جنابت
کا لفظ ملاووں اور مفسرین نے سیکس کے بعد ناپاکی کے لیے استعمال کر کے نماز سے پہلے غسل ضروری قرار دیا ہے جب کہ اس کا مادہ ( روٹ ورڈ) لفظ جُنْبَا “ج ن ب “ہے۔عربی اور اردو قواعد کے لحاظ سے اس مادے سے مختلف الفاظ بنتے ہیں، جیسے کہ:جانب اس طرف یا سائیڈ،جنوب ، اجتناب ، دور رہنا یا پرہیز کرناوغیرہ- جب کہ قران نے ناپاکی کے لیے” نجس “ کا لفظ استعمال کیا ہے اور عام طور پر گندگی کو “حدث” کہا جاتا ہے
اسلام سے قبل محفوظ شاعری میں “جنابة” کے معنی دوری/اجنبیت کے واضح شواہد موجود ہیں؛ لیکن مجھے ایسا قبلِ اسلام شعری ثبوت نہیں ملا جس میں “جنابة/جُنُب” واضح طور پر جنسی تعلق کے بعد کی جسمانی حالت کے معنی میں استعمال ہوا
👈🏼 الأعشى کا شعر بھی قدیم لغوی کتابوں میں نقل ہوا ہے:
أَتَيْتُ حُرَيْثًا زَائِرًا عَنْ جَنَابَةٍ
فَكَانَ حُرَيْثٌ عَنْ عَطَائِي جَامِدَ
میں حُریث کے پاس دور سے اس کی زیارت کے لیے آیا…
علقمہ بن عبدہ کاشعر ہے👇
فَلَا تَحْرِمَنِّي نَائِلًا عَنْ جَنَابَةٍ
فَإِنِّي امْرُؤٌ وَسْطَ الْبُيُوتِ غَرِيبُ
“مجھے اپنی عطا سے، دوری/اجنبیت کی وجہ سے، محروم نہ رکھو؛ میں تو بستی کے درمیان ایک اجنبی ہوں۔
مفسرین نے زبردستی سیکس کو ناپاک گردانتے ہوے جنابت کا مطلب ناپاکی بنا کر غسل کروا دیا ہے اور پھر وقت کے ساتھ ساتھ یہ لفظ اس حالت کے لیے مخصوص ہو گیا —-
جب کہ قران کو آسانی سے سجھنے کے لیے وھی عام عربی الفاظ استعمال ہوے ہیں جو اس وقت بول چال میں آتے تھے تاکہ الکتاب کو سمجھ لیں—- غسل کا تصور قرآن سے بہت پہلے عرب میں موجود تھا؛ لیکن “جُنُب” کو اسی مخصوص جنسی حالت کا نام کہنے کا براہِ راست قبلِ قرآنی epigraphic یا جاہلی شعری ثبوت ابھی تک ہمارے سامنے نہیں آیا—— یہ وہ تبدیلی ہے جو ملاووں نے قران میں کی ہے اور کہتے ہیں کہ قران میں کویئ تبدیلی نہیں ہو سکتی——-🙏🙏🙏🙏اگر کویئ اس پر دلیل لا سکتا ہے تو میں appreciate کروں گا❤️🌹
یہودی کم از کم پاکستانیوں سے سو گنا بہتر ئیں — نیتن یاھو نے اپنی عوام کو تو دھوکہ نہیں دیا — بذات خود وہ کرپٹ اور ظالم ہے —- الیکشن میں بایبل کی آیات پڑھ پڑھ کر تو دھاندلی نہیں کی—- —-وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ﴾ (اور دل شکستہ نہ ہو اور غم نہ کرو، تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو)—-
آپ کی بنیادی بات درست ہے: دوستانہ، باعزت، عوامی ماحول میں مرد و عورت کا کھڑا ہونا نہ قرآن میں جرم ہے، نہ ریاستی قانون میں (عام طور پر)، اور نہ قدیم اسلامی عمل میں۔ آیت 9:71 اسے ایمانی دوستی کا حصہ بناتی ہے۔
