مکہ مکرمہ میں مسجد الحرام کی صفائی پر مامور ایک پاکستانی کارکن اپنے وطن میں بڑھتے ہوئے قرضوں کی وجہ سے شدید پریشان تھا۔ وہ ہر روز اللہ تعالیٰ کے حضور نہایت عاجزی اور اخلاص کے ساتھ دعا کرتا کہ اس کی مشکلات آسان ہو جائیں۔
اتفاق سے اس کی دعا کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ اس کے حالات سے متاثر ہو کر ایک صاحبِ خیر نے اس سے رابطہ کیا اور اس کے تمام قرض ادا کر دیے۔
جب اس سے پوچھا گیا کہ وہ کون سی دعا مانگ رہا تھا تو اس نے بتایا کہ وہ نبی کریم ﷺ کی سکھائی ہوئی یہ مسنون دعا ��ڑھ رہا تھا:
اللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ وَرَحْمَتِكَ، فَإِنَّهُ لَا يَمْلِكُهَا إِلَّا أَنْتَ
"اے اللہ! میں تجھ سے تیرے فضل اور تیری رحمت کا سوال کرتا ہوں، کیونکہ تیرے سوا کوئی بھی ان کا مالک نہیں۔"
روایت میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ کے ہاں مہمان تشریف لائے، مگر گھر میں کھانے کے لیے کچھ موجود نہ تھا۔ آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے یہی دعا فرمائی، اور کچھ ہی دیر بعد بھنی ہوئی بکری بطور ہدیہ پیش کی گئی۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حلال اور پاکیزہ رزق عطا فرمائے، ہماری تمام جائز پریشانیاں دور فرمائے، قرضوں سے نجات عطا فرمائے اور ہمیں ہمیشہ صرف اپنا ہی مح��اج رکھے۔ آمین۔
یااللَٰه مُجھ پر میری اولاد پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تمام امت رحم فرما ہماری مدد فرما ہمارے لیے رحمتوں'نعمتوں'
آسانیوں'برکتوں 'صحت سلامت'خوشیوں کامیابیوں'فتح ونصرت'کشادہ رزق اور دُعاؤں کی قُبولیت کے دروازےکھول دیے۔
یااللَٰه جو میرے بہن بھائی اپنے بچے بچیوں ک نکاح کے لئے پریشان ہیں آسانی فرما ان کے نکاح کے فرض کی ادائیگی میں ان کی مدد فرما اِن کے محبت بھرے جوڑے بنا دیے جو ان کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک دل کا سکون بنیں یااللَٰه
ہمیں صحت تندرستی اور خوشیوں کے ساتھ حج وعمرہ کی سعادت بار بار نصیب فرما
یااللّه مُجھےمیری اولاد کودُ��ھ ؛تکلیف؛بیماری' پرشانی؛لاچاری؛کمزوری'بےبسی'بیماری' ڈر خوف 'ناکامی'رسوائی اور انسانی وشیطانی شر سے نجات دیے۔
یااللّه میری بخشش فرما مُجھے دُنیا ور آخرت میں بھلائی عطا فرما میری عِبادتُوں اور دُعاؤں کو قُبولیت عطا فرما میری دُعاؤں پے کُن فَیکُون فرما دیے یَا مُسَبِّبُ الَاَس٘بَا��٘ وَ یَا مُفَتِّحَ ال٘اَب٘وَاب٘ اَغِث٘نِی٘ اَغِث٘نِی أَغِث٘نِی٘ یَارَبّ٘.بِرَحْمَتِكَ یَا أَرْحَمَ الرّٰحِمِیْن
⚠️ روزِ قیامت رسول اللہ ﷺ کی سب سے ہولناک شکایت! ⚠️
