27 جون پنجاب کے ہیرو اور عظیم مہاراجہ رنجیت سنگھ کا یوم وفات ہے!
رنجیت سنگھ 13 نومبر 1780 کو پیدا ہوئے اور 27 جون 1839 کو وفات پائی۔بچپن میں سنگھ کو چھوٹے موٹے بخار (چھپا) ہوا جس کے باعث ان کی ایک آنکھ ضائع ہوگئی۔
رنجیت سنگھ نے پنجاب کو درانی لٹیروں سے محفوظ کیا، انھوں نے پہلی بار محض 10 سال کی عمر میں لڑائی میں حصہ لیا، اور 17 سال کی عمر میں انہوں نے افغانستان کے بادشاہ زمان شاہ درانی کے ہندوستان کے حملے کو ناکام بنایا۔
زمان شاہ درانی کو رنجیت سنگھ نے دوبار شکست دی، امرتسر کی لڑائی (1797)، اسی سال گجرات کی لڑائی، اور اگلے سال امرتسر کی ایک اور لڑائی میں پھر درانتیوں کو شکست دی۔
رنجیت نے 1799 میں لاہور کو فتح کیا، جسے سکھ سلطنت کے لیے ایک سنگِ میل سمجھا جاتا ہے۔وہ 1801 میں محض 20 سال کی عمر میں مہاراجہ مقرر ہوئے۔
تخت لاہور جو اب پنجاب کے نام سے جانی جاتی ہے، ایسی ریاست تھی جو ایک طرف شکارپور سے ملتان،لاہور سے سری نگر اور تبت یعنی چین اور دوسری طرف کابل افغانستان تک پھیلی ہوئی تھی۔
رنجیت سنگھ کی زندگی میں انگریزوں کو کبھی جرآت نہیں ہوئ کہ وہ لاہور یا پنجاب فتح کرنے کا خواب دیکھیں، پورا ہندوستان ہر تسلط کے بعد بھی پنجاب انگریزوں کے خلاف چٹان بن کر کھڑا رہا لیکن رنجیت سنگھ کی وفات کے بعد ایک عشرے میں ہی انگریز لاہور پر قابض ہو گئے!
رنجیت سنگھ کے دور میں سکھ سلطنت نسبتا سیکولر تھی، کیونکہ مختلف مذاہب کے لوگوں کو سلطنت میں قائدانہ عہدوں پر فائز ہونے کی اجازت تھی۔ رنجیت سنگھ کی فوج میں کچھ یورپی خصوصاً فرانس کے جنرل بھی شامل تھے۔ تاہم، برطانوی انگریزوں کو شامل نہیں کیا جاتا تھا ۔
ان کی سلطنت میں مذہب کی بنا پر کسی کے ساتھ امتیاز نہیں کیا جاتا تھا۔ انہوں نے غیر سکھوں پر سکھ مذہب نافذ نہیں کیا اور تمام مذاہب کا احترام کیا۔
گولڈن ٹیمپل کے سنہری حصے اور کچھ نفیس سنگِ مرمر کے کام مہاراجہ رنجیت سنگھ کی سرپرستی میں کرائے گئے۔
مہاراجہ رنجیت سنگھ کو کوہِ نور ہیرے کے مالک کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے، یہ ہیرہ انہیں افغانستان کے شجاع شاہ درانی امان کے عوض دیا تھا۔
2003 میں، سنگھ کی یاد میں بھارت کی پارلیمنٹ میں 22 فٹ بلند ایک کانسی کا مجسمہ نصب کیا گیا۔ نہ صرف بھارت میں بلکہ فرانس کے ایک قصبے سینٹ ٹروپیز میں بھی — جس کے پنجاب سے فوجی روابط تھے — 2016 میں رنجیت سنگھ کا کانسی کا بُسٹ نصب کیا گیا؛ لاہور پاکستان میں بھی مہاراجہ رنجیت سنگھ کا کانسی کا مجسمہ نصب کیا گیا۔مہاراجہ رنجیت سنگھ کا دنیا بھر میں پنجابی احترام کرتے ہیں
