عمران خان کی طویل اور اذیتناک قید کے بعد یہ تجربہ ہوا کہ پاکستان کے تناظر میں موروثی سیاست کرنے میں کوئ حرج نہیں ۔
کیونکہ اگر بُرا وقت آ جائے تو صرف خون کے رشتے ہی تڑپتے ہیں ۔۔ خان صاحب کی بہنوں کو ہی دیکھ لیں ۔
باقی سب تو سودا کر چکے ہیں 💔
عسکری پی ٹی آئی کا اگلا ممکنہ بیانیہ: بات چیت جاری تھی ہم بس عمران خان صاحب کو بنی گالا شفٹ کروانے ہی والے تھے گرین سگنل مل چکا تھا لیکن علیمہ خان نے گیم خراب کردی اور اس بیانیے میں مخصوص صحافتی گروہ بھی شامل ہوگا!
آج اندرونی بیرونی غداروں کو آگ لگ چکی ہے اب یہ سب غدار ملُکر کوشش کریں گے کہ علیمہ خان کو جلد از جلد گرفتار کر لیا جائے
عمران خان کی رہائی کے لیے علیمہ خان کا ایسے عوام میں جانا نہایت ضروری تھا
اس دلے کو کرنل نے میسج کیا ہو گا کہ اور کوئ تو بچا نہیں چل تو ہی باریک واردات ڈال اور علیمہ خان کے خلاف کوئ بحث چھیڑ ، اس پر اور اس سے ملتے جلتے ہر دلے پر لعنت جو کرنیلوں کا دلال بنا ہوا ۔۔۔
فوج کا ہراول ٹاوٹ دستہ ایران پر ہلکی پھلکی بمباری کررہا ہے۔ ثالثی والا گئیر نیوٹرل ہوچکا۔ ممکن ہے آنے والے دنوں میں گاڑی ایران بھارت نواز ، ایران بی ایل اے کا حمایتی والے گئیر میں ڈال دی جائے۔
مشرف دور میں ایک ریٹائرڈ فوجی جنرل ارشد محمود کو پنجاب یونیورسٹی کا وائس چانسلر لگا دیا گیا
ایک میٹنگ میں اس ریٹائرڈ جنرل نے ڈاکٹر مجاہد کامران سے پوچھا!
"شاہ جی آپ کیا بننا پسند کریں گے"
جس پر ڈاکٹر مجاہد کامران نے جواب دیا کہ *میں راولپنڈی کا کور کمانڈر بننا پسند کروں گا.*
جنرل نے کہا آپ تو پروفیسر ہیں آپ کا کوئی فوجی تجربہ نہیں آپ کیسے راولپنڈی کے کور کمانڈر لگ سکتے ہیں؟
ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا *جیسے ایک ریٹائرڈ فوجی کو ایک اہم ترین تعلیمی ادارے کا سربراہ بنا دیا گیا ہے، بالکل ویسے ہی مجھے بھی کور کمانڈر لگایا جائے*
اس کے بعد جنرل ارشد محمود صاحب کے چراغوں میں روشنی نہ رہی
*لمحہ فکریہ ہے کہ ایک سال میں 2 لاکھ سے زائد اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان بیرون ممالک شفٹ ہو چکے ہیں اور یہاں ریٹائر حضرات میں اعلیٰ عہدے فتح کرنے کا ورلڈکپ جاری ہے*
انا للّٰہ وانا الیہ راجعون
Copy
"They could not stop you from looking at Palestine, so they bought the screen you were looking through."
How the western ruling class and the Zionist lobby spent $14 billion to take back control of our minds:
آنے والے چند روز میں خفت مٹانے کے لیے جیلوں اور عقوبت خانوں سے نکال نکال کر معصوم شہریوں کی لاشیں بلوچستان کے ویرانوں میں پھینکے کا قوی امکان ہے۔ ٹریفک حادثے میں مرنے والے رینجرز کو چھبیس نومبر کے قتل عام کا جواز بنانے والوں سے کچھ بھی بعید نہیں۔