*رمضان المبارک کا معمول*
1: روزانہ رات 10 بجے تک سو جائیں۔
2: رات 3 بجے اٹھیں۔
3: تہجد 3:30am سے 4:15am تک
4: 20 منٹ تک قرآن کا مطالعہ کریں، کم از کم 10 آیات معنی کے ساتھ 4:15am سے 4:35 تک، 10منٹ تک اپنی دعا کا مشاہدہ کریں، اپنی تمام خواہشات اللہ سے مانگیں۔
5: صبح 4:45 بجے سے فجر تک سحری کھائیں۔ سحری کھانے کے بعد صلاۃ الصبح کی تیاری کریں۔
6: نماز فجر مقررہ وقت پر ادا کریں،
7: صبح کا اذکار صبح 6 بجے/6:30 بجے تک کریں۔
8: صبح 7:30بجے تک آرام کریں اور پھر اٹھ کر دن کے لیے تیاری کریں۔
9: نوافل کا اہتمام کریں۔
10:صبح 9:00 بجے سے 11:30 بجے تک، قرآن پاک کو مسلسل سنتے رہیں۔
11: نماز ظہر مقررہ وقت پر ادا کریں اور 20 منٹ اذکار کریں پھر تلاوت قرآن مجید۔۔
12: عصر کی نماز مقررہ وقت پر ادا کریں اور 20 منٹ تک اذکار۔۔
13:غروب آفتاب کے وقت اپنا روزہ افطار کریں جس کی آپ استطاعت رکھتے ہو۔لیکن حسب توفیق نادار لوگوں خاص کر پڑوسیوں کو کچھ نہ کچھ ضرور بھیج دیا کریں۔۔
افطار کرنے سے پہلے اللہ سے جو کچھ اور ہر چیز مانگیں۔
افطار کے بعد نماز مغرب پڑھیں اور دعا کریں، آپ کی دعا رد نہیں ہوگی ان شاءاللہ۔
14: عشاء کی نماز اور نماز تراویح پڑھیں۔
15: تراویح کے بعد، دن پر غور کرنے کے لیے 5 منٹ سوچیں،اور اپنے آپ سے یہ سوالات پوچھیں۔کیا اچھا کیا؟اور کیا بہتر کرنے کی ضرورت ہے؟ کیا روکنے کی ضرورت ہے؟ مزید کیا بہتر کرنے کی ضرورت ہے؟
سب سے بڑھ کر اپنے صدقہ میں اضافہ کریں۔
اللہ پاک ہمیں صحت و تندرستی اور پختہ ایمان کے ساتھ رمضان المبارک کا مشاہدہ کرنے اور رمضان کے روزے رکھنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین .
(30 دن) میں روزانہ قرآن کا ایک حصہ مکمل کرنے کا طریقہ
الفجر: 4 صفحات
ظہور: 4 صفحات
العصر: 4 صفحات
مغرب: 4 صفحات
عشاء: 4 صفحات
ہر روز (15 دن) میں قرآن مجید ختم کرنے کے طریقے کے دو حصے ہیں۔
الفجر: 8 صفحات
ظہور: 8 صفحات
عصر: 8 صفحات
مغرب: 8 صفحات
عشاء: 8 صفحات
روزانہ ڈھائی حصے (12 دن) میں قرآن مجید ختم کرنے کا طریقہ
الفجر: 10 صفحات
ظہور: 10 صفحات
عصر: 10 صفحات
مغرب: 10 صفحات
عشاء: 10 صفحات
ہر روز (10 دن) میں قرآن مجید ختم کرنے کے طریقے کے تین حصے ہیں۔
الفجر: 12 صفحات
ظہور: 12 صفحات
عصر: 12 صفحات
مغرب: 12 صفحات
عشاء: 12 صفحات
یہ پروگرام اعلیٰ عزم کے حامل لوگوں کے لیے ہے۔
ہر روز (6 دن) میں قرآن مجید ختم کرنے کا طریقہ پانچ حصوں پر مشتمل ہے۔
الفجر: 20 صفحات
ظہور: 20 صفحات
عصر: 20 صفحات
مغرب: 20 صفحات
عشاء: 20 صفحات
