اگر عدلیہ عالمی رینکنگ میں ان 10 یا 15 ہزار لوگوں کی وجہ سے130 ویں نمبر پر آئی یے تو ان سب کی طرف سے میں معافی کا آغاز کرتا ھوں. چیپ جسٹس صاحب اب آپ سے درخواست ھے کہ آپ بھی عدلیہ پر رحم کرتے ھوے اسے معاف کر دیں.
#امپورٹڈ_حکومت_نامنظور
نوازشریف میزائل ٹیکنالوجی کیخلاف تھے پیسے نہیں دیے پھر محترمہ کے دور میزائل کیلیے پیسے ملے ہمارے پاس دلی اور اس سے آگے کے شہروں کو ٹارگٹ کرنے کی صلاحیت ہے سنیے محسن پاکستان کے انکشافات
الیکشن جیتنے کے حوالے سے بڑا ثبوت سامنے🚨
سی این این امیرکی چینل نے عمران خان کو جرنل الیکشن 2024 کا فاتح قرار دیا اور انکو خراج تحسین پیش کیا کہ انہوں تاریخ رقم کرکے الیکشن جیل سے جیتا ہے
’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رسالت و نبوت ختم ہوچکی ہے، پس میرے بعد نہ کوئی رسول ہے اور نہ نبی۔
جو بک جائے گا جھک جائے گا وہ نوازا جائے گا جو اس نظام کیخلاف کھڑا ہوگا تن دیا جائے گا لیکن منصوبہ ساز بھول رہے ہین کہ وہ قلیل تعداد میں ہیں اور نظام کیخلاف ملک کی 90 فیصد آبادی ہے آپ نہیں لڑ سکتے!!
پاکستان کو دنیا میں مذاق بنادیاہے،میڈیا پرپابندی نہیں لگائی،اسکایہ مطلب نہیں میڈیاجھوٹ بولے۔۔چیف جسٹس
جی سر بجافرمایا،میڈیا ہی جھوٹا،میڈیا نےہی پاکستان کو دنیا میں مذاق بنادیاورنہ140ملکوں میں128ویں نمبر پر آنےوالی ہماری سچی عدلیہ کےفیصلوں نےتو ہمیشہ پاکستان کی شان ہی بڑھائی ہے۔۔
بریکنگ نیوز
الیکشن کمیشن ذرائع کا دعوی
گزشتہ 60 گھنٹوں میں پورے ملک میں قومی اسمبلی کی264 میں سے 83 نشستیوں پر"کارروائی"ڈالی گئی
ان میں 40 نشستیں ن لیگ، 20 نشستیں پیپلز پارٹی، 15 نشستیں ایم کیو ایم، 3 نشستیں ق لیگ، 2 نشستیں جے یو آَئی ف،2 آئی پی پی،1 نشست بی این پی کو"نوازی"گئی
یزید نے امام حسین سے صرف ایک ووٹ مانگا تھا۔
امام عالی مقام نے پورا کنبہ شہید کروالیا لیکن غلط بندے کو ووٹ نہیں دیا۔
یہ ہے ووٹ کی اہمیت۔
8فروری کو یہ پڑھ کے جائیے گا
جج ابوالحسنات ذوالقرنین سزا سنانے کے بعد ایسا بھاگے کہ اگر 100 میٹر کی ریس میں بھاگتے تو جیت جاتے ان کو اولمپکس میں ہونا چ��ہئے۔۔عمران خان
تحریک انصاف کے ساتھ بے وفائی کرتا تو ’’ڈارلنگ‘‘ہوتا،ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں ایک اور تہلکہ خیز بیان دوں گا۔۔شاہ محمودقریشی
جنوری کی ایک شدید ٹھنڈی رات میں کالے شیشوں والی بھاری بھرکم لینڈ کروزر شہرِ اقتدار کی سڑک پہ تیزی سے اپنی منزل کی طرف گامزن تھی۔ بادلوں کی وجہ سے رات کی کالک میں مزید اضافہ ہو گیا تھا اور یہ اندھیرا پچھلی سیٹ پہ بیٹھی عورت کو ایک عجیب قسم کے سکون اور تحفظ کا احساس دلا رہا تھا۔ اُسے یہ تاریکی نظام پہ اپنے کنٹرول کا ا��تعارہ لگتی تھی۔ گاڑی ایک سیف ہاؤس میں داخل ہوئی اور آہنی دروازہ بند کر دیا گیا۔ وہ خاموشی سے اُتری اور ڈھیلے قدموں سے اپنے میزبان کے پیچھے چلتی ہوئی گھر کے اندر چلی گئی۔ بظاہر چاروں طرف خاموشی اور سناٹا تھا لیکن دیکھنے والی نظریں ساری صورتحال کو بغور دیکھ رہی تھیں۔
اُسے ایک نیم روشن کمرے میں صوفے پہ بٹھا دی گیا جہاں وہ ہونے والی ملاقات کا انتظار کرنے لگی۔ اُسے حالات کی نزاکت اور اِس ملاقات کی اہمیت کا بہت اچھے سے احساس تھا اور وہ اپنے ذہن میں مختلف متوقع سناریوز بنا کر خیالات اور جملوں کو ترتیب دے رہی تھی۔ یہی ملاقات اگر آج سے بہت سال پہلے ہوتی تو یقیناً وہ کچھ گھبراہٹ کا شکار ہوتی لیکن اب نہیں۔ زندگی کی پچاس سے زیادہ دہائیاں گزار لینے کے بعد اب وہ لاابالی اور نوجوان نہیں رہی تھی۔ تجربات کی بھٹی میں جل جل کے وہ ان معاملات میں گھاگ ہو چکی تھی، اور اچھے سے جانتی تھی کے اپنے مقصد کے حصول کے لیئے اُسے کیا کرنا ہے۔خصوصاً ایک مخصوص تنظیم کی جانب سے سر پرستی حاصل ہونے کے بعد وہ پہلے سے بہت زیادہ پر اعتماد ہو چُکی تھی۔ وہ اُن ہاتھوں کی لمبائی اور طاقت کا اچھے سے ادراک رکھتی تھی جو اب اُس کی اور بہت سوں کی ڈوریاں ہلا رہے تھے۔