میرے پیارے بھائیو اور بہنو! قیامت کے دن ایک ایسی شکایت لگائی جائے گی جو ہر ایمان والے کے دل کو خوف سے کپکپا دینے کے لیے کافی ہے۔۔۔ 😭
یہ شکایت کسی دشمن یا اجنبی کی طرف سے نہیں ہوگی۔
یہ شکایت اس ہستی کی طرف سے ہوگی جو ہم سے سب سے زیادہ محبت کرتی ہے، یعنی ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کی طرف سے۔
تصور کریں! جب ہم قیامت کے دن رسول اللہ ﷺ کی شفاعت کے منتظر ہوں گے، اور آپ ﷺ اللہ رب العزت کے سامنے براہِ راست یہ فریاد کریں گے:
> يَـٰرَبِّ إِنَّ قَوْمِى ٱتَّخَذُوا۟ هَـٰذَا ٱلْقُرْءَانَ مَهْجُورًۭا**
> "اے میرے رب! بے شک میری اس قوم نے اس قرآن کو بالکل چھوڑ رکھا تھا (پسِ پشت ڈال دیا تھا)۔" [سورہ الفرقان: 30] 📖
>
🔍 لفظ "هَذَا" (اس قرآن) کی گہری بلاغت:
قرآن کے آغاز میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "ذَٰلِكَ الْك��تَابُ" (وہ کتاب)۔ لیکن یہاں اللہ نے 'ذٰلِکَ' نہیں بلکہ **'ھٰذَا'** فرمایا ہے۔
عربی میں 'ھٰذَا' کسی بالکل قریب پڑی ہوئی چیز کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
یعنی یہ قرآن تمہارے بالکل سامنے تھا، تمہارے گھروں میں تھا، تمہارے موبائلز میں تھا، لیکن پھر بھی تم نے اسے سنجیدگی سے نہیں لیا۔ 📱❌
روزِ قیامت یہ قرآن خود ایک گواہ (ثبوت) کے طور پر عدالتِ الٰہی میں پیش کیا جائے گا۔
اور اس مقدمے میں ہمارے خلاف استغاثہ پیش کرنے والے خود رسول اللہ ﷺ ہوں گے جو قرآن کی طرف اشارہ کر کے کہیں گے: "اے اللہ! میری اس قوم نے **'اس'** قرآن کو چھوڑ دیا تھا"۔
🧠 لفظ "مَهْجُورًا" کے حقیقی معنی:
یہ لفظ عربی کے مادے **'ھ ج ر'** سے نکلا ہے، جس سے لفظ ہجرت بنتا ہے۔
عرب کہتے ہیں ک�� جب کسی چیز کو صرف چھوڑا نہ جائے، بلکہ اس سے بہت دور ہجرت کر لی جائے، اسے بالکل بھلا دیا جائے۔
قرآن نے یہاں 'متروکاً' (چھوڑا ہوا) نہیں کہا، بلکہ 'مہجوراً' کہا ہے۔
یعنی اس امت نے قرآن کو صرف چھوڑا نہیں، بلکہ وہ اس سے بہت دور ہجرت کر گئے، اسے اپنی زندگیوں سے بہت پیچھے چھوڑ دیا۔ 🗺️🏃��♂️
⚖️ تلاوت کے باوجود قرآن کو چھوڑ دینا کیا ہے؟
اگر ہم روزانہ قرآن کی تلاوت بھی کر رہے ہیں، لیکن ہمارے اخلاق، ہمارے کردار اور ہماری زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آ رہی، تو یہ بھی قرآن سے ہجرت (قرآن کو چھوڑنا) ہی ہے۔ ⚠️
یہی وجہ ہے کہ سورۂ الفرقان کے وسط میں جب رسول اللہ ﷺ کی یہ شکایت آتی ہے، تو اس کے فوراً بعد سورت کے آخر میں اللہ تعالیٰ سچے مؤمنین کے اخلاق اور ان کی شخصیت کا تذکرہ فرماتا ہے:
وَإِذَا مَرُّوا۟ بِٱللَّغْوِ مَرُّوا۟ كِرَامًۭا
اور جب وہ کسی فضول بات یا محفل کے پاس سے گزرتے ہیں، تو وقار کے ساتھ گزر جاتے ہیں۔" [سورہ الفرقان: 72] 🤫