اپنے تمام واٹس ایپ کے تمام کونٹیکٹس کو اور مختلف گروپس میں اس میسج کو پوسٹ کریں کیونکہ آپ نہیں جانتے کہ جب آپ کی وجہ سے کوئی صحیح طریقہ سے روزے رکھے اور قرآن پاک کی تلاوت مکمل کرے گا تو آپ کو کتنا ثواب ملے گا۔
*جزاک اللہ خیرا کثیرا*
👈 *فخرالدین پاشا__"مدینہ کا محافظ __!!"*
یقینا آپ اس نام کو پہلی بار سن رہے ہیں۔ یہ خلافت عثمانیہ کا وہ بہادر جرنیل تھا جو اکیلا تن تنہا عرب باغیوں اور برطانیہ اور اسکے اتحادی افواج سے 72 دن تک لڑتا رہا۔ اور بعد میں برطانیہ نے اسکے بہادری اور دلیری سے متاثر ہوکر انکو "صحرائی چیتا” یا "ٹائگر آف دے ڈیزرٹ” کا خطاب دیا تھا۔ تاریخ اسے مدینہ کا محافظ کے نام سے یاد کرتے ہے۔ وہ خلافت عثمانیہ کا ایک بہادر جرنیل تھا لیکن جس چیز نے اسکی شخصیت اجاگر کی وہ تھا اسکا حضورﷺ سے تعلق اور عشق۔
پہلی جنگ عظیم کے دوران برطانیہ تقریباً ہر جگہ سلطنت عثمانیہ کے ہاتھوں شکست پہ شکست کھاتا جارہا تھا تو اس کو ایک چال سوجھی۔ اس نے شریف مکہ حسین بن علی جو کہ حجاز کا گورنر تھا اپنے ساتھ اس لالچ پہ ملا لیا کہ جنگ کے اِختتام پر اسے مسلمانوں کا خلیفہ بنایا جائے گا۔ شریف مکہ نے خلافت عثمانیہ کے خلاف بغاوت کر دی اور مکہ اور جدہ پر قبضہ کر لیا. اسکے بعد وہ مدینہ کے طرف بڑھا۔ اسکے ساتھ انگریز اور فرانسیسی فوجیں بھی تھیں اور لارنس آف عریبیہ نامی بدنام زمانہ جاسوس بھی تھا۔ انہوں نے 1916 کو مدینہ کا محاصرہ کر لیا۔ یہ محاصرہ 1919 تک جاری رہا کیونکہ انکو یہاں کے عثمانی مجاہدوں کی طرف سے سخت مزاہمت کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔
اس وقت مدینہ شہر کا دفاع ایک عثمانی سپہ سالار فخری پاشا یا عمر فخرالدین پاشا کے زیر نگرانی تھا۔ یہ شخص انتہائی دلیر اور صاحب ایمان تھا۔ مدینہ منورہ کے باسی اسکی بہادری اور حسن انتظام پر اسے بہت پسند کرتے تھے۔ عربوں کی غداری کی وجہ سے عثمانیہ کو شدید دھچکا لگا اور برطانیہ اور اسکی اتحادی بڑی تیزی سے عثمانیہ کے علاقوں کو اپنی قبضے میں لیتے جارہے تھے۔ عثمانیہ کے اتحادی بلغاریہ کے ہتھیار ڈالنے پر جرمنی نے بھی ہتھیار ڈالے اور اسی وجہ سے بالآخر سلطنت عثمانیہ کو بھی برطانیہ اور اتحادی کے سامنے ہتھیار ڈالنے پڑے۔ اس وقت شریف مکہ اور ان کے بیٹے علی، فیصل اور عبداللہ اس خیال میں تھے کہ اب فخرالدین پاشا بھی ہتھیار ڈال دیگا اور مدینہ اسکے ہاتھ آ جائے گا لیکن فخرالدین پاشا نے ہتھیار نہیں ڈالے اور برابر لڑتا رہا.. مدینہ شہر کو سامان رسد پہنچانے والے ٹرین کو انگریز ناکارہ کرچکے تھے اور اسی طرح فخرالدین پاشا کو باہر سے کوئی امداد نہیں پہنچ رہی تھی۔ محاصرہ کے دوران مدینہ پر 130 بار حملہ کیا گیا اور 30 اپریل 1918 کو مدینہ کی مقدس سر زمین پر 300 بم برسائے گئے۔ کھانے پینے کے چیزیں ختم ہو چکیں تھیں اور فخرالدین پاشا اور اسکی فوج ٹڈے کھاتے رہے۔ لیکن ہتھیار نہیں ڈال رہے تھے اسلئے کہ اسکو خواب میں حضورﷺ نے حکم دیا تھا کہ ہتھیار نہیں ڈالنا۔ ایک ترک مصنف لکھتا ہے: "ایک مرتبہ 1918 میں جمعہ کے دن فخرالدین پاشا مسجد نبوی میں نماز کے دوران خطبہ دینے منبر کی سیڑھیوں پر چڑھنے لگا تو آدھے ہی راستے میں رک گیا اور اپنا چہرہ حضورﷺ کے روضہ مبارک کی طرف کرتے ہوئے عرض کیا: "اے اللّٰہ عزوجل کے رسولﷺ! میں آپﷺ کو کبھی نہیں چھوڑوں گا”۔ اس کے بعد اس نے نمازیوں اور مجاہدین سے ولولہ انگیز خطاب کیا۔ "مسلمانو! میں تم سے حضورﷺ کا نام لے کر جہاد کی اپیل کرتا ہوں جو اس وقت میرے گواہ بھی ہیں۔ میں تمہیں یہ حکم دیتا ہو کہ دشمن کی طاقت کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ان (حضورﷺ) کا اور ان حضورﷺ کے شہر کا آخری گولی تک دفاع کرو۔ اللّٰہ عزوجل ہمارا حامی وناصر ہو اور حضورﷺ کی برکت ہمارے ساتھ ہو۔ ترک افواج کے بہادر افسرو! اے چھوٹے محمدیو! آگے بڑھو اور میرے ساتھ مل کر اللّٰہ عزوجل اور اسکے رسولﷺ کے سامنے وعدہ کرو کہ ہم اپنے ایمان کی حفاظت اپنی زندگیاں لٹا کر کریں گے”۔ اس کے بعد فخری پاشا نے کہا کہ اسے خواب میں حضورﷺ نے حکم دیا تھا کہ وہ ابھی ہتھیار نہ ڈالے۔ اگست 1918 میں جب اسے شریف مکہ کی طرف سے پیغام آیا کہ ہتھیار ڈال دو تو اس نے ان الفاظ میں جواب دیا: "فخری پاشا کی طرف سے جو عثمانی افواج کا سپہ سالار اور سب سے مقدس شہر مدینہ کا محافظ اور حضورﷺ کا ادنیٰ غلام ہے۔ اس اللّٰہ عزوجل کے نام سے جو ہر جگہ موجود ہے۔ کیا میں اس کے سامنے ہتھیار ڈالوں جس نے اسلام کی طاقت کو توڑا، مسلمانوں کے درمیان خونریزی کی اور امیرالمومنین کی خلافت پر خطرے کا سوالیہ نشان ڈالا اور خود کو انگریز کے ماتحت کیا۔ جمعرات کی رات میں نے خواب میں دیکھا کہ میں تھکا ہوا پیدل چل رہا تھا اس خیال میں کہ کس طرح مدینہ کا دفاع کیا جائے اچانک میں نے ایک جگہ پر خود کو نامعلوم افراد کے درمیان پایا جو کہ کام کر رہے تھے۔ پھر ان میں سے میں ایک بزرگ شخصیت کو دیکھا وہ حضورﷺ تھے۔
انہوں نے اپنا بایاں ہاتھ میری پیٹھ پر رکھا اور مجھ سے تحفظ کا احساس دلانے والے انداز میں کہا "میرے ساتھ چلو۔” میں ان کے ساتھ تین چار قدموں تک چلا اور پھر بیدار ہوگیا۔
👇
اپنے شناختی کارڈ پر موجود رجسٹرڈ سموں کی تعداد https://t.co/31vvCFGycS کے ذریعے چیک کریں یا شناختی کارڈ نمبر (بغیر ڈیش کے) 668 پر ایس ایم ایس کریں!
سموں کی تعداد درست نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ سروس پرووائیڈر یا پی ٹی اے سے رابطہ کریں.