• برقع “اصل اسلام” نہیں، ثقافتی اضافہ ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اسلام نے عورت کو “خلائی مخلوق” نہیں بنایا؛ اسے انسان، مومن، اور مرد کا ولی قرار دیا۔
جوامع اللذۃ (Encyclopedia of Pleasure) کا نقطہ نظر
یہ کتاب (علی ابن نصر الکاتب، دسویں صدی عباسی دور) عربی ادب کی قدیم ترین اور سب سے جامع “جنسی انسائیکلوپیڈیا” ہے۔ یہ فقیہی کتاب نہیں بلکہ ادب، طب اور لذت کی کتاب ہے جو یونانی (جالینوس)، فارسی، ہندی اور عربی ذرائع سے لی گئی ہے۔یہ کتاب مرد و عورت دونوں کی جنسی لذت، باہمی اطمینان، عورت کی جنسی خواہشات کو کھل کر بیان کرتی ہے (شاعری، کہانیاں، طبی مشورے)۔ یہ عورت کو “صرف جنسی چیز” نہیں بلکہ لذت میں برابر کا شریک قرار دیتی ہے۔اس دور کے عباسی ثقافت میں مرد و عورت کے درمیان ادبی، فکری اور بعض حد تک سماجی تعامل موجود تھا — اگرچہ اعلیٰ طبقے میں پردہ تھا، لیکن “لذت” اور انسانی تعلقات کو سخت پختہ پابندیوں سے الگ کر کے دیکھا جاتا تھا۔یہ کتاب ظاہر کرتی ہے کہ اسلامی تہذیب کے “قدیم” (مڈیاول) ادوار میں جنسیت اور جنسوں کے تعلقات کو صرف “حرام/حلال” کی تنگ فقیہی عینک سے نہیں دیکھا جاتا تھا؛ بلکہ ثقافتی، طبی اور ادبی طور پر زیادہ کھلا اور انسانی رویہ تھا۔ بعد کے ادوار میں (خاصةً بعض صوفی/فقہی سخت گیری کے ساتھ) یہ کھلا پن کم ہو گیا۔
البتہ یہ کتاب “عوامی دوستانہ کھڑا ہونا” یا “برقع” پر براہ راست بات نہیں کرتی — یہ زیادہ تر نجی تعلقات اور لذت کی سائنس پر ہے۔ لیکن یہ اس بات کی تائید کرتی ہے کہ اسلام کی اصل تعلیمات میں “عورت کو مکمل طور پر چھپانے” یا “مرد سے دوستی کو بالکل جرم” قرار دینے کا کوئی سخت حکم نہیں تھا؛ یہ بعد کی ثقافتی و سماجی پرتیں ہیں۔
@ScienceKiDuniy قران می ماھواری کو کہاں نماز پڑھنے سے روکا گیا ہے— یا صلوہ قائم کرنے کے لیے ماھواری کا نہ ہونا شرط رکھی گئی ہے؟ ملاووں کا اسلام ہے اور نماز بھی ان کی بے سرور اور امام بھی ان کا بے حضور- بایبل سے چرایئ گئی باتیں شریعت کے نام پر اسلام میں داخل کر دیں گئیں ہیں—-
@ScienceKiDuniy مرد اور عورت میں اصل برابری جسمانی یکسانیت میں نہیں، بلکہ اس حق میں ہے کہ دونوں اپنی ذہنی صلاحیت، قابلیت اور فیصلے کرنے کی آزادی کے ساتھ زندگی کا انتخاب کر سکیں۔— یہ حق عورت کو خود لینا ہوگا- کسی فئمنسٹ تحریک سے نہیں ملے گا