کیونکہ جو انسان قرآن سے سچی محبت کرتا ہے اور اسے نہیں چھوڑتا، قرآن اس کے اخلاق، اس کی عادات، اس کی گفتگو اور اس کی محفلوں تک کو بدل کر رکھ دیتا ہے۔ 👑
💔 "ابّا! آپ کیوں رو رہے ہیں؟"
ایک مفسر بیان کرتے ہیں کہ ایک دن میری بیٹی گھر پر قرآن پڑھ رہی تھی اور میں اس کی تجوید درست کروا رہا تھا۔
جیسے ہی ��س نے یہ آیت (یٰربِّ اِنَّ قَوْمِی…) پڑھی، میں وہیں بیٹھ کر رونے لگا۔
بیٹی نے پوچھا: "ابّا! آپ کیوں رو رہے ہیں؟"
میں نے کہا: "اس لیے کہ اللہ فرما رہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ ان لوگوں کی شکایت کریں گے جنہوں نے قرآن کو چھوڑ دیا۔"
بیٹی نے معصومیت سے کہا: "لیکن ابّا! ہم نے تو قرآن کو نہیں چھوڑا، ہم تو اسے پڑھ رہے ہیں۔"
میں نے روتے ہوئے جواب دیا: **"کاش! یہ معاملہ صرف پڑھنے تک ہوتا، تو بہت آسان ہوتا۔"** 😭
⏱️ اپنے دلوں سے ایک سوال پوچھیں:
کیا ہمیں اس کتاب سے دنیا کی کسی فلم، ڈرامے یا ویڈیو گیم سے زیادہ محبت ہے؟ 🎮❌
آج کے نوجوان کسی باڈی بلڈر یا ایکٹر کو دیکھ کر اس جیسا بننا چاہتے ہیں، لڑکیاں ماڈلز جیسی نظر آنا چاہتی ہیں۔
لیکن رسول اللہ ﷺ کے اخلاق جیسا کون بننا چاہتا ہے؟ جن کے بارے میں ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنها نے فرمایا تھا: **"کَانَ خُلُقُہُ الْقُرْآنَ"** (آپ ﷺ کا اخلاق سراپا قرآن تھا)۔ 🌸
کتنے لوگ ہیں جو رات کو سوتے وقت یہ حسرت لے کر سوتے ہیں کہ کاش میری ��ندگی میں حضور ﷺ کی سنتیں اور قرآن کا اخلاق آ جائے؟
✨ **آج کی خوبصورت دعائیں:**
یا اللہ! ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما جو اس پاک کتاب سے سچی محبت کرتے ہیں۔ 🤲
یا اللہ! قرآن کو ہماری زندگیوں کا لازمی حصہ بنا دے اور اس کی برکت سے ہمارے گھروں اور مال و جان میں برکت عطا فرما۔ 🏡✨
یا اللہ! مسلم والدین کی مدد فرما کہ وہ خود بھی اس کتاب کو سمجھیں اور اپنی اولادوں کو بھی سکھائیں تاکہ ان کی اولادیں قیامت کے دن ان کے حق میں گواہی دیں۔ 🧑🤝🧑
یا اللہ! ہمارے مدارس، مساجد اور حفظ کرنے والے معصوم بچوں کی حفاظت فرما اور انہیں صرف لفظ یاد کرنے کی نہیں بلکہ قرآن پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما۔ 🕋
> **بَلْ هُوَ ءَايَـٰتٌۢ بَيِّنَـٰتٌۭ فِى صُدُورِ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْعِلْمَ**
> "بلکہ یہ (قرآن) تو بالکل واضح آیات ہیں ان لوگوں کے سینوں میں جنہیں علم دیا گیا ہے۔" [سورہ العنکبوت: 49] 📖
>
یا اللہ! اس قرآن کو ہمارے سینوں اور دلوں کا نور بنا دے۔ آمین۔ 🤍
📤 اپنے تمام دوستوں، بھائیوں اور رشتہ داروں کے ساتھ ضرور ��یئر کریں تاکہ ہم سب قرآن کی طرف سچے دل سے رجوع کر سکیں۔
تنخواہ کو مہینے کے آخر تک بچانے کا ایک مؤثر اصول