#KnowYourSIM
وہ اسکالرشپس جس میں IELTS ضروری نہیں ہوتا:
1.Japan MEXT Scholarships 🇯🇵 - Open April
2.Turkey Burslari Scholarships 🇹🇷 - Open Now
3.Azarbhijan Scholarship 🇦🇿- Coming Soon
4.Hungry HEC Scholarships 🇭🇺- Closed Now
5. China CSC scholarships 🇨🇳- Open Now
6. MIS Malaysia Scholarships 🇲🇾 - Open April
7. KNB Indonesian Scholarships 🇮🇩- Soon
وہ اسکالرشپس جس میں IELTS ضروری ہوتا ہے۔ اس کے بغیر اپ اپلائی نہیں کرسکتے۔
1. Ful-Bright USA Scholarship 🇺🇲
2. King AbdulAziz Saudi Arabia 🇸🇦
3. King saud University Scholarship 🇸🇦
4.Bilkent University Scholarship 🇹🇷
5. France Effile Scholarship 🇫🇷
6. Common Wealth Scholarship 🏴
7. World Bank Scholarhsip 🇺🇲
8. MTCP Malasiya Scholarship 🇲🇾
9. Qatar KUS scholarship 🇶🇦
10. Itlay Scholarship 🇮🇹
11. Canada scholarships 🇨🇦
12. Australia Award Scholarships 🇦🇺
13. New Zealand Scholarships 🇳🇿
14. Poland Scholarships 🇵🇱
15. UK Cheaving Scholarships 🏴
16. Russia Open Door Scholarships 🇷🇺
17. Netherland Scholarships 🇳🇱
18. Ersumus Mundas scholarships 🇪🇺
19. KingAbdullah University Scholarships 🇸🇦
20. Vanier Scholarship Canada 🇨🇦
یہ صرف چند اسکالرشپس کے نام میں نے لکھے ہے۔ اگر اپ دنیا بھر کی تمام اسکالرشپس جو کہ ہزاروں میں ہے ان کو دیکھیں۔ تو %90 اسکالرشپس میں IELTS سرٹیفیکیٹ ضروری ہوتا ہے۔ اس کے بغیر اپ اپلائی نہیں کرسکتے۔ اور جن اسکالرشپس میں IELTS ضروری نہیں اس میں ہر سال دنیا بھر سے ہزاروں اپلیکشن جمع ہوتی ہیں اور مقابلہ سخت ہوتا ہے۔ جس میں سلیکشن کی چانیسیس کم ہوتا ہے۔ اور ان اسکالرشپس میں ان لوگوں کو زیادہ ترجیح دی جاتی ہے جن کے پاس IELTS سرٹیفکیٹ ہو۔ مثال کے طور پر ایک اسکالرشپس میں IELTS سرٹیفیکیٹ Optional رکھا ہیں اور دو Applicants ایک جیسے پروفائل کیساتھ جائے تو جن کے پاس IELTS ہوگا وہ اسے کو Consider کیا جائیگا!
یہ سب کہنے کا مقصد یہ تھا کہ IELTS سرٹیفکیٹ پاسپورٹ کے بعد ایک اہم ڈاکومنٹس ہے جو کہ اسکالرشپس کیلئے ضروری ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے اردگرد اتنی افواہ ہے کہ ٹیسٹ مشکل ہے یہ ہے وہ ہے۔ IELTS ٹیسٹ کوئی مشکل نہیں اگر اپنے 16 سال یونیورسٹی میں پڑھے ہو تو ایک مہینے کی تیاری کرو انگلش کی سیریز دیکھو کتابیں پڑھو تو اسانی سے اپ اچھے Band لے سکتے ہو۔۔۔.