ایک تحقیقی جائزے میں تو Jonathan Hope کا موقف ہے کہ جن الفاظ کو شیکسپئیر نے ایجاد کرنے کا کریڈٹ حاصل کیا، ان میں سے بہت سے پہلے کے الفاظ عام بول چال میں موجود تھے اور ان کو تلاش کیا جا سکتا ہے۔ قرآن اور Shakespeare کا تقابل اس لحاظ سے احتیاط سے کرنا ہوگا کہ قرآن کا متن تقریباً 7ویں صدی کا عربی corpus ہے، جبکہ Shakespeare کے لیے 16ویں–17ویں صدی کا بہت بڑا مگر نامکمل تحریری corpus موجود ہے۔ دونوں کے لیے “earliest surviving evidence” کی بنیاد ایک جیسی نہیں ہے—-
اور یہ کہنا کہ قران نے ۴۵۲ الفاظ پہلی بار استعمال کیے بھی درست نہیں ہے — وہ الفاظ عام بول چال میں موجود ہوں گے مگر تحریری طور پر پہلی دفعہ قران نے استعمال کیا اسی لیے قران کو سہل بنایا گیا ہے —-
شیطان کو اللہ نے — بنایا — اور اس کو گمراہ کرنے کا آختیار بھی خود اللہ نے تا قیامت دیا—- آپ گ**ف کا زور لگا لیں اس نے اپنا کام جاری رکھنا ہے— تبلیغی جماعت بھی اپنا کام جاری رکھے ہوے ہیں— آپ نے بھی پہلے ان کو دیکھا - جب یہ لڑکیاں اپ کی رینج سے باھر ہو گئیں تو ایک مسلمان پاکستانی کی سوچ کے مطابق — یہ پوسٹ کر دی—- آپ اپنی اولاد کو موبایئل نہ لے کر دیں— اور آپ کو بھی اس اللہ کی قسم کہ دوبارہ اس موبایل کو ھاتھ بھی لگایا— اور ان یہودیوں کی طرح جو امریکہ میں رھتے ہیں انٹرنیٹ سے خود کو دور رکھیں— اللہ نے چاھا تو آپ اور آپ کی گھریلو GenZ ان سے محفوظ رھے گی—-
جب ایک معاشرہ انسان کی جان سے زیادہ کسی پتھر، عمارت یا علامت کو مقدس سمجھنے لگے، تو سمجھ لیجیے کہ وہاں مذہب نے انسان کو مقصد نہیں، وسیلہ بنا دیا ہے۔پتھر تو خاموش ہوتے ہیں، انہیں نہ درد ہوتا ہے نہ شعور؛ درد انسان کو ہوتا ہے، اور شعور بھی انسان ہی رکھتا ہے۔اگر کسی مقدس عقیدے کی حفاظت کے لیے انسان کو نفرت، تشدد یا قتل تک پہنچنا پڑے، تو سوال پتھر کی تقدیس کا نہیں—انسانی عقل کی آزادی کا ہے۔میرے نزدیک انسان مقدس ہے،کوئی بےجان پتھر نہیں—— 🕋🙏
اگر حضرت حسین(ر) جب یزید کے خلاف نکلے اور شہید ہو گیے تو اھل سنت کو جو دین ملا وہ تو یزید کا دیا ہوا ہے—- !!!! جب شیعہ کے پاس موالیوں کا دین ہے؟ تو کون ٹھیک ہے؟
شرعی اصول کی اصطلاح قرانی نہیں بلکہ ملاووں کا دیا ہوا اسلام ہے جس میں قران کے ساتھ شرک کرتے ہوےاحادیث، سنت اور فقہ کو رائج کیا گیا جس کو شرعیت کا نام دیا گیا جس کے بارے قران کہتا ہے۶:۱۵۱: قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَیْكُمْ اَلَّا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَیْــٴًـا—- یہاں پر لفظ شَیْــٴًـا لا کر قران کے علاوہ ہر کتاب( فقہ سنت حدیث) کو شرک قرار دے کر اس سے کچھ بھی لینا اور اس کو اسلام میں داخل کرنا حرام ہے—— جہاں تک سود کا تعلق ہے قران کے لفظ “ ربا” کے بہت وسیع معنی ہیں اور سب سے موزوں معنی منافع ہے- اور کویئ بھی منافع جس سے معاشرہ میں مسائل پیدا ہوں کو حرام کہا گیا ہے جب کہ سود بھی منافع کی ایک قسم ہے— مسلمانوں نے منافع کو چھوڑ دیا اور اس کی ایک قسم کو پکڑ کر معاشرے میں بے تحاشا منافع پر حرام نہیں کہا——-