ایک نوجوان کی ماہانہ آمدنی زیادہ نہیں تھی۔ گھر کے اخراجات، روزمرہ ضروریات اور دیگر ذمہ داریوں کی وجہ سے ہر مہینے اسے قرض لینا پڑتا تھا۔ جوں جوں وقت گزرتا گیا، قرض بڑھتا گیا اور اسے محسوس ہونے لگا کہ شاید اب ساری زندگی اسی پریشانی میں گزرے گی۔
ایک دن اس نے اپنے ایک سمجھدار دوست سے اپنی مالی مشکلات کا ذکر کیا۔ دوست نے بڑی سادگی سے کہا:
“اپنی تنخواہ کا ایک چھوٹا سا حصہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا شروع کرو، چاہے رقم بہت کم ہی کیوں نہ ہو۔”
وہ نوجوان حیران ہوا۔ اس نے کہا:
“میری اپنی ضروریات پوری نہیں ہوتیں، میں قرض میں ڈوبا ہوا ہوں، ایسے میں صدقہ کیسے کروں؟”
لیکن اس نے سوچا کہ ایک بار اس مشورے پر عمل کر کے دیکھنا چاہیے۔ اس نے اپنی معمولی آمدنی میں سے ایک مختصر رقم صدقے کے لیے مقرر کر دی اور اسے مستقل مزاجی سے ادا کرنا شروع کر دیا۔
کچھ عرصے بعد اس نے محسوس کیا کہ اس کے حالات بدلنے لگے ہیں۔ اس کی سوچ مثبت ہوئی، اخراجات میں نظم آیا، فضول خرچی کم ہوئی اور مالی دباؤ پہلے کی نسبت کم محسوس ہونے لگا۔ وہ کہتا ہے کہ اصل تبدیلی صرف آمدنی میں نہیں بلکہ اس کے دل کے سکون اور زندگی کے انداز میں ��ئی۔
پھر اس نے اپنی تنخواہ کو مختلف حصوں میں تقسیم کرنا شروع کیا:
• ضروری اخراجات
• گھر کے معاملات
• بچت
• اور ایک حصہ صدقے کے لیے
آہستہ آہستہ اس کی مالی حالت بہتر ہونے لگی۔ اسے اضافی مواقع ملے، نئے ذرائع آمدن پیدا ہوئے اور قرضوں کا بوجھ کم ہونا شروع ہوگیا۔
یہ صرف مال بڑھنے کی کہانی نہیں، بلکہ اس یقین کی کہانی ہے کہ جب انسان اللہ کی عطا میں دوسروں کا حصہ رکھتا ہے تو اس کے دل میں بھی کشادگی آتی ہے اور زندگی میں بھی۔
صدقہ صرف غریب کو رقم دینے کا نام نہیں۔
کسی بھوکے کو کھانا کھلانا، کسی طالب علم کی مدد کرنا، والدین کی خدمت کرنا، کسی پریشان حال شخص کا بوجھ ہلکا کرنا، یا کسی ضرورت مند کی خاموشی سے مدد کرنا بھی صدقہ ہے۔
صدقے کے چند اہم فوائد:
1۔ صدقہ انسان میں شکر اور عاجزی پیدا کرتا ہے۔
2۔ یہ دل کی سختی کو نرم کرتا ہے۔
3۔ محتاجوں کی مدد سے معاشرے میں محبت بڑھتی ہے۔
4۔ انسان کے اندر سخاوت اور ایثار کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔
5۔ صدقہ اللہ کی رضا حاصل کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
6۔ یہ انسان کو اپنی نعمتوں کی قدر کرنا سکھاتا ہے۔
7۔ مشکل حالات میں امید اور حوصلہ پیدا کرتا ہے۔
8۔ دوسروں کی دعائیں انسان کے لیے خیر و برکت کا سبب بنتی ہیں۔
9۔ صدقہ معاشرے میں تعاون اور بھائی چارے کو فروغ دیتا ہے۔
10۔ یہ انسان کو صرف اپنے لیے نہیں بلکہ دوسروں کے لیے جینا سکھاتا ہے۔
یاد رکھیں!