خاران اندھیرے میں ڈوبا ہوا ہے۔ گھنٹوں لوڈشیڈنگ، پینے کو پانی نہیں، برف کے لیے ترسنا پڑتا ہے، اور امن و امان کا جنازہ روز نکلتا ہے۔ ہمارے بچے گرمی میں تڑپتے ہیں،اب فیصلہ کرو خاران کے لوگو
نوجوانو، طلبہ بزرگوسب سڑکوں پر نکلو پُرامن پُرجوش احتجاج #خاران_کو_بجلی_دو#خاران_کو_امن_دو
قصور میرا اتنا ہے کہ میں عمران خان کے ساتھ کھڑی ہوں ، اور مجھے اس بات کا فخر ہے-
نہ میں انتشار پسند ہوں، نہ ہی میں نے کبھی انتشار پھیلایا ہے-
وڈیو ثبوت بھی ہے کہ میں لوگوں کو روک رہی ہوں-
#ReleaseDrYasminRashid
ٹرینڈ الرٹ 🚨
انصافینز سب انگریزی میں یہ ٹرینڈ #ImranKhanUnlawfullyDetained شروع کریں کیونکہ قاسم نے آج اقوام متحدہ میں بھی کہا ہے کہ میرا والد غیر قانونی طور پر قید ہے۔
اس وقت خاموشی گناہ ہے آپ خان صاحب کی رہائی کے لئے جو بھی کر سکتے ہیں وہ ضرور کریں
صحابہ کرام رضوان اللہ ہماری جان ہے تم فصادی جہنم کے کتے ہو تم جسے علمائے سو نے ہر دور میں یہود و نصارا کا ساتھ دیا ہے لعنت ہو تری پیدائش پر خبیث میں سنی ہو اور ایران کے ساتھ ہوں
جو صحابہ پر بھونکتے ہیں صرف وہی ہم پر بھی بھونک رہے ہیں اور وہی آجکل آرمی چیف اور فوج پر بھی بھونک رہے ہیں مزید پورے وطن عزیز پاکستان اور مملکت حرمین شریفین سعودی عرب پر بھی بھونک رہے ہیں صرف بھونکنا کسی سگ کے سچا ہونے کی دلیل نہیں ہے چند بے چارے پورے غول کو بھونکتا دیکھ کر بھی بھونک رہے ہیں حکومت سے گزارش ہے ان باولوں کو پٹہ ڈالنے اور تلف کرنے کا وقت ہے تاخیر نقصان دہ ثابت ہو گی
ایڈمن
مطالبہ جاری رکھیں 🚨
علیمہ خان کہہ رہی ہیں کہ عمران خان کا علاج فوراً شفاء انٹرنیشنل ہسپتال میں ڈاکٹر عاصم کی موجودگی میں ہونا چاہیے۔
سوشل میڈیا اس پر زیادہ سے زیادہ شور مچائیں
سب بولو آمین !
جس جس نے خان کو بیچا ، خان کے نام پر پیسے کھائے ، چندے اکٹھے کیئے ، عہدے انجوائے کیئے ، فائدے اُٹھائے ، لابنگ کی ، گروپنگ کی ، غلط کو سپورٹ کیا ، اُس پر لعنت بیشُمار ، اللٰ٘ہ ہر اُس انسان کو دُنیا آخرت میں رُسوا کرے۔۔۔آمین
عمران خان کی جان کو خطرہ ہے
ہمیں خدشہ ہے کہ خدانخواستہ عمران خان کے ساتھ کچھ غلط کرنے جا رہے ہیں۔
ملاقاتیں بند، علاج کی سہولت بند، آپ سب آواز اٹھائیں کہ کل شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کر دیں
“بھیڑیے سے مذاکرات بھیڑ کو نہیں بچاتے، وہ صرف اگلے شکار کی تاریخ طے کرتے ہیں۔”
لیبیا کے سابق رہنما Muammar Gaddafi کی بیٹی Aisha Gaddafi کا ایران کے عوام کے نام پیغام:
“مغرب نے میرے والد سے کہا تھا کہ اگر وہ اپنا جوہری اور میزائل پروگرام ختم کر دیں تو دنیا کے دروازے کھل جائیں گے۔ انہوں نے اعتماد کیا، رعایت دی… اور پھر NATO کے بموں نے لیبیا کو ملبے میں بدل دیا۔
میرے ایرانی بھائیو اور بہنو!
