ایک وقت آئے گا جب یہ کافر لوگ بڑی تمنائیں کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے۔
(اے پیغمبرﷺ!) انہیں ان کی حالت پر چھوڑ دو کہ یہ خوب کھالیں، مزے اُڑالیں، اور خیالی اُمیدیں انہیں غفلت میں ڈالے رکھیں، کیونکہ عنقریب اُنہیں پتہ چل جائے گا کہ حقیقت کیا تھی ۔
﴿سورۃ الحجر، ۲-۳﴾
جو شخص ۳بار
“بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ”
کہے تو اسےصبح تک اچانک کوئی مصیبت نہ پہنچے گی،اور جو شخص تین مرتبہ صبح کےوقت اسےکہے تو اسےشام تک اچانک کوئی مصیبت نہ پہنچے گی۔
(ابوداؤد ،۵۰۸۸)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص صبح کے وقت یہ کلمات کہےگا تو اسے اولاد اسماعیل میں سے ایک گردن ( یعنی غلام ) آزاد کرنے کے برابر ثواب ملے گا، اور اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جائیں گی، دس برائیاں مٹا دی جائیں گی، اس کے دس درجے بلند کر دئیے جائیں گے، اور وہ شام تک شیطان کے شر سے محفوظ رہے گا، اور اگر شام کے وقت کہے تو صبح تک اس کے ساتھ یہی معاملہ ہو گا۔
لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
سنن ابو داوود - ٥٠٥٩ -صحیح
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“جس نے کتاب اللہ کا ایک حرف پڑھا اسے اس کے بدلے ایک نیکی ملے گی، اور ایک نیکی دس گنا بڑھا دی جائے گی، میں نہیں کہتا «الم» ایک حرف ہے، بلکہ «الف» ایک حرف ہے، «لام» ایک حرف ہے اور «میم» ایک حرف ہے“۔
(جامع ترمذی، ۲۹۱۰)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے اس مومن بندے کا جس کی، میں کوئی عزیز چیز دنیا سے اٹھا لوں اور وہ اس پر ثواب کی نیت سے صبر کر لے، تو اس کا بدلہ میرے یہاں جنت کے سوا اور کچھ نہیں۔“
(صحیح بخاری، ۶۴۲۴)
کوئی دعا کی تو اس کی دعا قبول کی جاتی ہے
اور اگر اس نے وضو کیا اور نماز پڑھی تو اس کی نماز قبول کی جاتی ہے۔
ہر رات یہ موقع ہرگز ضائع نہ کریں!!!
#مسنون_دعائیں#مسنون_اعمال#رات
تم آندھی بن کر آؤ تو یہ بات یاد رکھنا
ہم شجر سایہ دار ہیں جھکنا نہیں ہم کو
ہمیں توڑنے کا خواب تم دیکھو بخوشی پر
ہر خواب کی قسمت میں تعبیر نہیں ہوتی
#حمیرا#شفقت_مسعود_کو_رہا_کرو
اے ایمان والو !
اللہ سے ڈرو اور اگر تم واقعی مومن ہو تو سود کا جو حصہ بھی ( کسی کے ذمے ) باقی رہ گیا ہو اسے چھوڑ دو ۔پھر بھی اگر تم ایسا نہ کرو گے تو اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) کی طرف سے اعلان جنگ سن لو ۔
﴿سورۃ البقرۃ،۲۷۸-۲۷۹﴾
حقیقت یہ ہے کہ تمہارے لئے رسول اللہ (ﷺ) کی ذات میں ایک بہترین نمونہ ہے، ہر اُس شخص کے لئے جو اللہ سے اور یومِ آخرت سے اُمید رکھتا ہو، اور کثرت سے اللہ کا ذِکر کرتا ہو۔
﴿سورۃ الاحزاب ، ۲۱﴾