قران میں ایک بھی آیت ایسی نہیں جس میں شراب کو سور کی طرح حرام کہا گیا ہو- اس کو”عمل شیطان “کہا گیا مگر ابھی تک کویئ ملاء اس تفسیر کو بیان کرنے سے قاصر ہے کہ شیطان یہ عمل کن کے ساتھ بیٹھ کر کرتا تھا کیونکہ دنیا تو بنی نہیں تھی اور شراب صرف جنت میں تھی جو بقول ملاء حلال ہے تو پھر وہ کہاں سے شراب لاتا اور اپنے دوسرے احباب کو پلاتا تھا؟چونکہ ملاء کو خود معلوم نہیں کہ اب قران کی اس آیت کو ثابت کرنے کی دلیل کہاں سے لاے تو عام عوام کے لیے حرام کہہ دی اور اس کے لیے احادیث تیار ہو گئیں بلکہ یہاں تک کہہ دیا کہ شراب بتدریج حرام ہے مگر وجہ بیان نہیں کہ اور جو وجہ ہے اس کی دلیل نہئں—
@HFatima47 علم نجوم میں زحل جس خانے میں ہوتا ہے وھاں سے وہ تیسرے اور ساتویں گرہ پر نظر رکھتا ہے اور اپنے اثرات ان خانوں سے منسوبات پر بھی ڈالتا ہے — اس لیے ۳ اور ۷ قدیم زمانوں سے انسانی زندگی پر اثرات ڈالنے والے عدد ہیں —
اس آیت میں بچی ( نساء) کا ذکر ہی نہیں ۶:۱۵۱:——وَلَا تَقْتُلُوٓا اَوْلَادَكُمْ مِّنْ اِمْلَاقٍ— یہاں پر لفظ( اولاد ) ہے لڑکی نہیں- اولاد میں لڑکا / لڑکی/ مخنث شامل ہوتے ہیں جب کہ روایات کے مطابق وہ لڑکیوں کو دفن کر تے تھے— دوسری بات اگر الٹراساونڈ پر لڑکا ہے تو وہ بے شک غریب ہی کیوں نہ ہو قتل کیوں کرے گا—- بنیادی طور پر یہ استعارہ استعمال ہوا کہ اولاد کا قتل اصل میں تعلیم سے دور رکھنا ہے— اور قران تو کہتا ہے لا تعقلون- کیا تم عقل استعمال نہیں کرتے—-اور عقل کا تعلق علم سے ہےاور غربت کی وجہ سے تعلیم نہ دینا اولاد کا قتل کہلاتا ہے—— اور یہ قران نے حرام قرار دیا ہے —
@HFatima47 آپ کا سوال بہت منطقی ہے نکاح کے اگر کلمات اور پیدا ہونے پر آذان ،مرنے پر نماز - تو اسی فارمولا کہ تحت طلاق کے بھی کلمات ہونے چاھئیں جو مولوی پڑھاے ورنہ کویئ خلع یا طلاق واقع نہیں ہونی چاھیے——
فانکحو اگر اجورھن کے بغیر لکھا جاے گا تو کنٹریکٹ کے معنی دے گا یعنی ایسا سیکس جس میں حق مہر ادا نہ ہو -حلال سیکس( شادی) جیسا کہ ۳۳:۵۰–اَزْوَاجَكَ اللَّاتِـىٓ اٰتَيْتَ اُجُوْرَهُنَّ —- شادی حق مہر کے بغیر حلال ہو ہی نہیں سکتی— یہاں پر صرف سیکس coitusکا ذکر ہے اس کا مادہ( ن ک ح) ہے جس کا مطلب intercourse ہوتا ہے
مگر قران چار کی بات ہی نہیں کرتا وہ کہتا ہے—-دو دو تین تین چار چار(وَاِنْ خِفْتُـمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِى الْيَتَامٰى فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ مَثْنٰى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ ۖ) اگر تمہیں یہ خوف ہو کہ تم یتیموں( جو مال غنیمت سے حاصل ہوے ہیں) میں انصاف نہ کر سکو تو ان میں سے جو اچھی لگیں ان میں سے دو دو تین تین چار چار( کے جوڑے ) سے نکاح( کنٹریکٹ) کر لو —- اب یہاں پر اجورھن( حق مہر) کا ذکر ہی نہیں تو شادی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا- اور نہ اس آیت میں یہ لکھا کہ تم دو یا تین یا چار شادیاں کر لو نہ چار کی حد لگایئ ہے کہ چار سے زیادہ نہیں بلکہ ۲+۲ ۳+۳ ۴+۴ = ۱۸ سے کنٹریکٹ کرو اور وہ یتیم لڑکیاں جو تم کو اچھی لگیں— اس کنٹریکٹ کی بنیاد ہی یتیم ہونا رکھا گیا ہے— مسلمانوں نے چار شادیوں کا کنسپٹ کون سے آیت سے اخذ کیا ہے مجھے تو کہیں نہیں ملا— اگر کسی کو ملے تو شیئر کر یں—-