بہت طاقتور تحریر ہے۔ اصل المیہ یہ نہیں کہ انصاف مر گیا، بلکہ یہ ہے کہ ہم نے انصاف کے مرنے کی بو کو اتنی دیر تک برداشت کیا کہ آخرکار وہ پورے معاشرے کی فضا میں پھیل گئی۔فائلیں دریا برد کرنے سے تاریخ مٹ نہیں جاتی؛ ظلم کے نشان انسانوں کی یاد اور معاشرے کے ضمیر میں باقی رہتے ہیں۔
جہاں انصاف دفن ہوتا ہے، وہاں صرف عدالت نہیں مرتی—ریاست کا اخلاقی جواز بھی مر جاتا ہے—-صرف انصاف کے مرنے کی کہانی نہیں، بلکہ اس پورے نظام کا نوحہ ہے جس میں انصاف کی لاشیں فائلوں کے نیچے دبا دی جاتی ہیں اور پھر فائلیں ہی دریا برد کرکے سمجھا جاتا ہے کہ جرم بھی ختم ہوگیا۔
حقیقت یہ ہے کہ انصاف کو دفن کرنے سے ظلم دفن نہیں ہوتا۔مظلوم کی خاموشی، قاتل کی آزادی اور اداروں کی بے حسی مل کر ایک ایسا تعفن پیدا کرتی ہیں جو بالآخر عدالتوں کی دیواروں سے نکل کر پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ جب انصاف مرتا ہے تو قاتل ہی نہیں بچتے، بے گناہ بھی محفوظ نہیں رہتے۔
اور جب ریاست انصاف کی محافظ کے بجائے اس کی گورکن بن جائے تو پھر سوال یہ نہیں رہتا کہ ملک میں عدالتیں کتنی ہیں؛ سوال یہ ہوتا ہے کہ ان عدالتوں میں انصاف ابھی زندہ بھی ہے یا صرف اس کا نام باقی ہے؟
ہمارے پاکستانی عوام ایران کے معاملے میں بہت زیادہ جذباتی ہو رھے ہیں- آج ہر گھر میں زندگی کی تمام ضروریات موجود ہیں تو اس کی وجہ وہ پیسہ ہے جو خلیج سے لوگوں نے کمایا- اور اپنے ملک کو ترقی دی- دوسری بات پاکستان کا قیام کسی سیاسی انقلاب یا قربانیوں سے عمل میں نہیں آیا بلکہ امریکہ کی اشیر اباد سے برٹش نے ان کے مفادات کے تحفظ کے لیے بنایا تھا- اسی لیے قاید اعظم نے وزیرا عظم بننے اور ملک میں دوبارہ انتخابات کروا کر منتخب ہونے کی بجاے گورنر جنرل بننا پسند کیا اور سب اختیارات اپنے پاس رکھے جب کہ یہ ایک نمائشی عہدہ تھا اور لیاقت علی خان کو موجودہ شہباز شریف والی حیثیت دی تھی—- قائد اعظم کی رحلت کے بعد یہ اختیارات پھر اسٹیبلشمنٹ نے کبھی براہ راست اور کبھی بلواسطہ استعمال کیے — اس لیے فیلڈ مارشل جو بھی معاھدے یا عمل کر رھے ہیں وہ عین پاکستان کےقیام کے مقاصد کو ملحوظ خاطر لاتے ہوے کر رھے ہیں —- ہمارا کام کمانا کھانا اور حکومت کے ساتھ کھڑے ہونا ہے— ورنہ آپ ملک چھوڑ کر جا سکتے ہیں—-
