissed Kashmiri identity when Kashmiris were being killed and protesting. Abroad he plays the liberal. At home he calls IK a 'Jewish agent' while parading himself as a 'true Muslim.' Textbook identity crisis.
“It was Asim Munir who ordered the shooting of unarmed civilians on November 26th. I reiterate there is no longer any room for dialogue because this group has completely hijacked the entire system.” Imran Khan (July 24, 2025)
#ستمبر27_انقلاب_کی_دستک
عمران خان، بشریٰ بی بی اور تقریباً ایک ہزار دیگر افراد غیر قانونی طور پر قید ہیں۔ گزشتہ تین برسوں کے دوران 40,000 سے زائد افراد کو قید کیا گیا اور بعد ازاں ضمان�� پر رہا کیا گیا۔ جو لوگ ضمانت پر ہیں، انہیں پورے پاکستان میں جھوٹے مقدمات اور جعلی ٹرائلز کا سامنا ہے۔
جب ججوں نے انصاف فراہم کرنے کی کوشش کی تو اس غیر قانونی حکومت اور ان کے آقاؤں نے 26ویں آئینی ترمیم منظور کر دی۔ اس ترمیم نے انہیں یہ آزادی دے دی کہ وہ ان ججوں کو ہٹا سکیں یا نظر انداز کر سکیں جو اپنے حلف کی پاسداری کرتے ہوئے انصاف فراہم کرنا چاہتے تھے۔ اس ترمیم نے سینیارٹی کے اصول کو ختم کر دیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کو چُن کر اس عہدے پر لایا گیا۔ انہیں یہ یقینی بنانے کی ذمہ داری دی گئی ہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو ضمانت نہ مل سکے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ان کی ضمانت کی درخواستوں کو سماعت کے لیے مقرر کرنے سے انکار کرتے ہیں۔
چیف جسٹس آف پاکستان کا انتخاب بھی سینیارٹی کے اصول کے برخلاف کیا گیا۔ چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی کو سپریم کورٹ کے ان تین ججوں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے تھا جنہوں نے حکم دیا تھا کہ عمران خان کو آزادانہ طبی معائنے اور علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے۔
گزشتہ روز، 16 ستمبر 2026 کو، ہم نے سپریم کورٹ کا انہدام دیکھا، جب انہی ججوں نے حکومت کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کو آگے نہیں بڑھایا۔ اٹارنی جنرل نے تو توہینِ عدالت کی سماعت میں پیش ہونے کی زحمت تک نہیں کی!
2007 میں وکلا نے آمر جنرل مشرف کو اس وقت جھکنے پر مجبور کر دیا تھا جب وہ عدلیہ کے ساتھ کھڑے ہونے اور قانون کی حکمرانی کے دفاع کے لیے سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ 2007 میں آمر مشرف نے بغیر قانونی تقاضے پورے کیے صرف چیف جسٹس کو عہدے سے ہٹایا تھا۔
2026 میں پورا عدالتی نظام منہدم ہو چکا ہے۔ 2007 میں ہم سب چیف جسٹس آف پاکستان کی بحالی کے لیے وکلا کے ساتھ کھڑے ہوئے تھے۔ 2026 میں ہم پاکستان میں انصاف کی بحالی کے لیے وکلا کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔
پاکستان انصاف لائرز فورم (ILF) کو فوری طور پر، بغیر کسی تاخیر کے، قیادت سنبھالنی چاہیے۔ عدالتی نظام کا انہدام ملک کو انتشار کی طرف لے جائے گا، اور پاکستان اس کا ہرگز متحمل نہیں ہو سکتا!
یہ وقت انصاف، عدلیہ اور قانون کی حکمرانی کے لیے کھڑے ہونے کا ہے!!!
