Military leaders crushing elected governments is a terrifying pattern. Egypt saw this when General Sisi imprisoned Mohamed Morsi, starving him until he died in court.
They are running the Morsi playbook step by step.
Now Imran Khan is in a Pakistani prison under General Asim Munir, warning his family of a similar fate. It’s not a historical playbook; it’s about a man’s life who is the democratic choice of millions of Pakistanis.
Morsi’s slow-motion tragedy was ignored by the world, and Pakistan must not follow the same dark playbook.
#ContemptOfCourt
#StopTortureOnNationalHero
🇵🇰 Imran Khan's personal physician says he was tricked by Pakistani authorities during last night's hospital saga.
Dr. Faisal Sultan told reporters he was taken into police custody on his way to Adiala Jail, believing he was being brought to see Imran.
Instead he was driven in a convoy to Shifa International Hospital, while officials acted as though Imran was with them.
He says he waited nearly 4 hours, asking again and again where Imran was. Each time, he was told the former prime minister was on his way.
Then they told him Imran had already been taken back to Adiala.
If everything here was above board, why put his doctor in a fake convoy and leave him waiting on a patient who was never coming?
Writer: Julie
چند دن پہلے یہ کہا کہ عمران خان کے خلاف مُرسی ماڈل والا سلوک اپنایا گیا ہے، کل عمران خان نے بھی خود اِس بات کی تصدیق کردی۔ دنیا میں کوئی ایسا ملک نہیں جہاں قیدی کو علاج سے جبراً محروم کیا گیا ہو سوائے اِس بے حس، بے شرم نظام کے۔ سپریم کورٹ کا آرڈر روند ڈالا گیا۔
عاصم منیر نے جو جال بچھایا تھا، اسی تارِ عنکبوت میں وہ خود، ن لیگ اور پیپلز پارٹی بری طرح پھس چکے ہیں۔ یہ جماعتیں اپنی حیثیت جانتی ہیں۔ صوبے بن گئے تو ان کا نام لیوا بھی کوئی نہیں رہے گا۔
عاصم منیر تم کس کس سے لڑو گے؟ پٹھانوں سے لڑو گے؟ بلوچوں سے لڑو گے؟ کشمیریوں سے لڑو گے؟ سندھیوں سے لڑو گے؟ پنجابیوں سے لڑو گے؟ لڑ لو! نہیں ہرا سکتے!
عظمیٰ خانم، نورین خانم اور علیمہ خانم، آپ کا بھائی عمران خان، عاصم منیر کے اس دامِ فریب میں نہیں آیا۔ آپ مبارک باد کی مستحق ہیں۔
اس میں اس کی اپنی جرأت تو تھی ہی، کچھ ہم فقیروں کی دعائیں بھی شامل ہیں۔
تاریخ اپنا موڑ مڑ چکی ہے۔
'ہمت مرداں مدد خدا'
میری گاڑی میں جو پولیس کی اے ایس آئی تھی ،وہ میرے کسی سوال کا جواب نہیں دے رہی تھی ، ہمارے ساتھ ایسے سلوک کیا گیا جیسے ہم بھی قیدی ہیں، کیا کسی انسان کی کوئی dignity نہیں؟ ڈاکٹر عظمیٰ خان
سپریم کورٹ نے جو عمران خان کو ریلیف دیا ہے وہ قانون کے مطابق نہیں ہے ، ہم اس پر عملدرآمد نہیں کریں گے بلکہ نظر ثانی دائر کریں گے
ن لیگی وزراء نے پہلے ہی اعلان کردیا تھا کہ وہ فیصلے پر عملدرآمد نہیں کریں گے یہ تھی توہین عدالت !!