سوچ کے یہی تانے بانے بُنتے کتنا وقت گزر گیا اُسے احساس ہی نہیں ہوا۔ باہر سے کسی کے قدموں کی مانوس چاپ سنائی دی اور پھر نمبر ٹو کمرے میں داخل ہوا۔
تمھاری پارٹی کی کارکردگی نے سب کو بے انتہا مایوس کیا ہے۔ وہ صوفے پہ بیٹھتے ہوئے بولا۔ ہم جو کر سکتے تھے ہم نے کیا اور اب بھی کر رہے ہیں۔ جو ڈیمانڈ تم نے کی ہم نے پوری کی یہاں تک کے عوام میں اپنی ساکھ تگ گنوا دی لیکن لوگ کسی طرح ماننے کو تیار نہیں ہیں۔ تمھارے باپ کے سیاسی لاش میں جان ڈالنا ناممکن ہے، ہم سب کر کے دیکھ چُکے ہیں۔
مجھے فضول جواب نہیں چاہئیے، اُس نے جارحانہ اپروچ سے گفتگو کا آغاز کیا۔ تم لوگ ابھی بھی خان کو بہت زیادہ ڈھیل دے رہے ہو۔ مجھے یہ مت بتاو کے تمھارے پاس الیکشن مینیج کرنے کے طریقے ختم ہو چُکے ہیں۔ نقصان ہم نے بھی بہت اُٹھایا ہے اور تمھاری اور تمھارے باس کی حمایت کرنے کے نتیجے میں اپنا بیانیہ ختم کروا چکے ہیں۔ اب فیملی کے کسی بھی فرد کی الیکشن میں ہار نا قابل قبول ہے۔
نمبر ٹو کے چہرے پہ ایک طنزیہ مسکراہٹ پھیل گئی اور وہ زہریلے لہجے میں بولا، عوام کچھ سننے کو تیار نہیں۔ لوگ اب سوال پوچھنے لگے ہیں، وہ سوال جن کے جواب ہم میں سے کسی کے پاس نہیں۔ حالات ایک حد تک سنبھالے جا سکتے ہیں اُس سے آگے نہیں اور یہ بات تم بھی اچھی طرح جانتی ہو کے ہم ملک کو کسی بھی حال میں سری لنکا نہیں بنا سکتے ورنہ سب سے زیادہ نقصان تمھارا اور ہمارا ہو گا۔ عوام جب تک گھروں میں ہیں حالات قابو میں میں ہیں، سڑکوں پہ آگئے تو ان کو کون سنبھالے گا؟
وہ اُس کی باڈی لینگوئیج اور لہجے کی کڑواہٹ کو بھانپ گئی اور دوسرا پانسہ پھینکا۔ اِس بار لہجہ پہلے سے بہت نرم تھا۔ تم کیسے بھول سکتے ہو کے ہم نے تمھاری پوزیشن برقرار رکھنے میں کیا کردار ادا کیا ہے۔ ہم نے جو کچھ بھی تمھیں اور باقیوں کو پہلے دیا ہے اُس کو دوہرانے کی کوئی ضرورت نہیں اور ہم مزید بھی دینے کو تیار ہیں۔ ہر چیز کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ تم صرف منہ سے بولو، جو، جتنا، جہاں، جیسے۔ نو بارگیننگ۔
وہ اُٹھ کے کھڑا ہوا اور کھڑکی سے باہر لگے پودوں کو گھورتا ہوا بولا تم سمجھ نہیں رہی۔ بات لین دین یا قیمت کی نہیں ہے معاملہ اس سے بہت آگے جا چُکا ہے ہم اپنا پورا زور لگا کے بھی تمھارا امیج نہیں بنا پا رہے، لوگوں کے دِلوں میں تمھاری نفرت اتنی گہری اتر چکی ہے کے وہ کسی طور بھی ماننے کو تیار نہیں۔
اب اُسے گھبراہٹ کا احساس ہوا اور ہاتھ کی پشت سے ہونٹ کے بالائی حصے سے پسینہ پونچتے ہوتے اُس نے اپنا آخری کارڈ کھیلنے کا فیصلہ کیا۔ وہ اُٹھی اور اُس کے پیچھے جا کے کھڑی ہو گئی۔ پہلا بھروسہ اُسے اپنی گردن پہ لگی مسحور کُن خوشبو پہ تھا۔ یہ وہی خوشبو تھی جو ماضی میں ہمیشہ اُس کے لیئے اپنے مقاصد کے حصول کا بہترین ہتھیار ثابت ہوئی تھی۔ اِس بار لہجے میں حد درجہ مٹھاس اور لجاجت تھی، جیسے منانے والیاں بولا کرتی ہیں۔ نرمی سے اُس کے کندھے کو چھوتے ہوئے بولی، دیکھو تم جلد بازی سے کام لے رہے ہو، یقیناً ابھی بھی بہت کچھ ہو سکتا ہے۔ یہ کہہ کے اُس نے اُسے اپنی طرف گھمایا اور گہرائی سے اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی، بہت کچھ۔
جاری ہے
1/2