ساؤتھ افریقہ کے بڑے اسلامی اسکول گروپ کے CEO شیخ سعداللہ
نے جمعہ کے خطبہ میں عمران خان کے ساتھ ہو رہے غیرانسانی سلوک پر بھرپور آواز اٹھائی
اور
پاک��تان کے علما کی غیرت جگانے کی ناکام کوشش کی
۔
“کہتے ہیں بطور سیاستدان نہیں تو بطور دنیا کے بہترین سپورٹس سلیبرٹی کی ہی لاج رکھ لو”
Tomorrow, Tuesday at 1:00 PM, Surah Yaseen Khatam will take place outside Adyala Jail. Prayers will be offered for all the martyrs, those unjustly imprisoned, and everyone facing oppression.
SKMT Bank Accounts
We would like to reassure our donors and supporters that the vast majority of our bank accounts are fully operational, and we continue to receive donations without any disruption. 1/3
میرے والد کو گرفتار ہوئے 845 دن ہو چکے ہیں۔ پچھلے چھ ہفتوں سے انہیں مکمل بے خبری کے ماحول میں ڈیتھ سیل میں تنہا رکھا گیا ہے۔ ان کی بہنوں کو ہر ملاقات سے روک دیا گیا ہے حالانکہ عدالت کے واضح احکامات موجود ہیں۔ کوئی فون کال نہیں، کوئی ملاقات نہیں اور زندگی کی کوئی خبر نہیں۔ میں اور میرا بھائی اپنے والد سے کسی قسم کا رابطہ نہیں کر سکے۔
یہ مکمل اندھیرا کسی حفاظتی پروٹوکول کا حصہ نہیں۔ یہ ایک جان بوجھ کر کی گئی کوشش ہے تاکہ ان کی حالت کو چھپایا جائے اور ہمارے خاندان کو یہ نہ معلوم ہو سکے کہ وہ محفوظ ہیں یا نہیں۔
واضح رہے کہ پاکستانی حکومت اور اس کے آقاؤں کو میرے والد کی حفاظت اور اس غیر انسانی تنہائی کے ہر نتیجے کی قانونی، اخلاقی اور بین الاقوامی سطح پر مکمل ذمہ داری اٹھانا ہوگی۔
میں عالمی برادری، بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور ہر جمہوری آواز سے اپیل کرتا ہوں کہ فوری مداخلت کریں۔ زندگی کی تصدیق کا ��طالبہ کریں، عدالت کے احکامات کے مطابق رسائی یقینی بنائیں، اس غیر انسانی تنہائی کو ختم کریں اور پاکستان کے سب سے مقبول سیاسی رہنما کی رہائی کا مطالبہ کریں جنہیں صرف سیاسی وجوہات کی بنا پر ��ید رکھا گیا ہے۔
"خیبر پختونخوا حکومت میں تبدیلی کا عمل احسن طریقے سے مکمل ہونے پر اپنے تمام ممبران اسمبلی کو مبارکباد پیش کر��ا ہوں۔ خیبرپختونخوا کے اراکین نے جس طرح نظرئیے پر ڈٹ کر، بنا کسی اگر مگر کے میرے نامزد کردہ وزیر اعلیٰ کو ووٹ دئیے ہیں، وہ قابلِ ستائش ہے۔ میں علی امین گنڈاپور کو بھی ��راج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے بغیر کسی تردد کے ایک نہیں تین مرتبہ استعفیٰ دیا۔ یہ ہموار ٹرانزیشن اس بات کا ثبوت ہے کہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کے نظرئیے کا بول بالا ہے۔
سہیل آفریدی کو خصوصی پیغام دینا چاہتا ہوں کہ وہ میرا اوپننگ بیٹسمین ہے لہٰذا اسے کھل کر کھیلنا چاہیئے۔
پاکستان تحریک انصاف ملک کی سب سے بڑی جماعت ہے اس سے منسلک لوگوں کو صرف اس لیے غدار کہہ دینا کہ وہ کسی پالیسی سے متفق نہیں انتہائی خطرناک عمل ہے۔ اس بنیاد پر غداری کے سرٹیفیکیٹ بانٹنے اور ریاست مخالفت کا لیبل لگانے والوں کی دکان بند ہونی چاہیے۔
بطور سیاستدان ایسی کسی بھی پالیسی پر تنقید کرنا میرا حق ہے جو عوام کے مفاد ، ملکی سالمیت اور جمہوریت کے خلاف ہو۔ ایسی ہر پالیسی کی مخالفت کی ہے اور کرتا رہوں گا جو ملکی مفاد کے خلاف ہو۔خیبرپختونخوا میں ع��ام نے ہمیں مینڈیٹ دیا ہے اور ہم ڈی جی آئی ایس پی آر کو نہیں خیبرپختونخوا کی عوام کو جوابدہ ہیں۔ اس لیے ہم پاکستان اور صوبے کی عوام کے مفاد کے خلاف کبھی نہیں جائیں گے۔