صدقے کی مقدار نہیں، نیت اہم ہوتی ہے۔ کوئی شخص بہت زیادہ دے کر بھی وہ مقام حاصل نہیں کر پاتا جو ایک دوسرا شخص اخلاص کے ساتھ تھوڑا سا دے کر حاصل کر لیتا ہے۔
اگر آپ کی آمدنی کم ہے تو بھی دوسروں کا حصہ ضرور رکھیں۔ اور اگر اللہ نے آپ کو وسعت دی ہے تو اپنی نعمتوں کو دوسروں تک پہنچانے کا ذریعہ بنیں۔
کبھی کبھی زندگی کی اصل برکت تنخواہ ب��ھنے سے نہیں، بلکہ دل کے اندر شکر، قناعت اور دوسروں کے لیے جگہ پیدا ہونے سے آتی ہے۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ آپ کی آمدنی میں صرف آپ کا حصہ ہے، یا کسی ضرورت مند کا بھی؟
آج میں اپنی ڈی پی کے بارے میں لکھونگی ۔ یہ مجھے اتنی پسند ھے کہ ۔
ایک بار میں بہت پریشان تھی۔ سمجھ نا آئے۔ یہ 2014 کی بات ھے ۔ کچھ ذمے داریاں تھیں۔ میں ہمیشہ اللہ پاک سے ہم کلام رہتی۔ کوئی بھی پریشانی ہونی تو کہنا اللہ سوہنے تیرے پاس اس کا حل ھے ۔ میں تو تیری محتاج ہوں ۔ پھر میں نے کثرت سے درود شریف پڑھنا شروع کر دیا۔
درود شریف سے دل روشن ہوتا اور روشن دل دماغ فیصلے بھی صحیح کرتا ۔
خیر ۔ میں نے جب یہ حدیث مبارکہ پڑھی۔
کہ فجر کی دو رکعت ( سنتیں )
دنیا اور دنیا میں جو کچھ ھے ان سے سے بہتر ہیں ۔ تو میں جن چیزوں کے لئے فکر مند تھی ۔ وہ مجھے معمولی لگنا شروع ہو گئیں۔ میں نے فجر کے وقت اٹھ کے خضوع خشوع وضو کرنا نماز پڑھنی ، اور یہ محسوس کرنا کہ میرے تمام مسائل اور ان کا حل سوچنا تو کچھ نہیں۔ نہ ہی میری خواہشات کوئی معنی رکھتیں ۔ ۔
یہ دو رکعتیں برکت والی اور ان سے بہتر ہیں
تو میرے کام بھی اللہ کرے گا ۔ میں اللہ کی راہ پکڑ رہی ہوں ۔
تو بس وہی ہوں ۔ جس نے اللہ کا ساتھ تھام لیا ۔ اللہ ان کے لئے تمام راستے آسان کر دیتا ھے ۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے، آدمی کو کھانے پینے اور سونے (ہر ایک چیز) سے روک دیتا ہے، اس لیے جب کوئی اپنی ضرورت پوری کر لے تو فوراً گھر واپس آ جائے۔”
حوالہ: صحیح بخاری ، حدیث نمبر: 1804
اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے سفر کی مشقت اور اس کے اثرات کو بیان فرمایا ہے، کہ سفر انسان کی روزمرہ سہولتوں میں خلل ڈالتا ہے اور اسے آرام، ک��انے پینے اور نیند میں دشواری پیش آتی ہے، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام انسان کی آسانی اور راحت کو مدنظر رکھتا ہے، اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ مومن کو چاہیے کہ وہ بلا ضرورت سفر کو طول نہ دے اور اپنا کام مکمل ہوتے ہی گھر واپس آ جائے، مثال کے طور پر اگر کوئی شخص کسی کام کے لیے سفر پر جائے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنا مقصد پورا کر کے جلدی واپسی اختیار کرے تاکہ مشقت سے بچے، یہ حدیث ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اسلام زندگی میں اعتدال اور آسانی کو پسند کرتا ہے۔
