ہر میدان میں پاکستان اور مسلم امہ کا سر فخر سے بلند کرنے والے عالمی ہیرو عمران خان کی غیر قانونی قید کو آج ایک سال مکمل ہو چکا ہے۔ ان کے 'جرائم' کی طویل فہرست کا ایک جائزہ اس ویڈیو میں:
اگر مسئلہ 9 مئی ہے تو!!! یہ دہرا معیار کیوں؟
جو عمران خان کے ساتھ ڈٹ گیا اس پر ظلم کے پہاڑ ٹوٹے جس نے عمران خان کو چھوڑ دیا اس پر انعام و اکرام کی برسات، وہ آزاد ، آخر کیوں؟
#May9th_FalseFlag
The way Pakistani women stood up for Haqeeqi Azadi, they will be remembered and become part of our democratic history.
Also what will never be forgotten is the brutality of our security forces and the shameless way they went out of their way to abuse, hurt and humiliate our women.
Hundreds are languishing in jail in terrible conditions. This too won’t be forgotten.
میں نے ۹ مئی سے بہت پہلے گزشتہ سردیوں میں یہ ویڈیو ریکارڈ کروائی۔
اور مجھے ذرا سا بھی تعجب نہیں کہ تب سے سب کچھ اسی سکرپٹ کے مطابق ہورہا ہے جس کا ذکر میں نے اس ویڈیو میں کیا۔
آج رات پونے دس (9:45pm) بجے میں اپنے خطاب میں اسی سازش سے پردہ اٹھاؤں گا۔
اینکر : اپ کو نہیں لگتا عمران خان نے جو شادی کی تھی بشری بی بی سے وہ غلطی تھی.
میں یہ کہوں کہ مریم نے کیپٹن صفدر سے شادی کی تو وہ غلط ہے
اپ کسی کے گھر کیوں داخل ہو رہے
یہ صحافت نہیں حرامزادگی ہے
خلیل الرحمن قمر 💥 https://t.co/7TpcIcMSpM
ان بے شرموں کی قابلیت عام پاکستانی شہریوں کو گالیاں دینے تک تھی۔ڈنٹونک اور DGISPR نے ان ٹُوچوں سے جنگی کانٹینٹ بنوا دیا جس میں وہ پشتونوں کی توہین کر رہے ہیں۔ انکے مالکوں کو کوئی بتائے کہ سرحد کے دونوں طرف پشتون ہی ہیں۔انکے زمے گالیاں دینا ہی رہنے دیں۔
چوکیدار سارا سال مجھے مارتا رہا مجھ سے میرے حقوق چھینتا رہا ، آج اس کی ہمساۓ سے کوئ ذاتی لڑائ ہو گئی تو مجھ سے کہتا میرے حق میں بیانیہ بناؤ میرے ساتھ کھڑے ہو جاؤ م��ں اللہ کی جنگ لڑ رہا ہوں 🤷🏻♂️
سمجھ نہیں آرہ�� کیا کروں پلیز کوئ دانشور راہنمائ کرے 🙏
نوٹ : اس ٹویٹ کا سیاست سے کوئ تعلق نہیں بلکل ایسے جیسے فوج کا سیاست سے کوئ تعلق نہیں 🥲
"ماضی کے ڈکٹیٹرز کے ادوار میں بھی ظلم و ستم کی تاریخ رقم کی گئی مگر عاصم منیر نے ہر حد عبور کر لی ہے۔ دو سال میں پاکستان میں سویلینز کے قتل عام کے چار بڑے واقعات ہوچکے ہیں۔ جن میں پہلا 9 مئی، دوسرا 26 نومبر، تیسرا آزاد کشمیر اور چوتھا مریدکے قتلِ عام ہے۔ اپنی ہی عوام پر ایسا ظلم کسی بھی مہذب معاشرے میں نہیں ہوتا۔ سب سے زیادہ باعث تکلیف بات یہ ہے کہ ان تمام واقعات میں کوئی بیرونی دشمن نہیں، بلکہ اپنی ہی پولیس، رینجرز اور پیرا ملٹری فورس کے ہاتھوں اپنے ہی ہم وطنوں کو بےدردی سے شہید کیا گیا ہے جو سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز سے ثابت ہے۔
مجھے اس بات کی بھی بہت تکلیف اور افسوس ہے کہ قتلِ عام کے جتنے بھی واقعات ہوئے نہ ہی ان پر کوئی جوڈیشل کمیشن بنا نہ ہی انکوائری ہوئی اور نہ ہی ذمہ داران کو سزا سنائی گئی۔ میں چاہتا ہوں کہ مریدکے قتلِ عام پر جوڈیشل کمیشن بنا کر آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ کیونکہ قتلِ عام کے ان واقعات میں تعداد کے حوالے سے شدید ابہام پایا جاتا ہے جیسا کہ مریدکے واقعے میں سرکاری اطلاعات کے مطابق 4 مظاہرین جان سے گئے جبکہ متاثرہ فریق کے مطابق حقیقی تعداد 400 سے 600 تک ہے۔
قتلِ عام کی جوڈیشل انکوائری میں ظلِ شاہ کے قتل میں ملوث آئی جی پنجاب عثمان انور سمیت آئی جی اسلام آباد ناصر رضوی کو ضرور شاملِ تحقیقات کیا جائے کیونکہ قتلِ عام کے ان واقعات میں یہ بھی حصے دار ہیں۔