میری فوج سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔ فوج بھی میری ہے، ملک بھی میرا ہے اور عوام بھی میری ہے۔ میرے اپنے خاندان کے کئی لوگ فوج سے تعلق رکھتے ہیں- 1965 کی جنگ میں ہمارے زمان پارک کے 8 میں سے 7 گھروں سے میرے خاندان کے لوگ فوج میں تھے اور ملک کا دفاع کر رہے تھے۔ مجھے افسوس ہوتا ہے جب دہشتگردی کی جنگ میں فوج کے سپاہیوں کا خون بہتا ہے مگر اس کے باوجود بد امنی قائم رہتی ہے اور دونوں طرف ہمارے لوگ مارے جاتے ہیں۔
تاریخ سے ثابت ہے کہ صرف ملٹری آپریشنز دہشتگردی کا حل نہیں ہیں۔ ہمارا اصولی موقف ہے کہ خیبرپختونخوا میں ملٹری آپریشنز قابل قبول نہیں ہیں کیونکہ اس میں “کولیٹرل ڈیمج” کے نام پر معصوم لوگ شہید ہوتے ہیں، اور وہ اپنے علاقوں سے دربدر ہوتے ہیں۔ کئی دہائیوں سے بڑے بڑے آپریشن کر کے دہشتگردی ختم کرنے کی کو��ش میں ہیں مگر یہ ناسور ختم نہیں ہو رہا۔ ہر سال بہت سا قیمتی خون بہہ رہا ہے، کبھی فوج اور پولیس فورسز کے اہلکاروں کی شہادتیں ہوتی ہیں تو کبھی معصوم شہری دہشتگردی کے واقعات میں جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔
ہمیشہ کہا ہے کہ دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے بند کمروں کے فیصلوں کی بجائے ایک موثر، سیاسی بصیرت پر مبنی جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ سیاسی نمائندوں اور خیبرپختونخوا حکومت کی موجودگی اور مشاورت کے بغیر بنائی گئی کوئی بھی پالیسی قابل قبول نہیں۔ دہشتگردی کے خلاف پالیسی بناتے ہوئے تمام اہم اسٹیک ہولڈرز سے بات کی جائے چاہے وہ مقامی قبائل ہوں یا خیبرپختونخوا حکومت، وف��قی حکومت یا افغان حکومت۔ افغانستان کے ساتھ بات چیت کے بغیر دہشتگردی کا مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔
خیبرپختونخوا کی نئی حکومت کو ایک مرتبہ پھر سے ہدایت کرتا ہوں کہ دہشتگردی کے خلاف تمام فریقین کے ساتھ بات کر کے موثر اور جامع حکمت عملی بنائیں تاکہ صوبے میں موثر اور دیرپا امن قائم ہو اور نتیجتاً معیشت بحال ہو۔
ہر جمہوری معاشرے میں عوام کو اح��جاج کا حق حاصل ہوتا ہے۔ نہتے لوگوں پر تشدد کرنا اور سیدھی گولیاں چلانا کسی طور قابل قبول نہیں ہے۔ تحریک لبیک کے ساتھ جو ظلم ہوا، تحریک انصاف تین سال سے یہی ظلم برداشت کر رہی ہے۔ 26 نومبر کو ڈی چوک میں بھی ایسے ہی خون کی ہولی کھیلی گئی جب ہمارے نہتے کارکنان پر سنائپرز سے گولیاں چلوائی گئیں۔ میں مریدکے سانحے میں بیہمانہ تشدد اور نہتی عوام کو گولیاں مارنے کی پر زور مذمت کرتا ہوں”
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام (14 اکتوبر، 2025)
مطالبہ جاری رکھیں 🚨
آگر زیادہ نہیں تو کم از کم ایک ٹویٹ خان صاحب کے میڈیکل check-up کے لئے ضرور کیا کریں۔ مطالبہ کریں کہ شوکت خانم کے ڈاکٹر عاصم کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی جائے
کیونکہ ہمیں پمز ہسپتال کے سرکاری ڈاکٹرز پر بلکل بھی بھروسہ نہیں
🔥 Pakistan's Future: Who Should Lead? 🔥
If elections were held TODAY, who would you vote for as Prime Minister? 🗳️
Share your thoughts! #PakistanPolitics
یہ تصویر نہیں بلکہ حقیقت سمجھیں عمران خان کی صبح ,شام اور رات اسی طرح پسینے میں گزر جاتی ہے اور سننے میں ہے کہ
پچھلے ایک ہفتے سے روم کولر بھی بند کر دیے گئے ہیں