تحریر میڈم ساشا فرید
پوری دنیا میں ایسی بندرگاہیں بہت کم ہیں جو قدرتی طور پر اتنی گہری ہیں کہ وہاں24000 کنٹینرز لے جانے والے الٹرا لارج ویسلز یا بحری جہاز پورا سال لنگر انداز ہوسکیں گوگل کریں تو ان بندرگاہوں میں ایک نام اپنے گوادر کا بھی ملے گا یہ وہی گوادر ہے جو آج پاکستان کی معیشت کا مستقبل اور چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور (CPEC) کا تزویراتی محور ہے،یہ گوادر قیامِ پاکستان کے وقت ملک کا حصہ نہیں تھا یہ تو 50 کی دہائی کے آخری برسوں میں پاکستان کا حصہ بنا یہ عمان کی ملکیت تھا اور گوادر کی عمان کے ساتھ وابستگی کی داستان 1783ء میں اس وقت شروع ہوتی ہے جب عمان کا شہزادہ بیدخل ہو کر مکران کے ساحل پر آیا اور خان آف قلات نے پناہ دے کر انہیں یہ علاقہ بطور جاگیر وقف کر دیا بعد میں جب اس شپزادے نے عمان کا تخت دوبارہ حاصل کیا تو گوادر کو بھی اپنی سلطنت کا حصہ رکھا، یہ خطہ برطانوی راج کے زمانے سمیت تقریباً 175 سال تک عمان کے زیرِ نگیں رہا جہاں عمانی کرنسی، گورنر، انتظامیہ اور فوجی عملہ کام کرتے تھے۔ 1950ء کے عشرے میں مالی مشکلات کے باعث عمانی حکومت نے اسے فروخت کرنا چاہا اور سب سے پہلے بھارت کے وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرو کو پیشکش کی، لیکن نہرو نے اس خطے کو اسٹریٹجک اہمیت دینے کے حق میں نہ تھے انہوں نے یہ آفر مسترد کر دی، جس پر آج بھی بھارت میں ان پر سخت تنقید کی جاتی ہے۔ اس کے برعکس، پاکستان نے 1954ء میں باقاعدہ طور پر عمان سے پیچیدہ اور طویل سفارتی مذاکرات کا آغاز کیا، جس میں پاکستان کے ساتویں وزیراعظم ملک فیروز خان نون نے ذاتی دلچسپی لیتے ہوئے 8 ستمبر 1958ء کو یہ تاریخی معاہدہ پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ اس نازک موڑ پر جہاں گوادر پاکستان کے لیے ایک انمول اثاثہ بننے جا رہا تھا، وہیں یہ اس دور میں پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر پر ایک بہت بڑا مالی بوجھ بھی تھا کیونکہ عمان نے اس کی قیمت 30 لاکھ (3 ملین) برطانوی پاؤنڈز مانگی تھی ایسے کٹھن وقت میں پاکستان کے سچے محسنِ پرنس آغا خان سوئم سر سلطان محمد شاہ آگے بڑھے اور یہ خطیر رقم ادا کی یہ وہی سر سلطان تھے جنہوں نے قیام پاکستان کے بعد قاہرہ نیویارک میں اپنی بیش قیمت جاگیریں پاکستان کے حوالے کیں کہ سفارت خانہ کھول لیں انہی کے جانشین پرنس رحیم آغا خان پنجم ان دنوں پاکستان کے دورے پر ہیں اسی مالی و سفارتی تعاون کے بعد 3 اکتوبر 1958ء کو گوادر باقاعدہ پاکستان کا حصہ بنا اور پاکستان نیوی نے کنٹرول سنبھالا اور آج گوادر پاکستان کا انمول اور اسٹریٹجک اثاثہ ہے
@_free_Pakistan@NidaAhm16105291 اگر اس دور کی تاریخ میں اتنا اتار چڑھاو ہے تو جس کی یاد میں حج عمرے اور قربانیاں دیتے ہیں ان کے بارے تو کویئ بھی تاریخی شواھد نہیں ہیں کہ ان کا کبھی وجود بھی تھا کہ نہیں—-؟