اس پر ایک مشہور اسکالر شدی نصر کی کتاب”The Transmission of the Variant Readings of the Qurʾān: The Problem of Tawātur and the Emergence of Shawādhdh پر سہل حاصل گفتگو کی گئی ہے—- مسلمانوں کے پاس ساتویں صدی کا قران یا اس کا طومار موجود نہیں ہے— اور حضرت عثمان کا قران بھی اصل اس دنیا میں موجود نہیں— قران میں جو واقعات لکھے گیے ہیں وہ پہلے ہی ابراھیمی کتب میں موجود تھے—- اس لیے قران کسی انڈین کتاب سے ماخوذ نہیں ہے -
:
قران میں ماسواے سورت جمل( اونٹ) کے دوسرے جانوروں کے نام پر سورتیں ہیں —- حیرت اس بات پر ہے کہ قران اس جگہ نازل ہوا جہاں گاے نہیں بلکہ اونٹ زیادہ تھے—- اور صحراوں میں شہد کی مکھی کا کیا کام؟ جہاں نہ پھول نہ پانی؟
البقرة (البقرہ) — گائے 🐄 — سورۃ 2
الأنعام (الانعام) — مویشی/چوپائے 🐄🐑🐐🐪 — سورۃ 6
النحل (النحل) — شہد کی مکھی 🐝 — سورۃ 16
النمل (النمل) — چیونٹی 🐜 — سورۃ 27
العنكبوت (العنکبوت) — مکڑی 🕷️ — سورۃ 29
الفيل (الفیل) — ہاتھی 🐘 — سورۃ 105
یعنی چھ سورتوں کے نام جانوروں یا جانوروں کے ایک گروہ سے متعلق ہیں
اس پر کویئ روشنی ڈالنا چاھے گا ؟
قرآن کے الٰہی ہونے کا عقیدہ ابتدائی اسلامی روایت میں موجود تھا، لیکن قرآن کی مختلف قراءات میں سے ہر ایک کو یکساں طور پر الٰہی، متواتر اور رسول ﷺ سے قطعی طور پر منقول سمجھنے کا نظریہ ایک طویل تاریخی عمل کے ذریعے بعد میں مضبوط ہوا، خصوصاً 11ویں صدی کے بعد—-https://t.co/YwZFmkSd67
اس لیے اصل علمی سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ’‘یہ ملحد دیسی ہے یا ودیسی؟’’ بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ وہ ملحد کیوں ہے، اس کے دلائل کیا ہیں، اور کیا اس کے دلائل منطقی طور پر قابلِ قبول ہیں؟
ایک اور اہم فرق بھی سمجھنا چاہیے: سائنس خدا کے وجود یا عدمِ وجود پر کوئی سادہ اور حتمی لیبارٹری نتیجہ پیش نہیں کرتی۔ سائنس کا بنیادی دائرہ قابلِ مشاہدہ اور قابلِ آزمائش مظاہر ہیں؛ خدا کے وجود کا سوال فلسفے اور مذھب پر یقین رکھنے والوں کا ہے
آپ یہ سب حوالے ابن سعد کی کتاب طبقات ابن سعد سے دے رھی ہیں- جن شعراء کا ذکر کیا ان کا اصل کلام کہاں محفوظ ہے؟ اور وہ جن ہارجات پر لکھتے تھے وہ کہاں ہیں— اب کہانی اور رخ اختیار کر گئی ہے— ہمیں اسلامی لٹریچر پر بالکل بھروسہ نہیں ہے- اوریجنل کام جس کا ہے اس کو ثابت کرنا اور جہآں محفوظ ہے وھاں تک رسایئ اہم چیز ہے— اب ان کہانیوں پر وقت ضایع نہیں کیا جاسکتا—- میں صرف ایک شاعر عنترہ بن شداد کے علاقے( عیون الجواء) القسیم ریجن سعودی عرب میں گیا ہوں— وھاں پر بھی اس کا کویئ کلام اصل حالت میں نہیں ملا البتہ اس کی شاعری کا انگریزی ترجمہ ہوا — اس میں کہیں بھی اسلام کا ذکر نہیں جب کہ اس کے مخطاطات کعبہ میں لٹکاے جاتے تھے—-