سپریم کورٹ میں خان صاحب کے قانونی حقوق کی بحالی اور 18 اگست کے عدالتی حکم پر عملدرآمد کے لیے ڈاکٹر عظمیٰ خان کی جانب سے توہینِ عدالت کی دوسری درخواست دائر کر دی گئی ہے۔
گزشتہ منگل کو بھی عمران خان سے فیملی کی ملاقات نہیں کروائی گئی جبکہ انہیں بچوں سے فون پر بات کی سہولت بھی فراہم نہیں کی جا رہی، حالانکہ سپریم کورٹ اپنے 18 اگست کے حکم میں اہلِ خانہ سے ملاقات اور بچوں سے رابطے کی سہولت فراہم کرنے کی ہدایات دے چکی ہے۔
دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی گزشتہ روز عمران خان صاحب کی قیدِ تنہائی ختم کرنے، فیملی سے ملاقات کروانے اور بچوں سے بات کروانے کا حکم جاری کیا ہے، جس کی عدالتی حکم کی مصدقہ کاپی آج موصول ہونے کا امکان ہے۔
چنانچہ دونوں عدالتوں کے واضح احکامات پر عملدرآمد اور عمران خان صاحب کے قانونی و آئینی حقوق کی بحالی کے لیے مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔
درخواست کو دائری نمب�� Diary No. 18350/2026الاٹ کر دیا گیا ہے جبکہ باقاعدہ Criminal Orginal No_______/2026 الاٹ ہونا باقی ہے جس کے بعد سماعت کے لئے مقرر ہو گی۔
Our national icon, our hero, our mentor, identity and pride of Pakistan, our leader, the legend Imran Ahmed Khan Niazi.
On Sep 27th, we have one more chance to get him released, let’s give it all that we can to mobilize people and achieve high turnout!
#فیصلہ_اب_سڑکوں_پر_ہوگا
انتہائی تشویشناک صورتحال!!
قبائلی علاقے کے غیو�� عوام نے اپنی مدد آپ کے تحت کچھ مشکوک افراد کو گھیرے میں لے کر پکڑ لیا۔ سادہ کپڑوں میں ملبوس ان لوگوں نے بھیس بدلنے کے لیے جعلی داڑھی اور مونچھیں لگا رکھی تھیں۔
لوگ ان کو سزا دینے ہی والے تھے کہ فوج کے ایک کیپٹن نے آ کر انہیں روکا۔
کیپٹن کا کہنا ہے, یہ ہمارے اپنے لوگ ہیں اور فوجی اہلکار ہیں۔
اس بات پر عوام نے سیدھا مطالبہ کیا کہ اگر یہ ہمارے اپنے محافظ ہیں، تو پھر وردی کے بغیر یہاں بھیس بدل کر کیوں گھوم رہے ہیں
Floods. Fires. Blasts. Target killings. Corruption. Inflation. Poverty. Bribery. Theft. Robbery. Load shedding. Gas shortages. Unsafe drinking water. Adulterated food. Poor quality fuel. Broken healthcare. Failing education. Dysfunctional railways. Weak airlines. Terrible public transport. Broken roads. Filthy streets.
This is what the average Pakistani is forced to survive every single day.
یہ راولپنڈی ہے۔ ہر نالے ، ہر دریا کے آگے ایک عدد ڈی ایچ اے ہے۔ بدترین لینڈ ٹو ڈویلپمنٹ ریشو کیساتھ۔ ہر قدرتی آبی گزرگاہ کا رستہ روکتے ہوئے۔ آپ ڈوب نہیں رہے ہیں۔ آپ ڈبوئے گئے ہیں۔
This should be a moment of shame for every paid and unpaid tout of this incompetent regime who deliberately ignores the misery of ordinary Pakistanis and keeps selling the fantasy that everything is fine.
A court in Pakistan directed prison authorities to allow former Prime Minister Imran Khan to meet his jailed wife and other family members and speak to his sons by phone, according to a statement from his party https://t.co/XpbA7t1gAF
پنجاب کے شہر ڈوبنے کے جو ریکارڈ اس بار قائم ہوئے ہیں وہ کبھی نہیں ہوئے
مون سون میں اس طرح کے گجرات پنڈی وغیرہ سے ڈوبنے کی ویڈیوز بزدار دور میں آتی تو ہر طرف بزدار سے استعفی مانگا جارہا ہوتا جبکہ آج صورتحال یہ ہے کہ میڈیا کہتا ہے باقی صوبوں میں بھی مریم نواز ہونی چاہیے