عمران خان سے اختلاف یا حمایت سیاسی بنیاد پر ہو سکتی ہے، لیکن سابقہ بیوی، خاندان یا ذاتی تعلقات کو مذہبی حملوں کا نشانہ بنانا زیادہ تر جذباتی اور پروپیگنڈا سیاست کا حصہ ہےیہ رویہ معاشرے میں برداشت کم کرتا ہے اور اصل سیاسی یا سماجی مسائل سے توجہ ہٹا دیتا ہے-جمائما گولڈ اسمتھ نے شادی کے وقت اسلام قبول کیا تھا، بعد میں ان کی ذاتی زندگی اور عقیدے کے بارے میں مختلف قیاس آرائیاں ہوتی رہیں، لیکن کسی فرد کے ایمان یا ارتداد کا فیصلہ عوام، صحافیوں یا سیاسی کارکنوں کا کام نہیں۔ اسلامی روایت میں بھی تکفیر ایک انتہائی سنگین معاملہ ہے-جنوبی ایشیا خصوصاً پاکستان میں یہ رجحان کافی پرانا ہے کہ کسی مخالف شخصیت، اس کے خاندان یا تعلقات پر مذہبی حملے کر کے عوامی جذبات بھڑکائے جائیں-پاکستان میں فوج اور مذھبی اداروں کا عوامی سیاست میں تنقید پر پابندی سے “مذہبی کارڈ” بہت آسانی سے استعمال ہوتا ہے،
اگر مستقبل میں ایران اور امریکہ کے درمیان بڑا معاہدہ ہو بھی جائے، تب بھی یہ لازمی نہیں کہ پاکستان فوراً اسرائیل کو تسلیم کرے۔ کیونکہ ایران کا فیصلہ ایران کے قومی مفادات پر ہوگا پاکستان کے اپنے داخلی، مذہبی، عسکری اور عوامی عوامل ہیں۔پاکستان کی خارجہ پالیسی میں سعودی عرب خلیجی ممالک، چین اور داخلی رائے عامہ بھی اہم کردار رکھتے ہیں۔پاکستانی معاشرے میں فلسطین کے لیے جذباتی وابستگی بہت گہری ہے—- مگر موجودہ حالات کو دیکھتے ہوے اگر فوج چاھے گی تو بے شعور ۲۵ کروڑ نے چوں جراں بھی نہیں کرنی—مگر فوج چاھے گی کہ ہم پیچھے ہوں اور عوامی دروغے( سیاستدان) اس بوجھ کو اٹھا کر ہمیں دیں—-
7–48 19میں اسرائیلی قیادت کی طرف سے پاکستان سے تعلقات کی خواہش ظاہر کی گئی، مگر پاکستان نے سفارتی سطح پر اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا۔ قائد اعظم کا کوئی ایک مشہور “باضابطہ اعلان” ایسا نہیں ملتا جس میں آج کے انداز میں لفظ بہ لفظ کہا گیا ہو کہ “پاکستان کبھی اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا”۔ زیادہ تر حوالہ جات ان کی فلسطین سے متعلق تقاریر، مسلم لیگ کی قراردادوں، اور بعد کے پاکستانی رہنماؤں کے بیانات پر مبنی ہیں- بعد میں عمران خان نے 2020 میں کہا تھا کہ قائداعظم نے 1948 میں یہ مؤقف واضح کیا تھا کہ فلسطینیوں کو انصاف ملنے تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ جو کہ خان کی غلط بیانی تھی چونکہ عوام ان کے ساتھ تھی اس لیے یہ بات دشمنی کی بنیادی وجہ بن گئی اور پھر فوج کی مجبوری بن گئی کہ وہ بھی انکار کرے— ملاووں نے یہودی دشمنی جو ۱۴۰۰ سال پرانی ہے کو بلاوجہ عرب سے پاکستان منتقل کر دیا —
عید کا تعلق اسلام سے نہیں ہے اور نہ ہی یہ شائر اسلام میں داخل ہے
تاریخی و اسلامی مصادر میں یہ ذکر ملتا ہے کہ عربِ جاہلیت اسلام سے پہلے بھی حج کرتے تھے اور حج کے موقع پر قربانی دیتے تھے
قرآن خود اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ قربانی اور حج کی بعض رسوم پہلے سے موجود تھیں، جنہیں اسلام نے اصلاح کے ساتھ برقرار رکھا:
“وَلِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا…”