ابتدائی اسلامی تاریخی مصادر (خاص طور پر ابن اسحاق کی سیرت، ابن ہشام کی تدوین، ابن سعد کی طبقات) میں کئی ایسے شاعروں کا ذکر ملتا ہے جنہوں نے محمدﷺ اور ان کے ساتھیوں کے خلاف تنقیدی یا ہجو کی شاعری کی۔ ان میں سے اہم یہ ہیں:
کعب بن الاشرف (یہودی-عرب شاعر، بنو نضیر سے تعلق)
بدر کے بعد وہ مکہ گئے، قریش کے مقتولین پر مرثیے کہے، انہیں بدلہ لینے پر اکسایا، اور مدینہ واپس آ کر مسلمان عورتوں کے بارے میں توہین آمیز اشعار کہے۔ مصادر کے مطابق محمدﷺ نے پوچھا کہ کون اسے ختم کرے گا کیونکہ اس نے اللہ اور رسول کو تکلیف دی ہے۔ محمد بن مسلمہ اور ان کے ساتھیوں نے دھوکے سے رات کو اسے باہر بلایا اور قتل کر دیا (تقریباً 3 ہجری / 624 عیسوی)۔ یہ واقعہ صحیح بخاری سمیت متعدد مصادر میں موجود ہے۔
عصماء بنت مروان (مدینہ کی شاعره)
ابو عفک کے قتل کے بعد اس نے اشعار کہے جن میں اس نے مدینہ کے قبائل (مالک، نبیط، عوف، خزرج) کو ایک اجنبی (محمدﷺ ) کی اطاعت کرنے پر طعنہ دیا اور پوچھا کہ کیا کوئی غیرت مند نہیں جو اسے حملہ کر کے ختم کر دے؟ ابن اسحاق کے مطابق محمدﷺ نے پوچھا: "کون مجھے مروان کی بیٹی سے نجات دلائے گا؟" عمیر بن عدی (جو اندھا تھا) نے رات کو اس کے گھر جا کر اسے قتل کر دیا جبکہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ تھی (ایک بچہ دودھ پیتے ہوئے)۔ اس کے بعد اس کے قبیلے کے کچھ لوگ مسلمان ہو گئے۔
Teii
ابو عفک (بہت بوڑھا شخص، تقریباً 100-120 سال کا بتایا جاتا ہے)
اس نے محمدﷺ پر تنقیدی شاعری کی، قبائل کو تقسیم کرنے اور حلال/حرام کے احکام پر اعتراض کیا۔ مصادر کے مطابق محمدﷺ نے پوچھا کہ کون اس "شریر" کا حساب کرے گا، جس پر سالم بن عمیر نے اسے رات کو سوئے ہوئے قتل کر دیا۔
دیگر متعلقہ افراد میں نضر بن الحارث اور عقبہ بن ابی معیط شامل ہیں جنہیں بدر کے قیدیوں میں سے محمدﷺ کے حکم پر قتل کیا گیا (انہوں نے قرآن کو پرانی کہانیاں کہہ کر مذاق اڑایا تھا)۔ ابو رافع (سلام بن ابی الحقیق) کا بھی بعد میں قتل ہوا۔ کچھ شاعر جیسے کعب بن زہیر نے تنقید کی مگر بعد میں تسلیم کر کے بچ گئے۔
مؤرخین کے بارے میں
ابن اسحاق، ابن سعد اور دیگر ابتدائی مؤرخین نے یہ واقعات ریکارڈ کیے ہیں۔ شاعری کے مکمل دیوان یا طویل مجموعے محفوظ نہیں ہیں کیونکہ مواد توہین آمیز سمجھا جاتا تھا اور زبانی روایت میں فلٹر ہو گیا۔ صرف ٹکڑے یا خلاصے ملتے ہیں۔ عام مسلمان بیانیے میں ان کا ذکر کم ہوتا ہے کیونکہ انہیں محض "شاعر" کی بجائے سیاسی دشمن قرار دیا جاتا ہے۔