میں تاکید کرتا ہوں کہ خیبرپختونخوا میں ہمارے کارکنان اور عوام بعد از نمازِ جمعہ مریدکے قتلِ عام کیخلاف احت��اجاً نکلیں۔ یہ کسی ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ تمام پاکستانیوں کا فرض ہے کہ وہ اس بربریت کیخلاف آواز اٹھائیں اور جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ کریں۔ اس ظلم اور بربریت کا راستہ نہ روکا گیا تو باری باری سب اس کی زد میں آئیں گے۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی باعثِ تشویش ہے۔ دو مسلم ہمسایہ ممالک کے درمیان لڑائی کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہے، دونوں ملکوں کے درمیان تنازعات کو لڑائی کی بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کرنا بہتر ہے۔ جس طرح یہاں تین نسلوں سے مقیم افغان پناہ گزینوں کو دہائیوں کی مہمان نوازی کے بعد دھکے دے کر ملک بدر کیا گیا ہے، وہ بھی افسوسناک ہے۔ افغانستان ہمارا مسلم ہمسایہ ملک ہے۔ دہشتگردی سے متعلق معاملات بات چیت سے حل کیے جائیں۔
تاریخ سے ثابت ہے کہ ڈکٹیٹرز کبھی بھی امن نہیں لاسکتے- کیونکہ ملٹری ڈکٹیٹرز کو Military Solution کے علاوہ کوئی حل نظر نہیں آتا- یحیٰی خان سمیت تمام ڈکٹیٹرز کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں- یہ معاملات سیاستدان معاملہ فہمی سے حل کرتے ہیں۔ اگر ان سے نہیں ہوتا تو مجھے پیرول پر رہا کیا جائے تاکہ دیرپا امن کے قیام اور افغانستان سے تنازعے کے حل کے لیے میں اپنا کردار ادا کروں۔
ملکی حالات سے مایوس ہو کر پہلے ہی تیس لاکھ پاکستانی ملک چھو�� کر جا چکے ہیں۔ ملک سے تیزی سے ملٹی نیشنل کمپنیوں کا انخلاء جاری ہے۔ بیرونی سرمایہ کاری آنا تو دور کی بات ملک کے اندر سے بھی سرمایہ تیزی سے باہر جا رہا ہے۔ جب تک ملک میں امن نہیں ہوگا سیاسی استحکام نہیں آسکتا۔ اور سیاسی استحکام کی عدم موجودگی میں معاشی استحکام ممکن نہیں-
ملک میں لاقانونیت کا یہ عالم ہے کہ ہم اپنے ملک میں رہتے ہوئے ہی غیر محفوظ ہیں۔ کسی کو یہ نہیں پتہ کون کب سڑک پر مارا جائے یا اٹھا لیا جائے۔ آزادی اظہار پر شدید قدغن ہے، میڈیا کو بولنے کی آزادی نہیں، جس طرح علیمہ خان پر بےجا مقدمہ بنایا گیا ایسا کسی کے بھی ساتھ ہوسکتا ہے”
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام
(15 اکتوبر، 2025)
افسوس آفتاب اقبال نے فیض صاحب کی نصیحت پر عمل نہيں کیا اور پکڑے گئے۔
فیض صاحب کہتے ہیں جو سچ ہے صرف وہی بات کہو اور لکھو ورنہ تم جتنے بڑے بھی کاریگر ہو پکڑے جاؤ گے۔
عمران ریاض کا انٹرویو کرتے ہوئے جب آفتاب اقبال نے عمران خان کے لئے فریج میں سالم بکرا کئی دن تک رکھنے کی بات کی کہ خان صاحب سے اپنی محبت دکھا سکے تو پکڑا گیا۔ کہانی اس لئے بےتکی تھی کیونکہ بکرا فریج سے بڑا تھا۔
میں عظمی آپا کو اٹھاتے ہوئے واٹر کینن کے سامنے آئی اور میں نے آج پھر ریاست کا بدترین چہرہ دیکھا ہے
پانی کے بہاؤ سے میں فٹ پاتھ ��ے دور جاکر گری آپا کو لگا میرا سر پھٹ گیا ہے وہ مجھے اٹھا رہیں تھیں اور میں انہیں۔
میں نے آج خان کی بہنوں کے ساتھ اپنے ساتھ جو ہوتے دیکھا جو جیا وعدہ ہے اسکا پورا بدلہ لیا جائیگا۔
تمہاری دی گئی نفرت میرے لہو میں زہر کی طرح ہے مجھے ہر اس انسان سے نفرت ہے جو اس فسطائیت کے پیچھے ہے۔
وقت بدلے گا ضرور بدلے گا۔
“پوری قوم کو یہ سوال اٹھانا چاہیے کہ گندم اور چینی سکینڈلز کا کیا بنا؟
محسن نقوی اور نگران حکومت کے دور میں اربوں روپے کا گندم سکینڈل آیا اور موجودہ فارم 47 حکومت کے دور میں چینی کا میگا سکینڈل سامنے آیا، جن کی وجہ سے آٹا اور چینی عوام کی پہنچ سے دور ہو چکے ہیں۔
کیا ان سکینڈلز کی تحقیقات ہوئیں؟ یا اس مارشل لاء میں چوروں کے لیے عام معافی کا اعلان ہے؟”
س��بق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام
(8 ستمبر 2025)