اے اللہ اگر ہمارا رزق آسمان میں ہے تو اسے اتار دے، اور اگر زمین میں ہے تو اسے نکال دے، اور اگر مشکل ہے تو اسے آسان کر دے، اور اگر دور ہے تو اسے قریب کر دے، اور اگر حرام ہے تو اسے پاک کر دے، اور اگر تھوڑا ہے تو اسے زیادہ کر دے، اور اگر وہ ہے ہی نہیں تو اسے پیدا کر دے، اور اگر رکا ہوا ہے تو اسے جاری کر دے، اور اگر کوئی گناہ ہے تو اسے بخش دے، اور اگر کوئی برائی ہے تو اسے مٹا دے، اور اگر کوئی خطاکاری ہے تو اس سے درگزر فرما، اور اگر دس (بہت زیادہ) گناہ ہیں تو انہیں کم (یا ختم) کر دے، اور ہمارے لیے ان سب چیزوں میں برکت عطا فرما، بیشک تو بادشاہ اور قدرت رکھنے والا ہے، اور جو تو چاہتا ہے وہ ہو کر رہتا ہے،اے وہ ذات کہ جب کسی چیز کا ارادہ کرتی ہے تو بس فرماتی ہے کہ "ہو جا" تو وہ ہو جاتی ہے
پاک ہے ربِ کریم کی ذات کہ جو عزت کا مالک ہے ان باتوں سے جو یہ بیان کرتے ہیں، اور سلام ہو رسولوں پر، اور سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پالنے ��الا ہے۔
اے اللہ ، اے غم کو دور کرنے والے، گناہ کو بخشنے والے، توبہ قبول کرنے والے، زمین اور آسمانوں کے رب، اور اے وہ ذات جس کے ہاتھ میں کشادگی کی چابیاں ہیں ،میں تیرے اس سب سے بڑے نام (اسمِ اعظم) کے وسیلے سے تجھ سے مانگتا ہوں کہ جب بھی اس نام سے تجھے پکارا جائے تو تو قبول فرماتا ہے، یہ کہ تو ہمارے تمام معاملات میں ہمارے لیے آسانی پیدا فرما، ہمارے لیے ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ بنا، ہر غم سے نجات عطا فرما، اور ہر آزما��ش سے عافیت نصیب فرما۔
اے اللہ ہمیں جلد ایسی کشادگی عطا فرما جو ہم سے ہر غم اور تنگی کو دور کر دے، ہمارے دلوں کو اپنی یاد سے مطمئن فرما، ہماری زبانوں کو اپنے شکر سے تر رکھ، ہمارے اعضاء کو اپنی فرمانبرداری کے لیے جھکا دے، ہمیں ان کاموں کی توفیق دے جنہیں تو پسند کرتا ہے اور جن سے تو راضی ہوتا ہے، اور ہمارے اعمال کا خاتمہ نیک کاموں پر فرما
آمین یا رب العالمین
اے رب العالمین
جب موت آئے تو کلمہ پاک ورد زبان ہو
اے رب العالمین روز محشر پیارے نبی رحمتہ للعالمینﷺ کی شفاعت نصیب ہو حوض کوثر کا پانی پینا نصیب ہو
اور
ان لو گوں میں شامل ہوں جن سے آپ راضی ہوں
آمین ثم آمین یا رب العالمین 🤲🏻
اَلّٰلھُمَ صَلّیِ عَلّٰیٰ مُحَمَّدِ وَّآلِ مُحَمَّــدﷺ
#محبت_سےدرودشریف_پڑھ_لیں
ترکیہ کے شہر استنبول میں واقع مشہور توپ کاپی پیلس میوزیم کے "مقدس تبرکات" (Sacred Relics) سیکشن میں ایک ایسا تاریخی پتھر محفوظ ہے جسے روایتی طور پر نبی کریم ﷺ کے قدمِ مبارک کے نقش سے منسوب کیا جاتا ہے۔
تاریخی روایات کے مطابق سلطنتِ عثمانیہ کے دور میں خلفاء نے نبی کریم ﷺ اور صحابۂ کرامؓ سے منسوب مختلف تبرکات، دستاویزات اور تاریخی اشیاء کو انتہائی احترام کے ساتھ جمع کیا اور انہیں محفوظ رکھنے کے خصوصی انتظامات کیے۔ ان میں مقدس نوادرات، لباس، ہتھیار اور دیگر تاریخی اشیاء بھی شامل ہیں۔
اَلّٰلھُمَ صَلّیِ عَلّٰیٰ مُحَمَّدِ وَّآلِ مُحَمَّــدﷺ۔