(سورۃ الحج 22:34)
اور:
“لِيَشْهَدُوا مَنَافِعَ لَهُمْ وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ … عَلَىٰ مَا رَزَقَهُم مِّن بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ”
(الحج 22:28)
مفسرین کے مطابق عرب پہلے بھی ایامِ حج میں جانور ذبح کرتے تھے مگر بتوں کے نام پر۔
اسلام ویب — حج العرب قبل الإسلام
اس میں واضح لکھا ہے کہ قریش اور دوسرے عرب کعبہ کا حج کرتے تھے، قربانیاں دیتے تھے، اور ان کی بعض رسوم بعد میں اسلام نے ختم یا درست کیں۔ عرب کعبہ کی تعظیم کرتے تھے،حج، طواف اور قربانی موجود تھےقربانیوں کا خون کبھی کعبہ پر ملتے تھے
حوالہ
سیرۃ ابن ہشام
کتاب الاصنام
اس کے علاوہ ھندووں اور مسلمانوں میں نمایاں فرق یہ ہے کہ ھندو اپنی بیوی/پتنی کے ساتھ مل کر پوجا کرتے ہیں خاص طور پر جب پنڈت آیا ہو مگر مسلمان اپنی بیوی کو مسجد نبوی میں علحیدہ اور خود علحیدہ ہو کر عبادت کرتے ہیں- ۲۰۰۵تک ایسی کو بات نہیں ہوتی تھی— لاھور میں داتا دربار میں بھی عورتیں اور مرد الٹھے جاتے تھے— پھر دیوبندیوں نے اسلام سے محبت نکال کر نفرت کا وہ بیج بویا ہے کہ —- اب ایتھیسٹ ہونا انسانیت کی معراج بن گیا ہے—-
👈🏽ایک زمانہ تھا کہ جنگلی قوموں میں بچوں اور حسین عورتوں کی قربانی دے کر یہ رسم پوری کی جاتی تھی آج انسانوں کی جگہ جانوروں کو ذبح کر کے یہ رسم پوری کی جاتی ہے”الھدی” کا مادہ ( ھ د ی) ہے جس کے معنی ھدایت کے ہیں - کیونکہ انسان ایسے مقام کی طرف جا رھا ہے جہاں وہ اپنے اعمال کا دیناوی حساب دیتا ہے اور وہ خطرہ مول لیکر وھاں پہنچ رھا ہے تا کہ وہ ھدایت جو اس نے حاصل کی باقی لوگوں تک اس اجتماع میں پہنچاے تا کہ ایک ایسا معاشرہ تشکیل پاے جو عدل پر مبنی ہو— یہ حج ایک عبادت نہیں بلکہ معاشرتی ھدایت کا اجتماع ہے — مگر اس کو چند بھاگ دوڑ میں اور قربانی میں تبدیل کر دیا ہے—
قران میں جو “ھدی” کا لفظ سورت البقرہ۱۹۶ میں آیا ہے اس کا ملاووں نے ترجمہ قربانی کیا ہے- حالانکہ یہ لفظ قران کے آغاز سے ہی”ھدایت کے معنوں میں استعمال ہوا ہےجیسے کہ”هُدًى لِّلْمُتَّقِيْن” اب ۱۹۶ میں کیسے بکرے/اونٹ کی قربانی میں تبدیل ہو گیا؟””اور اللہ کے لیے حج اور عمرہ پورا کرو، پس اگر روکے جاؤ تو جو قربانی سے میسر ہو (دو)، اور اپنے سر نہ منڈواؤ جب تک کہ قربانی اپنی جگہ پر نہ پہنچ جائے—- اس آیت میں ایک لفظ آیا ہے “ پس اگر روکے جاو” یعنی آپ حج کے لیے جارھے ہیں اور رستے میں دشمن نے روک لیا ہے — دوسری بات قربانی کو اس کی جگہ یعنی مکہ بھی پہنچانا ہے—- ایک بات تو واضع ہو گئی کہ قربانی کسی بھی صورت مکہ کے علاوہ نہئں ھو سکتی خواہ تم دشمن ملک میں روک بھی لئیے گے ہو تم وھاں قربانی نہیں کر سکتے—— یہاں پر ھدی کا ترجمہ جانور کو ذبح کرکے ایسے خدا کا تصور دیا گیا ہے جو خون کا پیاسا ہے اس کے لیے قربانی دیکر خون بہانا ثواب ہے👇
اس بات میں کویئ غلط لکھا ہے تو قران سے ثابت کریں کہ مقام حج کے علاوہ کہیں قربانی کی ضرورت ہے— اور وہ بھی اب وھاں کے لوگوں کے لیے خواراک مہیا کرنے کے لیے ہے اس کا کسی بھی طرح اسلام سے تعلق نہیں ہے