تاریخ گواہ ہے کہ دشمن کو رعایتیں دینے سے امن نہیں ملتا، بلکہ تباہی آتی ہے۔
جو قومیں ڈٹ کر کھڑی رہتی ہیں وہ عزت کے ساتھ زندہ رہتی ہیں۔
سلام ایران کے عوام کو
سلام ایرانی مزاحمت کو
سلام فلسطین کے عوام کو”
#Iran #Libya #Palestine #Resistance #Geopolitics
ٹی ٹی پی افغانستان کی سرزمین استعمال کر رہی ہے اسلئے ہم نے افغانستان پہ حملے کئے
امریکہ اور اسرائیل کچھ عرب ممالک میں اپنے اڈوں سے براہراست ایران پہ حملے کر رہے ہین لیکن ایران کو ان اڈوں پہ حملہ نہیں کرنا چاہیئے تھا!
ٹکنولوجیا لاجک!
Today’s military strikes on Iran — carried out by the United States and Israel — mark a catastrophic escalation in an illegal war of aggression. Bombing cities. Killing civilians. Opening a new theater of war. Americans do not want this. They do not want another war in pursuit of regime change. They want relief from the affordability crisis. They want peace.
I am focused on making sure that every New Yorker is safe. I have been in contact with our Police Commissioner and emergency management officials. We are taking proactive steps, including increasing coordination across agencies and enhancing patrols of sensitive locations out of an abundance of caution.
Additionally, I want to speak directly to Iranian New Yorkers: you are part of the fabric of this city — you are our neighbors, small business owners, students, artists, workers, and community leaders. You will be safe here.
جب چی گویرا کو اُس کے ٹھکانے سے گرفتار کیا گیا،
اور بتایا گیا کہ یہ راز ایک چرواہے نے فاش کیا ہے
کسی نے چرواہے سے حیرت سے پوچھا
تم نے اُس شخص کو کیسے بیچا جو ساری زندگی تمہارے اور تمہارے حقوق کے لیے لڑتا رہا؟"
چرواہا بس اتنا بولا:
اس کی دشمنوں سے جنگ نے میری بکریوں کو ڈرا دیا تھا
برسوں پہلے، مصر میں عظیم قائد محمد کریم نے نپولین کی قیادت میں آنے والے فرانسیسی لشکر کی مزاحمت کی۔
گرفتار ہونے پر انہیں سزائے موت سنائی گئی۔
نپولین نے انہیں بلا کر کہا
مجھے افسوس ہے کہ ایک ایسے شخص کو قتل کرنا پڑ رہا ہے
جس نے اپنے وطن کا اتنی بہادری سے دفاع کیا۔
میں نہیں چاہتا کہ تاریخ مجھے ایسے شخص کے طور پر یاد رکھے
جس نے اپنی سرزمین کے لیے لڑنے والے ہیروز کو مار ڈالا۔
اس لیے میں تمہیں معاف کرتا ہوں — اگر تم دس ہزار سونے کے سکے ادا کرو
جو ہمارے مارے گئے سپاہیوں کا معاوضہ ہوں۔
محمد کریم مسکرا کر بولے
میرے پاس اتنے نہیں ہیں، مگر تاجروں پر میرے سو ہزار سے زیادہ سونے کے سکے واجب الادا ہیں۔
نپولین نے مہلت دی۔ وہ ہتھکڑیاں پہنے، قبضے کے سپاہیوں سے گھرا ہوا بازار پہنچا
ان کے پاس یہ امید تھی کہ جن کے لیے اپنی جان داؤ پر لگائی
وہ اب وفا کا ثبوت دیں گے۔
مگر ایک بھی تاجر نے جواب نہ دیا۔
الٹا اُن پر الزام لگایا کہ تم نے اسکندریہ کو برباد کیا
اور ان کے کاروبار کو تباہ کیا۔
محمد کریم ٹوٹے دل کے ساتھ نپولین کے سامنے واپس آئے
تو نپولین نے کہا
میں تمہیں اس لیے قتل نہیں کر رہا کہ تم نے ہم سے جنگ کی
بلکہ اس لیے کہ تم نے اپنی جان ایسے بزدل لوگوں کے لیے قربان کی
جن کے لیے تجارت، وطن کی آزادی سے زیادہ قیمتی تھی۔
اور محمد رشید رضا نے کہا تھا:
ایک سوئے ہوئے قوم کے لیے انقلاب لانے والا
ایسا ہے جیسے کوئی شخص اندھے کے راستے کو روشن کرنے کے لیے
اپنے جسم کو آگ لگا دے۔.