میرے پاکستانیو اور خصوصاً پاکستان کے نوجوانو
آپ سب کی کوششوں سے آج عمران خان صاحب کا چیک اپ اور علاج ان کی فیملی اور ذاتی ڈاکٹرز کی موجودگی میں الشفأ ہسپتال میں ہونے جا رہا ہے-
پاکستانیو۔۔ ابھی ہم نے مزید محنت کرنی ہے۔ آرام کا وقت نہیں ہے۔ یہ آپ کی کامیابی کا پہلا قدم ہے۔ آگے کا مرحلہ سخت ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں۔ ہم نے عمران خان، بشرٰی بی بی ، تمام لیڈران اور تمام ورکرز کو انصاف دلانا ہے اور ناحق قید سے آزاد کروانا ہے- بس آپ نے گھبرانا نہیں اور اپنے اللّٰہ پر ایمان کامل رکھنا ہے۔ انشاء اللّٰہ فتح حق اور سچ کی ہوگی۔
عمران خان صاحب کی حقیقی آزادی کی تحریک ابھی آگے لے کر چلنی ہے۔ حقیقی آزادی کی پہلی سیڑھی آزاد عدلیہ ہے۔ آزاد عدلیہ ہی صحیح معنوں میں انصاف کر سکتی ہے۔ عدلیہ کے انصاف سے ہی ہم نے اپنے لیڈر کو واپس لانا ہے۔ آزاد عدلیہ کی بنیاد آپ نے رکھنی ہے۔ آپ نے ہی حق پرست ججز کے بازو بننے ہیں۔ آپ کے تعاون سے ہی ان کو طاقت ملنی ہے۔
آپ لوگوں نے ایک آزاد، خوشحال، ترقی یافتہ اور خودمختار پاکستان کے لئے عمران خان صاحب کا انتخاب کیا ہے۔ مسلسل ان کا ساتھ دیا ہے۔ اگر آج بھی عمران خان صاحب اپنے مؤقف پر چٹان کی طرح کھڑے ہیں تو ان کی طاقت آپ ہیں۔ ان کی اُمید آپ ہیں۔ آج تک اگر وہ ہار نہیں مان رہے تو اُس کی ایک وجہ آپ ہیں کیونکہ آپ بھی عشق عمران سے باز نہیں آرہے۔ میں آپ لوگوں کی اس خلوص، اس عشق اور جہد مسلسل کو سلام پیش کرتا ہوں۔
یہ شخص سفید بالوں سے جھوٹ بولتا رہا۔ کبھی بھی ڈاکٹرز نے ایسا نہیں کہا تھا۔ بلکہ ڈاکٹرز نے کوٹ لکھپت جیل میں میری موجودگی میں نواز شریف صاحب کو سمجھایا تھا کہ انکا کوئی ایسا علاج نہیں جو ملک کے اندر نہ ہو سکے۔ یہ لوگ اس قدر جھوٹے اور مکار ہیں۔
پاکستان تحریکِ انصاف کا عطا تارڑ اور طلال چوہدری کی پریس کانفرنس پر شدید ردعمل
پاکستان تحریکِ انصاف عطا تارڑ اور طلال چوہدری کی پریس کانفرنس کو انتہائی افسوسناک، غیر ذمہ دارانہ اور شرمناک قرار دیتی ہے۔ عمران خان کی صحت جیسے سنجیدہ اور انسانی مسئلے کو سیاسی بحث، الزام تراشی اور پوائنٹ اسکورنگ کا موضوع بنانا حکومتی وزراء کی بے حسی اور غیر سنجیدگی کا واضح ثبوت ہے۔
عطا تارڑ اور طلال چوہدری کو یاد رکھنا چاہیے کہ معاملہ کسی سیاسی جماعت یا حکومت کی خواہش کا نہیں بلکہ ایک انسان کی زندگی، صحت اور بنیادی انسانی حقوق کا ہے۔ عمران خان اس وقت قید میں ہیں اور ان کی صحت کے حوالے سے ان کے اہلِ خانہ، ذاتی معالجین اور وکلا مسلسل اپنے تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔
حیرت انگیز امر یہ ہے کہ آج یہی وزراء یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ عمران خان کا علاج اڈیالہ جیل میں ہو رہا تھا اور انہیں تمام طبی سہولیات فراہم کی جا رہی تھیں، جبکہ سپریم کورٹ کے سامنے جمع کروائی جانے والی میڈیکل رپورٹ خود اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کی جانب سے جمع کروائی گئی، جس میں عمران خان کی صحت اور طبی صورتحال سے متعلق تفصیلات عدالت کے سامنے رکھی گئیں۔ یہی وہ طبی صورتحال اور رپورٹ تھی جس کی روشنی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے عمران خان کو شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے، ماہرین پر مشتمل میڈیکل بورڈ تشکیل دینے اور ان کے ذاتی معالجین کو طبی عمل میں شامل کرنے کا حکم دیا۔
لہٰذا عطا تارڑ اور طلال چوہدری پہلے یہ وضاحت کریں کہ اگر اڈیالہ جیل میں عمران خان کا علاج اتنا ہی بہترین اور اطمینان بخش تھا تو پھر سپریم کورٹ کے سامنے پیش کی گئی طبی صورتحال کے بعد عدالت کو شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقلی کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟
یہ بھی قوم کو یاد دلانا ضروری ہے کہ جب ان کے اپنے قائد نواز شریف نے علاج کے لیے بیرونِ ملک جانے کی درخواست کی تھی تو پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت نے سیاسی انتقام اور ذاتی دشمنی کا مظاہرہ کرنے کے بجائے انسانی ہمدردی اور اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کیا۔ اس وقت ڈاکٹر یاسمین راشد سمیت پی ٹی آئی حکومت کے وزراء نے نواز شریف کے علاج کے حق کو تسلیم کیا، انہیں علاج کے لیے بیرونِ ملک جانے کی اجازت دی گئی اور عمران خان نے خود بھی نواز شریف کی صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
حتیٰ کہ آج جو لوگ عمران خان کے علاج کے بنیادی حق میں رکاوٹیں کھڑی کرنے اور عدالتی فیصلے میں روڑے اٹکانے کی کوشش کر رہے ہیں، انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ پی ٹی آئی حکومت نے نواز شریف کے علاج کے معاملے میں حتیٰ کہ ان کے ذاتی معالجین کو بھی طبی معاونت اور رسائی فراہم کی اور انسانی بنیادوں پر ان کے علاج کی راہ میں رکاوٹ نہیں ڈالی۔
آج اسی جماعت کے وزراء کا رویہ دیکھ کر قوم سوال کرنے میں حق بجانب ہے کہ وہ کس قدر سیاسی اور اخلاقی پستی کا شکار ہو چکے ہیں کہ ایک سابق وزیراعظم اور ملک کے مقبول ترین سیاسی رہنما کے علاج کے معاملے میں بھی سیاست کر رہے ہیں۔
عطا تارڑ اور طلال چوہدری کو شرم آنی چاہیے کہ وہ ایک بیمار اور قید سیاسی رہنما کے علاج کے بنیادی حق کو بھی سیاسی بحث کا موضوع بنا رہے ہیں۔ عمران خان کے معاملے میں اگر واقعی انہیں طبی سہولیات کی فراہمی پر اتنا اعتماد ہے تو انہیں شفاء انٹرنیشنل ہسپتال میں ماہر ڈاکٹروں سے معائنہ اور علاج کروانے پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔
اب جبکہ سپریم کورٹ آف پاکستان کا تین رکنی بینچ واضح حکم دے چکا ہے کہ عمران خان کو شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے، ماہرین پر مشتمل میڈیکل بورڈ ان کا مکمل طبی معائنہ کرے، ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عظمیٰ خان کو طبی عمل میں شامل کیا جائے، تو حکومت کا کام عدالت کے حکم پر عمل درآمد کرنا ہے، نہ کہ پریس کانفرنسیں کر کے اس فیصلے کو متنازع بنانے کی کوشش کرنا۔
اگر حکومت کو عمران خان کی صحت اور علاج کے حوالے سے کوئی اعتراض تھا تو اسے عدالت میں اپنا مؤقف پیش کرنا چاہیے تھا۔ لیکن عدالت کا فیصلہ آنے کے بعد وزراء کی جانب سے اس فیصلے پر اعتراضات اٹھانا، قانونی موشگافیوں میں الجھانا اور عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کرنا کسی طور قابلِ قبول نہیں۔
سپریم کورٹ نے عمران خان کے انسانی اور طبی حقوق کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کی شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقلی کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے ماہرین پر مشتمل میڈیکل بورڈ، ذاتی معالجین کی شمولیت، اہلِ خانہ سے ملاقات اور بیٹوں سے ٹیلی فونک رابطے سمیت واضح ہدایات جاری کی ہیں۔
حکومت کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ سپریم کورٹ کے احکامات حکومت کی مرضی کے تابع نہیں ہوتے۔ عدالتی فیصلے پر عمل درآمد ریاستی اداروں کی آئینی و قانونی ذمہ داری ہے۔
گزشتہ روز سے کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ سپریم کورٹ نے عمران خان کو وہ ریلیف دے دیا جو مانگا ہی نہیں گیا تھا۔
ایسے لوگ عام طور پر سیاسی پروپیگنڈہ ماسٹر ہوتے ہیں اس لیے نظرانداز کر دینا چاہیے۔ مگر اِن کے اسی پروپیگنڈے کی وجہ سے کچھ سمجھدار افراد بھی بے یقینی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
کچھ دیر قبل ایک بڑی شخصیت نے فون پر اسی بات کا ذکر کیا تو اُن کو بتایا کہ تحریری فیصلے میں سب تفصیل سے لکھا جا چکا ہے۔
پیراگراف 5 میں واضح لکھا ہے کہ فوجداری پٹیشن لیو ٹو اپیل نمبر 1370 آف 2026 جو اسلام آباد ہائیکورٹ کے سی-ایم نمبر 4 آف 2026 میں رواں سال 12 مارچ کو دیے گئے فیصلے کے خلاف دائر کی تھی (درخواست گزار نے یہ درخواست فوجداری اپیل نمبر 273 آف 2023 میں دی تھی) درج ذیل استدعا کر رکھی ہے:
”اس لیے درخواست گزار کو فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال، اسلام آباد منتقلی کی استدعا کی جا رہی ہے۔۔۔۔۔۔