𝗢𝗽𝗽𝗼𝗿𝘁𝘂𝗻𝗶𝘁𝗶𝗲𝘀 𝗶𝗻 𝗘𝘂𝗿𝗼𝗽 🇪🇺
یہ IELTS آپ کو اعلیٰ درجے کے اسکالرشپ حاصل کرنے میں مدد کر سکتا ہے جیسے ایراسمس منڈاس، اٹلی، آسٹریا وغیرہ۔ اور بھی سینکڑوں ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ کے پاس IELTS ہے تو آپ کے پاس کھٹکھٹانے کے لیے سینکڑوں دروازے ہیں، جب آپ کے پاس بہت سے مواقع ہوں گے تو آپ کو کہیں نہ کہیں سلیکشن کے امکانات بھی زیادہ ہوں گے۔ ۔IELTS پر آپ کی لاگت 50-60 PKR ہو سکتی ہے، جو اپنے برٹش کونسل کو ادا کرنے ہوتے ہیں یہ ٹیسٹ کی فیس ہوتی ہیں! لیکن آپ کو دسیوں یا سینکڑوں میں انعام ملے گا۔ اپنے آپ کو تیار کریں کیونکہ یہ کوئی مشکل نہیں ہے، صرف ایک عام امتحان ہے اور اس سے گزرنے کے لیے آپ کی توجہ کی ضرورت ہے۔
آپ 𝐒𝐚𝐮𝐝𝐢 𝐀𝐫𝐚𝐛𝐢𝐚، 𝐐𝐚𝐭𝐚𝐫 اور 𝐔𝐀𝐄 کی کسی بھی یونیورسٹی میں اپلائی کر سکتے ہیں (سوائے چند کے)۔
-------------------------------------------------------------------------
1/4
My respect for this man increase increase increase increase increase🥹
1 like = 1000 lannat on shushant🤬
1 Rt. =. 10000 lannat on shushant 🤬
We love our *PROPHET MUHAMMAD SAW*
#BoycottSushantMehta#Muslims#BoycottSushantMehta
اگر آپ Student یا کتابیں پڑھنے کے شوقین ہیں۔تو میں آپ کو ایسی Website بتارہا ہوں جس پر 2 کروڑ سے زائد Books اور 9 کروڑ سے زائد Papers موجود ہیں ۔
اور آپ سب کچھ Free Download کرسکتے ہیں :👇
#بریکنگ_نیوز
⭕ہر کوئی پوچھ رہا ہے کہ وہ شاندار وکیل کون ہے جس نے جنوبی افریقہ کی قانونی ٹیم میں اسرائیلی جنگی جرائم کے حوالے سے زبردست دلائل کے ساتھ عالمی عدالت انصاف میں مقدمہ لڑا
⭕آئیے آپ کو جنوبی افریقا کی اس بہادر خاتون کا تعارف کرواتے ہیں جو غزہ کے مظلوموں کا مقدمہ عالمی عدالت انصاف میں لڑ رہی ہیں
⭕ یہ خاتون جنوبی افریقہ کی ٹیم میں واحد مسلمان ہیں، قانون میں ڈاکٹریٹ کررکھی ہے اور انتہائی سمجھدار دانشور ہیں - ان کا نام عدیلہ ہاشم ہے جو جنوبی افریقہ کے شہر ڈربن سے تعلق رکھتی ہیں -
⭕ عدیلہ ہاشم جنوبی افریقہ کی ایک مشہور وکیل ہیں، جو آئینی حقوق اور سماجی انصاف کی اصلاحات میں کردار ادا کرنے میں مشہور ہیں۔
⭕اس نے 2010 میں غیر منافع بخش قانون کے مرکزی سیکشن 27 کی مشترکہ بنیاد رکھی، جہاں وہ مفاد عامہ کی قانونی چارہ جوئی پر توجہ مرکوز کرتی ہے، خاص طور پر پسماندہ کمیونٹیز کے لیے صحت کی دیکھ بھال اور تعلیم سے متعلق شعبوں میں۔ عدیلہ نے کئی اعلیٰ درجے کے مقدمات میں اہم کردار ادا کیا ہے، بشمول لائف ایسڈمینی سانحہ، جس میں 140 افراد ہلاک ہوئے۔
⭕وہ کہتی ہیں کہ وہ 1990 کی دہائی میں ہیبرون کے قتل عام کے بعد سے اس مسئلے سے تعلق رکھتی ہیں، اور کہتی ہیں کہ فلسطین میں نسل پرستی جنوبی افریقہ میں نسل پرستی سے بھی بدتر ہے۔
⭕2014 میں، عدیلہ نے جنوبی افریقہ سے "اوپن مارٹرس سٹریٹ" تنظیم کے ایک وفد میں شمولیت اختیار کی، جو غاصب صہیونی کی آباد کاری کے خلاف کام کررہی ہے
⭕عدیلہ ہاشم بہت پڑھی لکھی ماہر قانون ہیں - انہوں نے قانون میں اعلی ڈگریاں حاصل کررکھی ہیں اور جوڈیشل سائنسز میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی لے رکھی ہے
⭕عدیلہ ہاشم کو جون 2003 میں جوہانسبرگ بار ایسوسی ایشن کی رکنیت ملی۔ انہوں نے کئی ہائی کورٹس اور جنوبی افریقہ کی کئی آئینی عدالت میں کئی بڑے بڑے مقدمات لڑے ہیں اور عدالتوں میں عبوری جج کے طور پر کام بھی کر چکی ہیں۔
⭕عدیلہ ہاشم نے کئی قانونی فورم پر فلسطینی مسلمانوں کا مقدمہ بھی لڑا ہے
⭕اس وقت بھر پور تیاری کے ساتھ اور دلائل کے ساتھ عالمی عدالت انصاف میں اسرائیل کے جنگی جرائم کے ارتکاب کا مقدمہ لڑ رہی ہیں
(تحریر و رپورٹ : غلام نبی مدنی)
@GNMadani
نادرا نے شناختی کارڈ اور فارم ب بنوانے کا آسان طریقہ متعارف کرادیا،نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کی طرف سے عوام کی سہولت کے لیے بچوں کے ب فارم تیار کرنے کیلئے آسان ترین طریقہ متعارف کرواتے ہوئے گائیڈ لائنز جاری کر دی گئی ہے۔
https://t.co/ICYjnhniUG
Where is the Headquarter of_?
• BRICS - Shanghai
• ADB - Manila
• ASEAN - Jakarta
• UNDP - New York
• NATO - Brussels
• WTO - Geneva
•CHOGM - Londan
• OPEC - Vienna
• UNICEF - New York
• FAO - Rome
• IMF - Washington
• UNESCO - Paris
• WHO - Geneva
• UNEP - Nairobi
آپ بھی سوچیں گے کہ عائزے کے پاس اور کوئی کام نہیں جو سویرے ہی اتنا حساس موضوع چھیڑ رہی ہے
مگر میرا مطالعہ کہتا ہے لکھو لکھو معاشرے کی برائی کی نشاندہی نہیں کرنی تو قلم ٹیبل پہ رکھ کر دوسرے کاموں میں مشغول ہوجاو
میں نے لکھنے کو ترجیع دی
تو پڑھییے کہ
مرد شادی کے لئے ایک روایتی گھریلو عورت کا انتخاب کرتا ہےـ
دوسری طرف اسے وہ عورت بھاتی ہے
، جو شوخ چنچل، آزاد خیال، رنگین تتلی کی طرح ہر سوسائیٹی میں موو کرنے والی ہو...
. جس کے ساتھ رہنا، موبائل پر ساری ساری رات چیٹ کرنا پسند ہو....
لیکن اس سے وہ اپنی نسل نہیں چاہتا،
وہ اپنا بچہ اپنا نام روایتی بیوی سے چاہتا ہے
لیکن... چاہت کے درجے پر دوسری عورت آتی ہے
اور جسے بیوی کا درجہ دیتا ہے اسے نہ تو اپنا وقت دیتا ہے نہ چاہت......!
ایک سائیکالوجسٹ نے اسی موضوع پر کہا :کہ وہ چونکہ اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہا ہے تو بس کافی ہے....
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا آٹا دال چاول اور بچوں کی فیس ادا کر لینا ہی مکمل ازدواجی زندگی کہلاتی ہے؟
کیا دونوں فریق کا ایک دوسرے کو محبت توجہ اور ایمانداری کے ساتھ ایک دوسرے کو وقت دینا اہم نہیں؟
زرا اپنے کمفرٹ زون سے نکل کر کبھی سچ بھی لکھیں کہ ایک فریق کا دوسرے فریق کے منہ ول ویکھ کر پڑھ پڑھ کر پھونکیں مارنے سے کہ، اس کا دل بدل جائے...فقط طفل تسلی نہیں ہے؟
دعاؤں،استخاروں،دم درود، اور صبر شکر کے ساتھ جو گزرتی ہے.. وہ دراصل زندگی نہیں ہوتی....فقط سمجھوتہ ہے....اور یہی اس سفر کا پہلا سچ ہے
اور یہ سمجھوتہ نجانے کیوں خوشگوار زندگی کی تھیوری سمجھ لیا گیا ؟
اور اسے چورن بنا کر بیچنا نصب العین.... ؟
ایک روایتی دقیانوسی عورت کو اتنی اہمیت اور وقت تو ملنا چاہیے کہ وہ خود کو گھر میں کام کرنے والی ملازمہ سے ایک لیول اوپر سمجھے....
گیم ساری صرف احساس کی ہے ۔